Child Development Center

Child Development Center

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Child Development Center, Education, Lahore.

13/03/2025

والدین کے لیے اہم پیغام

اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دیں۔ سوشل میڈیا (Facebook, WhatsApp, Messenger وغیرہ) کا استعمال اس وقت کریں جب بچے آپ کے پاس نہ ہوں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر فون میں مصروف رہنا ان کی شخصیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

بچوں کو بھرپور وقت دیں، ان سے بات کریں، ان کی باتیں سنیں اور ان کے ساتھ تعمیری سرگرمیاں کریں۔ آپ کی توجہ اور محبت ہی ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یاد رکھیں! بچے دیکھ کر سیکھتے ہیں، لہٰذا جو مثال آپ ان کے سامنے رکھیں گے، وہی ان کی زندگی کا حصہ بنے گی۔

29/11/2023

بچوں میں موبائل فون کے استعمال کی عادت کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
موبائل فون جہاں ہمارے لیے سہولت کا ذریعہ ہے وہاں یہ مسائل کا باعث بھی بنتا ہے۔ خاص کر چھوٹے بچوں میں موبائل فون کا زیادہ استعمال بچوں کے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایسے بچے دیر سے بولتے ہیں اور ان بچوں کے اندر نظر اور ان کے نیند کے مسائل بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کی ہدایات کے مطابق دو سال سے پہلے اپنے بچوں کو ہرگز موبائل فون استعمال کرنے نہ دیں۔ دو سال کے بعد اس کا دورانیہ استعمال ایک گھنٹے تک ہے لیکن وہ بھی اپ کی نگرانی ہونا چاہیے اور اس میں جو چیزیں بچہ دیکھے وہ اچھی ہوں اور اس میں تعلیم و تربیت کا عنصر پایا جانا چاہیے۔
چونکہ موبائل فون ایک ضرورت بھی بن چکا ہے تو گھر میں سارے استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو بچےچیزیں دیکھ کر سیکھتے ہیں اور پھر وہ اس موبائل فون استعمال کرنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اکثر والدین کی اپنی جاب ہوتی ہے اور وہ بچے کو مصروف رکھنے رکھنے کے لیے موبائل دے دیتے ہیں ۔یوں بچہ پھر موبائل دیکھتا رہتا ہے ۔
بچوں میں موبائل فون کی عادت کو کم کرنے کے لیے کچھ بنیادی ہدایات!!
بچے جو بھی کرتے ہیں وہ بڑوں سے دیکھ کر اور سیکھ کر کرتے ہیں اس لیے کوشش کریں کہ گھر میں موبائل فون کا استعمال کم سے کم کریں ۔صرف ضروری کال کے لیے استعمال کریں تاکہ بچوں پر اس کا اثر نہ پڑے۔

بچے بہت ایکٹو ہوتے ہیں اور انہیں ٹائم چاہیے ہوتا ہے تو گھر پر ضروری ان کو ٹائم دیں ان کے ساتھ بات چیت کریں۔

بچوں میں عمر کے حساب سے بہت زیادہ انرجی ہوتی ہے اور جب تک ان کی یہ انرجی استعمال نہیں ہوگی وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گے تو ضروری ہے کہ ان کے لیے گھر میں کھیلنے کے موقع پیدا کریں کچھ ڈرائنگ وغیرہ بنائیں جھولے گھر میں لگائیں تاکہ ان کی ایکٹیوٹی ہو اور ان کی انرجی استعمال ہو۔

بچوں کو ضرور گھر سے باہر لے کے جائیں جس میں پارک ہو سکتا ہے یا کوئی اور تفریح گاہ ہو سکتی ہے تاکہ ان کے دھیان بٹا رہے اور ان چیزوں میں دھیان جائے گا تو موبائل فون کو چھوڑ دیں گے۔

اپنے بچوں کو ضرور انڈور اور اؤٹ ڈور گیمز کے لیے راغب کریں ۔اس میں بیڈمنٹن, فٹبال کرکٹ وغیرہ شامل ہے ۔ اس سے بچے کا ٹائم ان چیزوں میں لگے گا اور اس سے بچے کو فائدہ بھی ہوگا۔

