Easy Islam

Easy Islam

Share

Islam is the Easiest Way to Get Both Worlds. Our Lord (اللّٰہ تعالیٰ)
Our Leader (حضرت محمد ﷺ)

03/12/2025

جس عمل پر مرد کو جہنم کی وعید
وہی عمل فیشن سمجھ کر آج مرد کر رہا ہے
جس عمل پر عورت کو جہنم کی وعید
وہی عمل فیشن سمجھ کر آج عورت کر رہی ہے
اسلام نے مرد و عورت کے لباس، چال، گفتار اور کردار میں واضح فرق رکھا ہے۔
مرد کو غیرت و وقار کا پیکر بنایا،
اور عورت کو حیا و عفت کا حسن عطا کیا۔
مگر آج شیطان نے ان دونوں کی شناختوں کو بدل کر رکھ دیا —
مرد نرمی اور نزاکت کو فیشن سمجھنے لگا،
اور عورت بے حجابی اور نمائش کو آزادی کہنے لگی۔

03/11/2025

جب بدعتی لوگ کعبہ 🕋 کے غلاف کو چاکو اور ✂️ کینچیوں سے کاٹتے ہیں اور جب محافظ انہیں روکتے یا وہاں سے ہٹاتے ہیں تو شور گل مچاتے ہیں کہ سعودیہ انتظامیہ ( عمرہ/ حج کرنے والوں) کو مارتا ہے ۔ حالانکہ اگر انہیں ان کی خواہش پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے شرکیہ اعمال سے مسجد حرام اور کعبہ 🕋 کی حرمت کو پامال کر دیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ کعبہ کا غلاف صرف ایک کپڑا ہے ۔ نا وہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نا ہی نقصان ۔ عزت و حرمت اس کپڑے میں نہیں بلکہ اس گھر کی نسبت میں ہے جسے اللہ نے اپنی عبادت کے لئے مخصوص فرمایا ہے

24/08/2025

اگر کسی مخلوق کو ہر سہولت دے دی جائے — وافر خوراک، محفوظ رہائش، سکون، اور کوئی خطرہ نہ ہو — تو کیا وہ ہمیشہ خوش و خرم اور ترقی یافتہ رہے گی؟
یہ سوال حیاتیات کے ایک امریکی ماہر جان کلہون نے 1970ء میں چوہوں پر ایک چونکا دینے والا تجربہ کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔
کلہون نے ایک مثالی ماحول تخلیق کیا، کھانے پینے کی کمی نہیں، رہائش وسیع، دشمن کوئی نہیں۔ وہاں صرف چار جوڑے چوہوں کو چھوڑا۔
کچھ ہی عرصے میں ان کی آبادی تیزی سے بڑھی۔ امن، آرام اور سہولتوں سے بھرپور "جنت" میں ہر چیز مکمل تھی… مگر پھر کچھ عجیب ہونے لگا۔
315 دن بعد
افزائش کی شرح کم ہونے لگی، سماجی ڈھانچہ بگڑنے لگا، چوہوں میں تشدد، گوشہ نشینی، ذہنی بیماری، بچوں کو چھوڑ دینا، اور حتیٰ کہ ایک دوسرے کو کھانا جیسے رویے پیدا ہونے لگے۔
کچھ چوہے مکمل بے مقصد زندگی گزارنے لگے — نہ لڑائیاں، نہ تعلقات، نہ افزائش نسل… صرف کھاتے، سوتے، اور وقت گزارتے۔
اور پھر
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ مثالی دنیا تباہ ہو گئی۔
کسی نے حملہ نہیں کیا، کوئی آفت نہیں آئی، کوئی کمی نہیں ہوئی — بس جینے کا مقصد ختم ہو گیا۔
آخری چوہا 2 سال بعد پیدا ہوا… اور پھر موت کے سوا کچھ نہ بچا۔
یہ تجربہ 25 مرتبہ دہرایا گیا، اور ہر بار نتیجہ وہی تھا:
سہولت زدہ معاشرہ، بغیر مقصد کے زندگی، اور پھر مکمل تباہی۔
سوچنے کی بات ہے کہ
کیا صرف سہولتیں، آسائشیں، اور تحفظ ہی انسان یا معاشرہ کی کامیابی کی ضمانت ہیں؟
یا ہمیں جینے کے لیے ایک "مقصد"، ایک "جدوجہد"، اور کچھ چیلنجز درکار ہوتے ہیں؟
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے
اور اگر الله اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا، تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ (یعنی جتنا مناسب ہو) نازل فرماتا ہے، جیسا وہ چاہتا ہے۔"
[سورۃ الشورى: 27]

08/08/2025

یہ اس کا شوہر نہیں بلکہ ایک کسٹمر ہے، باہر کے مردوں کے سامنے ادب سے بات کر لیں گی، اُن کے لیے مسکرا لیں گی، اُن کے آگے پانی رکھ دیں گی، اُن کی تعریف سُن کر خوش ہو جائیں گی... لیکن جب گھر آئیں گی، تو اپنے شوہر کی خدمت کرنے سے جیسے اُن کو موت پڑتی ہے۔

یہ کہتی ہیں:
"ہم غلام نہیں! ہمیں آزادی چاہیے! ہمارا جسم، ہماری مرضی!"

