Syed Khalid Rasheed
Writer & Journalist | Covering stories that matter | Passionate about truth, people & storytelling
28/08/2026
Huzoor Pak ﷺ Ka Bachpan Kaisa Tha? 😢❤️ Hazrat Halima Saadiaؓ KaHairatAngaizWaqia|PeerAjmal RazaQadri Huzoor Pak ﷺ Ka Bachpan Kaisa Tha? 😢❤️ Hazrat Halima Saadiaؓ Ka Hai...
05/06/2026
آزاد کشمیر: بارہ نشستوں سے آگے کا سوال
بعض اوقات تاریخ خود کو دہراتی نہیں، بلکہ نئے سوالات کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج آزاد کشمیر ایک ایسے ہی سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ بظاہر تنازع بارہ مہاجر نشستوں کا ہے، لیکن اگر اس مسئلے کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ محض چند نشستوں، چند ووٹوں یا چند سیاسی مفادات کا معاملہ نہیں۔ یہ نمائندگی، عوامی اختیار، ریاستی پالیسی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے بیانیے کا مسئلہ ہے۔
مذاکرات ہوئے، کئی گھنٹوں تک ہوئے، بیانات آئے، وضاحتیں آئیں، یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں، لیکن نتائج اب تک دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے بظاہر بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں 9 جون کی کال محض ایک احتجاجی اعلان نہیں بلکہ سیاسی درجہ حرارت کی پیمائش کا پیمانہ بن چکی ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد ہوئی، لیکن ایکشن کمیٹی نے شرکت سے انکار کر دیا۔ سوال یہ نہیں کہ کانفرنس میں کون آیا اور کون نہیں آیا، اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جب سیاسی عمل میں شامل قوتیں ایک ہی میز پر بیٹھنے سے گریز کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اختلاف مطالبات کا نہیں، اعتماد کا ہو چکا ہے۔ اور سیاست میں اعتماد کا بحران اکثر آئینی بحران سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
بارہ مہاجر نشستوں کا معاملہ بھی محض ایک انتخابی تنازع نہیں۔ ان نشستوں کی بنیاد اس تاریخی مؤقف پر رکھی گئی تھی کہ ریاست جموں و کشمیر تقسیم شدہ ضرور ہے، لیکن اس کی وحدت اور اس کے عوام کے حقِ خودارادیت کا مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ پاکستان میں آباد وہ کشمیری خاندان، جو 1947 کے ہنگاموں اور بعد کے حالات میں اپنے گھروں سے محروم ہوئے، اسی تاریخی حقیقت کی علامت سمجھے گئے اور انہیں آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں نمائندگی دی گئی۔
یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو صرف مقامی سیاست کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
مہاجر نشستوں کے حامی کہتے ہیں کہ اگر یہ نشستیں ختم ہوئیں تو دنیا میں یہ تاثر جا سکتا ہے کہ پاکستان خود اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے جس کے مطابق پوری ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے۔ ان کے نزدیک یہ نشستیں محض آئینی شق نہیں بلکہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے سیاسی مقدمے کا حصہ ہیں۔
دوسری طرف ایک سوال یہ بھی موجود ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ براہِ راست اختیار نہیں ملنا چاہیے؟ کیا نمائندگی کا اصول جغرافیہ اور موجودہ آبادی کی بنیاد پر ازسرِنو مرتب نہیں ہونا چاہیے؟ یہ سوالات اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں اور انہیں محض جذباتی نعروں سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن شاید اس وقت سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بحث کا حل مذاکرات سے نکلے گا یا تصادم سے؟
اطلاعات ہیں کہ حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کی یہ ذمہ داری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ لیکن دنیا بھر کی سیاسی تاریخ ایک حقیقت بار بار ثابت کرتی ہے کہ عوامی بے چینی کو صرف سیکورٹی مسئلہ سمجھنا اکثر مسئلے کو حل نہیں بلکہ مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔
اگر 9 جون کو بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے نکلتے ہیں تو حکومت کے لیے اصل امتحان طاقت کا استعمال نہیں بلکہ برداشت کا مظاہرہ ہوگا۔ اسی طرح احتجاجی قیادت کے لیے اصل امتحان ہجوم اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اسے پرامن اور منظم رکھنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ چند برسوں میں بارہا ثابت کر چکے ہیں کہ وہ سیاسی شعور رکھتے ہیں، اپنے حقوق کے بارے میں حساس ہیں اور اپنے مستقبل کے متعلق سوال اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب لاٹھی، گرفتاری یا الزام تراشی نہیں، بلکہ دلیل، مکالمہ اور سیاسی بصیرت ہے۔
آج آزاد کشمیر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فریق خود کو حق پر سمجھتا ہے، لیکن تاریخ صرف حق کے دعوے نہیں دیکھتی، تاریخ یہ بھی دیکھتی ہے کہ بحران کے وقت کس نے دروازے بند کیے اور کس نے مکالمے کے لیے کھلے رکھے۔
9 جون کا دن شاید ایک احتجاج، ایک دھرنے یا ایک سیاسی اجتماع کا دن ہو، لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس دن کے بعد آزاد کشمیر کس سمت میں جائے گا؟ مفاہمت کی طرف یا محاذ آرائی کی طرف؟
قومیں صرف آئین سے نہیں چلتی ہوتیں، اعتماد سے بھی چلتی ہیں۔ اور جب اعتماد کمزور پڑ جائے تو آئینی دفعات بھی تنازعات کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔
آزاد کشمیر کے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور عوامی تحریکوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، لیکن فیصلوں کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ آج جو فیصلے ہوں گے، وہ صرف موجودہ سیاسی منظرنامے کو نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں تحریکِ کشمیر، جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کی سمت کا تعین بھی کریں گے۔
وقت ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا۔ دروازے ابھی مکمل بند نہیں ہوئے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاسی مسائل کو سیاسی حکمت کے بجائے طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے تو جیت کسی کی نہیں ہوتی، نقصان سب کا ہوتا ہے۔
Category
Website
Address
Islamabad
44000
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Syed Khalid Rasheed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.