Ayesha Rafique Write's
The purpose of my page is ,to express the voice and power of pen for your inner happiness or spirit.
23/04/2026
جو لڑکی کہتی ہے خود کا گھر بنانا ہے ... وه بس ایک جملہ نہیں بول رہی ہوتی وہ اپنی پوری زندگی کا خلاصہ بیان کر رہی ہوتی ہے۔
وہ اینٹوں اور دیواروں کی بات نہیں کرتی وہ اس جگہ کی بات کرتی ہے جہاں اسے بار بار یہ نہ سننا پڑے کہ یہ تمہارا گھر نہیں ہے"۔
سوچو... کتنی بار اس نے اپنے ہی کمرے میں خود کو اجنبی محسوس کیا ہوگا کتنی بار اپنی ہی پسند کو دبا کر کسی اور کی خوشی کو ترجیح دی ہوگی۔
کتنی بار وہ مسکرائی ہوگی صرف اس لیے کہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو اور کتنی بار وہ خاموش ہوئی ہوگی صرف اس لیے کہ اسے سمجھدار" کہا جائے۔ وہ لڑکی جب اپنا گھر" کہتی ہے
تو اصل میں وہ ایک ایسی جگہ مانگ رہی ہوتی ہے
جہاں اس کے جذبات پر سوال نہ اٹھیں جہاں اس کے فیصلے "ضد" نہ کہلائیں
جہاں اسے اپنی شناخت ثابت نہ کرنی پڑے۔ وہ گھر جہاں اگر وہ ہنسے
تو کوئی یہ نہ کہے کہ زیادہ آزاد ہو گئی ہو
اور اگر وہ روئے
تو کوئی یہ نہ کہے کہ تمہیں کیا کمی ہے"۔
وہ ایک ایسا کونا چاہتی ہے
جہاں وہ تھک کر بیٹھ سکے جہاں وہ بغیر کسی ڈر کے اپنے خواب سجا سکے
جہاں اسے ہر وقت یہ احساس نہ دلایا جائے کہ وہ عارضی ہے... کہ وہ پرائی" ہے۔
... کیونکہ حقیقت یہ ہے
ہر بار جب اسے کہا گیا کہ کل تمہیں اپنے گھر جانا ہے" تو اس کے دل میں ایک سوال جاگا ہوگا اگر یہ میرا نہیں... تو میرا اپنا کہاں ہے؟
اسی سوال نے اسے مضبوط بنایا اسی نے اسے سکھایا کہ کسی اور کے سائے میں جینے سے بہتر ہے
اپنی دھوپ میں جل کر بھی
اپنا آسمان بنایا جائے۔
تو جب وہ کہتی ہے خود کا گھر بنانا ہے
تو اسے ضد یا غرور نہ سمجھنا
یہ اس کی خودداری ہے
اس کا زخم بھی... اور اس کا خواب بھی۔
وہ بس ایک ایسی جگہ چاہتی ہے
: جہاں اسے کبھی یہ نہ سننا پڑے ... کہ وہ پرائی" ہے
جہاں وہ پوری طرح سے بے خوف ہو کر کہہ سکے یہ میرا ہے ... اور میں یہاں اپنی ہوں۔"
04/03/2026
محبت کا آخری عمل یہی ہے کہ ان سے دوبارہ کبھی رابطہ نہ کیا جائے جنہوں نے آپ کی بے قدری کی ہو۔
خاموشی سب سے بڑی سزا ہے۔ نہ لڑائی نہ بحث نہ صفائی... بس چپ چاپ نکل جانا کبھی کبھی محبت اس بات میں نہیں ہوتی کہ آپ کتنا لڑتے ہیں، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ آپ کب چھوڑنا سیکھ جاتے ہیں۔
جو لوگ آپ کی قدر نہیں کرتے، ان کے لیے آپ کا وقت بھی قیمتی نہیں۔ ان سے دوبارہ بات کرنا اپنی خود عزت کو دوبارہ مارنا ہے۔