کاش سمجھتیں...
اسلام نے عورت کو غلام نہیں بنایا، بلکہ اُسے عزت دی، مقام دیا، حقوق دیے۔
اسلام نے عورت کو کہا:
"اپنے گھروں میں عزت سے رہو، پردے میں رہو، اور اپنے شوہر کی فرمابرداری کرو۔"
اسلام نے عورت کو جنت کی حقدار بنایا – صرف اتنی سی شرط پر کہ وہ شوہر کے ساتھ حسنِ سلوک رکھے، اُس کی اطاعت کرے، اور صبر و شکر سے زندگی گزارے۔

آج کی عورت گھر میں شوہر کی بات سننا توہین سمجھتی ہے، اور بازار میں مردوں کی بات سننا فنِ مہارت!
گھر میں شوہر کی خدمت کرنے کو غلامی کہتی ہے، اور دفتر میں باس کی خدمت کرنے کو عزت!

یاد رکھو!
عزت پردے میں ہے، حیاء میں ہے، شوہر کی خدمت میں ہے، اپنے گھر کو جنت بنانے میں ہے۔
اسلامی تعلیمات عورت کے لیے بوجھ نہیں، عزت کا زیور ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو شوہر کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا۔"
(ترمذی: 1159)

اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
"جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے، تو قیامت کے دن کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔"
(مسند احمد)

تو اے مسلمان بہن!
دنیا کی آزادی کی باتیں چھوڑو، اللہ کے احکام کو اپنا لو۔
شوہر کی عزت کرو، اپنے گھر کو سکون کا گہوارہ بناؤ، اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لو۔
خوش اخلاقی، خدمت، صبر، شکر – یہی تمہارا اصل زیور ہے۔

25/06/2025

جب سب آپکے مخالف ہوں تو جانور بن جایا کریں

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا !!!

31/08/2024
04/07/2024

*مسواک بھی سُنّت ہے تو تلوار بھی سنت*
*دستار بھی سنت ہے تو ہتھیار بھی سنت*
*اعدائے دین کو دین کی دعوت بھی خُوب ہے*
*اعدائے دین سے برسرِ پیکار بھی سنت*

*مانا معاہدے بھی کیے میرے نبی صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم نے*
*برداشت بھی سنت ہے تو یلغار بھی سنت*

*تلوار کے سائے تلے جنت کی بشارت*
*پھر کیوں نہ کہا جائے کہ ہے وار بھی سنت*
🇵🇸✌️🇵🇸

🇵🇸 *`Voice of Palestine`* 🇵🇰

13/03/2024

جن کی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا ہے وہ رمضان آفرز لگا رہے ہیں۔
جنہوں نے بائیکاٹ کرنا تھا وہ ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کر رہے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں ہدایت دے آمین

13/03/2024

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے
تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر انکی وہیں ہوجائے گی۔
غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑہ تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا..
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیں

غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔
پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے)
فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔

گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔
مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،
اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔
اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔
حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے
"اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں،
کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ،
میں تو دعائیں مانگتا ہوں
اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔
میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا
اے اللہ میں جانور تھا،
بےزبان تھا
16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کیلئے
تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟"
یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“
Copied

06/12/2023

یہ کیلے کی طرح نظر آنے والا سانپ دراصل (Banana Ball Python) ہے جسے بہت سے لوگ پالتو جانور کے طور پر پالتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ حشرات الارض میں سے جو کیڑا مکوڑا سبزے میں رہتا ہے وہ سبز ہو جاتا ہے، جو مٹی میں رہتا ہے وہ مٹیالا ہوجاتا ہے، جو چٹانوں میں رہتا ہے وہ چٹانوں سا ہو جاتا ہے اور جو ریت میں رہتا ہے وہ اسی رنگ کا ہوجاتا ہے۔ اس طرح شاید یہ سانپ کیلوں میں رہ رہ کر ہو بہو کیلا ہو گیا۔
اسی طرح جو انسان اچھوں کی صحبت میں رہے گا وہ اچھا ہو جائے گا اور جو بروں کی صحبت میں رہے گا وہ برا ہو جائے گا۔ جو علماء و صلحاء کی صحبت میں رہے گا وہ علم والا اور نیک ہو جائے گا اور جو فاسقوں کی صحبت میں رہے گا وہ بد و شریر ہو جائے گا۔۔۔

قیامت کے دن بری صحبت لے ڈوبے گی اور اس وقت انسان روتا ہوا کہے گا👇
-
"یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾

ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
(الفُرْقَان:28)

یاد رکھیں! ماحول و صحبت تعلیم و تربیت سے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ فیس بک اور وٹس ایپ بھی صحبت معنوی ہیں یہاں بھی غور کریں آپ کس کی صحبت میں ہیں۔ جس کی صحبت میں رہیں گے وہی رنگ آپ پر چڑھ جائے گا۔
اس لیئے ! قدم سوچ سمجھ کے اٹھانا چاہیے ۔

Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Lahore
54000