Learning point
Never stop learning ; For when we stop learning, we stop growing �So every day we are offered new mean for learning and growing ��
آج کی پوسٹ ان دیہاڑی داروں کے نام ۔جو ہفتے میں ایک دفعہ اپنی بیٹی کا پسندیدہ انڈے والا بند کباب لاتے ہیں اور ساتھ اعلان بھی کرتے ہیں کہ انکا پسندیدہ کھانا تو بس روٹی اور چٹنی ہے۔۔
آج کی پوسٹ ان عظیم مردوں کے نام
جو رات کو اپنے چھالے بھرے ہاتھوں سے , اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے لۓ گرما گرم مونگ پھلی لاتے ہیں اور ساتھ بیٹھ کر قہقہے لگا کر کہتے ہیں تم لوگ کھاٶ میں تو راستے میں کھاتا آیا ہوں۔
آج کی پوسٹ ان عظیم جوانوں کے نام
جو شادی کے چند دن بعد پردیس کی فلاٸٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا ATM بن جاتے ہیں، جنہیں اپنی بیوی کی جوانی اور اپنے بچوں کا بچپن دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔۔
آج کی پوسٹ ان سب مزدوروں، سپرواٸزروں اور فیلڈ افسروں کے نام
جو دن بھر کی تھکان کے ٹوٹے بدن کے باوجود اپنے بیوی بچوں کے مسکراتے چہرے دیکھنے کے لۓ رات کو واٸس ایپ (voice app) کال کرنا نہیں بھولتے۔
آج کی پوسٹ ان سب دکانداروں اور سیلزمینوں کے نام
جو سارا سارا دن اپنے وجود کے ساتھ لیڈیز سوٹ لگا کر کہتے ہیں
باجی دیکھیں کیسا نفیس پرنٹ اور رنگ ہے۔۔
آج کی پوسٹ ان سب عظیم مردوں کے نام
جو ملک کے کسی ایک کونے سے ڈراٸیو شروع کرتے ہیں اور پورے پاکستان میں اشیاء تجارت دے کر آتے ہوۓ اپنی بیٹی کے لۓ کسی اجنبی علاقے کی سوغات لانا نہیں بھولتے
آج کی پوسٹ ان معزز افسران کے نام
جو ویسے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے، مگر اپنے بچوں کے رزق کے لۓ سینٸیر اور سیٹھ کی گالیاں کھا کر بھی مسکرا دیتے ہیں۔
آج کی پوسٹ ان عظیم کسانوں کے نام
جو دسمبر کی برستی بارش میں سر پر تھیلا لۓ پگڈنڈی پھر کر کسی کھیت سے پانی نکالتے ہیں اور کسی میں ڈالتے ہیں۔
آج کی پوسٹ میرے والد صاحب کے نام
جنہوں نے مجھے زندگی دی اور زندگی بنا کر بھی دی۔۔۔
آج کی پوسٹ ہر نیک نفس، ایماندار اور محبت کرنے والے باپ، بھاٸی، شوہر اور بیٹے کے نام
جو اپنے لۓ نہیں اپنے گھر والوں کے لۓ کماتے ہیں
جنکا کوٸی عالمی دن نہیں ہوتا۔
مگر ہر دن ان کے لۓ عالمی دن ہوتا ہے
کیونکہ
جن کے لۓ وہ محنت کرتے ہیں وہی انکا سب کچھ ہوتے ہیں۔
1. رزق حرام کا ایک نوالہ کم از کم تین نسلیں خراب کرتا ہے.
2.دعا کرنا تمھارا پیسہ ڈاکٹروں اور حکیموں پہ نہ اٹھے بلکہ دوستوں اور مہمانوں پہ اٹھے.
3.جس کا دستر خوان آباد ہے اسکی زندگی آباد ہے.
وجود اچھے کپڑے پہننے سے دلکش اور decorate نہیں ہوگا، اس کے لیے اندر کی صفائی بھی ضروری ہے.