سچی محبت یہ نہیں کہ آپ ہر بار واپس آ جائیں... سچی محبت یہ ہے کہ آپ خود سے اتنی محبت کریں کہ جہاں قدر نہ ہو، وہاں رہیں ہی نہیں۔
دروازہ بند کرو اور چابی پھینک دو... کچھ لوگ دوبارہ chance کے لائق نہیں ہوتے۔ خود کو اُن لوگوں کے حوالے مت کریں جو آپ کو کھونے سے نہیں ڈرتے، کیونکہ جو ڈر جانتا ہے وہ نظرانداز نہیں کرتا۔ خود کو اتنا مضبوط بنائیں
کہ کوئی آپ کو بیک اَپ نہیں بلکہ انتخاب سمجھے۔
Never be someone's backup plan ❌
دیکھو، لائف میں کُچھ بھی کر لو، لیکن کبھی بھی کسی کا پلان بی، سیکنڈ آپشن، سیکنڈ چوائس، بیک اَپ پلان، یا may be later مت بنو۔ بیک اَپ جو ہے نا وہ فون تک ہی سہی ہے ۔
آپ سبزی منڈی کی وہ نظرانداز کی ہوئی سبزی مت بنو
جسے سامنے والا دیکھ کر کہے:
“شام کو آ کر سستے میں لے جاؤں گا۔”
ویلیو تب بنتی ہے
جب سامنے والا آپ کو کھونے سے ڈرتا ہو۔
وہ آپ کو بیک اَپ اِس لیے بنا رہا ہے
کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے،
وہ انجان نہیں ہے
کہ آپ کہیں نہیں جانے والے۔
تو اگر آپ کو سمجھ آ رہا ہے
کہ کوئی آپ کو بیک اَپ کی طرح ٹریٹ کر رہا ہے،
تو جتنا جلدی ہو سکے
اُسے اپنی زندگی سے لات مار کر باہر نکالو۔
بھکاری مت بنو
کہ سامنے والے کو سمجھاتے پھرو:
“مجھے اپنی لائف کی پرائرٹی بناؤ،
میری ایفَرٹس کو سمجھو،
مجھے ریسپیکٹ دو۔”
آپ نے اُنہیں بار بار سمجھا لیا،
اب خود کو ایک بار سمجھاؤ
کہ بس، بہت ہو گیا۔
اور نِکال باہر کرو اُن لوگوں کو
اپنی زندگی سے
اِگنور کرو اُنہیں،
جو تُمہیں اِگنور کرے۔❤️🩹
اور محبت تو یہ ہے
کہ تم اسے اپنے ماضی کے تاریک پہلو دکھاؤ
اور وہ انہیں تاروں سے سجا دے❤️
منقول
18/02/2026
جو بتا کر جائیں😓
جو واقعی چھوڑنا چاہتا ہے وہ خاموشی سے چلا جاتا ہے۔
نہ وضاحت نہ شور نہ اعلان مگر جو کہہ کر جاتا ہے وہ کہیں نہ کہیں امید رکھتا ہے کہ شاید کوئی روک لے۔ شاید کوئی کہہ دے مت جاؤ
کبھی کبھی جانے کا اعلان اصل میں دل کی آخری کوشش ہوتا ہے 💯
11/02/2026
لڑکیوں سے ان کے آئیڈیل کے بارے میں پوچھا جائے
تو زیادہ تر کیئرنگ ، لَوِنگ ، گُڈ لُکِنگ وغیرہ بتاتی ہیں۔
لیکن۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہ ساری باتیں بعد میں۔۔۔۔ بہت بعد میں آتی ہیں۔!
مرد کا اصل میں "با ادب" ہونا زیادہ Fascinating ہوتا ہے۔
یہاں مجھے کشف مرتضی کا ایک ڈائیلاگ یاد آجاتا ہے ، جو وہ شادی کے بعد اپنے شوہر زارون سے کہتی ہے:
"جب جب تم ادب سے میری ماں کے آگے جھکتے ہو ، تب تب میرے دل میں تمہاری عزت اور بڑھ جاتی ہے"
حقیقی مرد تو یہی ہوتے ہیں ناں۔۔!
آپ کے والدین کے آگے ادب سے جھکنے والے ،
اپنے والدین کے آگے تو سارے ہی جھکتے ہیں۔
میری نظر میں وہ مرد بہت نایاب ہیں ، جو اپنی شریک حیات کے والدین کے آگے بھی ادب سے جھکنا جانتے ہوں۔♥
06/02/2026
ایک زہریلا تعلق (Toxic Relationship) ایسا ہی ہوتا ہے: جس میں نہ انسان تعلق ختم کر پاتا ہے اور نہ ہی اسے دل سے نکال پاتا ہے۔"
وضاحت
یہ جملہ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے جہاں انسان ایک اذیت ناک صورتحال میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات اور پہلو یہ ہیں:
تذبذب کی کیفیت: زہریلے تعلق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان ایک "لوپ" (Loop) میں پھنس جاتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ رشتہ اسے دکھ دے رہا ہے، لیکن وہ اسے ختم کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا۔
امید اور خوف: نہ چھوڑ پانے کی وجہ اکثر یہ خوف ہوتا ہے کہ "تنہائی" اس سے بھی بری ہوگی، یا یہ بے جا امید کہ "شاید کل سب ٹھیک ہو جائے"۔
ذہنی اور جذباتی قید: "Letting it go" (دل سے نہ نکال پانا) کا مطلب یہ ہے کہ اگر ظاہری طور پر بات چیت بند بھی ہو جائے، تو انسان ذہنی طور پر اسی شخص یا اسی دکھ میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ یادیں اور پچھتاوے اسے آگے نہیں بڑھنے دیتے۔
خلاصہ: یہ حالت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے کیونکہ وہ اپنی تمام توانائی ایک ایسے راستے پر ضائع کر رہا ہوتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔
ایک اہم نکتہ
ایسے حالات میں اکثر "سیلف لو" (Self-love) اور اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دینا ہی واحد حل ہوتا ہے۔
محبت کا آخری عمل یہ ہے کہ انسے دوبارہ کبھی رابطہ نہ کیا جائے جنہوں نے آپکی بےقدری کی ہو۔
خاموشی سب سے بڑی سزا ہے۔ نہ لڑائی،نہ بحث، نہ صفائی... بس چپ چاپ نکل جانا
کبھی کبھی محبت اس بات میں نہیں ہوتی کہ آپ کتنا لڑتے ہیں، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ آپ کب چھوڑنا سیکھ جاتےہیں۔
جو لوگ آپکی قدر نہیں کرتے، انکے لیے آپکا وقت بھی قیمتی نہیں۔ ان سے دوبارہ بات کرنا اپنی خود عزت کو دوبارہ مارنا ہے۔
سچی محبت یہ نہیں کہ آپ ہر بار واپس آ جائیں... سچی محبت یہ ہے کہ آپ خود سے اتنی محبت کریں کہ جہاں قدر نہ ہو، وہاں رہیں ہی نہیں۔
دروازہ بند کرو اور چابی پھینک دو... کچھ لوگ دوبارہ chance
کے لائق نہیں ہوتے۔
خود کو اُن لوگوں کے حوالے مت کریں
جو آپ کو کھونے سے نہیں ڈرتے،
کیونکہ جو ڈر جانتا ہے
وہ نظرانداز نہیں کرتا۔
خود کو اتنا مضبوط بنائیں
کہ کوئی آپ کو بیک اَپ نہیں
بلکہ انتخاب سمجھے۔
Never be someone's backup plan ❌
دیکھو، لائف میں کُچھ بھی کر لو،
لیکن کبھی بھی کسی کا پلان بی، سیکنڈ آپشن، سیکنڈ چوائس، بیک اَپ پلان، یا may be later مت بنو۔
بیک اَپ جو ہے نا وہ فون تک ہی سہی ہے ۔
آپ سبزی منڈی کی وہ نظرانداز کی ہوئی سبزی مت بنو
جسے سامنے والا دیکھ کر کہے:
“شام کو آ کر سستے میں لے جاؤں گا۔”
ویلیو تب بنتی ہے
جب سامنے والا آپ کو کھونے سے ڈرتا ہو۔
وہ آپ کو بیک اَپ اِس لیے بنا رہا ہے
کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے،
وہ انجان نہیں ہے
کہ آپ کہیں نہیں جانے والے۔
تو اگر آپ کو سمجھ آ رہا ہے
کہ کوئی آپ کو بیک اَپ کی طرح ٹریٹ کر رہا ہے،
تو جتنا جلدی ہو سکے
اُسے اپنی زندگی سے لات مار کر باہر نکالو۔
بھکاری مت بنو
کہ سامنے والے کو سمجھاتے پھرو:
“مجھے اپنی لائف کی پرائرٹی بناؤ،
میری ایفَرٹس کو سمجھو،
مجھے ریسپیکٹ دے”
آپ نے اُنہیں بار بار سمجھا لیا،
اب خود کو ایک بار سمجھاؤ
کہ بس، بہت ہو گیا۔
اور نِکال باہر کرو اُن لوگوں کو
اپنی زندگی سے
اِگنور کرو اُنہیں،
جو تُمہیں اِگنور کرے۔❤️🩹
اور محبت تو یہ ہے
کہ تم اسے اپنے ماضی کے تاریک پہلو دکھاؤ
اور وہ انہیں تاروں سے سجا دے۔
30/01/2026
من پسند ہمسفر کا نہ ہونا آپ کی زندگی کے مسائل کیوجہ ہر نہیں ہوتا۔
__زندگی ایک حقیقت ہے اور جو باتیں قصے ، کہانیوں ، شعروں، غزلوں میں خوبصورت لگتی ہیں اگر انہیں سچ مان لیا جائے اور زندگی پر اثر انداز ہونے دیا جائےتو آپ جتنا حقیقت کی دنیا سے دور ہوتے جائیں گے اتنا ہی اذیت اور confusion کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔
کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ
__ آپ اپنی خوشی کا اختیار کسی دوسرے کے ہاتھ میں سمجھ لیتے ہیں۔
__ آپ personal development کی اہمیت نہیں سمجھ پاتے۔
__ آپکی توجہ اپنی اصل طاقت خود اپنے اندر تلاش کرنے سے ہٹ جاتی ہے۔
__ آپ کو ہمیشہ خوشی کی تلاش لوگوں کے سہارے رہتی ہے اور وہ کبھی مل نہیں پاتی کیونکہ آپ اس بات کو جان ہی نہیں پاتے کہ آپ کی خوشی cultivate کرنے کی صلاحیت خود آپ میں ہے ۔
__ آپ کو ہمیشہ کسی ایسے شخص کی تلاش/کمی رہتی ہے جو آپ کی تکمیل کرے ۔ اور وہ کوئی بھی نہ تو ہوتا ہے ، نہ ہو سکتا ہے۔
اسکی وجہ یہ ہےکہ
__آپ لوگوں سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں ۔
اور سچ یہ ہے کہ
__ انسان بس انسان ہوتے ہیں اور کوئی بھی انسان اس قابل نہیں ہوتا کہ کسی کی امیدوں کا ڈھیر سارا بوجھ اٹھا سکے۔
_یاد رکھیے ! ایک کامیاب رشتے کو دو emotionally healthy لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
__ آئیڈیل relationship ایک collaboration ہے نہ کہ rescue mission
تو اب اسکا حل کیا ہے ؟
__ پہچانیے کہ آپ درحقیقت چاہتے کیا ہیں؟
_آپ کے اصول کیاہیں ؟
__آپ کو کس چیز سے حقیقی اور سچی خوشی ملتی ہے؟
__اور relationship میں کونسی چیزیں آپکے لیےnon-negotiable ہیں؟ جن پر آپ سمجھوتہ بالکل نہیں کر سکتے۔
__ زندگی کو بامعنی اور بھرپور گزارنے کے لیے Self-care پہ focus کیجیے ، self-improvement پر کام کیجیے۔
__یہ بات سمجھ لیجیے کہ محبت یا زندگی بھر کے سفر کاساتھ ایک
دوسرے کے مکمل کرنے کا نام نہیں کیونکہ درحقیقت آپ تکمیل کے لیے کسی کے محتاج ہوتے ہی نہیں ہیں۔ بس دو لوگوں کو ایک دوسرے کے سفر کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
__ایکدوسرے کو grow کرنے دینا اور grow کرتے دیکھ کر خوشی محسوس کرنا ہی ideal relationship اورtrue love ہوا کرتا ہے ۔
30/01/2026
Babies begin to recognize the people who care for them within a few months of birth.
Research has shown that babies smile more at people who make them feel safe and comfortable.
Studies of social smiling suggest that babies smile to establish a connection with trusted adults.
اکثر جسے ڈیجیٹل محبت کہا جاتا ہے، وہ دراصل محض ایک جذباتی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کسی اور سے نہیں، بلکہ اپنے خالی پن سے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ ان باکس میں موجود دوسرا فرد ایک انسان نہیں رہتا، بلکہ وقت گزارنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جسے آپ محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ عموماً اسی جذباتی ضرورت کا نام ہوتا ہے جو رابطہ کمزور پڑتے ہی اپنی حقیقت کھو دیتی ہے۔
ڈیجیٹل تعلقات کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ یہاں الفاظ سستے اور وعدے بے قیمت ہوتے ہیں۔ نہ کوئی جواب دہی ہوتی ہے، نہ کوئی اخلاقی بوجھ۔ یہ صرف ایک ٹائم پاس ڈیل ہوتی ہے جہاں دونوں طرف سہولت کی بنیاد پر سودے بازی چل رہی ہوتی ہے۔ جیسے ہی پیکج ختم ہوتا ہے، وہی نام نہاد عظیم جذبات بلاک لسٹ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بلاک کرنا آسان ہے، چھوڑ دینا معمولی، اور بھلا دینا فوری ہوتا ہے۔ جو رشتہ صرف نیٹ ورک پر چلتا ہو، وہ حقیقت کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتا..
19/01/2026
“بھلا جس نے پیدا کیا ہے، کیا وہ نہیں جانتا؟ اور وہ تو نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔”
📖 سورۃ الملک (67:14)
19/01/2026
ہم صرف ‘وقتی’ ضرورت ہو سکتے ہیں، ‘دائمی’ ضرورت کوئی نہیں ہوتا۔ لوگ ہماری کمی محسوس کرتے ہیں، مگر اسے بھرنے کے لیے بہت جلد کوئی متبادل بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ دنیا ‘ری پلیسمنٹ’ کے اصول پر چلتی ہے۔ انسان کتنا ہی خاص کیوں نہ ہو، وہ بدل دیا جاتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Islamabad