Channel 6
Channel 6 is an infotainment Social Media Channel which aims to become the Voice of Reason in the world full of bigotry and prejudice.
جنہاں سجناں نوں لٹیا 💔
دل نوں چھو جانے والا گانا 🎶
زہور احمد لوہار کلاسک
Zahoor Ahmed Lohar, Jinhan Sajna Nu Lutya, Punjabi folk song, emotional Punjabi song, Punjabi sad song, old Punjabi classics, folk music Pakistan, Zahoor Lohar songs, Punjabi cultural music, traditional Punjabi folk, heart touching Punjabi songs, old is gold Punjabi
⸻
ماں … اور صرف ایک دن؟
مجھے وہ دن آج بھی بخوبی یاد ہے جب میں اپنے محترم باس، سیکرٹری ایکسائز سندھ جناب مسعودالرحمان مسعود صاحب کے ساتھ سفر میں تھا۔ دورانِ گفتگو وہ فرمانے لگے:
“میری ماں کی وفات کے بعد آج تک کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے اُن سے بات نہ کی ہو۔”
یہ جملہ سن کر میرا دل لرز اٹھا۔ میں سوچنے لگا، کیا میں اپنی ماں سے بے وفائی کا مرتکب ہوا ہوں؟ زندگی میں یقیناً ایسے دن آئے ہوں گے جب میں نے انہیں باقاعدہ یاد نہ کیا ہو، ان کا ذکر نہ کیا ہو، مگر آج ربع صدی گزرنے کے بعد بھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایسے دن انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ بہت کم… شاید نہ ہونے کے برابر… وہ بدنصیب لمحے ہوں گے جب آنکھوں کے سامنے سے وہ پُرنور چہرہ اوجھل ہوا ہو۔
ماں بھی کیا کبھی بھلائی جا سکتی ہے؟
ویسے تو ہر انسان کے لیے اس کی اپنی ماں سب سے زیادہ محبوب اور محترم ہوتی ہے، مگر بعض مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف اپنی اولاد ہی کی نہیں رہتیں، وہ “جگت ماں” بن جاتی ہیں۔
سروس کے ابتدائی دنوں میں، جب میری ٹریننگ جہلم میں تھی، میں نے بڑی مشکل سے امی جی کو آمادہ کیا کہ کچھ عرصہ میرے ساتھ رہیں تاکہ ان کے دانتوں کا علاج ہو سکے۔ جہلم کینٹ کی ایک پُرفضا اور وسیع کوٹھی کی انیکسی میں ان کا تقریباً تین ہفتے قیام میرے لیے کسی عید سے کم نہ تھا۔ دل میں ہر وقت ایک انجانا خوف رہتا کہ کہیں اچانک واپسی کا اعلان نہ کر دیں، کیونکہ پھر انہیں روکنا ممکن نہ ہوتا۔
ڈاکٹر کرنل ضیاءالحق صاحب کی شفقت کا بڑا دخل تھا کہ یہ قیام طوالت اختیار کر سکا۔ وہ خود ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں رک کر امی جی سے دعائیں لیتے۔ علاج وقفوں سے جاری رہتا اور یوں یہ خوبصورت وقت بڑھتا چلا گیا۔
تین ہفتے بعد امی جی نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ اس تیاری میں کپڑوں، ٹافیوں، کھلونوں اور نہ جانے کیا کیا چیزوں کا انبار تھا۔ یہ ساری خریداری انہوں نے اپنی عقیدت مند خواتین کے ذریعے کی تھی اور مجھے اس کی زیادہ خبر بھی نہ تھی۔
اُن دنوں پیر کھارا شریف تک سفر کرنا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ آخری حصہ تو بالخصوص صبر آزما ہوتا تھا۔ سڑک نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی، صرف پتھروں، گرد اور جھٹکوں سے بھرا راستہ۔ گاڑی چلتی کم اور رینگتی زیادہ تھی۔
ہمارا گھر ویسے بھی گاؤں کی آخری سرحد پر واقع تھا۔ جیسے ہی گاؤں کے بچوں کو خبر ہوئی کہ امی جی آ رہی ہیں، بچے آہستہ آہستہ گاڑی کے ساتھ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اچانک ایک بچی کی خوشی سے بھری آواز بلند ہوئی:
“اساڈے امی ہوری آ گئے نیں!”
پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ آواز ایک ترانے کی صورت اختیار کر گئی۔
جب سامان زنان خانے میں پہنچا تو درجنوں بچے امی جی کے گرد جمع تھے۔ کسی کے لیے چوڑیاں نکلیں، کسی کے لیے دوپٹہ، کسی بچے کے لیے کھلونا جیپ، اور سب کے لیے ٹافیاں، چاکلیٹ اور مرنڈے۔ بچے خوشی سے جھوم رہے تھے، اور امی جی کی آنکھوں میں محبت کی وہ روشنی تھی جو صرف ماں کا خاصہ ہے۔
اُس روز پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا کہ یہ ماں صرف اپنے بچوں کی ماں نہیں، بلکہ اس کا مقام عام ماؤں سے کہیں بلند ہے۔
ماں… اور پھر ایسی ماں، جس کی بنیاد خوفِ خدا اور محبتِ رسول ﷺ پر ہو؛ جسے فکر ہو تو صرف اس بات کی کہ اس کے بچے دین سے وابستہ رہیں؛ جو محض حافظِ قرآن نہ ہو بلکہ قرآن کے احکام پر عمل کرنے والی ہو؛ جس کی ناراضی دنیاوی کوتاہیوں پر نہیں بلکہ احکامِ الٰہی سے غفلت پر ہو — ایسی مائیں نسلوں کی تربیت کرتی ہیں، صرف بچوں کی پرورش نہیں۔
اللہ کریم نے توفیق عطا فرمائی تو موٹروے سروس ایریا پیر کھارا شریف کا آغاز ہوا۔ وہاں پہلی عمارت ایک مسجد کی صورت میں تعمیر ہوئی، جس کا نام “مسجد حافظہ زینب بی بی” رکھا گیا۔
لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے کوہستانِ نمک کے آغاز سے قبل یہ مسجد آج بھی مسافروں اور نمازیوں کے لیے باعثِ راحت ہے۔ بہت سے دوستوں نے اس مسجد میں ایک خاص روحانی کیفیت اور قلبی سکون کا ذکر کیا ہے۔ میرے لیے تو یہی کافی ہے کہ جو خاتون ساری عمر نماز اور قرآن کا درس دیتی رہی، آج اُس کے نام کی مسجد روزانہ سینکڑوں نمازیوں کی عبادت میں آسانی اور سکون کا سبب بن رہی ہے۔
ماں… صرف ایک دن کا عنوان نہیں۔
ماں تو ہر دن ہے۔
ہر دعا میں ہے۔
ہر یاد میں ہے۔
ہر کامیابی کے پیچھے ہے۔
اور انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
کسی ایک دن کو “ماں کا دن” کہنا… ماں کے مقام کو محدود کرنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
Tariq Mehmood Pirzada
10/05/2026
Happy Mother's Day 😂
10/05/2026
فیلڈ رپورٹرچینل 6 (اسلام آباد): فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بی ایس 17 کی بھرتیوں کے لیے آج ہونے والے امتحان کے موقع پر امیدواروں کو شدید پریشانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک بھر سے آنے والے سینکڑوں امیدوار جب اپنے امتحانی مرکز پہنچے تو حیران رہ گئے کہ امتحانی مرکز بند تھا جبکہ وہاں کوئی متعلقہ عملہ بھی موجود نہیں تھا۔ امیدوار طویل وقت تک مرکز کے باہر انتظار کرتے رہے اور ایف پی ایس سی کے دفاتر سے رابطے کی کوشش کرتے رہے، تاہم کسی جانب سے کوئی
جواب موصول نہ ہوا۔
متعدد امیدوار دور دراز شہروں سے سفر کرکے آئے تھے، جبکہ کئی مرد و خواتین امیدوار وقت پر امتحان میں شرکت یقینی بنانے کے لیے گزشتہ رات ہی پہنچ گئے تھے اور انہوں نے رات ہوٹلوں یا دیگر مقامات پر گزاری۔
امتحانی مرکز کی بندش اور انتظامیہ کی عدم موجودگی کے باعث امیدواروں میں شدید بے چینی، غصہ اور اضطراب دیکھنے میں آیا۔ امیدواروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے تاکہ ان کے مستقبل کے ساتھ مزید ناانصافی نہ ہو۔
وطن تے والو ہا 💔
پردیسی دل دی پکار
گھر دی یاد ستاندی اے 😢
Channel 6 Lighter Note 🤭
*بوڑھوں کو خوب پانی پلائیں۔*
By Arnaldo (Liechtenstein, physician)
میں جب بھی میڈیسن کے چوتھے سال میں طلباء کو کلینیکل میڈیسن سکھاتا ہوں تو میں مندرجہ ذیل سوال پوچھتا ھوں: بوڑھوں میں ذہنی الجھن کی وجوہات کیا ہیں؟
کسی کا جواب ہوتا ہے:
*سر میں ٹیومر۔*
میں نے جواب دیا: نہیں۔
دوسرے تجویز کرتے ہیں: *الزائمر کی ابتدائی علامات۔*
میں نے پھر جواب دیا: نہیں۔
ان کے جوابات کو مسترد کرنے کے بعد جب وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔ تو جب میں انہیں تین عام وجوہات کی فہرست دیتا ہوں تو ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔
*1- بے قابو ذیابیطس۔*
*2- پیشاب کا انفیکشن۔*
*3- پانی کی کمی۔*
یہ وجوہات بظاھر لطیفے کی طرح لگتی ہیں۔
لیکن ایسا نہیں ہے۔
*عام طور پر 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو پیاس لگنا بند ہوجاتی ہے* اور اس کے نتیجے میں وہ مائعات پینا بند کردیتے ہیں۔ اور اگر کوئی ارد گرد موجود فرد انہیں کچھ پانی وغیرہ پینے کی یاد نہ دلائے تو وہ تیزی سے ڈی ہائیڈریٹ ہو نے لگتے ہیں۔ ان کےجسم میں پانی کی کمی شدید ہو جاتی ہے اور اس سے پورے جسم پر اثر پڑتا ہے۔
*جو اچانک ذہنی الجھن،*
*بلڈ پریشر میں کمی،*
*دل کی دھڑکن میں اضافہ،*
*انجائنا (سینے میں درد)،*
*کومہ اور یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔*
