Haripur Update
News & Media Website
16/09/2026
21/08/2026
فلیڈ لائٹ والی بال ٹورنامنٹ
17/08/2026
نشے سے انکار، زندگی سے پیار 🏐
🏆 دوسرا فلیڈ لائٹ والی بال ٹورنامنٹ 2026
🔥 گرینڈ فائنل میچ 🔥
🏐 شاہد 804 لدھا 🆚 چاچا مسعود گاڑ 🏐
📍 بمقام: گاؤں لدھا
📅 تاریخ اور وقت : بہت جلد
🌟 مہمانِ خصوصی 🌟
ملک عدیل اقبال
معاونِ خصوصی برائے سیاحت و ثقافت، خیبرپختونخوا
📢 اہلِ علاقہ، کھیلوں کے شائقین اور معززینِ علاقہ کو گرینڈ فائنل میں شرکت کی خصوصی دعوت دی جاتی ہے۔
آئیں، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور کھیلوں کے فروغ کے اس خوبصورت مشن کا حصہ بنیں۔
🏐 کھیلیں گے تو کھلیں گے — نشے سے دور، کھیلوں کے قریب! 🏐
منجانب: چیف آرگنائزر شاہد اختر اعوان CEO گواہ ایڈورٹائزمنٹ 03333972008/03145332828
02/07/2026
صحافی شاہد اختر اعوان کے خلاف مقدمہ عدالت سے خارج، ثبوت پیش نہ کیے جانے پر باعزت بری
ہری پور (ہم گواہ )ہری پورکی معزز عدالت نے صحافی شاہد اختر اعوان کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ایف آئی آر 20 جولائی 2025 کو تھانہ سٹی میں درج کی گئی تھی۔عدالتی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر نہ مدعی کی جانب سے خاطر خواہ ثبوت پیش کیے گئے اور نہ ہی تفتیشی افسر عدالت کے سامنے کوئی مضبوط شواہد رکھ سکے۔ ذرائع کے مطابق موبائل فون اور کیمرہ کارڈ سے متعلق فرانزک یا FIA سائبر کرائم رپورٹ بھی عدالت میں پیش نہیں کی جا سکی، جس کے بعد معزز عدالت نے کیس خارج کرنے کا فیصلہ سنایا دوسری جانب صحافی شاہد اختر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلا کر ان کی صحافتی ساکھ، کاروبار اور شہرت کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں واقع سائبر کرائم FIA کو متعلقہ اسکرین شاٹس بھی فراہم کیے، انکے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے درخواست بھی دی تاہم ان کے مطابق تاحال ذمہ دار افراد کے خلاف تقریباً ایک سال گزر جانے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔مزید برآں، ان کے مطابق ضمانت پر آنے کے بعد تقریباً سال پہلے DPO ہری پور اورDIG ایبٹ آباد کو بھی درخواستیں دی گئیں، لیکن مطلوبہ قانونی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔قانونی حلقوں کے مطابق کسی مقدمے کا ثبوت کی عدم دستیابی پر خارج ہونا شفاف اور غیر جانبدار تفتیش کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں مکمل میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
ترقی، اصلاحات اور وژنری قیادت کی داستان
اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا انحصار ان کے عملی نتائج پر ہوتا ہے، نہ کہ محض دعوؤں پر۔ ایک یونیورسٹی اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنائے، تحقیق کو فروغ دے، انتظامی نظام کو مؤثر بنائے اور اپنے طلبہ و اساتذہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے۔ اس حوالے سے جامعہ ہری پور گزشتہ چند برسوں میں ترقی، اصلاحات اور ادارہ جاتی استحکام کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔قیادت کا کردار اور ادارہ جاتی بہتری جامعہ ہری پور کی ترقی میں متعدد عوامل کارفرما رہے، جن میں فیکلٹی، انتظامیہ، طلبہ اور گورننگ باڈیز کے ساتھ ساتھ سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ان کے دور میں جامعہ نے تعلیمی پروگرامز میں توسیع، انتظامی اصلاحات، اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب نمایاں پیش رفت کی۔ ادارے میں شفافیت، کارکردگی اور ٹیم ورک کے کلچر کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئیں، جس کے مثبت اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تحقیق اور جدت کا فروغ جدید جامعات میں تحقیق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کے دور میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ فیکلٹی کو تحقیق، اشاعت، اور علمی منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔
تحقیقی کلچر کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبہ کو علمی میدان میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آئے۔ اس سے نہ صرف جامعہ کا تعلیمی معیار بہتر ہوا بلکہ اس کی علمی ساکھ میں بھی اضافہ ہوا۔
انسانی وسائل کی ترقی کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کے انسان ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیکلٹی اور اسٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مختلف تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیمینارز کے ذریعے اساتذہ اور عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح طلبہ کے لیے بھی تعلیمی معاونت اور کیریئر ڈیولپمنٹ کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ عملی زندگی کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی ترقی
جامعہ ہری پور میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور وسعت بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ کلاس رومز، لیبارٹریز، آئی ٹی سہولیات اور دیگر تعلیمی وسائل میں بہتری نے تعلیمی ماحول کو مزید مؤثر بنایا۔یہ تمام اقدامات طویل المدتی منصوبہ بندی اور ایک بہتر تعلیمی مستقبل کی طرف واضح اشارہ ہیں۔
