GB Timeline
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from GB Timeline, News & Media Website, Gilgit.
Major aim of creating this page on Facebook is to preserve the visual history of the people, traditions, social, cultural & religious gatherings, development, heritage & promotion of tourism sector of GB through pictures found in different collections/archives and historical albums with textual/video/audio narratives.
20/09/2026
علیمہ خان 20 ستمبر 2026 کو لاہور میں کینال روڈ (اپنے گھر کے قریب) سے حراست میں لیا گیا تھا۔
17/09/2026
صبحِ بخیر
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابرِ کوہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
(علامہ اقبال )
راکا پوشی – نگر
عکاسی : عمران حمید
پاکستان خوبصورت
nature
یمن کے حوثیوں کو (اثنا عشری) شیعہ بطور شیعہ مانتے ہی نہیں بلکہ انہیں گمراہ سمجھتے ہیں کیونکہ انکا زیدیہ مکتب فکر بالکل حنفی مسلک کے بالمثل ہے سوائے ایک بات کہ ۔ انکے ہاں ملک کی حکمرانی کا حق صرف نبی ص کی بیٹی حضرت فاطمہ رض کے بچوں کی نرینہ اولاد یا انکے شجرے کو ہے۔
کم لوگوں کو پتہ ہے کہ یمن عملی طور پر دو ملک ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے بڑے حصے یعنی 75 سے 80 فیصد علاقے پر حکومت حوثیوں کی ہے ۔ جب کہ ایریا کے اعتبار سے ذیادہ بڑے جغرافیے پر سنی قبائل کی حکومت اور قبضہ ہے۔
مغرب اور عرب ممالک خصوصا" سعودی عرب سنی قبائل کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور حوثیوں کی حکومت جو ملک آبادی کے سب سے بڑے حصے پر راج کر رہے ہیں اس پر گذشتہ کئی برس سے ہر طرح کی معاشی پابندیاں اور بلاکیڈ لگا رکھا ہے۔
ملک کی 80 فیصد آبادی والے علاقوں پر نہ صرف حوثیوں کی حکومت ہے بلکہ فوجی لحاظ سے بھی حوثی جدید ترین اسلحہ میزائل ، ہوائی دفاعی نظام اور ڈرونز رکھنے کے علاوہ اقوام متحدہ کی 2024 پینل ایکسپرٹ رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد انتہائی تربیت یافتہ فوج بھی رکھتے ہیں ۔
مغربی اور عرب میڈیا کے زیر اثر ہمارا میڈیا بھی حوثیوں کو ایسے پینٹ کرتا ہے جیسا کہ یہ چند باغی لوگ ہیں جو بلاوجہ سعودی عرب پر حملے کرتے ہیں ۔ چونکہ ہمارے ہاں سنی فرقوں کا پلڑا بھاری ہے اس لیے حوثیوں کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پراپگنڈہ آنکھ بند کرکے قبول کیا جاتا ہے ۔
حوثیوں کی طاقت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ماضی کے اپنے نقصانات اور تجربات سے سبق سیکھ کر امریکہ بھی ان سے جنگ سے کتراتا ہے۔ اسی لیے ان سے امن معاہدہ کرنے میں ہی عافیت جانی ۔حالیہ سعودی یمن جنگ میں شہزادہ سلمان نے دوبار فون کرکے صدر ٹرمپ سے یمن کے خلاف مدد کی درخواست کی جسے ٹرمپ نے رد کردیا یہ کہہ کر ہمارا حوثیوں سے ایگریمنٹ ہے۔
حوثیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب ساری دنیا کہ مسلمان ممالک فلس3 کی حمایت سے پیچھے ہٹ گئے تو یہ پھر بھی نہیں ہٹے اور ڈٹے رہے ۔
اس وقت اہل کپر ایران سے ذیادہ یمن سے متوحش ہیں ۔ اسی لیے اب کوشش کی جا رہی ہے کہ انکے خلاف انتہا پسند اور احمق سنی فرقوں کو استعمال کیا جائے۔
تاریخی طور سنی فرقے ذیادہ تر یعقوبیوں اور امریکیوں کے ہاتھوں استعمال کا کھلونا بنے رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے انکار کے بعد شہزادہ شام سے کرائے کے گوریلے لانے کے درپے ہے تاکہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑے۔
سعودی عرب کو پاکستان کی طرف سے بردرانہ مشورہ یہی ہوگا کہ خامخواہ کی لڑائی میں پڑنے کی بجائے حوثیوں سے صلح کی قراداد پر دستخط کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یمن پر سعودی کی جانب سے بے رحمانہ قسم کی بمباری کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ وہ جوابی میزائل حملے بھی نہ کریں ۔ اسکے ساتھ ساتھ یمن کا معاشی اور فضائی بلاکیڈ بھی ختم کرے۔ صرف اتنا کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات نارمل ہو جائیں گے اور آپس میں حملوں کا تبادلہ بھی بند ہوگا۔
اگر سعودی قیادت اجازت دے تو پاکستان ایران کے توسط سے اس معاملے میں بہت مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ اور ان دونوں مسلمان ممالک کا جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔
پاکستانی زندہ باد مردہ باد قوم کو بھی نصیحت ہے کہ ذیادہ میڈیا اور فرقہ ورانہ پراپیگنڈے کے اثر میں اکر اس بات پر یقین کرنا شروع نہ کر دیں کہ اس جنگ میں حوثی ظالم ہیں اور دوسرے مظلوم ۔ بلکہ درحقیقت حوثی مظلوم بھی ہیں اور مقہور بھی ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ اس حالیہ جنگ میں اب تک یمن کی طرف سے کئے حملے میں ایک بھی سعودی شہری نہیں مرا جبکہ سعودی کی طرف سے بمباری میں درجنوں عام یمنی جان سے جا چکے ہیں۔
پس تحریر : بہت سے دوست کمنٹ کر رہے ہیں کہ آپ نے مکہ مدینہ پر حوثی حملوں کا ذکر نہیں کیا ۔ وہ اس لیے نہیں کیا کہ یہ فیک نیوز یا پراپگنڈہ نیوز ہے جسکی یمنی حوثی حکومت نے سختی سے تردید کی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں بلکہ تیسری بار ہے کہ سعودی سنی فرقوں کے جذبات ابھارنے کے لیے اس قسم کی خبریں پھیلا رہے ہے ۔ پہلی بار انھوں نے 2017 میں یہی کیا تھا کہ حوثیوں نے کعبہ پر حملہ کیا ہے ۔
سید سعد عبداللہ
17/09/2026
میں ایک بات کہتا ہوں کہ فخر زمانے 16 نومبر 2025 کو سر لنکا کے خلاف میچ کھیلا ہے او ڈی ائی کا وہ بھی 55 رنز کا اننگ کھیلا ہے فخر زمان نے پھر اس کے بعد 304 دن ہو گئے ہیں فخر زمان نے ابھی تک او ڈی ائی کا ایک میچ بھی نہیں کھیلا ہے اور پھر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ورلڈ کپ جیتنا ہے او بابا اپ ورلڈ کپ کیسے جیتو گے کہ اپ ایک اوپنر پلیئر کو اتنا ذلیل کرتے ہو کہ اس نے ایک سال مکمل ہو رہا ہے اس نے ایک میچ نہیں کھیلا ہے او ڈی ائی کا ابھی تک انٹرنیشنل کا بات کرتا ہوں ڈومیسٹک میں دو تین کیلے ہیں ایک سال کے بعد ورلڈ کپ شروع ہوتا ہے اور فخر زمان نے ابھی تک 304 دنوں میں کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا ہے او ڈی ائی کا اور ابھی بھی رینکنگ کی اگر اپ بات کریں فخر زمان 20 سے 38 پہ پہنچ گئے
16/09/2026
بادلوں کی چادر اوڑھے بٹہ کنڈی… ☁️🏔️
نیچے خاموشی سے بہتی ندی، اور پہاڑوں پر اترتی خزاں کی دستک… 🍂🌧️
وہ ہریالی جو کبھی ہر طرف بکھری تھی، اب آہستہ آہستہ زرد رنگ میں ڈھل چکی ہے۔
مگر شاید بٹہ کنڈی کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں موسم بدلتے ہیں، رنگ بدلتے ہیں، مگر محبت نہیں بدلتی۔ ❤️
کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف دیکھا نہیں جاتا،
بلکہ دل میں محسوس کیا جاتا ہے…
اور بٹہ کنڈی کی یہ خزاں بھی انہی خوبصورت لمحوں میں سے ایک ہے۔ 🍂🤍
📍 بٹہ کنڈی، وادیٔ ناران
— looking for food recommendations at Batakundi Naraan.
15/06/2026
When nature decides to show off… Skardu becomes unforgettable.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit