Al Absar

Al Absar

Share

قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات نیز اخلاقیات کی بہتری اور اس سے متعلقہ مضامین کوجاننے کے لئے ہمارے پیج کو فالو کریں

19/06/2026

اس پوسٹ کو اپنے پاس محفوظ کرلیں

Photos from Al Absar 's post 11/06/2026

شہر مرشد سے واپسی کا سفر جاری ہے
یہ سفر بہت ساری خوبصورت یادوں کے ساتھ مکمل ہوا۔
یہاں جہاں بہت سارا علم و نیو معلومات ملی وہی بہت ساری چیزیں سیکھنے و سمجھنے کو بھی ملیں جو نہ صرف ذاتی ایمپرومنٹ کو بڑھانے بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو صحیح سمت و ڈائریکشن و موٹیویشن دینے والی ہیں
اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے اور امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کو صحت وتندرستی والی درازی عمر بالخیر نصیب کرے ۔ آمین یارب العالمین

10/06/2026

مرشد کے فیض کی قدر وہی جانتا ہے جس نے بھٹکنے کے اندھیروں کو قریب سے دیکھا ہو۔

09/06/2026

یہ بات تو سن رکھی تھی کہ محبت کی نہیں جاتی ،بلکہ ہوجاتی ہے
اس کلپ کو دیکھنے کے بعد یقین آگیا 🥰🥰
Al Absar #امیراہلسنت #دعوت۔اسلامی

08/06/2026

راہِ سلوک اور صحبتِ مرشدِ کامل ✨🤝
دل کی اجڑی بستی کو جلا بخشنے کے لیے کسی مردِ کامل کی صحبت کا حصول اور اس کے لیے سفر کرنا ایک سالک کے لیے آبِ حیات کی مانند ہے. اور کامل مرشد بھی ایسا ہو جس کی زیارت نے سیاہ دلوں کو رشکِ قمر کر دیا ہو، جن کی نگاہِ فیض نے دلوں کی اندھیر بستی کو ضیاءِ عشق سے نوازا ہو، اور ان کے الفاظ کی لہروں نے کانوں کی گہرائیوں میں وہ شورِ مودت برپا کیا ہو کہ آنکھوں کے پردے میں پوشیدہ نہریں تلاطم میں آ کر اپنی حدود سے چھلک پڑیں۔ ایسے مصلحِ نفس اور راہنما کی تلاش اور ان سے راہِ سلوک پر رہنمائی حاصل کرنا ہی روح کی حقیقی پیاس بجھاتا ہے۔
مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ نے مرید ہونے کے لیے پیرِ کامل کی چار شرائط بیان فرمائی ہیں، جن کا پایا جانا بے حد ضروری ہے:
۱. صحیح العقیدہ ہو: پیر کے عقائد و نظریات بالکل درست اور اہل سنت و جماعت کے مطابق ہوں، کیونکہ بدعقیدہ شخص سے فیض حاصل نہیں ہو سکتا۔
۲. عالم ہو: پیر اتنا علم ضرور رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتابوں سے خود نکال سکے اور مریدین کی شرعی رہنمائی کر سکے۔
۳. فاسقِ معلن نہ ہو: پیر گناہوں پر دلیر اور علانیہ گناہ کرنے والا (فاسق) نہ ہو، کیونکہ جو خود اللہ کی نافرمانی میں مشغول ہو وہ دوسروں کی اصلاح نہیں کر سکتا۔
۴. متصل سلسلہ: اس کا سلسلۂ خلافت و بیعت حضور نبی کریم ﷺ تک بغیر کسی کمی بیشی کے (برابر اور متصل) پہنچتا ہو۔
الحمد للہ، آج اپنے پیر و مرشد کی بارگاہ میں اسی روحانی فیض اور راہِ سلوک پر رہنمائی کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک اس حاضری کو باادب اور دل کی دنیا کی تبدیلی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
التماسِ دعا:
محمد علی ہاشمی عطاری