پانی وغیرہ پینا بھولنے کی یہ عادت 60 سال کی عمر میں شروع ہوتی ہے۔
ہمارے جسم میں پانی کی مقدار %50 فی صد سے زیادہ ہونا چاہئے۔
*جب کہ60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے بدن میں پانی کا ذخیرہ کم ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر عمر بڑھنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔*
لیکن! اس میں مزید پیچیدگیاں بھی ہیں۔ یعنی اگرچہ وہ پانی کی کمی سے دوچار ہوتے ہیں پر انہیں پانی پینے کی طلب نہیں ہوتی، کیوں کہ ان کے جسم کے اندرونی توازن کے طریقہ کار زیادہ بہتر طور پر کام نہیں کررہے ہوتے ہیں۔
*نتیجہ*
*60سال سے زیادہ عمر کے لوگ آسانی سے پانی کی کمی کاشکار ہو جاتے ہیں*
*کیونکہ نہ صرف اس وجہ سے کہ ان کے پاس پانی کی فراہمی بہت کم ہےبلکہ وہ جسم میں پانی کی کمی کو محسوس نہیں کرتے ہیں۔*
اس کے باوجود اگرچہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد صحت مند نظر آسکتے ہیں۔
لیکن رد عمل اور کیمیائی افعال کی کارکردگی ان کے پورے جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس لئےاگر آپ کی عمر سال 60سے زیادہ ہے تو آپ:
*1۔ مائعات پینے کی عادت ڈالیں۔ مائع میں پانی، جوس، چائے، ناریل کا پانی، دودھ، سوپ، اور پانی سے بھرپور پھل، جیسے تربوز، آڑو اور انناس شامل ہیں۔ اورنج اور ٹینجرین بھی کام کرتے ہیں۔*
*یہ اہم بات یاد رکھیں کہ، ہر 2 دو گھنٹے کے بعد، آپ کو کچھ مائع لازمی پینا چاہئے۔*
*2- کنبہ کے افراد کے لئے انتباہ! 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مستقل طور پر پانی وغیرہ پیش کریں اور اسی وقت ان کی صحت کا مشاہدہ بھی کریں۔*
اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ وہ ایک دن سے دوسرے دن تک پانی اور جوس وغیرہ پینے سے انکار کر رہے ہیں اور وہ چڑچڑے ہو رہے ہیں یا ان میں سانس کا مسئلہ ہوتا ہے یا توجہ کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں تو، یہ ان کے جسم میں پانی کی کمی کے قریب قریب آنے والی علامات ہیں۔
ان معلومات کو صدقہ جاریہ سمجھ کر یہ معلومات دوسروں کو بھیجیں۔
آپ کے دوستوں اور کنبہ والوں کو اسےجاننے کی ضرورت ہے۔ سب سے شئیر کریں گے تو اس طرح وہ 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو صحت مند اور خوش باش رہنے میں مدد کر سکیں گے۔
ملتمس دعا🤲:
جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا
03/05/2026
ایک معاشرتی برائی جو اسوقت بزنس بن چکی ہے۔۔۔
میراثی!
میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔ ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟
وہ تھوڑا قریب ہوئے اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘
میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔
“اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔ وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘
وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔ آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔
وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔ میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے..
دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘
میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.
اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ پلسطین کے لومڑ جیسا ہے۔
مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ اور وہ بھی پلسطین کا ۔بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘
میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی.
میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔ میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟
میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔ کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔
گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔
یہ ایک معاشرتی برائی ہے جو کہ کروڑوں اربوں روپے کا بزنس بن چکی ہے ۔۔۔۔ ٹی وی چینلز پر پرائم ٹائم میں ہفتہ میں چار پانچ دن جگت بازوں کو بٹھا کر انہیں کروڑوں روپے ہماری اس معاشرتی برائی جسے ہم نے مزاح سمجھ لیا کی تسکین کیلئے پے کئے جاتے ہیں۔۔۔۔ سٹیج ڈراموں میں یہی جگت باز انتہائی فحش و رقیق جملے ایک دوسرے پر کستے ہیں جس سے ہماری 'حس مزاح" کی تسکین ہوتی ہے۔۔۔۔
ہم کس طرف کہاں جا رہے ہیں ؟ہماری منزل کیا ہے ؟
کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے؟ چاچا بکواسی بقلم خود
دل کِتھے کھڑایا ای بھلایا 💔
پنجابی فوک کلاسک 🎶
زہور احمد لوہار کا لازوال گانا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi
Karachi