489F cheque
For more information call or whatsapp +92-3244010279)
we are law firm from Lahore. Adv Mahar Ghulam Murtaza
آخری موقع کے بعد مزید مہلت نہیں دی جا سکتی — آرڈر XVII رول 3 CPC کی لازمی پابندی
⚖️ تعارف
PLJ 2025 Civil (Note) 53 میں عدالت نے آرڈر XVII رول 3 ضابطۂ دیوانی (CPC) کی اہم تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک تعزیری (Penal) شق ہے، جس کا اطلاق سختی سے کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی فریق کو ثبوت پیش کرنے کے لیے آخری موقع دیا جا چکا ہو اور اسے نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہو، تو اس کے بعد مزید مہلت دینا قانون کے منافی ہے۔
📌 فیصلے کے اہم نکات
⚖️ آرڈر XVII رول 3 CPC ایک تعزیری شق ہے، اس لیے اس کی سخت تشریح ضروری ہے۔
⚖️ جب کسی فریق کا معاملہ اس شق کے دائرہ کار میں آ جائے تو اسے مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔
⚖️ عدالت اپنی صوابدیدی طاقت استعمال کرتے ہوئے بھی غیر ضروری مہلت نہیں دے سکتی۔
⚖️ "مقدمہ میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے" کا اصول وہاں لاگو نہیں ہوتا جہاں آرڈر XVII رول 3 CPC واضح طور پر نافذ ہو رہا ہو۔
⚖️ قانون پر عمل کرنا محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 کے تحت عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
⚖️ جب عدالت کسی فریق کو "آخری موقع" دیتی ہے تو یہ ایک عدالتی حکم ہوتا ہے جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔
⚖️ آخری موقع دینے کے بعد مزید التواء دینا عدالتی حکم اور قانون دونوں کے خلاف ہے۔
⚖️ اگر آخری موقع کے باوجود ثبوت پیش نہ کیے جائیں تو عدالت کے پاس کارروائی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
⚖️ آخری موقع کے ساتھ دی گئی وارننگ کو ہر صورت نافذ کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
⚖️ آخری موقع اور واضح وارننگ کے باوجود ثبوت پیش نہ ہونے پر حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہے۔
⚖️ ایسے حالات میں مزید مہلت دینا قانون کی روح اور عدالتی نظم و ضبط کے خلاف ہے۔
⚖️ اس اصول کا مقصد مقدمات میں غیر ضروری تاخیر اور بار بار التواء کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
📖 خلاصۂ فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر واضح طور پر خبردار کر دیا جائے کہ آئندہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کا حقِ شہادت بند کر دیا جائے گا، تو پھر عدالت مزید مہلت نہیں دے سکتی۔ ایسی صورت میں حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہوگا تاکہ عدالتی احکامات کی پابندی اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔
⚖️ قانونی اصول
جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر نتائج سے خبردار کر دیا جائے اور وہ پھر بھی ثبوت پیش نہ کرے تو عدالت لازماً اس کا حقِ شہادت بند کرے گی اور مزید مہلت نہیں دے گی۔
hashtags
غیر ملکی عدالت کے نان نفقہ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں دوسرا دعویٰ قابل سماعت نہیں
اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — PLJ 2026 Islamabad 170
⚖️ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کسی قابل اختیار غیر ملکی عدالت نے نابالغ بچے کے نان نفقہ کا تعین کر دیا ہو اور اس پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہو، تو پاکستان میں اسی مدت اور اسی ذمہ داری کے لیے متوازی نان نفقہ کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
---
✦ مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار محمد منیب ارشد اور مدعا علیہہ کے درمیان نابالغ بچی کے نان نفقہ کا تنازع موجود تھا۔ آئرلینڈ کی عدالت پہلے ہی بچی کے لیے نان نفقہ مقرر کر چکی تھی اور والد باقاعدگی سے ادائیگیاں کر رہا تھا۔