05/06/2026

عقیدت و عشق کا سفر
اسلام میں نیک، صالح اور اللہ والے لوگوں سے ملنا، ان کی مجالس میں بیٹھنا اور ان کی زیارت کے لیے جانا ایک انتہائی پسندیدہ اور فضیلت والا عمل ہے۔ اسے نہ صرف مستحب قرار دیا گیا ہے، بلکہ یہ ایمان کی پختگی، دل کی صفائی اور الٰہی محبت کو پانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اس حوالے سے اسلامی تعلیمات، قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے ارشادات کی روشنی میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
# # # ۱. قرآنِ پاک کی روشنی میں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> **"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ"**
> "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں (صالحین) کے ساتھ رہو۔" (سورہ التوبہ: 119)
>
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے کے لیے سچے اور نیک لوگوں کا ساتھ بے حد ضروری ہے۔
# # # ۲. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
احادیث میں نیک لوگوں کی زیارت اور ان کی مجالس کی فضیلت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے:
* **نیک اور بد دوست کی مثال:**
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نیک ہمنشین (ساتھی) اور برے ہمنشین کی مثال عطر بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ عطر بیچنے والے کے پاس تم بیٹھو گے تو یا تو تم عطر خرید لوگے، یا وہ تمہیں تحفے میں دے گا، یا کم از کم اس کی خوشبو سے تم ضرور معطر ہو جاؤ گے۔ جبکہ لوہار کی بھٹی تمہارے کپڑے جلا دے گی یا وہاں سے بدبو دار دھواں ملے گا۔" (صحیح بخاری)
* **اللہ کی خاطر ملاقات پر مغفرت:**
ایک حدیثِ قدسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں، اور میری خاطر **ایک دوسرے کی زیارت (ملاقات) کے لیے جاتے ہیں**۔" (مسند احمد)
* **فرشتوں کا گواہ بننا:**
ایک مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص اپنے کسی بھائی سے ملنے دوسرے گاؤں جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر کر دیا۔ فرشتے نے پوچھا: "کہاں جا رہے ہو؟" اس نے کہا: "اس گاؤں میں میرا ایک بھائی ہے، اس سے ملنے جا رہا ہوں۔" فرشتے نے پوچھا: "کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کا بدلہ چکانا ہے؟" اس نے کہا: "نہیں، میں صرف اللہ کی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں (اور ملنے جا رہا ہوں)۔" فرشتے نے کہا: "میں اللہ کا قاصد بن کر آیا ہوں اور تمہیں یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے جیسے تم اس کے بندے سے کرتے ہو۔" (صحیح مسلم)
# # # ۳. نیک لوگوں کی زیارت اور ملاقات کے فوائد
علماء اور صوفیائے کرام نے صالحین کی زیارت کے کئی روحانی اور دنیاوی فوائد بیان کیے ہیں:
* **دل کی بیداری:** نیک لوگوں کے چہرے کو دیکھنا اور ان کی گفتگو سننا غافل دلوں کو بیدار کرتا ہے اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
* **دعا کی قبولیت:** اللہ والے مستجاب الدعوات (جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) ہوتے ہیں۔ ان سے دعا کی درخواست کرنا سنتِ صحابہ ہے۔
* **علم اور ادب سیکھنا:** امام مالک رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کے کہنے پر امام ربیعہ کے پاس بیٹھتے تھے تاکہ علم سے پہلے ان کا "ادب اور اخلاق" سیکھیں۔
* **گناہوں سے نفرت:** صالحین کی پاکیزہ مجالس میں بیٹھ کر انسان کے اندر گناہوں سے دوری اور نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔
# # # ۴. زیارت کے آداب
جب بھی کسی نیک انسان یا بزرگ کی زیارت کے لیے جائیں، تو درج ذیل آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے:
* **اخلاصِ نیت:** نیت صرف اللہ کی رضا، برکت حاصل کرنا اور اپنی اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی فائدہ یا دکھاوا۔
* **ادب و احترام:** ان کی محفل میں باادب بیٹھیں، بلا ضرورت گفتگو نہ کریں اور ان کے وقت کا خیال رکھیں۔
* **حدودِ شریعت کا پاس:** یاد رہے کہ اسلام میں کسی بھی انسان کا مرتبہ "مقامِ بندگی" سے بلند نہیں ہوتا۔ زیارت کے دوران غلو (حد سے بڑھنے) سے بچنا ضروری ہے؛ سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، اور ہر قسم کی حاجت روائی اصل میں اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بزرگوں سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے، اور ان کی برکت سے اللہ کی رحمت چاہی جاتی ہے۔
**خلاصہ یہ ہے** کہ نیک لوگوں کی زیارت کے لیے سفر کرنا اور ان سے ملنا عینِ اسلام اور روحِ دین ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کرنے کا ایک بہترین وسیلہ ہے۔

02/06/2026

فرانسیسی فلسفی اور مفکر سیمون ویل (Simone Weil) نے جدید تہذیب اور صنعتی معاشرے کے نقائص پر گہرا کام کیا ہے۔ انہوں نے جدید دور کی ان برائیوں اور قوتوں کو بے نقاب کیا جو انسانی روح کو کچل رہی ہیں اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔
سیمون ویل کے فلسفے اور تحاریر کے مطابق، جدید تہذیب کے تین بڑے مونسٹرز (بلاائیں یا جابرانہ قوتیں) درج ذیل ہیں
۱. پیسہ (Money) — اقدار کا قاتل
سیمون ویل کے نزدیک پیسہ جدید دور کا سب سے بڑا مونسٹر ہے کیونکہ اس نے زندگی کی ہر خوبصورت اور حقیقی چیز کو ایک "نمبر" یا "قیمت" میں تبدیل کر دیا ہے۔
پہلے زمانے میں چیزوں کی اہمیت ان کی افادیت یا خوبصورتی سے ہوتی تھی، اب ہر چیز کا موازنہ پیسے سے ہوتا ہے۔
پیسہ انسانوں کے درمیان تعلقات کو ختم کر کے انہیں صرف لین دین کا محتاج بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی کوئی حد نہیں اور یہ انسان کو ہوس کا غلام بنا دیتی ہے۔
۲. مشین (Machine) — انسانی روح کو کچلنے والا آلہ
مشین سے ان کی مراد صرف لوہے کے پرزے نہیں، بلکہ وہ پورا صنعتی اور مینیجریل نظام ہے جو انسان کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے۔
سیمون ویل نے خود فیکٹری میں کام کے دوران دیکھا کہ اب مشین انسان کے لیے کام نہیں کرتی، بلکہ انسان مشین کو چلانے کے لیے اس کا غلام بن چکا ہے۔
یہ مونسٹر انسان کی تخلیقی صلاحیت، اس کی کاریگری کی خوشی اور اس کے سکون کو نگل جاتا ہے اور اسے محض ایک بے روح پرزہ بنا دیتا ہے۔
۳. الجبرا (Algebra) — اندھی علامت پسندی (Blind Symbolism)
یہ سیمون ویل کا سب سے منفرد اور حیران کن نکتہ ہے۔ یہاں "الجبرا" سے مراد ریاضی کا مضمون نہیں، بلکہ علامات، فارمولوں، بیوروکریسی اور اعداد و شمار (Data) کا وہ جال ہے جس میں جدید انسان پھنس چکا ہے۔
جدید دور میں ہم حقیقی انسانوں، ان کے دکھوں اور ان کی ضروریات کو دیکھنے کے بجائے صرف فارمولے، گراف، جی ڈی پی (GDP)، اور اعداد و شمار دیکھتے ہیں۔
جب کوئی حکومت یا ادارہ کوئی فیصلہ کرتا ہے، تو وہ انسانوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ "الجبرا" (اعداد و شمار کے کھیل) کو دیکھتا ہے۔ یہ مونسٹر انسانی سوچ سے اس کی حقیقت پسندی اور ہمدردی چھین لیتا ہے، کیونکہ ہر چیز کو ایک تجریدی (Abstract) فارمولے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ #فلسفہ

27/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ سب کو عید الاضحیٰ مبارک! عید الاضحیٰ کا یہ مبارک دن ہمیں محض ایک تہوار منانے کا نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اپنی زندگیوں کو بدلنے کا سبق دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے (اطاعت)، اپنی خوشیوں میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو شریک کرنے (ایثار)، اور اپنے اندر خلوصِ نیت پیدا کرنے (تقویٰ) میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک گوشت یا خون نہیں بلکہ صرف ہمارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ آئیے اس عید پر عہد کریں کہ ہم قربانی کے اس حقیقی جذبے کو سال بھر اپنے اخلاق اور معاشرتی رویوں میں زندہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں اور نیتوں کو قبول فرمائے۔ آمین!
ٰ

25/05/2026

قبلہ رخ معلوم کرنے کا قدرتی طریقہ (27 اور 28 مئی):
فلکیاتی حسابات کے مطابق، ہر سال 27 اور 28 مئی کو (اور پھر 15 اور 16 جولائی کو) سورج گردش کرتا ہوا بیت اللہ شریف (کعبہ معظمہ) کے بالکل اوپر آ جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:18 بجے جب سورج کعبہ کے عین اوپر ہوتا ہے، تو اس وقت پاکستان میں دوپہر کے 02:18 بجے ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس مخصوص وقت پر دنیا کی ہر وہ جگہ جہاں سورج چمک رہا ہو، وہاں کسی بھی سیدھی کھڑی چیز (جیسے لوہے کا سڑیا، لکڑی یا عمودی ڈنڈا) کا سایہ قبلہ کی سیدھ بتاتا ہے۔ اگر آپ اس وقت سائے کے آخری سرے پر کھڑے ہو کر ڈنڈے یا اس چیز کی طرف رخ کریں گے، تو آپ کا رخ بالکل عین کعبہ شریف کی طرف ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ایک بہترین قدرتی سہولت ہے جس کے ذریعے مساجد، گھروں اور دفاتر میں نماز کے لیے سمت کا تعین بلا مبالغہ اور بالکل درست کیا جا سکتا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Moor Malhoana
Jhang