بچوں کھیلتے ہوۓ گھر میں شور کر رہے ہیں تو کبھی ان کو نہ ڈانٹیں کیونکہ اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کو کھیلنے دیں تاکہ ان کا دھیان کھیل میں ہی لگا رہے۔

ہفتے میں کبھی نہ کا بار فیملی ٹائم ضرور رکھیں اس میں اپ کے بچے اور اپ کے جو قریبی رشتہ دار ہیں ان کے بچے اپس میں ملیں اور اکٹھے ان کو کھیلنے کا موقع ملے۔

ہم بالکل یہ نہیں کہتے کہ بچوں کو موبائل فون دینا ہی نہیں ۔ایک حد تک بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال اور خاص کر تعلیمی مواد کا استعمال بچے کے لیے فائدہ مند بھی ثابت سکتا ہے ۔ اس کا دورانیہ اور جو بچہ چیز دیکھ رہا ہے وہ اچھی ہونی چاہیے اور وہ ہدایات کے مطابق ہونی چاہیے

19/10/2023

کئی بار والدین پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے بچے کا سر اور ماتھا گرم ہے جبکہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہیں، تھرمامیٹر بھی جسم کا نارمل درجہ حرارت بتا رہا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟؟

میں اس پوسٹ میں اس چیز کی وضاحت کروں گا۔

بچوں کا دماغ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت سر کا سائز اوسطاً پینتیس سینٹی میٹر ہوتا ہے جو ایک سال میں بڑھ کر سینتالیس اور دو سال کی عمر میں انچاس سینٹی میٹر تک ہو جاتا ہے۔ اسکے بعد پھر زندگی میں صرف پانچ سینٹی میٹر تک مزید بڑھتا ہے لہذا ابتدائی تین سے پانچ سالوں میں سر اور دماغ کی تیزی سے نشوونما ہوتی ہے۔ تیز نشونما کا مطلب ہے تیز میٹابولزم میں اور میٹابولزم میں اضافہ کا مطلب ہے اس درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔

جسم کا مرکز دل ہے اور مرکز میں زیادہ حرارت ہوتی ہے جبکہ سر کے مقابلے ہاتھ اور پاٶں دل سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب خون دل سے چلتا ہے تو اس سے حرارت مختلف طریقہ کار کے زریعے کم ہو جاتی ہے جیسے پسینا، انسنانی جسم کو چھونے والی چیزیں اور جسم کے ارد گرد کا درجہ حرارت ,ہوا ۔
سر چونکہ دل کے قریب ہے بہ نسبت ہاتھ اور پاٶں کو تو خون کی گرماٸش سر کی طرف ہاتھ پاٶں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے ۔

اھم یہ ہے کہ اگر آپکو لگتا ہے بچہ گرم ہے تو اسکا تھرمامیٹر سے ٹمپریچر چیک کریں۔اگر یہ 99 سے کم ہےتو تسلی رکھیں۔
دوسروں کے والدین کے ساتھ بھی شیئر کریں۔ جزاک اللہ
ڈاکٹر ارشد محمود (MBBS.FCPS)
چاٸلڈ اسپیشلیسٹ
چلڈرن ہسپتال لاہور

04/04/2023
30/07/2022

اپنی بیٹیوں کو درج ذیل باتیں سکھائیے ۔
1۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوٸی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاٶ اور اس کے بعد چڑھیے۔
_____
2۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو ہو اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھیے ۔
_____
3۔اپنے چچا،ماموں ،خالہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کیجیے۔
_____
4۔اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کےساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیے۔
_____
5۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیے۔
_____

6- سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیے۔
_____
7- جب کوٸی ملنے آٸے تو اسے توجہ دو ، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاٶ اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیجیے
___________
8-گلی محلہ کے سبھی مرد باپ کے سوا اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
________
9-جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکو.. کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو .. پھر کھڑے ہو جائیں.. تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب نہ ہو۔
________
10-اپنی پوری زندگی بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کیجیے۔۔۔!!
سبھی بیٹوں, لڑکوں, مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب 'ضرور' کرنے والے ہیں مجھ سمیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور رہی بات لڑکوں کے آداب کی تو وہ بھی انشاءاللہ جلد ہی لکھ دوں گا۔۔۔۔۔۔
عمر حمید