اس کے باوجود پاکستان میں فیملی کورٹ میں نان نفقہ کا دعویٰ دائر کیا گیا، جہاں عبوری نان نفقہ مقرر ہونے کے بعد عدم ادائیگی کی بنیاد پر سیکشن 17-A کے تحت والد کا حقِ دفاع ختم کر دیا گیا۔
والد نے اس حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔
---
⚖️ کیا پاکستانی عدالت غیر ملکی کارروائی کے باوجود دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ فریقین بیرون ملک رہتے ہیں، پاکستانی فیملی عدالتوں کا دائرہ اختیار خودبخود ختم نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کسی غیر ملکی عدالت نے اسی معاملے پر پہلے ہی فیصلہ دے دیا ہو اور اس پر عمل بھی ہو رہا ہو تو پاکستانی عدالتوں کو عدالتی احتیاط اور قانونی اصولوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
---
⚖️ متوازی نان نفقہ کارروائیاں کیوں ناقابل قبول ہیں؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
✔ ایک ہی ذمہ داری کے لیے دو مختلف عدالتوں سے دو الگ قابلِ نفاذ احکامات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
✔ قانون کسی شخص کو ایک ہی دعویٰ دو مرتبہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
✔ متوازی کارروائیاں دوہری مالی ذمہ داری (Double Burden) پیدا کرتی ہیں۔
✔ اس سے دوہری وصولی (Double Recovery) اور ناجائز فائدہ (Unjust Enrichment) کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
---
⚖️ Res Judicata کا اصول
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ایک قابل اختیار عدالت پہلے ہی کسی تنازع کا فیصلہ کر چکی ہو تو وہی معاملہ دوبارہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 17 کے تحت CPC کی دفعہ 11 (Res Judicata) فیملی مقدمات میں بھی لاگو ہوتی ہے۔
---
⚖️ Doctrine of Election کیا ہے؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
اگر کوئی فریق ایک فورم منتخب کر کے وہاں سے ریلیف حاصل کر لے تو وہ اسی دعویٰ کے لیے دوسرے فورم سے متوازی ریلیف حاصل نہیں کر سکتا۔
مدعا علیہہ نے آئرلینڈ کی عدالت سے نان نفقہ حاصل کیا، لہٰذا وہ اسی نان نفقہ کے لیے پاکستان میں متوازی کارروائی نہیں چلا سکتی تھی۔
---
⚖️ سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع کب ختم کیا جا سکتا ہے؟
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ:
✔ حقِ دفاع ختم کرنا ایک سخت تعزیری اقدام ہے۔
✔ صرف جان بوجھ کر نافرمانی ثابت ہونے پر ہی یہ اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
✔ عدالت کو وجوہات بیان کرنا ضروری ہیں۔
✔ اگر مدعا علیہ پہلے ہی کسی عدالتی حکم کے تحت نان نفقہ ادا کر رہا ہو تو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
---
⚖️ غیر وجوہاتی (Non-Speaking) حکم برقرار نہیں رہ سکتا
عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے حقِ دفاع ختم کرتے وقت اہم قانونی اعتراضات اور غیر ملکی عدالتی احکامات کا جائزہ نہیں لیا۔
اس لیے یہ حکم ایک Non-Speaking Order تھا جو قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتا۔
---
✦ اہم قانونی نکات
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ غیر ملکی عدالت کے نافذ العمل نان نفقہ احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایک ہی نان نفقہ ذمہ داری کے لیے دو عدالتی فورمز استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Res Judicata کا اصول فیملی مقدمات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Doctrine of Election متوازی کارروائیوں کو روکتا ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع ختم کرنے سے پہلے جان بوجھ کر نافرمانی ثابت کرنا ضروری ہے۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دوہری وصولی اور ناجائز مالی فائدہ قانوناً قابل قبول نہیں۔
📌 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ غیر وجوہاتی عدالتی احکامات برقرار نہیں رہ سکتے۔
---
نتیجہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب آئرلینڈ کی عدالت پہلے ہی نابالغ بچی کے نان نفقہ کا تعین کر چکی تھی اور والد اس پر عمل بھی کر رہا تھا تو پاکستان میں اسی ذمہ داری کے لیے متوازی کارروائی اور سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع ختم کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا۔
آپ کے بلاگ LegalHelp1 کے لیے مکمل آرٹیکل:
گواہوں کی دوسری فہرست جمع کرانے کی درخواست کیوں ناقابلِ سماعت قرار دی گئی؟
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — PLD 2026 Lahore 488
✦ تعارف
سول مقدمات میں گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی فریق مقررہ وقت میں گواہوں کی فہرست جمع نہ کرائے یا اس کی درخواست مسترد ہو جائے تو بعد میں مختلف گواہوں کے نام شامل کرکے نئی درخواست دائر کرنا قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے PLD 2026 Lahore 488 میں اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ صادر کیا۔
---
⚖️ مقدمہ کا پس منظر
مدعی نے آرڈر XVI رول 1 ضابطۂ دیوانی (CPC) کے تحت گواہوں کی فہرست جمع کرانے کی درخواست دی، مگر وہ مسترد ہو گئی۔ مدعی نے اس حکم کو چیلنج نہیں کیا۔
بعد ازاں اس نے نئی درخواست دائر کی جس میں مختلف افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواست آرڈر XVI رول 14 CPC کے تحت ہے۔
عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا فریق رول 14 کا سہارا لے کر اپنی سابقہ کوتاہی کا ازالہ کر سکتا ہے؟
---
📜 عدالت کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی درخواست کی مستردی کے بعد دوسری درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ مزید یہ کہ آرڈر XVI رول 14 CPC کا مقصد فریقین کو اپنی غلطیاں درست کرنے یا ثبوت میں موجود خامیوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرنا نہیں۔
---
🔹 آرڈر XVI رول 1 CPC کی اہمیت
عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور مخالف فریق کو بھی مناسب تیاری کا موقع مل سکے۔
---
🔹 آرڈر XVI رول 14 CPC کا اصل مقصد
عدالت نے قرار دیا کہ رول 14 ایک خصوصی اختیار ہے جو صرف عدالت کو حاصل ہے۔ اگر عدالت یہ سمجھے کہ کسی شخص کی گواہی انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے تو وہ خود اسے طلب کر سکتی ہے، خواہ وہ مقدمے کا فریق نہ بھی ہو۔
---
🔹 رول 14 کو کوتاہی چھپانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا
عدالت کے مطابق کوئی فریق رول 14 کو اپنی غفلت، تاخیر یا ثبوت میں موجود خلا کو پورا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو بے اثر بنا دے گا۔
---
⚖️ اہم قانونی اصول
✦ گواہوں کی فہرست مقررہ وقت میں جمع کرانا ضروری ہے۔
✦ مسترد شدہ درخواست کے بعد نئی درخواست دائر کرنا قابلِ قبول نہیں۔
✦ آرڈر XVI رول 14 CPC فریقین کا حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✦ رول 14 کا مقصد انصاف میں مدد دینا ہے، فریقین کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا نہیں۔
✦ عدالتی کارروائی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔
---
📌 نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ سول مقدمات میں مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر فریق وقت پر گواہوں کی فہرست جمع نہیں کراتا یا اس کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو وہ بعد میں آرڈر XVI رول 14 CPC کا سہارا لے کر اپنی کوتاہی کو دور نہیں کر سکتا۔ رول 14 صرف عدالت کے استعمال کے لیے ہے اور اسے فریقین کے حق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ
PLD 2026 Lahore 488
Malik Muhammad Irshad Faiz v. Khadim Hussain
Civil Revision No. 507 of 2022🔖 ہیش ٹیگز
گواہوں کی دوسری فہرست جمع کرانے کی درخواست کیوں ناقابلِ سماعت قرار دی گئی؟
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — PLD 2026 Lahore 488
✦ تعارف
سول مقدمات میں گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی فریق مقررہ وقت میں گواہوں کی فہرست جمع نہ کرائے یا اس کی درخواست مسترد ہو جائے تو بعد میں مختلف گواہوں کے نام شامل کرکے نئی درخواست دائر کرنا قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے PLD 2026 Lahore 488 میں اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ صادر کیا۔
⚖️ مقدمہ کا پس منظر
مدعی نے آرڈر XVI رول 1 ضابطۂ دیوانی (CPC) کے تحت گواہوں کی فہرست جمع کرانے کی درخواست دی، مگر وہ مسترد ہو گئی۔ مدعی نے اس حکم کو چیلنج نہیں کیا۔
بعد ازاں اس نے نئی درخواست دائر کی جس میں مختلف افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواست آرڈر XVI رول 14 CPC کے تحت ہے۔
عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا فریق رول 14 کا سہارا لے کر اپنی سابقہ کوتاہی کا ازالہ کر سکتا ہے؟
📜 عدالت کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی درخواست کی مستردی کے بعد دوسری درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ مزید یہ کہ آرڈر XVI رول 14 CPC کا مقصد فریقین کو اپنی غلطیاں درست کرنے یا ثبوت میں موجود خامیوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرنا نہیں۔
🔹 آرڈر XVI رول 1 CPC کی اہمیت
عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور مخالف فریق کو بھی مناسب تیاری کا موقع مل سکے۔
🔹 آرڈر XVI رول 14 CPC کا اصل مقصد
عدالت نے قرار دیا کہ رول 14 ایک خصوصی اختیار ہے جو صرف عدالت کو حاصل ہے۔ اگر عدالت یہ سمجھے کہ کسی شخص کی گواہی انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے تو وہ خود اسے طلب کر سکتی ہے، خواہ وہ مقدمے کا فریق نہ بھی ہو۔
🔹 رول 14 کو کوتاہی چھپانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا
عدالت کے مطابق کوئی فریق رول 14 کو اپنی غفلت، تاخیر یا ثبوت میں موجود خلا کو پورا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو بے اثر بنا دے گا۔
⚖️ اہم قانونی اصول
✦ گواہوں کی فہرست مقررہ وقت میں جمع کرانا ضروری ہے۔
✦ مسترد شدہ درخواست کے بعد نئی درخواست دائر کرنا قابلِ قبول نہیں۔
✦ آرڈر XVI رول 14 CPC فریقین کا حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✦ رول 14 کا مقصد انصاف میں مدد دینا ہے، فریقین کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا نہیں۔
✦ عدالتی کارروائی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔
📌 نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ سول مقدمات میں مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر فریق وقت پر گواہوں کی فہرست جمع نہیں کراتا یا اس کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو وہ بعد میں آرڈر XVI رول 14 CPC کا سہارا لے کر اپنی کوتاہی کو دور نہیں کر سکتا۔ رول 14 صرف عدالت کے استعمال کے لیے ہے اور اسے فریقین کے حق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ
PLD 2026 Lahore 488
Malik Muhammad Irshad Faiz v. Khadim Hussain
Civil Revision No. 507 of 2022
🔖 ہیش ٹیگز
⚖️ مشترکہ کھاتہ کی غیر تقسیم شدہ زمین پر معاہدہ بیع قابلِ نفاذ نہ رہا، سول ریویژن خارج
✦ تعارف
لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب فروخت کی جانے والی جائیداد مشترکہ کھاتہ میں شامل ہو اور اس کی واضح شناخت یا تقسیم نہ ہوئی ہو تو ایسے معاہدہ بیع کی مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ مزید برآں، اگر معاہدہ ثابت کرنے کے لیے لازمی تصدیقی گواہ پیش نہ کیے جائیں تو دستاویز کی قانونی حیثیت متاثر ہو جاتی ہے۔
🔹 مقدمہ کا پس منظر
مدعی نے دو رہائشی پلاٹ خریدنے کے لیے معاہدہ بیع کیا اور مختلف اقساط میں مجموعی طور پر 3,25,000 روپے ادا کیے۔
بعد ازاں فریقین کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پایا جس میں یہ شرط رکھی گئی کہ چونکہ زمین مشترکہ کھاتہ میں واقع ہے اور تقسیمِ جائیداد کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے، اس لیے تقسیم کے بعد ہی انتقال عمل میں لایا جائے گا۔
مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعا علیہ نے بعد میں معاہدہ پورا کرنے سے انکار کر دیا، لہٰذا مخصوص کارکردگی کی ڈگری جاری کی جائے۔
⚖️ حاشیہ گواہ کی عدم پیشی کا اثر
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دستاویز کے مصدقہ گواہوں کی گواہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
✦ صرف وثیقہ نویس (Scribe) کی گواہی کافی نہیں ہوتی جب تک وہ بطور تصدیقی گواہ دستخط نہ کرے۔
✦ دوسرے حاشیہ گواہ کو پیش نہ کرنے اور اس کی عدم دستیابی ثابت نہ کرنے سے قانونِ شہادت کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
🏡 غیر تقسیم شدہ مشترکہ کھاتہ کا قانونی اثر
✦ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ فروخت شدہ پلاٹ مشترکہ کھاتہ کا حصہ تھے۔
✦ زمین کی باقاعدہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے فروخت شدہ مخصوص حصہ واضح اور قابلِ شناخت نہیں تھا۔
✦ ایسی صورت میں عدالت کسی غیر متعین جائیداد کے متعلق مخصوص کارکردگی کی ڈگری جاری نہیں کر سکتی۔
📜 مخصوص ریلیف ایکٹ کی دفعہ 21 کا اطلاق
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ وہ معاہدہ نافذ نہیں کیا جا سکتا جس کی شرائط معقول یقین کے ساتھ متعین نہ ہوں۔
✦ تقسیمِ کھاتہ کے فیصلے تک معاہدے کی تکمیل مؤخر تھی اور یہ مدت تین سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔
✦ اس بنا پر معاہدہ دفعہ 21(c) اور 21(g) مخصوص ریلیف ایکٹ 1877 کے تحت ناقابلِ نفاذ قرار پایا۔
🔍 ریویژن میں مداخلت کا دائرہ اختیار
✦ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ریویژن کا اختیار محدود نوعیت کا ہے۔
✦ جب ماتحت عدالتوں کے فیصلے شواہد اور قانون کے مطابق ہوں تو صرف اس بنیاد پر مداخلت نہیں کی جا سکتی کہ کوئی دوسرا نتیجہ بھی ممکن تھا۔
✦ مداخلت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب فیصلہ غیر قانونی، خلافِ اختیار یا شواہد کی غلط خوانی پر مبنی ہو۔
✅ فیصلہ
✦ سول ریویژن خارج کر دی گئی۔
✦ ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے گئے۔
✦ مدعی مخصوص کارکردگی کا حق دار قرار نہ پایا۔
✦ البتہ ادا شدہ رقم کی واپسی کا حق برقرار رکھا گیا۔
⚖️ اہم قانونی نکات
🔹 حاشیہ گواہوں کی موجودگی میں صرف وثیقہ نویس کی گواہی کافی نہیں۔
🔹 آرٹیکل 79 قانونِ شہادت کی پابندی لازمی ہے۔
🔹 مشترکہ کھاتہ کی غیر تقسیم شدہ زمین کا مخصوص حصہ قابلِ شناخت نہ ہو تو معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا۔
🔹 غیر متعین جائیداد کے بارے میں مخصوص کارکردگی کی ڈگری نہیں دی جا سکتی۔
🔹 تین سال سے زائد مدت تک مؤخر رہنے والا معاہدہ دفعہ 21(g) کے تحت ناقابلِ نفاذ ہو سکتا ہے۔
🔹 ریویژن میں ہائی کورٹ صرف قانونی یا اختیاری غلطی کی صورت میں مداخلت کرتی ہے۔
📚 حوالہ
PLJ 2026 Civil (Note) 39, C.R. No. 441-D of 2018, Lahore High Court Bahawalpur Bench, فیصلہ مورخہ 13-03-2025
سول ریویژن مقررہ مدت کے بعد دائر ہونے پر خارج — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
⚖️ مقدمہ کا پس منظر
محمد محمود درانی کے انتقال کے بعد ان کی زرعی زمین ورثاء میں تقسیم ہونی تھی۔ ان کی بیٹی مستورات حفیظ بخاری نے دعویٰ دائر کیا کہ بعض ورثاء نے ایک مبینہ جعلی ھبہ نامے اور انتقالات کے ذریعے جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی اور اسے حقِ وراثت سے محروم کر دیا۔
ٹرائل کورٹ نے جزوی طور پر دعویٰ منظور کیا جبکہ اپیلٹ کورٹ نے خاتون کی اپیل قبول کرتے ہوئے اس کے حق میں مزید ریلیف دیا۔ اس فیصلے کے خلاف مخالف فریق نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کی۔
📌 اصل قانونی سوال
کیا مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی سول ریویژن قابلِ سماعت رہتی ہے؟
🏛️ ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سول ریویژن دائر کرنے کے لیے قانون میں 90 دن کی مدت مقرر ہے۔ اگرچہ درخواست گزاروں نے ریویژن دائر کی، لیکن دفتری اعتراضات بروقت دور نہ کیے گئے جس کے باعث مجموعی تاخیر 34 دن تک پہنچ گئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفتری اعتراضات دور کرنے میں صرف ہونے والا وقت بھی مدتِ معیاد میں شامل ہوتا ہے۔
✦ اہم قانونی نکات
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانونِ معیاد انصاف کے نظام کا بنیادی ستون ہے۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کوئی فریق اپنی مرضی کے وقت پر پرانے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دفتری اعتراضات دور کرنے میں ہونے والی تاخیر بھی مدتِ معیاد میں شمار ہوگی۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد مخالف فریق کے حق میں ایک قابلِ تحفظ قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض سستی، غفلت یا لاپرواہی تاخیر معاف کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
🔹 ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مدتِ معیاد ختم ہونے کے بعد عدالت عموماً مقدمہ کے میرٹ پر غور نہیں کرتی۔
⚠️ قانونی اصول
قانون صرف حق نہیں دیتا بلکہ اس حق کے استعمال کے لیے وقت بھی مقرر کرتا ہے۔ جو شخص مقررہ مدت کے اندر قانونی چارہ جوئی نہیں کرتا، وہ اپنے قانونی علاج سے محروم ہو سکتا ہے۔
📖 نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ نے سول ریویژن کو وقت گزرجانے (Time-Barred) کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانونِ معیاد کو نظر انداز کرکے کسی غافل مقدمہ باز کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
حوالہ: PLJ 2026 Civil (Note) 38, Lahore High Court, Bahawalpur Bench
⚖️ اپیل موجود ہو تو ریویژن نہیں چل سکتی
✦ پس منظر
ایک خاتون نے معاہدۂ بیع منسوخ کروانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، لیکن ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بجائے انہوں نے ریویژن دائر کر دی، جسے ریویژنل کورٹ نے منظور کر لیا۔
✦ قانونی تنازع
اصل سوال یہ تھا کہ جب قانون کے تحت اپیل کا حق موجود ہو تو کیا ریویژن دائر کی جا سکتی ہے؟
✦ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
⚖️ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جہاں اپیل کا مؤثر قانونی راستہ موجود ہو وہاں ریویژن قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔
⚖️ عدالت نے واضح کیا کہ دائرۂ اختیار ہر عدالتی کارروائی کی بنیاد ہے اور اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
⚖️ ریویژنل کورٹ نے اپیل کی دستیابی کے بنیادی قانونی نکتے کو نظر انداز کیا، اس لیے اس کا فیصلہ خلافِ قانون تھا۔
✦ اہم قانونی نکات
🔹 اپیل اور ریویژن دو الگ قانونی راستے ہیں۔
🔹 اپیل دستیاب ہونے کی صورت میں ریویژن دائر نہیں کی جا سکتی۔
🔹 دائرۂ اختیار کا فقدان عدالتی کارروائی کو کالعدم بنا دیتا ہے۔
🔹 اپیل کی معیاد گزر جانے کے بعد ریویژن کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔
🔹 عدالت صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو قانون نے اسے دیا ہو۔
✦ نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ نے ریویژنل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔
حوالہ
PLJ 2026 Civil (Note) 41 Rana Najam-ul-Abbas v. Mst. Lubna Shamim & others Lahore High Court
#️⃣
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jail Road
Lahore
54000