Muhammad Faheem
My youtube channel
Pleasure subscribe to my youtube channel�
https://www.youtube.com/@mfaheem786
13/06/2024
اصلاحی جماعت کی دعوت
مصنف: مفتی محمد منظور حسین
اپریل 2015
حصہ چہارم(آخری)
اس آرٹیکل کےاس سے پہلے حصہ سوئم میں جو معرفت الٰہی کے اقوال بیان کیے گئے۔
ان تمام اقوال کی تائید صحیح بخاری و صحیح مسلم کی اس روایت سے ہوتی ہے-
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا:
{اول ما تدعوھم الیہ عبادۃ اللّٰہ فاذا عرفوا اللّٰہ فاخبرھم ان اللّٰہ فرض علیھم خمس صلوٰت فی یومھم ولیلتھم فاذا فعلوا فاخبرھم ان اللّٰہ فرض علیھم الزکاۃ من اموالھم و ترد علی فقرائھم فاذا اطاعو بھا فخذ منھم }
’’سب سے پہلے تم انہیں دعوت دینا اس کے حضور اس کی عبادت کا (جب وہ جمع ہوجائیں تو دیگر اعمال سے قبل) پس جب اللہ کی معرفت حاصل کر لیں پس انہیں خبر دینا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں پس جب وہ ادا کر لیں پھر انہیں خبر دینا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض فرما یا ہے ان کے مال میں سے اور س اپنے فقرأ کو دیں پس جب اس پر کامل طور پر کار بند ہوجائیں تو ان سے ان کی زکوٰۃ کا مال پکڑنا-‘‘(۷)
اس حدیث پاک میں عبادت پر معرفت کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ جس قدر معرفتِ الٰہی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اسی قدر عبادت کی چاشنی بڑھتی جائے گی- مگر یہ بات لازماً ذہن نشین رہے کہ جس طرح معرفت میں غفلت روا نہیں اِسی طرح عبادت میں بھی ذرہ بھر غفلت روا نہیں - اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس کی معرفت کیسے نصیب ہوگی اس سوال کا جواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان مبارک میں موجود ہے-
{من عرف نفسہ فقد عرف ربہ}(۸)
’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا-‘‘
انسان کی اپنی پہچان پر اس کی پہچان کا انحصار ہے تبھی تو امام غزالی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
{فان من لم یعرف فکا نہ لم یعرف نفسہ ومن لم یعرف نفسہ فکیف یعرف ربہ}(۹ )
’’ پس بے شک جو اپنی روح کی معرفت نہیں رکھتا گو یا اسے اپنے نفس کی بھی پہچان نہیں اور جو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا وہ اپنے رب کو کیسے پہچان سکتا ہے؟-
اپنے آپ کی پہچان سے مراد یہ ہے کہ تیرا خالق کون ہے؟ اور اس نے تجھے کس مقصد کیلئے تخلیق فرمایا؟
ہم سب کا خالق و مالک اللہ ہے اور اس نے ہمیں اپنی معرفت و پہچان اور اپنی بندگی کیلئے اس دنیا میں بھیجا جو انسان کی اپنی معرفت پر موقوف ہے اس بات کو آسان لفظوں میں سمجھنے کیلئے اتنا جان لینا کافی ہو جاتا ہے کہ انسان کا جسم ، عقل، قلب اور روح - جسم کو انسان اس کی بندگی میں لگا دے، عقل کو علم میں ، قلب کو ذکر میں اور روح کو اس کی معرفت میں لگا دے تب جاکر انسان کی انسانیت کی تکمیل ہوگی-
قاضی بیضاوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
{لان القلوب تطمئن بذکرہ والا رواح تسکن الیٰ معرفتہ}
’’بے شک دلوں کا اطمینان اس کے ذکر میں ہے اور روحوں کی تسکین اس ذات کی معرفت میں ہے-‘‘ (۱۰)
جب انسان کو اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے تو انسان کیلئے اس کے قرب کے راستے ہموار ہوجاتے ہیں اور یہ اس کی جستجو کرنے لگتا ہے اور اس کا متلاشی ہو جاتا ہے اور اس کی تلاش میں اپنے اندر سے کھوج شروع کردیتا ہے-سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الف ایہہ تن رب سچے دا حجرا وچ پا فقیرا جھاتی ھو
ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ھو
شوق دا دیوا بال ہنیرے متاں لبھی وست کھڑاتی ھو
مرن تھیں اگے مر رہے باھوؒؔ جنہاں حق دی رمز پچھاتی ھو
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
انسان کو اپنے اندر کی کھوج کیلئے {الرفیق ثم الطریق} (۱۱)کے تحت مرشد کامل کی ضرورت پیش آتی ہے جو انسانی وسیع و عریض ملک میں اس کی رہنمائی کرے کیونکہ انسانی ملک کی وسعت -------کے بقول {وسع کرسیہ السموات والارض وھی قلب العارف}تفسیر روح المعانی ، للسید مھمود الوسی
؎ دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانڑے ھُو
دورانِ سفر زادِ راہ اور راہبر کی ضرورت ہوتی ہے اس راستے میں راہبر مرشد اکمل ہے اور زادِ راہ حضرت سلطان باھُو اور دیگر اولیائِ کاملین کی تعلیمات میں اسم اعظم یعنی تصورِ اسم اللہ ذات ہے جن کو اپنائے بغیر آدمی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا-
آئیں اللہ رب العزت کے اس فرمان اقدس کے تحت {ومن احسن قولا ممن دعا الی اللّٰہ} اور اس سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے-
اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین کی یہی دعوت ہے کہ آئیں اپنی عظمتِ رفتہ کے حصول کیلئے انسانیت کی تکمیل کیلئے، معراجِ انسانی کیلئے، تزکیہ ٔ نفس کیلئے، تصفیۂ قلب کیلئے، تجلیۂ روح کیلئے اور معرفتِ الٰہی کے حصول کیلئے اصلاحی جماعت کی اس دعوت کو اپنائیں اور عملی جامہ پہنائیں اسی میں ہمار ا شرف بھی ہے اور فضیلت بھی جیسا کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
{فان شرف الانسان وکرامتہ بالمعرفۃ والطاعۃ والا فھو کا لانعام بل ھو اضل سبیلا}
’’ پس بے شک انسان کا شرف اور کرامت معرفت (الٰہی) اور فرمانبرداری میں ہے ورنہ جانوروں کی مثل بلکہ وہ راہِ راست سے گمراہ ہے-‘‘(۱۲)
اس لئے ظا ہر کیساتھ ساتھ باطن کی اِصلاح ، نماز کے ساتھ قلبی ذکر ، شریعت کے ساتھ طریقت کو اپنا نے کی دعوت بھی ہے اور ضرورت بھی ہے-
01/01/2024
May Allah bless us all this year amen
゚viralシ
23/09/2023
نال شفاعت سرورِ عالم چھٹسی عالم سارا ھو
حضرت سلطان باھوؒ
With the intercession of the Holy Prophet (SAWW); the whole Creation will attain amnesty - Hoo,
(Social Media Marketing)
(Search Engine Optimization)
03/09/2023
I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
21/06/2023
Hadees e nabvi (SA)
06/06/2023
(Muhammad Faheem)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Address
Haripur
22620