Nagarians
"Look deep into nature, and then you will understand everything better."
- Albert Einstein
قربانی کے دنوں میں اگر قصائی کی کمی ہو جائے تو کمپنی سے رابط کر لینا ۔
انکا کھال اتارنے کا 76 سالہ وسیع تجربہ ہے ۔
25/05/2026
حلقہ 5، آخر تک لازمی پڑھیں۔
جو لوگ کل تک مجلس وحدت المسلمین کے ٹکٹ کو “نیٹو کی ٹکٹ” کہہ کر طنز کا نشانہ بناتے تھے, آج وہی اسی ٹکٹ کو اپنے سیاسی بیانیے کی بنیاد بنا کر عوام کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور اب اندازِ گفتگو یہ ہے کہ ووٹ یا تو “ٹرمپ کے یاروں” کو جائے گا یا “رہبر کے جانثاروں” کو۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کو واقعی اس نہج پر لے جانا ضروری تھا جہاں اختلافِ رائے کو عقیدے اور وفاداری کے پیمانوں سے ناپا جائے؟
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مذہب کو انتخابی مہم کا ہتھیار بنایا گیا، وہاں دلیل کمزور اور بیانیہ محدود ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ طرزِ سیاست انہی حلقوں کی جانب سے سامنے آ رہا ہے جو خود کو جدید سیاسی سوچ، شعور اور بصیرت کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔
اگر اسی منطق کو مان لیا جائے تو پھر جو شخص انہیں ووٹ نہ دے، وہ “ٹرمپ کا ساتھی” اور جو ووٹ دے، وہ “رہبر کا جانثار” ٹھہرتا ہے۔ جبکہ حلقے میں “ٹرمپ کے یاروں” اور “رہبر کا جانثار” کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی موجود ہیں، جن کے اپنے ووٹرز اور سیاسی مؤقف ہیں۔
مگر عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہی لوگ چند ماہ پہلے تک نون لیگ کے دروازوں پر سیاسی قربتیں تلاش کر رہے تھے، اور آج انہی کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ “مریم کے پاپا چور ہیں” جیسے نعروں پر جشن منایا جا رہا ہے، جبکہ رہبرِ معظم کی تدفین بھی ابھی تک نہیں ہوئی۔ سوال پارٹی بدلنے کا نہیں، سوال اصولوں کی مستقل مزاجی کا ہے۔
کیا واقعی رہبر معظم کے نام کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے؟ کیونکہ یہاں محسوس یہی ہوتا ہے کہ مذہب کو دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ایک جذباتی دباؤ اور سیاسی ہتھیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بات ان کی طرف سے بارہا نجی محفلوں میں کہی گئی ہے کہ مجلس وحدت المسلمین کی ٹکٹ لینے کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ کسی اور کے حق میں دستبردار ہونے سے بچا جا سکے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا کل کو معمولی سیاسی اختلاف پر یہی سفر کسی اور سمت اختیار نہیں کرے گا؟ کیونکہ ماضی کا سیاسی رویہ یہی اشارہ دیتا ہے۔
اور اب ذرا ان “بڑی سیاسی سوچ” رکھنے والوں کے منشور پر بھی نظر ڈال لیجیے۔ کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی دور اندیش قانون ساز یا سنجیدہ سیاسی نمائندہ بات کر رہا ہے۔ بلکہ زیادہ تاثر ایک ایسے فلاحی ماڈل (NGO) کا ملتا ہے جہاں سیاست اور نمائندگی کے بنیادی فرق کو نظرانداز کر دیا گیا ہو۔
چلیے عوام مان بھی لیتی ہے آپ کے “Vision 2031” کو، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آپ کا منشور, MWM کے منشور سے کس حد تک مختلف ہے؟ کیونکہ عملی طور پر اگلے پانچ سال آپ نے اسی جماعت کے منشور اور پالیسی کے مطابق کام کرنا ہے۔ آئینی اور جماعتی حیثیت سے ہر وہ امیدوار جو کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہو، وہ اپنی جماعت کے منشور کا پابند ہوتا ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آزاد امیدوار کے علاوہ کوئی بھی شخص الگ منشور بنا کر عوام کو متاثر تو کر سکتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔
لہٰذا مذہب اور معزز شخصیات کے نام پر جذباتی فضا قائم کرنے کے بجائے عوام کے سامنے واضح پالیسی، قابلِ عمل منشور اور حقیقت پسندانہ روڈ میپ پیش کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی رہنما عوام کو صرف جذباتی نعروں اور وقتی جذبات کے ذریعے قائل کر کے اقتدار حاصل کر لیتا ہے، تو پھر اس کی اعلیٰ تعلیم اور عالمی اداروں سے حاصل کردہ تمام کامیابیاں محض ایک سند تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ “Democracy and Public Policy” جیسے مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اگر سیاست کا مقصد صرف طاقت کا حصول بن جائے اور اس کے لیے ہر مذہبی یا طاقتور حلقے کے سامنے جھکنا پڑے، تو پھر ایسے رہنما کا شمار بھی انہی روایتی سیاستدانوں میں ہوگا جو اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اور یہی رویہ ان کی تمام تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی تصور ہوگی۔
نوٹ: یہ تحریر کسی فرد کی کردار کشی یا ذاتی حملے کے لیے نہیں، بلکہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھنے کی ایک کوشش ہے۔
25/05/2026
حلقہ GBLA-5 نگر میں جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ حالیہ عوامی سروے اور مختلف سیاسی حلقوں کی رائے کے مطابق صفدر مرزا کی پوزیشن اس وقت کافی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف سماجی طبقات میں ان کے لیے مثبت رجحان واضح محسوس کیا جا رہا ہے۔
صفدر مرزا نہ صرف اپنے والد مرحوم مرزا حسین کے سیاسی وژن کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حلقے کے مختلف علاقوں میں ان کا استقبال اور عوامی رابطہ مہم خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار نگر کے عوام روایتی نعروں کے بجائے عملی سوچ اور مضبوط قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں، اور صفدر مرزا اس معیار پر پورا اترتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہی عوامی جوش و جذبہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں انتخابی میدان مزید دلچسپ ہو سکتا ہے۔
24/05/2026
ہوپر میں صفدر مرزا کا پرجوش استقبال ،
ہوپر کس کا ہوپر صفدر مرزا کا ✌️✌️
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان بذریعہ ہیلی گلگت بلتستان آمد پر
تمام اسماعیلی جماعت کو مبارک ہو ۔
20/05/2026
7 جون کا دن نگر کی عوام کے لیے ایک اہم فیصلہ کن دن ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم سب مل کر صفدر مرزا کے انتخابی نشان ( انسانی آنکھ)کو نہ بھولیں گے، اور اپنے قیمتی ووٹ سے اس پر ٹھپہ لگا کر کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔ یہ صرف ایک امیدوار کی کامیابی نہیں بلکہ عوامی خدمت، نوجوانوں کی امیدوں اور مرحوم مرزا حسین کے مشن کی تکمیل کا سفر ہے۔ اتحاد، شعور اور عوامی طاقت کے ساتھ صفدر مرزا کو کامیاب بنائیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط کریں۔
آج صفدر مرزا نے اپنے واضح اور دوٹوک مؤقف سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اعلان کیا کہ “ہم کسی کے لیے ڈرا نہیں ہو رہے”، جو ان کی خودداری، عوامی اعتماد اور مضبوط سیاسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے رہنما ہی عوام کے حقیقی ترجمان ہوتے ہیں جو دباؤ یا مفاد کے بجائے اپنے نظریے اور عوامی فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں۔
16/05/2026
جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ ہر فرد کو اپنی رائے اور قیادت کے انتخاب کا حق حاصل ہو، اور اگر ایک ہی گھر سے دو امیدوار بھی میدان میں ہوں تو یہ سیاسی شعور اور عوامی دلچسپی کی علامت ہے۔ لیکن اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ذاتی اختلافات اور گروہ بندیوں کو ختم کر کے پورا نگر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو۔
آج سمایر میں صفدر مرزا کا پُرجوش اور تاریخی استقبال اس بات کی واضح مثال ہے کہ عوام نفرت نہیں بلکہ اتحاد، ترقی اور باوقار قیادت چاہتی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور والہانہ محبت نے ثابت کر دیا کہ نگر کے عوام اب ایسے نمائندے کے ساتھ کھڑے ہیں جو مرحوم مرزا حسین کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے علاقے کی خدمت اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے سنجیدہ ہو،
ہم گلگت کے جوانوں، بالخصوص کشروٹ، جٹیال، گلگت شہر اور حلقہ 3 کے نون لیگ کے نوجوانوں کو سرزمینِ نگر میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gilgit
1510