Munir Rao

Munir Rao

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Munir Rao, Musician/Band, Punjab Pakistan, Khanewal.

Photos from Munir Rao's post 13/05/2026

ماں کی دعا اپنے بچے کے لیے ایک خوبصورت جذبہ ہے، خاص طور پر 10 سال کی عمر میں جب بچہ بچپن سے شعور کی دہلیز (Pre-teen) کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
آپ ان میں سے کوئی بھی دعا منتخب کر سکتے ہیں یا انہیں ملا کر پڑھ سکتے ہیں:
# # # **ایک جامع اور خوبصورت دعا**
"یا اللہ! میرے اس بچے کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔ اسے نیک، صالح اور فرمانبردار بنانا۔ اس کے نصیب بلند کرنا اور اسے دنیا اور آخرت کی ہر خوشی عطا کرنا۔ الٰہی! اسے بری صحبت اور برے وقت سے بچانا، اس کے سینے کو علم اور ایمان کی روشنی سے منور کر دینا، اور اسے ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنانا۔ آمین۔"
# # # **مختلف پہلوؤں کے لیے مختصر دعائیں**
* **ذہانت اور تعلیم کے لیے:**
"اے میرے رب! میرے بچے کے حافظے کو تیز کر، اس کے لیے علم کا حصول آسان بنا اور اسے دین و دنیا کی بہترین سمجھ عطا فرما۔"
* **کردار اور اخلاق کے لیے:**
"یا اللہ! اسے سچ بولنے والا، بڑوں کا احترام کرنے والا اور انسانیت کی خدمت کرنے والا بنا۔ اس کے اخلاق کو بہترین کر دے۔"
* **صحت اور زندگی کے لیے:**
"الٰہی! اسے تندرستی عطا کر، اسے ہر قسم کی بیماری اور نظرِ بد سے محفوظ رکھ اور اسے لمبی اور بابرکت زندگی دے۔"
# # # **قرآنی دعا (جو انبیاء اپنی اولاد کے لیے مانگتے تھے)**
آپ یہ قرآنی الفاظ بھی اپنی دعا کا حصہ بنا سکتے ہیں:
> **رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ**
> *(اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔)*
>
**ایک چھوٹی سی تجویز:**
دس سال کی عمر تربیت کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہے۔ دعا کے ساتھ ساتھ اسے پیار سے یہ احساس دلائیں کہ آپ کی دعائیں ہر پل اس کے ساتھ ہیں، یہ بچے کے اعتماد میں بہت اضافہ کرتا ہے۔

12/05/2026

کہانی کا عنوان: "قیمتی سبق"
​ایک نوجوان لڑکا اپنی چمکتی ہوئی نئی گاڑی میں ایک کچی بستی سے گزر رہا تھا۔ وہ اپنی کامیابی کے نشے میں مگن تھا کہ اچانک ایک چھوٹا سا پتھر اس کی گاڑی کے دروازے پر لگا۔
​لڑکے نے فوراً بریک ماری اور غصے میں گاڑی سے باہر نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ وہاں کھڑا تھا۔ نوجوان نے اس کا گریبان پکڑا اور چلایا، "تم نے میری اتنی مہنگی گاڑی کو پتھر کیوں مارا؟ جانتے ہو اس کا نقصان کتنا ہے؟"
​بچہ روتے ہوئے بولا، "سر! مجھے معاف کر دیں، میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔" اس نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک اور لڑکا زمین پر گرا ہوا تھا۔
​بچے نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا، "وہ میرا معذور بھائی ہے، وہ وہیل چیئر سے گر گیا ہے اور میں اسے اکیلا نہیں اٹھا پا رہا تھا۔ بہت سی گاڑیاں یہاں سے گزریں لیکن کوئی نہیں رکا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں اسے کچھ ہو نہ جائے، اس لیے میں نے پتھر مارا تاکہ کوئی تو رکے۔"
​نوجوان کا غصہ ایک لمحے میں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے فوراً اس معذور بچے کو اٹھا کر وہیل چیئر پر بٹھایا اور ان کی مدد کی۔
​نتیجہ:
اس نوجوان نے اپنی گاڑی کا وہ نشان (dent) کبھی ٹھیک نہیں کروایا۔ وہ اسے ہمیشہ یاد دلاتا تھا کہ "زندگی میں اتنی تیز نہ چلیں کہ کسی کی پکار سننے کے لیے آپ کو 'پتھر' کا انتظار کرنا پڑے۔"
​دلچسپ کیپشن: "کبھی کبھی زندگی ہمیں روکنے کے لیے پتھر مارتی ہے..."

12/05/2026

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"خیر الناس من ینفع الناس"
(تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے)
​آج اپنے دن کا آغاز کسی کی مدد یا کسی کو مسکراہٹ دے کر کریں۔ چھوٹی سی نیکی بھی آخرت میں بہت بڑا سہارا بن سکتی ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ ❤️
​اگر یہ پیغام اچھا لگا ہو تو اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالیں۔ 🤝

27/04/2026

nature #ماشاءاللــّٰـــــه

25/04/2026

ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا زخمی ہرن رہتا تھا۔ سب جانور اس کا مذاق اڑاتے تھے کیونکہ وہ تیز نہیں بھاگ سکتا تھا۔ مگر ہرن ہمیشہ سب کی مدد کرتا تھا۔
ایک دن جنگل میں آگ لگ گئی۔ بڑے بڑے جانور اپنی جان بچا کر بھاگ گئے، مگر راستہ بند ہو گیا۔ تب اسی زخمی ہرن نے ایک خفیہ راستہ دکھایا جو صرف اسے معلوم تھا۔
سب جانور اس کے پیچھے چل پڑے اور محفوظ جگہ پہنچ گئے۔ سب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
شیر نے کہا: “اصل طاقت جسم میں نہیں، دل میں ہوتی ہے۔”
سبق: کبھی کسی کو کمزور سمجھ کر حقیر نہ جانو۔ 🌟💫🎉👏💪😊👍😊👏

Photos from Munir Rao's post 25/04/2026

*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔

DrSaraQureshi

23/04/2026

ہمارے معاشرے میں آج بھی یہ رواج عام ہے کہ کسی کی وفات کے بعد تین دن تک میت کے گھر تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ بحث یہ نہیں کہ دعا ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب کے گھر روح قبض ہونے سے لے کر قبر پر مٹی ڈالنے تک، صرف "کھانے پینے" کی مد میں ہی ہزاروں روپے کا بوجھ پڑ جاتا ہے۔ غم زدہ خاندان پر میت کے دکھ کے ساتھ ساتھ قرض کا بوجھ بھی سوار ہو جاتا ہے۔

​پنجاب کے ایک گاؤں نے اس رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

​ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا:

​"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔"

​جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔
​تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔

​ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ مخلوقِ خدا کی خدمت میں چھپا ہے۔

اگر ہم ناشتے کا ایک بسکٹ ہی چیونٹیوں کو ڈال دیں، تو ہزاروں کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ اگر کھانے کا ایک نوالہ پرندوں کے لیے رکھ دیں، تو کئی پرندوں کی دعا مل سکتی ہے۔

آئیں اس روایت کو ہر گاؤں اور شہر میں زندہ کریں۔ جب بھی کسی ایسے غریب کا جنازہ ہو جو گھر کا واحد کفیل تھا، تو وہاں کے علماءِ کرام پانچ منٹ اس کی زندگی پر بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ "مرحوم کے بچوں کے لیے اپنا حصہ ڈالیں"۔ تاکہ اس خاندان کو معاشی پریشانی سے بچایا جا سکے اور آپ کا یہ عمل آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔

23/04/2026
Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Khanewal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Punjab Pakistan
Khanewal
58150