Fazal wahid
💓
01/02/2026
25/08/2025
لوگ کہتے ہیں کہ لاہور میں 30 روپے کے جھگڑے نے دو لوگوں کی جان لے لی، میرا ذاتی نظریہ تھوڑا مُختَلِف ہے، جان 30 روپے کی وجہ سے نہیں بلکہ اَنّا یعنی میں، اکڑ کی وجہ سے گئی ہے، پیسے واپس کر، نئیں کردا، اوئے تُوں مینوں جانڑدا نئیں، کر لے فیر جو کرنا ای، لے فیر میں لے کے وخانہ واں، بس یہ میں میں کرنے والی اَنّا اور اکڑ، دو کی جان لے گئی اور باقی پھانسی چڑھ جائیں گے اور پیچھے رُلیں گے اب دونوں کے خاندان، بیوی بچوں کی زندگی تباہ ہو گئی، اور یہ سب کرتا ہے وہ خَنّاس جِس سے پناہ کے لئے پوری ایک سُورۃ نازِل کی گئی تھی کہ اس ایک شَر سے ﷲ کی پناہ مانگا کرو جو دِلوں میں وَسوّسے ڈالتا ہے، سُورۃ اَلفَلّق میں چار خطرناک چیزوں سے پناہ مانگنا سِکھایا گیا جبکہ سُورۃ الناس میں صِرف اِسی ایک سب سے خطرناک چیز خَنّاس سے پناہ مانگنے کا بتایا گیا، اِسی خَنّاس سے ہنستے بستے گھر تباہ ہو جاتے ہیں، سالوں سے چلے آرہے رِشتے ٹُوٹ جاتے ہیں، دوستیاں دُشمنیوں میں بدل جاتی ہیں، سگی اولاد ماں باپ کی دُشمن بن جاتی ہے، بھائی بھائی کا جانی دُشمن بن جاتا ہے، پیار کرنے والے میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے سے بیزار ہو جاتے ہیں، دِلوں میں وَسوّسے ڈالنے والے اِس خَنّاس نے جانے کیا کیا تباہیاں مچا رکھی ہیں، اِس لئے ہمیشہ خَنّاس سے ﷲ کی پناہ مانگتے رہا کریں، معلوم نہیں کب یہ بدبخت خَنّاس دِل میں کوئی وَسوّسہ ڈال کر آن ہی آن میں سب کُچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دے- دُعا ہے کہ ﷲ پاک ہمیں اِن پانچ خطرناک چیزوں سے ہمیشہ اپنی پناہ کے حِصّار میں مَحفُوظ رکھے-
آمِین ثُمَّ آمِین یَّا رَبِّ اَلعالَمِین
نبھا رہے ہیں اکیلے ہی رسمِ شبیری
نہ کوفیوں سے توقع نہ ڈر یزید کا ہے! ☫
21/06/2025
بشارت لیفٹی آگیا اور چھا گیا۔ گلگت سی نے چترال سی کی ایک نہ چلنے دی۔ ناقص اور چترال کی طرف جانب دار انتظامیہ کے باوجود گلگت سی نے چترال سی کو عبرتناک اور غضب ناک شکست سے دو چار کیا۔
26/05/2025
بلا عنوان
ماں زندہ ہو تب اور وفات ہو جائے تب
زندگی میں ہی ماں کی قدر کرو ورنہ پچھتاؤ گے
29/04/2025
Darel polo ground🫠❤️
18/01/2025
07/10/2024
الفاظ ✍️ 🌱
24/09/2024
چلاس ایئر پورٹ ۔1958
اور جب یہ طے ہوا کہ چلاس ایئر پورٹ کو جو انگریز دور میں 1928 میں رائل ایئر فورس نے بنایا تھا اسے دوبارہ سے قابل استعمال اور کارآمد بنایا جائیگا تو پاکستان ایئر فورس کی ایک ٹیم گلگت پہنچی جنہوں نے اس وقت کی انتظامیہ کے ساتھ چلاس ایئر پورٹ کا جائزہ لیا ۔ جس کے بعد اس پر کام شروع ہوا ۔ جسے 1959 کے آخر میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ۔ اسی ایئر پورٹ پر سی ون تھرٹی کے ذریعے امریکی انجینئرز اور بھاری میشییری چلاس پہنچائی گئی ۔ یہ سب اس لیئے کیا گیا کہ اس وقت امریکی مدد سے 1956 میں بشام چلاس سکشن پر شاہراہ قراقرم کا کام کا آغاز کیا گیا تھا جو میشنری نہ ہونے کے باعث سست روی کا شکار تھا ۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جس میں محکمہ جنگلات پبلکس ورکس ڈیپارٹمنت اور ایئر فورس کے آفیسرزچلاس ایئر پورٹ کی ناپ تول میں مصروف تھے_
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the public figure
Telephone
Address
Gilgit