03/04/2021
مکافات عمل:
مجھے کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے اور ترس آتا ہے ان لوگوں پہ جو مکافات عمل سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کو اذیت دے کر، ان کو دکھ پہنچا کر اور ان سے ان کی خوشیاں چھین کر خود خوش رہنا چاہتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ مکافات محض ایک لفظ ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ جس قدر وہ گرتے جا رہے ہیں تو ان کا انجام کیا ہوگا؟ ایسا سب کچھ صرف ایسے لوگ کرتے ہیں جن کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے اور ان کو تو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر غلط کر رہے ہیں دوسروں کا دل توڑ کے، اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دلوں میں تو خدا بستا ہے.
اگر کوئی ہمارے ساتھ غلط کر بھی جائے تو ہمیں مکافات عمل یا تو یاد آ جاتا ہے یا ہمیں یہی لفظ بول کر دلاسہ دیا جاتا ہے، مگر ہمیں ایسا مکافات عمل نہیں چاہیے ہوتا ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہوتی ہے. ہمیں کسی کا برا چاہے بغیر اپنا بھلا چاہنا چاہیے. کیا پتہ کہ ہم جس مکافات عمل کے انتظار میں بیٹھے ہوں اور وہ شخص خدا کے سامنے ندامت کے چند آنسو بہا کر معافی طلب کر لے اور ہم انتظار میں بیٹھے ہوں کہ مکافات عمل کب ہو گا؟ کیونکہ دوسروں کو ملنے والی تکلیف سے آپکے ساتھ کی گئی ذیادتی ختم نہیں ہو جاتی ہمیں سب کو معاف کر دینا چاہیے اور خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ کسی کا برا کیے بغیر وہ آپ کا بھلا کر دے اور یقین مانیں معاف کر دینے سے دلوں کو سکون ملتا ہے.
از قلم شعوانہ عنبرین.
Three Rules of Selecting Your Career.
1. Interest
2. Capacity
3. Oppurtunity
01/03/2021
پاکستان کی ایک بیٹی کی سائنسی میدان میں پیشرفت:
فیصل آباد کی آئی ٹی کی سٹوڈنٹ شانزہ منیر نے ایسے جوتے ایجاد کیے ہیں جن کے آگے سینسر اور کیمرہ لگا ہوا ہے جو کہ خاص طور پر نابینا افراد کو مدد دینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں.
ان جوتوں کی خاص بات یہ ہے کہ نابینا افراد جب ان کو پہن کر چلیں گے تو یہ جوتے پہلے سے ان کو آگے آنے والی رکاوٹ کے بارے میں مطلع کردیں گے اور الارم اور وائبریٹر ان میں لگائے گئے ہیں جو کہ ریچارج ایبل بیٹری پر چلتے ہیں
جوتوں کی لاگت 12000 روپے ہے جو کہ حکومتی تعاون کے بعد یقیناََ اس سے بہت کم ہو جائے گی
آئیے شانزہ کی اس ایجاد پر اسے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں.
28/02/2021
*نصیب اپنا اپنا*
میں کل فرنیچر والی دکان پر گیا کچھ صوفہ اور بیڈ سیٹ پسند آئے تو سوچا تصویر لے لیتا ھُوں گھر والوں کو دِکھانے کے واسطے تصویر لینے لگا تو دکاندار غصہ ھو گیا اور منع کر دیا، وہاں سے نکلا اور جس بھی فرنیچر والے کے پاس گیا اُس نے ایسا ھی کِیا میرے ساتھ ایسا ھی پہلے ایک دفعہ کپڑے کے بوتیک پر بھی ھُوا تھا کہ جس بھی بوتیک پر گیا اُنہوں نے کپڑوں کی تصاویر لینے سے منع کر دیا میں نے فرنیچر والے سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا لوگ ڈیزائن چوری کر لیتے ہیں...کہنے لگا میں پہلے سنیار کا کام بھی کرتا رھا ھُوں اور جب کبھی ہم اپنے اُستاد سے مِلنے جاتے تھے تو وہ اپنا کام بند کر کے چُھپا لیتے تھے تا کہ ہم دیکھ کے اُس کا ڈیزائن چوری نہ کر لیں یہی دنیا کا دستور ھے جناب مجھے اِس پر ایک واقعہ یاد آ گیا اور میں نے فرنیچر والے کو سُنایا.
میاں چنوں شہر میں خوشی برفی والا بہت مشہور ھے بہت دُور دُور سے لوگ اُس کی برفی لینے آتے ہیں کیونکہ اُس کی برفی میں ذائقہ ھی ایسا ھے کہ میٹھے سے نفرت کرنے والا بھی بہت شوق سے اُس کی برفی کھاتا ھے ایک دفعہ لاہور میں کسی شادی پر امریکہ سے کچھ لوگ آئے ھُوئے تھے وہ تھے تو پاکستانی لاہوری لیکن بعد میں امریکہ شفٹ ھو گئے تھے تو وہاں شادی پر کوئی بندہ خوشی کی برفی لے گیا. امریکی مہمانوں نے جب برفی کھائی تو حیران رہ گئے، کہتے ایسا ذائقہ ہم نے آج تک نہیں چکھا کسی مٹھائی کا.. وہ خوشی کی برفی کے ایسے دیوانے ھُوئے کہ مزید برفی لینے اس کے شہر پہنچ گئے لیکن معلوم پڑا کہ برفی ختم ھو گئی کیونکہ فجر کی نماز کے بعد سے صبح آٹھ نو بجے تک اُس کی جتنی بھی سات آٹھ من برفی ھوتی تھی ساری بِک جاتی تھی اور شام بھی عصر سے عشاء تک یہی حال ھوتا تھا...وہ امریکی اِتنی زیادہ آمدن دیکھ کر حیران ھو گئے اور خوشی سے کہنے لگے ہمیں اپنی برفی کی ریسیپی دے دو ہم بھی واپس امریکہ جا کے مٹھائی کا کاروبار کریں گے وہاں بہت چلے گی تمہاری برفی گورے بہت پسند کریں گے...
خوشی نے ریسیپی لکھوائی اُنکو پکڑائی اور پھر بولا :
*"دودھ_چینی_کھویا_اور_میرا_نصیب"*
*آپ سب کچھ لے سکتے ہیں لیکن خوشی جیسا نصیب کہاں سے لیں گے ...؟*
تو میں نے اُس فرنیچر والے کو سمجھایا :
" میرے بھائی تصویر یا ڈیزائن لے جانے سے کوئی آپ کا نصیب ساتھ نہیں لے جائے گا ، ہر چیز کاپی ہو سکتی ہے لیکن آپ کا نصیب کاپی کرنے والا کیمرہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔
15/02/2021
ایک پیغام تمام والدین کے نام۔۔۔۔
سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں!!!
14/02/2021
بڑے لوگ کیوں بڑے ھوتے ہیں
ایڈسن (Thomas Alva Edison) کو دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے الیکٹرک بلب ایجاد کیا
جب وہ ہزارویں تجربہ کے بعد بلب بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کو لگانے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے آفس کے چپڑاسی کو وہ بلب دیا کہ جاؤ یہ ٹیسٹ کرو وہ لڑکا اتنا نروِس ہوا کہ غلطی سے اس سے بلب گر کر ٹوٹ گیا۔۔۔ سب بہت حیران ہوئے
ایڈیسن اگلے دن ایک اور بلب بنا لائے اور اسی لڑکے کو دیا کہ جاؤ یہ بلب ٹیسٹ کرو
بعد میں ساتھیوں نے پوچھا کہ جناب آپ یہ بلب کسی اور کو بھی دے سکتے تھے آپ نے اسی کو کیوں دیا جس سے کل بلب ٹوٹا تھا ؟؟
ایڈیسن نے آبِ زر سے لکھے جانے والا جواب دیا کہ "مجھے ٹوٹے ہوئے بلب کی جگہ نیا بلب بنانے میں 24 گھنٹے لگے لیکن اگر آج میں اس کو بلب نہ دیتا تو شاید اس کی خود اعتمادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی، جو کہ میں نہیں چاہتا"
بڑے لوگ بظاہر چھوٹے نظر آنے والوں کا بھی خیال رکھا کرتے ہیں تبھی تو وہ بڑے ہوتے ہیں
*🔘🌼"تلخ حقیقت"🌼🔘*
ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟
جواب۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔
۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔
ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔
(سلیٹ) پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔
اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔
اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔
کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔
اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔
گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔
آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔
مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔
آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کر کے گھر رکھے ہوتے ہیں۔ ۔
روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔
آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔
ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔
آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی۔۔
غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...
آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..
اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں
غریب ہوں۔
*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*
*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore