PMS CSS Preparation

PMS CSS Preparation

Share

Fahad Areeb | Civil Servant | Avid Reader | Essayist & Author | Literature |

17/09/2024

✨کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا🙂
وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا🤗
وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا🤪
ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر رعایا کو مرعوب کر رہے تھے😍
جوش میں آکر کہنے لگے کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں نے آدھے کلومیٹر سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ کے کھر میں جا لگا😱
بادشاہ کو توقع تھی کہ عوام داد دے گی لیکن عوام نے کوئی داد نہیں دی🤔
وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے😔
بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ ضرورت سے زیادہ لمبی چھوڑ دی🤣
اپنے رفوگر کی طرف دیکھا🥳
رفوگر اٹھا اور کہنے لگا
حضرات میں چشم دید گواہ ہوں اس واقعے کا
دراصل بادشاہ سلامت ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے اور ہرن بہت نیچے تھا🤗
ہوا بھی موافق چل رہی تھی ورنہ تیر آدھا کلومیٹرکہاں جاتا ہے🤔
جہاں تک تعلق ہے آنکھ کان اور کھر کا تو عرض کردوں کہ جس وقت تیر لگا ہرن دائیں کھر سے دایاں کان کھجا رہا تھا😍
عوام نے زور زور سے تالیاں بجا کر داد دی👋
اگلے دن رفوگر بوریا بستر اٹھا کر جانے لگا😯
بادشاہ پریشان ہوگیا😳
پوچھا کہاں چلے؟🤔
رفوگر بولا
بادشاہ سلامت میں چھوٹے موٹے تروپے ( ٹانکے) لگا لیتا ہوں شامیانے نہیں سیتا..🪶🤨🤣😜

منقول

01/09/2024

Must Listen for new aspirants. A message by Ex DG Civil Service Academy

25/07/2024

"Choose a lazy person to do a hard job. Because a lazy person will find an easy way to do it"- Bill Gates

An Indian student has invented a machine that uses artificial intelligence to write homework in his own handwriting. The device scans and learns the student's writing style, replicating it with high accuracy.

This will also open a floodgate of forgery!

25/05/2024

قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں

05/05/2024

جس دن انسان یہ سوچنا شروع ہوجاتا ہے کہ میری ساری achievements میری اپنی وجہ سے ہیں اسی دن سے وہ loss میں جانا شروع ہوجاتا ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ساری abilities اور hard work رب باری تعالی کی مہربانی کے بعد والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مدد سے کامیابی دیتی ہیں !!

02/05/2024

یہ ہیں لیہ کے نوجوان تحصیلدار ذیشان غزلانی ۔ ۔جو عام عوام کو محکمہ مال/بورڈ آف ریونیو کی طرف سے پلس پروجیکٹ کے تحت ہونے والے ونڈہ جات کے بارے میں مقامی زبان سرائیکی میں صاف صاف اور کھرے انداز میں سمجھا رہے ہیں۔ ۔ زمین مالکان سے گزارش ہے کہ اپنی زمین کے کھاتوں کی مفت تقسیم کروا لیں اور اپنی اور آنے والی نسلوں کو لڑائی جھگڑا ورثے میں نہ دے کے جائیں۔ ۔ اللّہ ایسے افسران کو دنیا و آخرت کی کامیابی دے.آمین

17/04/2024

چاچا گلو بیمار اور ہسپتال میں داخل تھا۔ محلے کے چند لوگوں نے مشورہ کیا کہ ویگن والے سے ہسپتال آنے جانے کا کرایہ طے کرتے ہیں اور سارے جا کر چاچے کی خیر خیریت پوچھ آتے ہیں۔ سو روپے فی بندہ طے ہوا اور کل ملا کر تیرہ بندے تیار ہوئے۔
ویگن والے نے بڑا زور لگایا چودہ سیٹیں ہیں ایک اور بندہ ساتھ ملا لو تاکہ میری ایک سیٹ خالی نہ جائے مگر بندوبست نہ ہو سکا۔
تیرہ بندوں کو بٹھا کر ویگن چلنے ہی لگی تھی کہ گلی کی آخری نکڑ والا رانجھا موچی بھاگتا اور آوازیں دیتا ہوا آتا دکھائی دیا۔
ویگن کے تیرہ مسافر کہنے لگے کہ ویگن بھگاؤ اس منحوس کو ساتھ نہ لو، یہ منحوس تمہارا بھی کوئی نقصان کروائے گا۔ مگر کنڈکٹر نے جواب دیا کہ منحوس ہوگا تو تمہارے لیئے ہوگا میرے لیئے تو سو روپے کی سواری ہے میں تو اسے ہر حال میں اُٹھاؤں گا۔
دیگر سواریوں کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ بادل نخواستہ اپنے محلے بھر کے غیر مرغوب شخص رانجھے کے پہنچنے کا انتظار کرنے لگے۔
ہانپتے کانپتے رانجھے کے پہنچنے پر کنڈکٹر نے اُسے بٹھانے کیلئے دروازہ کھولا مگر رانجھے نے باہر کھڑے کھڑے ہی ٹوٹی سانسوں میں دیگر تیرہ لوگوں سے کہا کہ چاچا گلو تو رات کا ہی ہسپتال سے واپس گھر آ گیا ہے۔ اُترو سارے نیچے، خواہ مخواہ ہسپتال نہ جاؤ۔.

17/04/2024

𝗧𝗵𝗲 𝗚𝗿𝗮𝗻𝗱 𝗧𝗿𝘂𝗻𝗸 (𝗚𝗧) 𝗥𝗼𝗮𝗱

The Grand Trunk (GT) Road is a significant transportation route. Sher Shah Suri constructed it, and it served as the primary commerce route connecting Kolkata and Kabul.

17/04/2024

زندگی اکثر مقامات پر مجھے بے رحم لگی۔نوکری کے حصول کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر دھکتے ہوئے میں نے زندگی کے وہ اسباق سیکھے جو تعلیمی میدان میں ہائی گریڈز کے بعد بھی مجھے سمجھ نہیں آئے تھے۔
نوکری کے حصول کے لیے دھکے کھاتا ہوا نوجوان مجھے اس معاشرے کا سب سے مظلوم انسان لگا۔ وہ نوجوان جس کے مڈل کلاس والدین اپنا سارا اثاثہ اور جمع پونجی اپنی اولاد کی تعلیم پر لگا دیتے ہیں۔
ہم مڈل کلاس گھروں میں ہمارے ماں باپ بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے لیے خود پر دو وقت کی روٹی کمانے کے بوجھ کے ساتھ ساتھ اولاد کی تعلیم کے لیے قرض کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور کسی گھر میں ماں اپنی اولاد کو یونیورسٹی میں بھیجنے کے لیے اپنی ماں کی آخری نشانی یعنی اپنا زیور تک بیچ دیتی ہے ۔
ہمارے مڈل کلاس والدین کے خواب بہت چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کے مقدر کا ستارہ چمکا دے گی۔اور وہ باپ اس لئے اپنی دوائیاں نہیں خریدتا کیوں کہ اسے اپنے بچوں کی اکیڈمی کی ، کالج کی فیس دینی ہے۔ کسی بچے کے ہوسٹل کے ڈیوز کی آخری تاریخ قریب ہے تو دوسرے بچے کی سمیسٹر کی فیس ادا کرنی ہے۔
مجھے واقعی اب ان ماں باپ کے دکھ کا اندازہ ہونے لگا ہے جو صرف اولاد کی تعلیم کے لیے اپنا طرز زندگی بدل لیتے ہیں۔ مہنگے کپڑے پہنتے والا باپ ایک سستہ سوٹ خریدنے کو ترجیح دینے لگتا ہے تاکہ اس کی اولاد کے تعلیمی اخراجات کی بروقت ادائیگی ہوسکے۔
روزگار کے حصول کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر دھکتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ بھاری ان ڈگریوں کا پلندہ لگا جن پر ہمارے ماں باپ نے ہمارے اچھے کل کے لیے اپنے آج کا سکون برباد کیا ہوتا ہے صرف اس امید پر کہ کم از کم ہماری اولاد خود کے ہی قابل ہوجائے۔

16/04/2024

حقیقت پر مبنی آٹھ روحانی مشاہدات"
*پہلا:* ﮔﮭﺮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺻﺤﻦ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺑﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ۔ ﺁﭖ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﺟﮍﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ‘ آپ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ‘ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ‘ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ‘

*ﺩﻭ:*
ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﻣﻠﺘﺎ ﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺯﻕ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺁﭖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ‘*ل ﺁﭖ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺑﻠﯿﻮﮞ‘ ﮐﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ‘ ﺩﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﭽﻦ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ.

*ﺗﯿﻦ:*
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﺒﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮏ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔا ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺮﮨﻨﮕﯽ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﺩﮮ ﮔﺎ‘

*ﭼﺎﺭ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﭩﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ‘

*ﭘﺎﻧﭻ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻻ ﻣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﯾﮧ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ‘ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻮﺍﺿﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻻﻟﭻ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ‘

*ﭼﮫ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺍﻣﭙﺮﻭﻭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺍﺀ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﺁﭖ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ‘

*سات:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﮐﮭﺪﻭﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻮﭨﺮ ﻟﮕﻮﺍ ﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﻟﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺁﮒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﺮ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

*آٹھ*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔

14/04/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Lahore