28/07/2022

اگر بچہ پیدائشی طور پر ترجیحاً بایاں ہاتھ استعمال کرتا ہے تو کیا اس کا ہاتھ تبدیل کرنا چاہیے؟
انسانی دماغ تقریباً پانچ کھرب نیورانز سے مل کر بنا ہے ۔ دماغ کے دو حصے ہیں ۔ دایاں حصّہ بنیادی طور پر جسمانی کاموں سے متعلقہ ہے یعنی performance part ہے جبکہ بایاں حصہ verbal part ہے جو لفظی, زبانی، پڑھنے، دیکھنے اور سننے والی سرگرمیوں سے متعلقہ ہے۔ دونوں حصوں کے آپس میں رابطے پیدائشی طور پر بھی موجود ہوتے ہیں اور بعد میں بھی بچپن کے دور میں بنتے رہتے ہیں۔ انہیں روابط connections کی بدولت ہم روزمرہ سرگرمیاں خصوصاً پڑھائی لکھائی احسن انداز سے کرتے ہیں۔ اگر ہم زبردستی بچے کا پیدائشی رجحان والا ہاتھ تبدیل کراتے ہیں تو ریسرچ ہمیں بتاتی ہے کہ بچے کے تعلیمی مشکلات کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں خصوصاً ملتے جلتے حروف، اعداد، الفاظ، اشارات، سمتوں، وقت وغیرہ میں کنفیوژن عام بچوں کی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دماغ کو دائیں اور بائیں اطراف والے روابط نئے سرے سے مخالف اطراف میں بنانے پڑتے ہیں جو ایک پیچیدہ کام ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیدائشی رجحان والے ہاتھ کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آپ کو پوسٹ اچھی لگے تو معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کیلئے دوسروں سے شیئر کی دیجیے۔ شکریہ۔
تحریراز ڈاکٹر عبدلشکور وصاحب

27/07/2022

پاکستانی ماوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ: بچوں کا سر بنانا

جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ، پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔ گردن کو اسطرح رکھنا کہ سر بالکل سیدھا رہے، خاص تکیوں کا استعمال، سر پر اینٹ رکھنا تک شامل ہیں۔
جو عورت سر بنانے میں بہت expert مانی جائے گی اور اپنی کامیابی کے قصے سناتی نظر آئیگی اسکے بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا جیسا اس تصویر میں left میں دکھایا گیا ہے جو کہ بالکل بھی نارمل نہیں ہے۔
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔ سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head syndrome کے بچوں میں

● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
● فہم و فراست ( یعنی cognitive skills)
● جذباتیات (یعنی emotional intelligence)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔

تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟

تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی شکل اختیار کرنے دیں جو کہ گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔

ڈاکٹر فرح عثمان

21/07/2022

💦 ہارمونز کی دنیا 💦

ہمارے اندر خُوشی کا احساس ان چار ہارمونز کی وجہ سے ہوتا ہےاس لئےضُروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونز کے بارے میں جانیں

▪پہلا ہارمون *اینڈورفنس* ہے :
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20 منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے۔

▪دوسرا ہارمون *ڈوپامائین* ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کرکے خوش کیوں نہیں ہوتی اسکی وجہ یہ ہیکہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے۔اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.
اب، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔

▪تیسرا ہارمون *سیروٹونائین*:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، Quora اور فیس بک پر پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔

▪چوتھا ہارمون *آکسی ٹوسین* ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔
واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

📌 خُوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کرکے ڈوپامائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کرکے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگا کر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔

اس طرح ہم خُوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔

*اَب آپ سَمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خَراب موڈ میں ہو تو اُسے فوری گلے لگانا کیوں ضُروری ہے؟*
*خُوش رہیں۔*
خُوشیاں بانٹتے
تحریر: Mian Adnan Siddique

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Lahore