KING TOOL VIP1
Daily Pardes is the leading Newspaper of Pakistan. Welcome to our community - a hub for news, views, Daily Pardes is an Urdu daily newspaper in Pakistan.
Launched on September 06,2013 under the leadership of Yasir Malik. One of the most influential newspapers in the country, it has a special position in Pakistan's media, with well-established center-right and nationalist credentials. Currently, it is one of the ten top most influential Urdu newspapers in Pakistan
24/02/2017
کسووال،ٹریفک حادثہ میں خاتون جاں بحق،2 خواتین سمیت7 جاں بحق
کسووال( نیوز ڈیسک)اقبال نگر بوریوالا روڈ پر 2موٹرسائیکل رکشائوں میں تصادم، خاتون جاں بحق، 2خواتین سمیت سات افراد زخمی۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز دن 10بجے کے قریب نواحی گائوں 14چودہ ایل کے نزدیک 2موٹرسائیکل رکشائیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثے کے نتیجہ میں نوحی گائوں 17چودہ ایل کے رہائشی معروف عالم دین مولانا خلیل احمد کی 35سالہ بیٹی شکیلہ بی بی موقع پر جاں بحق ہو گئی جبکہ 2خواتین 70سالہ شریفاں بی بی، 45سالہ شازیہ سمیت سات افراد شدید زخمی ہوگئے۔ دیگر زخمیوں میں 17سالہ محمد شفیق 31سالہ اشتیاق ، 24سالہ محمد حنیف ، 26سالہ حمزہ اور 20سالہ
محمد احسان شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے نعش اور زخمیوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال میاں چنوں منتقل کر دیا۔ واضح رہے کہ متوفیہ شکیلہ بی بی پتوکی سے اپنے میکے آرہی تھیں جہاں آج ان کی والدہ اور بھائی عقیل احمد عمرہ کی سعادت حاصل کر کے واپس آرہے تھے۔
24/02/2017
کرکٹ کے کھیل میں انجری ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے
لندن ( نیوز ڈیسک) کرکٹ کے کھیل میں انجری ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے جبکہ گزشتہ چند سالوں میں کرکٹ گیند لگنے سے کھلاڑی موت کے گھاٹ بھی اتر چکے ہیں۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ بریڈ فورڈ لیگ کے لائٹ کلف کرکٹ کلب میںپیش آیا جہاں پریکٹس کے دوران ایک کھلاڑی کے چہرے پر گیند لگنے سے کھوپڑی اور چہرے کی ہڈی 15 جگہ سے ٹوٹ گئی۔تفصیلات کے مطابق لائٹ کلف کرکٹ کلب کے کھلاڑی ایلکس ٹیٹ پریکٹس کر رہے تھے کہ اس دوران تیزی سے آتی گیند ان کی آنکھوں کے درمیان جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں ان کے ماتھے، ناک، آنکھوں کے حلقوں اور گالوں کی ہڈیوں سمیت 15 ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ ایلکس ٹیٹ بائولنگ کر ارہے تھے کہ ایک انتہائی تیز رفتار گیند واپس ان کی جانب مڑی، اس سے قبل کہ وہ صورتحال کو بھانپ سکتے، گیند ان کی آنکھوں کے درمیان ناک اور ماتھے پر جا لگی۔ حادثے کے فوراً بعد انہیں ہسپتال لے
جایا گیا جہاں انہیں داخل کر لیا گیا۔10 دن بعد ہسپتال والوں نے ایلکس کو بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو حل کیلئے متعدد آپریشنز کرنا پڑیں گے جبکہ ایک آپریشن کے دوران ان کے دونوں کانوں کے درمیان کی جلد کو کاٹ کر موڑا جائے گا اور پھر ماتھے کے پیچھے لوہے کی پلیٹیں بھی رکھی جائیں گی۔ اس کے بعد آنکھوں اور ناک کا آپریشن بھی ہو گا جس کے بعد دماغی حالت کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی تاکہ اس حادثے کے نتیجے میں دماغ کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ کیا جا سکے۔حادثے کے باعث ایلکس اس قدر شدید زخمی ہو گئے ہیں کہ اب وہ کئی مہینوں تک کوئی کام نہیں کر سکیں گے۔ ایلکس ایک بیٹے کے باپ ہیں جبکہ اگلے چار مہینوں میں ایک اور بچے کی آمد بھی متوقع ہے
24/02/2017
ویرات کوہلی 105 اننگز میں پہلی بار صفر پر آئوٹ ہو گئے
پونے ( نیوز ڈیسک) بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز ویرات کوہلی انٹرنیشنل میچوں کی 105 اننگز میں پہلی بار صفر پر آئوٹ ہوئے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ویرات کوہلی آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے مچل سٹارک کا نشانہ بنے۔ وہ تقریباً 3 سال کے عرصے کے بعد کسی اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2014ئ میں کارڈیف کے مقام پر کھیلے گئے ون ڈے میچ میں صفر پر آئوٹ ہوئے تھے
کوئی رن بنائے مچل سٹارک کا نشانہ بنے۔ وہ تقریباً 3 سال کے عرصے کے بعد کسی اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2014ئ میں کارڈیف کے مقام پر کھیلے گئے ون ڈے میچ میں صفر پر آئوٹ ہوئے تھے
24/02/2017
ملائیشیا کی پاکستان کو ویزا ختم کرنے کی پیشکش
کراچی(نیوزڈیسک) ملائیشیا کے قونصل جنرل اسماعیل بن محمد بکری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان ویزا فری ریجیم وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے ذریعے دونوں برادراسلامی ممالک کے تاجر باہمی تجارت کو تیزی کے ساتھ وسعت دے سکیں گے۔ قونصل جنرل اسماعیل بن محمد بکری کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کے پاکستانی تاجروں و صنعت کاروں کے ساتھ دیرینہ اورمستحکم تعلقات ہیں جسے باہمی تجارت کوفروغ دیتے ہوئے مزید مستحکم اور پائیدار کیا جاسکتا ہے۔ ملائشیا کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے
کہ پاکستان کی سوپ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے خام مال پام بائی پروڈکٹس کی سپلائی انتہائی مناسب قیمتوں پرکی جائے تاکہ انڈسٹری کے ساتھ عام صارفین بھی اس پالیسی سے استفادہ کرسکیں تاہم ملائشین قونصلیٹ دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کے درمیان موثر رابطے بڑھانے اور فوائد میں اضافے کے لیے متحرک ہے جبکہ قونصلیٹ پاکستانی سوپ انڈسٹری کے لیے ملائیشیا سے درآمد ہونے والے خام مال ودیگر معاملات سے متعلق مسائل اور رکاوٹوں کو دورکرنے کے لیے تیار ہے۔
24/02/2017
سونم کپور نے والدین کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا
ممبئی(نیوزڈیسک) بھارتی اداکارہ سونم کپور نے والدین سے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سونم کپور نے شوبز اور دیگر مصروفیات کے باعث والدین سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں اپارٹمنٹ خریدنے سے متعلق اہل خانہ کو آگاہ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم کپور نے ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں انتہائی شاندار اپارٹمنٹ بھی خرید لیا ہے جب کہ اداکارہ جلد ہی اپنے نئے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔سونم کپور نے علیحدگی کے فیصلے سے اپنے والدین کو بھی آگاہ کردیا ہے تاہم نئے گھر خریدنے کی خبر کو سب سے خفیہ رکھا جارہا ہے اور کپور خاندان کی طرف سے بھی اس کی کوئی تصدیق نہیں کی جارہی
۔یاد رہے بالی ووڈ اداکارہ سونم کپور نے مختصر عرصے میں بالی ووڈ انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں، انہوں نے منفرد انداز سے اداکاری کر کے مداحوں کے دل موہ لیے۔بھارتی میڈیا میں یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ سونم کپور آج کل اداکار آنند کے بہت قریب آتی جارہی ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرچکے ہیں، سونم جلد شادی کا ارادہ رکھتی ہے اس لیے انہوں نے والدین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
24/02/2017
میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے،چیئرمین پی سی بی
لاہور(نیوزڈیسک)چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا ہے کہ میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے، ہندوستان ،بنگلا دیش اور سری لنکا سمیت جہاں بھی ٹی ٹوئنٹی میچز ہوتے ہیں وہاں بکی آجاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس کے دوران کیا ،کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت ہوا ۔ مشاہد اللہ خان نے چیئرمین پی سی بی سے پوچھا کہ بتائیں آئی سی سی سےآپ نےرابطہ کیایاانھوں نے آپ سےرابطہ کیا،اگرآپ نےآئی سی سی سےرابطہ کیاتھاتوآپکوخبروں کی تردیدکرنی چاہیےتھی۔ چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بتایا کہ ہمارے پاس یہ اطلاع تھی کہ ایسا واقعہ ہونے لگا ہے اس لیے تیار تھے،پہلا پی ایس ایل کامیاب ہوا تو دوسرے میں بکی آگئے،جوکھلاڑیوں سے براہ راست نہیں بلکہ رشتہ داروں یاسابق کھلاڑیوں کے ذریعےرابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوسف کا ناصرجمشید سے رابطہ ہوا،دونوں لندن سے دبئی آئے،ناصرجمشید نے کھلاڑیوں سے کہا یہ شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے،ناصرجمشید نے 3 کھلاڑیوں خالد لطیف،شرجیل اورعرفان کویوسف سےملوایا۔
شہریار خان نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں کو مستقل طور پر اردو اور انگریزی زبان میں بریفنگ دی جاتی ہے جب کہ انہوں نے اقرار کیا کہ کھلاڑیوں نے بورڈ کو نہیں بتایا کہ بکی سے بات ہوئی ہے،یہ ان کا آفیشل بیان ہے ،جو پہلے بیان سے تھوڑا مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شواہد ملے ان سے لگا کہ شرجیل نے بکی کی بات پرمیچ میں پیشرفت کی،خالد نے اس دن میچ کھیلا نہیں تھا، لیکن اس نے رضامندی کا اظہار کیا تھا،عرفان سے بکی نے بات کی، لیکن اس نےایک کان سے سن کردوسرے سے نکال دی،اس نے سیکیورٹی آفیشل کو اس کی اطلاع نہیں دی۔
24/02/2017
پی ایس ایل فائنل: شعیب ملک غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان لانے کیلئے کوشاں
دبئی (نیوزڈیسک)قومی آل راؤنڈر شعیب ملک نے بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کو پی ایس ایل فائنل میں پاکستان آکر کھیلنے کیلئے رضا مند کرنا شروع کر دیا۔ شعیب ملک کے مطابق وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو دلیل دیتے ہیں کہ وہ اور ان کی بھارتی اہلیہ ثانیہ مرزا پاکستان جاتے ہیں تو اپنے ساتھ کوئی سیکیورٹی نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلئے کوشش کریں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ روز بہ روز بہتری کی جانب گامزن ہے اور مستقبل میں یہ بڑا ایونٹ بن جائے گا لیکن اسے کامیابی بنانے کیلئے پاکستانی عوام ، کھلاڑیوں اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
24/02/2017
امریکہ کوجوہری اسلحے سے پاک کرنا ضروری ہے: ٹرمپ
واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو جوہری اسلحے سے پاک کرنا ضروری ہے ۔ رائیٹرز نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتےہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی جوہری اسلحے کی استعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ، روس سے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روس نے تخفیف جوہری اسلحے کے معاہدےکی خلاف ورزی کرتےہوئے نئے کروز میزائل نصب کرنا شروع کر دیئے جس پر میں جلد ہی روسی ہم منصب سے بات کروں گا۔ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کو امریکی صدر نے اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہ اس کے جواب میں ہم جنوبی کوریا اور جاپان میں میزائل نظام نصب کر سکتے ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کو راہ راست پر لانےکےلیے چین اگر چاہے تو باآسانی اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔
24/02/2017
بی بی سی کے صحافی کو تھائی لینڈ میں 5سال جیل کی سزا کا سامنا
بنکاک(نیوز ڈیسک)برطانوی نظریاتی ادارے بی بی سی کے برطانوی صحافی کو تھائی لینڈ میں5سالہ جیل قید کی سزا کا سامنا ہے،اور اس پر اس ملک میں ایک فراڈ کیس میں غلط رپورٹنگ کا الزام ہے، غیر ملکی خبر کے مطابق ایک وکیل نے برطانوی صحافی کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا ہے جس میں انہوں نے 2015میں ایک رپورٹ پر کام کیا تھا، مذکورہ صحافی فوکے شہر کی عدالت میں گزشتہ روز پیش ہوئے، اس کے ساتھ اس کے برطانوی ساتھی بھی تھے، دونوں نے جرم تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
دائر کیا ہے جس میں انہوں نے 2015میں ایک رپورٹ پر کام کیا تھا، مذکورہ صحافی فوکے شہر کی عدالت میں گزشتہ روز پیش ہوئے، اس کے ساتھ اس کے برطانوی ساتھی بھی تھے، دونوں نے جرم تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
24/02/2017
کیا ولادی میر پوٹن نے علینا کاباایوا کے ساتھ شادی کر لی
ماسکو(نیوزڈیسک)کیا ولادی میر پوٹن نے علینا کاباایوا کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔روس کے صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پہچانی جانے والی جمناسٹک کی سابقہ قومی کھلاڑی 'علینا کاباایوا 'کی انگلی میں شادی کی رِنگ کے ساتھ تصاویر پوٹن اور علینا کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے دعووں کا سبب بنی ہیں۔ روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ماضی میں علینا کے بارے میں دعوی تھا کہ وہ شادی کی رِنگ کو اخباری نمائندوں سے چھپانے کی کوشش کرتی تھیں لیکن اس دفعہ انہوں نے ایسے روّیے کا مظاہرہ نہیں کیا۔
کیمروں کی نگاہوں میں آنے والی شادی کی اس رِنگ نے 33 سالہ کاباایوا کے 64 سالہ پوٹن کے ساتھ ازدواج کے رشتے میں منسلک ہونے کی چہ میگوئیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ دو سال قبل نکاح کرنے اور اب صاحب اولاد ہونے کے بھی دعوے کئے جا رہے ہیں۔
24/02/2017
کنگنا رناوت کو جان سے مارنے کی دھمکی
ممبئی(نیوزڈیسک)بولی وڈ اداکارہ کنگنارناوت کا کہنا ہےہریتک روشن سے جھگڑےپردھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مجھے کچھ’بڑےلوگوں ‘نے گھر بلا کر دھمکایا اور کہا کہ اگر زبان کھولی تو مار دیا جائے گا۔ تاہم ماضی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا مجھ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا, جو ہونا تھا وہ سب ہو چکا ہے, کہانی ختم ہو چکی ہے اور اب سب کا میری زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دونوں اسٹارز کے درمیان اختلافات کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا ۔اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب دونوں اسٹارز نے ایک دوسرے کو قانونی نوٹس بھیجے تھے ۔ اس دوران لفظی جنگ کا سلسہ جاری رہا لیکن دیگر بولی وڈ اداکاروں نےکنگناکو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس متعلق کوئی بات منظر عام پر نہ لائیں۔
24/02/2017
حضرت عمرکاانصاف
دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں “یا عمر یہ ہے وہ شخص” عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں ” کیا کیا ہے اس شخص نے ؟” “یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں “کیا کہہ رہے ہو ۔ اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے ؟” عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں ” کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے ؟” وہ شخص کہتا ہے “ہاں امیر المؤمنین ۔ مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ” عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ” کس طرح قتل ہوا ہے ؟” وہ شخص کہتا ہے “یا عمر ۔ انکا باپ اپنے اُونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا ۔ میں نے منع کیا ۔ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا ” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” پھر تو قصاص دینا پڑے گا ۔ موت ہے اسکی سزا ” نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔ نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے ؟ ان سب باتوں سے بھلا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ۔ کیونکہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتٰی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو ۔ قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔ وہ شخص کہتا ہے ”ا ے امیر المؤمنین ۔ اُس کے نام پر جس کے حُکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجئے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے ۔ میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحرا میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟” مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے ۔ خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے ۔ کون ضمانت دے اسکی ؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے ؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔ اور کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔ محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے۔ اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں ؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا، خود عمر رضی اللہ عنہ بھی سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں ”معاف کر دو اس شخص کو ”
نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں ”نہیں امیر المؤمنین ۔ جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں ۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ” عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ”اے لوگو ۔ ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟” ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں “ابوذر ۔ اس نے قتل کیا ہے” ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں “چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو” عمر رضی اللہ عنہ “جانتے ہو اسے ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ ” نہیں جانتا ” عمر رضی اللہ عنہ ” تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ ”میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا ” عمر رضی اللہ عنہ ”ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا ” ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں ” امیر المؤمنین ۔ پھر اللہ مالک ہے” عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے ۔ کچھ ضروری تیاریوں کیلئے ۔ بیوی بچوں کو الوداع کہنے ۔ اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے اور پھر اس کے بعد قصاص کی ادائیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔ اور پھر تین راتوں کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے ۔ انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا۔ عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے ۔ نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں ” کدھر ہے وہ آدمی ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں “مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین” ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ محفل میں ہُو کا عالم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ؟ یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمر رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے ۔ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے ۔ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا ۔ نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے ۔ حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔ مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے ۔ بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ” اے شخص ۔ اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا۔ نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا ” وہ بولا ” امیر المؤمنین ۔ اللہ کی قسم ۔ بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے ۔ دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں ۔ اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحرا میں تنہا چھوڑ کر ۔ جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان ۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں ۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ” ابوذر ۔ تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا ” اے عمر ۔ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے” سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟ نوجوانوں نے جن کا باپ مرا تھا روتے ہوئے کہا ” اے امیر المؤمنین ۔ ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر نے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمايا ۔۔۔ ” اے نوجوانو ۔ تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے” ” اے ابو ذر ۔ اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے” ” اور اے شخص ۔ اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے” ” اور اے امیر المؤمنین ۔ اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000