کوالٹی ایشورنس اور معیار کی بہتری
اعلیٰ تعلیم میں معیار کی جانچ اور بہتری انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ جامعہ ہری پور نے اس حوالے سے کوالٹی ایشورنس نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی، جس کے مثبت اثرات تعلیمی معیار پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ادارے کی بہتر کارکردگی اور بڑھتی ہوئی ساکھ اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات مؤثر سمت میں کی گئی ہیں۔تنقید کا مثبت اور متوازن پہلو
تعلیمی ادارے پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں تنقید کا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ تاہم تنقید ہمیشہ حقائق اور شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔ اگر کسی ادارے کو صرف منفی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کی حقیقی پیش رفت اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوتا۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں مالی، انتظامی اور پالیسی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں، جو کسی ایک فرد یا انتظامیہ سے منسوب نہیں کیے جا سکتے۔سابق وائس چانسلر کی خدمات پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت میں جامعہ ہری پور نے ایک ایسا سفر طے کیا جس میں ادارہ جاتی استحکام، تعلیمی ترقی اور انتظامی بہتری نمایاں رہی۔ان کی قیادت میں ٹیم ورک، شفافیت، اور ادارے کی مجموعی بہتری پر زور دیا گیا، جس کے نتیجے میں جامعہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
ان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں فیکلٹی اور اسٹاف کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہوں نے ادارے میں مثبت اثرات چھوڑے۔
مستقبل کا راستہ جامعات کی ترقی کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جامعہ ہری پور کو چاہیے کہ وہ ماضی کی کامیابیوں کو بنیاد بنا کر مزید جدت، تحقیق، اور معیار کی بہتری کی جانب سفر جاری رکھے۔مستقبل کا تعلیمی نظام تب ہی مضبوط ہوگا جب ادارے شواہد، میرٹ، شفافیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔نتیجہ جامعہ ہری پور کسی بحران کی کہانی نہیں بلکہ ترقی، استقامت اور بہتری کی ایک زندہ مثال ہے۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی خدمات اس سفر کا ایک اہم حصہ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جامعات اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ادارے شخصیات سے بالاتر ہو کر کام کریں، اور جب کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے اور چیلنجز کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے۔ یہی راستہ جامعہ ہری پور اور پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
01/06/2026
پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان کی قیادت میں جامعہ ہری پور کی تاریخی تبدیلی (2022–2026)ہری پور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان کی بصیرت افروز قیادت میں جامعہ ہری پور نے گزشتہ چار سالوں میں ایک تاریخی ادارہ جاتی تبدیلی کا سفر مکمل کیا ہے۔ 2022 سے 2026 تک جامعہ ہری پور قومی سطح پر ممتاز اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ درسگاہ کے طور پر ابھری ہے۔
*1. عالمی شناخت و درجہ بندی*
جامعہ ہری پور نے پہلی بار _Times Higher Education World University Rankings_ میں جگہ بنائی، جو اسے دنیا کی اعلیٰ جامعات میں شامل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ _QS Asia Rankings_ اور _UI GreenMetric World University Rankings_ میں بھی شامل ہوئی۔ مضامین کی درجہ بندی میں جامعہ نے خیبر پختونخوا میں میڈیکل و ہیلتھ سائنسز میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ لائف سائنسز اور فزیکل سائنسز میں بھی نمایاں درجے حاصل کیے۔
*2. رسائی اور تعلیمی معیار*
طلبہ کی تعداد 6,400 سے بڑھ کر 10,540 ہو گئی، یعنی 65 فیصد اضافہ۔ QEC کا معیار جانچ سکور 46.69 سے بڑھ کر 86.69 ہو گیا، جو پاکستان کے سرکاری شعبے میں سب سے بڑی بہتریوں میں سے ایک ہے۔ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق متعدد انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ پروگرامز متعارف کرائے گئے اور تمام پروگرامز متعلقہ کونسلوں سے رجسٹرڈ ہوئے۔
*3. تحقیق اور طلبہ کی معاونت*
تحقی مقالوں کی سالانہ پیداوار 4.6 گنا بڑھ کر 558 ہو گئی۔ وظائف کی تعداد 700 سے بڑھ کر 2,322 ہو گئی، جس سے تعلیم تک رسائی مزید منصفانہ ہوئی۔
*4. مالی استحکام و گورننس*
جامعہ کا بجٹ 1,100 ملین روپے سے بڑھ کر 2,300 ملین روپے سے تجاوز کر گیا۔ پنشن اور وقفی فنڈز کو مضبوط کیا گیا جبکہ مالی خود انحصاری اور شفافیت برقرار رکھی گئی۔ مکمل ڈیجیٹل گورننس کے تحت مقامی CMS، آن لائن داخلے، کاغذ کے بغیر امتحانات و اجلاس، اور تمام سٹیچوٹری ریکارڈز ڈیجیٹل کیے گئے۔
*5. انفراسٹرکچر و کیمپس کی ترقی*
طلبہ و اساتذہ کے لیے نئے تعلیمی بلاکس، جدید لیبارٹریز، لائبریریز اور ہاسٹلز تعمیر کیے گئے۔ کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنا کر جسمانی صحت اور طلبہ کی فلاح کو فروغ دیا گیا۔ خزاں 2026 سے خودکار ڈگری کے اجراء کا نظام شروع ہوگا۔
*6. انسانی وسائل و ادارہ جاتی کلچر*
50 سے زائد پیشہ ورانہ تربیتی ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ ملازمین کی طویل عرصے سے التوا کا شکار ترقیاں مکمل طور پر میرٹ پر مکمل کی گئیں، جس سے ادارے کا اعتماد بحال ہوا۔
*7. ثقافت، ورثہ و پائیداری*
جامعہ میں قتیل شفائی میوزیم و ادبی کونہ، ایوب خان کونہ، مٹی خطاطی کونہ، ہری سنگھ نلوہ کونہ، قرآنی باغ اور چمیلی باغ قائم کیے گئے۔ جامعہ کو ماحول دوست گرین کیمپس بنانے کے لیے پائیدار اقدامات کیے گئے جو ماحولیاتی و روحانی ورثے کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
*مستقبل کا لائحہ عمل: ویژن 2030*
یہ چار سالہ سفر جامعہ ہری پور کو _ویژن 2030_ کے تحت تحقیق، جدت اور عالمی تعاون کے ایک مرکزی ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تمام شعبوں کے فیکلٹی، اسٹاف اور ملازمین نے اس دور کو شفافیت، میرٹ پر مبنی کلچر اور ملازم دوست اصلاحات کی وجہ سے بھرپور سراہا ہے۔
*جامعہ ہری پور کے بارے میں*
جامعہ ہری پور ہزارہ ڈویژن اور اس سے آگے کے علاقے کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے قائم کی گئی اور تعلیمی عظمت، تحقیقی جدت اور خدمتِ خلق کے لیے پرعزم ہے۔
*University of Haripur Achieves Historic Transformation Under Prof. Dr. Shafiq Ur Rehman’s Leadership (2022–2026)*
*Haripur, Khyber Pakhtunkhwa* – The University of Haripur (UoH) has undergone a landmark institutional transformation over the past four years under the visionary leadership of Vice Chancellor Prof. Dr. Shafiq Ur Rehman. From 2022 to 2026, UoH has emerged as a nationally prominent and globally recognized institution of higher learning.
*Key Highlights of the Transformation:*
*1. Global Recognition & Rankings*
UoH made its debut in the _Times Higher Education World University Rankings_, placing it among the world’s top institutions. The University also secured positions in _QS Asia Rankings_ and _UI GreenMetric World University Rankings_. In subject rankings, UoH ranked No.1 in Khyber Pakhtunkhwa for Medical & Health Sciences, with leading positions in Life Sciences and Physical Sciences, reflecting strong research impact and international competitiveness.
*2. Access & Academic Quality*
Student enrollment grew 65% from 6,400 to 10,540. The QEC quality assurance score improved dramatically from 46.69 to 86.69, one of the highest gains in Pakistan’s public sector. Multiple market-oriented undergraduate and graduate programs were launched, and all programs received registration with relevant professional councils.
*3. Research & Student Support*
Annual research output surged 4.6x to 558 publications. Student scholarships tripled from 700 to 2,322, ensuring greater equity and access to higher education.
*4. Financial Strength & Governance*
The university budget expanded from Rs. 1,100M to over Rs. 2,300M. Pension and endowment funds were strengthened while maintaining financial self-sustainability and transparency. Full digital governance was implemented through an indigenous CMS, online admissions, paperless exams and meetings, and digitized statutory records.
*5. Infrastructure & Campus Development*
New academic blocks, modern laboratories, libraries, and hostels for students and staff were completed. Sports facilities were upgraded to promote physical fitness and student well-being. Automatic degree issuance will begin from Fall 2026.
*6. HR & Institutional Culture*
Over 50 professional development trainings were conducted. Long-pending employee promotions were completed purely on merit, restoring institutional trust and morale.
*7. Culture, Heritage & Sustainability*
UoH established the Qateel Shifai Museum & Literary Corner, Ayub Khan Corner, Matti Calligraphy Corner, Hari Singh Nalwa Corner, Quranic Garden, and Jasmine Garden. The campus advanced as an environment-friendly green space through sustainable initiatives that preserve ecological and spiritual heritage.
*Looking Ahead: Vision 2030*
This four-year journey positions the University of Haripur, under _Vision 2030_, as a leading center for research, innovation, and global collaboration. Faculty, staff, and employees across all departments have widely appreciated this tenure for its transparency, merit-based culture, and employee-centric reforms.
*About University of Haripur*
Established to serve the educational needs of Hazara Division and beyond, the University of Haripur is committed to academic excellence, research innovation, and community service.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad