Rational Approach
Here to challenge status quo, dissect social issues, and explore unconventional viewpoints.
28/10/2025
,ہندوتوا بظاہر ہندو ثقافت و شناخت کے احیاء کا دعویٰ کرتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سیاسی نظریہ ہے جو مذہب کو قوم پرستی کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ وی ڈی ساورکر کے نظریات سے جنم لینے والا ہندوتوا، بھارت کو ایک "ہندو راشٹر" کے طور پر دیکھتا ہے جہاں مذہب، زبان، تاریخ اور ثقافت سب کو ایک اکثریتی شناخت کے تابع کیا جائے۔ اس نظریے نے نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص کو چیلنج کیا بلکہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا کیا۔ جدید بھارت میں ہندوتوا کا فروغ اس بات کا اشارہ ہے کہ جمہوریت اور مذہب کا امتزاج جب سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو تو وہ سماجی ہم آہنگی کو نہیں بلکہ تقسیم اور نفرت کو جنم دیتا ہے- یہ سب جاننے کے لیے آپ یہ پوڈ کاسٹ لازمی دیکھیں۔
Hindutva: Eroding Democratic System and Freedoms in India, and Regional Peace India — once celebrated as the world’s largest democracy and a beacon of secularism — is now witnessing an alarming ideological shift. With the rise of Hindu...
14/10/2025
امیر جماعت حضرت سعد رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے کہا،
“پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، تم میں سے جو جان بچانے کیلئے ساتھ چھوڑنا چاہے تو چھوڑ دے۔ مجھے کوئی گلہ نہیں۔ اگر حیا کا معاملہ ہے تو میں بتی بجھا رہا ہوں — چلے جاؤ۔”
بتی بجھی— بتی واپس جلی تو سب موجود تھے۔
سعد رضوی بھاگ گیا تھا۔ 😭
عقیدہ ایک وراثتی جبر ہے۔
تقسیمِ پنجاب کا نوحہ
14 آگست کی صبح کا سورج طلوع ہوا۔یہ1947 کا آگست تھا۔ہندوستان کی سر زمین پر آزادی آزادی کا شور شرابہ تھا۔راولپنڈی میں سالارِ بدروحنین کے نام نہاد اُمتیوں نے ظلم وبربریت کا بازار گرم کیا ہوا تھا اور امرتسر کو رحمدل نانک کے سنگدل پیروکاروں نے مشق ستم بنایا ہوا تھا۔آزادی کے نام پر عورتوں کو برہنہ کرنا مردانگی نہیں ہوسکتی۔اس دن معصوم لوگ الفاظ احمریں کے ساتھ لوحِ تاریخ پر اپنی بے گناہی کی روداد لکھ رہے تھے۔اس دن پنجاب کی ریتی رواج کا جنازہ بڑی دھوم سے نکل رہا تھا۔اُس دن چناب کے سرخ پانی پر وقت کا موئرخ خونبار تھا۔ مگر ستم بالائے ستم یہ تھا کہ سب کچھ مذہب کے نام پر ہو رہا تھا۔مگر افسوس صد افسوس اُس دن پنجابی اپنی تاریخ بھلا چکے تھے۔وہ بھول چکے تھے کہ دُلا بھٹی اسی دھرتی کا فرزند ہے ۔وہ دُلا بھٹی جس کی رگوں میں دھرتی کی محبت تھی۔وہ جو پیمبرِ حریت، جگر گوشئہ پنجاب اور سب سے بڑھ کر درباری نہیں تھا۔وہ جو شاہ کی دہلیز کا گدا نہیں بلکہ ایک قوم پرست لیڈر تھا۔جس نے سولی کو فخر سے چوما اور پنجاب کا روبن ہُڈ کہلایا۔اُس نے مذہب کے نام پر نہیں بلکہ قوم پرستی کے عوض موت کو گلے سے لگایا۔آج پنجاب کو خون سے آلودہ کرنے والے دُلے کے پیروکار نہیں ہو سکتے۔ انگریز استعمار کے خلاف لڑنے والے بیشمارقوم پرست شہیدوں کے لیے اگر وہ زندہ ہوتے تو 14 آگست قیامت ہوتی۔ ان پر برسنے والے کوڑے آج ان کو یاد آتے اور اُن کو اِس پر شاید پشیمانی ہوتی جن پر کبھی وہ فخر محسوس کرتے تھے۔بھگت سنگھ کی استعمار کے خلاف جنگ میں خارا شگاف نوائے سر فروشی ضرور پنجاب کے اُن پنجابیوں کے لیے درد کا باعث بنتی ہو گی جو خون کے سوداگر ، انسانیت کے قاتل اور انتقام کی آگ میں جلنے والے درندے بن چکے تھے۔یہ نفرت کے پجاری بابا فرید،بلھے شاہ اور شاہ حسین کی تعلیمات کی تقدیس کو سمجھ نہیں سکے۔۔ مذہب کے نام پر پنجاب کو قتل گاہ بنانے والے بھول گئے تھے کہ ہرمندر(دربار صاحب)کی بنیاد لاہور کے حضرت میاں میر نے رکھی تھی اور کرتار پور میں بابا گرونانک جی کا خدمت گار ایک مسلمان بابا مردانہ تھا۔مذہب کے چنگل میں آکر لوگوں کی دستاروں کو پائوں میں روندنے والے لوگ پنجابی نہیں ہو سکتے۔اودھم سنگھ (وہ انقلابی ہیرو جس نی جلیانوالہ باغ کے وقت کے پنجاب کے گورنر اودائر کو قتل کیا تھا)جس نی ببانگ دہل عدالت میں اپنا نام رام محمد سنگھ آزاد بتایا تھا۔وہ مذہبی واعظ نہیں تھا بلکہ قوم پرستی اُس کا شعار تھی۔اگر پنجابی اُس دن اپنی تاریخ سے آشنا ہوتے تو شاید پنجاب کی دھرتی لہو سے سیراب نہ ہوتی۔خیر اب اُس پرآشوب لمحے کو یاد کرنے کا کیا فائدہ جس نے پنجاب سے محبت چھین کر پنجاب کو نفرت کا تحفہ دیا۔
علی اسجد طیفور
اجے چانن پھٹیا نئی
اجے وی رات ہنیری اے
اجے وی بیلے لاشاں وچھیاں
اجے وی سن سنتالی اے
ارشاد سندھو
29/03/2025
احمد نورانی صاحب نے جب فیکٹ فوکس پر بلاسفیمی کے گروہ کو بے نقاب کیا جو ملک کے طول و عرض میں نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ جہاں چند لوگوں کے معاشی چولہوں میں معصوم لوگوں کے ارمان جل رہے تھے کسی ضعیف باپ کی امید پر توہین کا ہتھوڑا چل رہا تھا تو کہیں ممتا سے استقامت کا بلیدان اپنے مذموم مقاصد کے لئے لیا جا رہا تھا۔ جتھے کے جذبات کو اشتعال کی آنچ پر بھڑکانے والے لوگوں کے لئے توہین سے اچھا کاروبار کوئی نہیں ہو سکتا۔
مظلوم کا محضر نامہ - ہم سب چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز ت...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad