Property Channel

Property Channel

Share

A real estate services company & our goal is to revolutionize and formalize it by "𝗧𝗿𝘂𝘀𝘁𝘄𝗼𝗿𝘁𝗵𝗶𝗻𝗲𝘀𝘀"

04/06/2026



“O People of the Book! Why do you mix truth with falsehood and knowingly conceal the truth?”
— Surah Aal-e-Imran (3:71)

ترجمہ:
“اے اہلِ کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈمڈ کرتے ہو اور جانتے بوجھتے حق کو کیوں چھپاتے ہو؟”

یہ آیت سچائی، دیانت داری اور حق کو واضح طور پر بیان کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق کو پہچان لینے کے بعد اسے چھپانا، اس میں تحریف کرنا یا اسے باطل کے ساتھ ملا دینا بہت بڑی ذمہ داری اور آزمائش ہے۔

ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ رکھے، خواہ وہ بات اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
حق کی روشنی ہمیشہ واضح ہوتی ہے، لیکن اسے قبول کرنے کے لیے اخلاص، انصاف اور اللہ کا خوف ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے، اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

03/06/2026

آج کی آیت ✨

​"اے اہل کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود (ان کے من جانب اللہ ہونے کے) گواہ ہو۔" (سورۃ آل عمران، آیت: 70)

​اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲

​📅 آج کا دن:

​17 ذوالحجہ 1447 ھ

​03 جون 2026ء

​20 جیٹھ 2082

02/06/2026



“And a group from the People of the Book wish to lead you astray, but they do not lead anyone astray except themselves, though they do not realize it.”
— Surah Aal-e-Imran (3:69)

ترجمہ:
“اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ تمہیں گمراہ کر دے، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتے، مگر وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔”

یہ آیت ہمیں ایمان پر ثابت قدم رہنے اور حق کو مضبوطی سے تھامنے کی تلقین کرتی ہے۔
دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو دوسروں کو حق کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جو شخص اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے تھام لے، اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو دوسروں کے شبہات اور گمراہ کن باتوں کے بجائے اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی تعلیمات کو اپنا معیار بنانا چاہیے۔
جو لوگ دوسروں کے لیے گڑھے کھودتے ہیں، اکثر خود ہی اُن میں گر جاتے ہیں، جبکہ حق ہمیشہ روشن اور غالب رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اُس پر ثابت قدم رہنے، اور ہر قسم کے فتنوں اور گمراہی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

01/06/2026



“Indeed, the people who have the best claim to Ibrahim (Abraham) are those who followed him, and this Prophet, and those who believe. And Allah is the Protector of the believers.”
— Surah Aal-e-Imran (3:68)

ترجمہ:
“بے شک ابراہیمؑ سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی، اور یہ نبی ﷺ، اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اور اللہ مؤمنوں کا کارساز ہے۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک فضیلت کا معیار نسب، قوم یا نسل نہیں، بلکہ ایمان اور اطاعت ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کا حقیقی راستہ توحید، اخلاص اور اللہ کے حکم کے سامنے کامل سپردگی کا راستہ تھا۔ اسی لیے جو لوگ اُن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، وہی اُن کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔

ایک مؤمن کے لیے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اُس کا مددگار، محافظ اور کارساز ہے۔
جب اللہ ساتھ ہو تو راستے کی مشکلات کمزور پڑ جاتی ہیں، اور دل کو سکون نصیب ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی سچی پیروی، رسول اللہ ﷺ کی محبت و اطاعت، اور مضبوط ایمان کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

31/05/2026



“Abraham was neither a Jew nor a Christian. Rather, he was upright, wholly devoted to Allah, and he was not among those who associated partners with Him.”
— Surah Aal-e-Imran (3:67)

ترجمہ:
“ابراہیمؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو ہو کر صرف اللہ کے فرمانبردار تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔”

یہ آیت حضرت ابراہیمؑ کی حقیقی پہچان بیان کرتی ہے۔
آپؑ نے اپنی پوری زندگی خالص توحید، اللہ کی اطاعت، اور حق پر استقامت کے لیے وقف کر دی۔
آپؑ نے ہر قسم کے شرک، باطل عقائد اور گمراہی سے خود کو الگ رکھا اور صرف اپنے رب کی رضا کو مقصدِ حیات بنایا۔

یہی پیغام آج بھی ہمارے لیے ہے کہ ہم اپنی پہچان نسل، قومیت یا گروہوں سے نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی، اخلاص اور تقویٰ سے بنائیں۔
جو شخص حضرت ابراہیمؑ کے راستے پر چلتا ہے، وہ توحید اور ہدایت کے راستے پر چلتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خالص ایمان، سچی بندگی اور حضرت ابراہیمؑ کی طرح حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

28/05/2026



“Here you are! You debated about that of which you had some knowledge, but why do you argue about that of which you have no knowledge? Allah knows, while you do not know.”
— Surah Aal-e-Imran (3:66)

ترجمہ:
“دیکھو! تم اُن باتوں میں تو بحث کر چکے جن کا تمہیں کچھ علم تھا، مگر اب اُن معاملات میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کوئی علم نہیں؟ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”

یہ آیت انسان کو علم، عاجزی اور احتیاط کا درس دیتی ہے۔
اکثر لوگ ایسی باتوں پر بحث و تکرار میں پڑ جاتے ہیں جن کی حقیقت سے وہ خود بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کے بغیر رائے دینا اور حقائق کے بغیر بحث کرنا دانشمندی نہیں۔

ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرے، علم حاصل کرے، اور جہاں علم نہ ہو وہاں اللہ کی حکمت پر بھروسہ کرے۔
کیونکہ کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور انسان کا علم ہمیشہ محدود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح علم، عاجزی، اور حق کو قبول کرنے والا دل عطا فرمائے۔ آمین۔

28/05/2026



“O People of the Book! Why do you argue about Ibrahim (Abraham), while the Torah and the Gospel were not revealed until after him? Will you not then understand?”
— Surah Aal-e-Imran (3:65)

ترجمہ:
“اے اہلِ کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو، حالانکہ تورات اور انجیل اُن کے بعد نازل ہوئیں؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”

یہ آیت انسان کو تعصب اور اندھی تقلید سے نکل کر سچائی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
اسلام ہمیشہ علم، عقل اور حق کی بنیاد پر بات کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ خواہشات اور اختلافات کی بنیاد پر۔
حضرت ابراہیمؑ خالص توحید کے علمبردار تھے، اور اُن کا پیغام صرف ایک اللہ کی بندگی تھا۔

جو شخص سچائی کو کھلے دل سے قبول کرتا ہے، اللہ اُس کے دل کو ہدایت کی روشنی سے بھر دیتا ہے۔

27/05/2026



“Say: O People of the Book! Come to a word common between us and you: that we worship none but Allah, associate no partner with Him, and do not take one another as lords besides Allah…”
— Surah Aal-e-Imran (3:64)

ترجمہ:
“کہہ دیجیے: اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔”

یہ آیت اسلام کے خوبصورت پیغامِ توحید، اتحاد اور سچائی کو بیان کرتی ہے۔
قرآن انسانیت کو نفرت، تعصب اور اختلاف کی بجائے اُس بنیاد کی طرف بلاتا ہے جو سب سے مضبوط ہے — یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت۔
اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اُسی پر بھروسہ کرے، اور اپنی زندگی کو اُس کی ہدایت کے مطابق گزارے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید، سچی بندگی، اور حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔

26/05/2026



“But if they turn away, then surely Allah is fully aware of the corrupters.”
— Surah Aal-e-Imran (3:63)

ترجمہ:
“پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔”

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی جو لوگ تکبر، ضد یا دنیاوی خواہشات کی وجہ سے سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال اور نیتوں سے خوب واقف ہے۔
انسان دوسروں سے اپنے حال کو چھپا سکتا ہے، مگر اللہ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

ایک سچے مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ جب اُس کے سامنے حق آئے تو وہ عاجزی کے ساتھ اُسے قبول کرے، کیونکہ ہدایت صرف اُنہی دلوں کو نصیب ہوتی ہے جو سچائی کی تلاش رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اُس پر ثابت قدم رہنے، اور ہر قسم کے فساد و گمراہی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

25/05/2026



“Indeed, this is the true account. There is no god except Allah, and surely Allah is the Almighty, the All-Wise.”
— Surah Aal-e-Imran (3:62)

ترجمہ:
“یقیناً یہ سچا بیان ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بے شک اللہ ہی سب پر غالب، کامل حکمت والا ہے۔”

یہ آیت توحید کی سچائی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔
دنیا میں بہت سی آوازیں انسان کو بھٹکانے کی کوشش کرتی ہیں، مگر حق صرف وہی ہے جو اللہ نے اپنے قرآن میں بیان فرمایا۔
وہی طاقت والا ہے، وہی حکمت والا ہے، اور اُسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

جو دل اللہ پر یقین رکھتا ہے، اُسے دنیا کے خوف کمزور نہیں کر سکتے۔
اصل سکون اور کامیابی صرف اللہ کی قربت میں ہے۔

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Property Channel Real Estate PVT LTD, 32-KM Main Ferozepur Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 20:00