Wasoography

Wasoography

Share

We are dedicated to bringing you the best nature videos from all around the Gilgit Baltistan Pakistan.

We aim to offer an inside view of the outside Gilgit Baltistan from all angles.

04/12/2024

Ishq and Galib ❤️

07/11/2024

People Nowadays in Punyal after 11:30 PM 😂😂

03/11/2024

Autumn colours of northern areas ❤️
Gahkuch Ghizer Gilgit Baltistan ❤️

01/05/2021

حسین وادی یاسین کی ایک خوبصورت گاؤں درکوت جو کہ گلگت بلتستان کو یرخون اور بدخشان سے ملاتی ہیں❤

31/03/2021

وادئی یاسین کے رنگ ۔

وادئی یاسین گلگت بلتستان کا ایک پُرفضا اور خُوبصُورت سیاحتی مقام ہے جو گلگت شہر سے 120کلو میٹر دُور شمال مغرب میں ضلع غذر میں واقع ہے ۔ یہ وادی سطح سمندر سے تقریباً 7875 فُٹ بلند ہے اور موسمِ سرما میں عموماً یہاں ایک سے دو فٹ تک برف پڑتی ہے ۔ وادئی یاسین کے دو خُوبصورت علاقوں درکوت اور تھوئی کی حدُود واخان کی پٹی سے ملتی ہیں یعنی یہاں سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر سابق روسی ریاستیں واقع ہیں ۔ گلگت شہر سے وادئی یاسین کے سفر کے دوران پونیال اور گوپس کی دلکش وادیوں سے گُزر ہوتا ہے جن کی خُوبصورتی ایک حسین خواب محسُوس ہوتی ہے ۔

وادئی یاسین کے لوگ انتہائی مہمان نواز ، فراخ دِل اور ہنس مُکھ ہیں ۔ کھوار ، شینا اور بروشسکی یہاں کی زبانیں ہیں ۔ یہاں کے لوگ کھیتی باڑی ، باغبانی ، تجارت اور دیگر متفرق کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ معیارتعلیم نسبتاً بہتر ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ سرکاری و غیر سرکاری ملازمتیں بھی کرتے ہیں ۔ یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر دُکانیں رات دیر گئے تک کھُلی رہتی ہیں جبکہ لوگ گھروں کی چاردیواریوں کے دروازے بھی بند کرنے کی پرواہ نہیں کرتے ۔ یہاں تعلیم کے فروغ میں دینی مدارس ، اقراء سکول ، آغاخان فاٶنڈیشن اور سرکاری تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہے ۔ یہاں کے لوگ محبِ وطن اور بہادر ہیں ۔ پاک فوج اور دیگر سلامتی اداروں میں یہاں کے نوجوان اپنی خدمات سر انجام دیتے چلے آ رہے ہیں ۔ کارگل کے محاذ پہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے حوالدار لالک جان کا تعلق بھی یہیں سے تھا ۔ 1860ء سے قبل متعدد مرتبہ ڈوگرہ فوج کو بدترین شکست سے دو چار کر کے گلگت بلتستان سے بھگانے والے خوشوقت ( مُغلیہ ) خاندان کے راجہ غازی گوہرامان ؒ بھی اسی وادی سے تعلق رکھتے تھے اور یہیں کے ایک قبرستان میں آسودہء خاک ہیں ۔ غازی گوہر امان ؒ کی اولاد آج بھی وادئی یاسین میں آباد ہے ۔ وادئی یاسین کے لوگوں کا پسندیدہ کھیل " پولو " ہے ۔ یہ یہاں کا قدیم اور روایتی کھیل ہے ۔ یہاں پولو کے بڑے نامور کھلاڑی پیدا ہوئے ہیں جو باقاعدہ طور پر گلگت بلتستان اور شندور کے پولو کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں ۔ یہاں متعدد علاقائی اور ثقافتی تہوار منائے جاتے ہیں ۔ ان تہواروں میں سب سے منفرد اور قدیم تہوار " جشن تخم ریزی " یا " جشن بہاراں " ہے ۔ نو سو برس قدیم یہ تہوار مارچ کے مہینے میں بہار کی آمد پہ منایا جاتا ہے جس کی تقریبات دو روز تک جاری رہتی ہیں اور ان تقریبات میں صرف مرد شریک ہوتے ہیں ۔ ان تقریبات کے دوران پولو اور گھڑ سواری کے مقابلوں کے علاوہ گائیکی ، رقص اور دورانِ شب مشعل بردار ریلی کا اہتمام ہوتا ہے ۔ علاقے کے سب سے زیادہ عمر والے شخص کے ہاتھوں زمین میں ہل چلانے کے بعد " جشنِ تخم ریزی " یا " جشنِ بہاراں " کی تقریبات کا اختتام ہوتا ہے ۔

وادئی یاسین کے درمیان سے صاف و شفاف اور نیلگوں دریا گُزرتا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ وادئی یاسین کا حُسن دریائے یاسین کی بدولت ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا ۔ وادی میں پانی کے چشموں اور جھیلوں کی بہتات ہے جبکہ اس کے آس پاس کے بعض فلک بوس پہاڑوں پہ آبشاریں اور گلیشیئر بھی ہیں ۔ اکثر پہاڑ جنگلات سے خالی ہیں تاہم اُن کی سنہری رنگت وادی کے حُسن کو مزید نکھارتی ہے ۔ مکئی کے لہلہاتے کھیت ، سفیدے کے اُونچے درختوں کے گھنے جنگلات اور ہمہ قسم کے پھل دار درختوں کے باغات وادئی یاسین کا زیور ہیں ۔ یہاں کے تاریخی مقامات میں نوح زیارت ، یاسین قلعہ ، چھمرکھن ، بحری کھن ، قلمقے کھن ، دربن ترچھیت ، فرنگِ بار اور موڈوری قلعہ وغیرہ شامل ہیں ۔

موڈوری قلعہ وادئی یاسین کی تاریخ کے ایک سیاہ ترین اور دردناک واقعہ کی یاد دلاتا ہے جہاں 1863ء میں ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں یہاں کے لوگوں کا قتلِ عام ہوا تھا ۔ موڈوری قلعہ سندھی یاسین کے مقام پر واقع ہے ۔ وادئی یاسین ( جو اُس وقت ایک ریاست تھی ) کے حکمران راجہ غازی گوہر امان ؒ نے 1860ء سے قبل ڈوگروں کو متعدد مرتبہ بدترین شکست دے کر گلگت بلتستان سے نکالا تھا اور ڈوگرہ اس شکست کا بدلہ لینے کی تاک میں تھے ۔ راجہ غازی گوہر امان ؒ کی وفات کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں کی باہمی نااتفاقی کی وجہ سے 1860ء کے بعد ڈوگروں نے ایک بار پھر گلگت پہ قبضہ کر لیا ۔ 1863ء میں ڈوگرہ فوج نے وادئی یاسین پر حملہ کر کے وہاں تباہی مچا دی ۔ یاسین کے لوگ موڈوری قلعہ میں محصُور ہو کر ڈوگرہ فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ بالآخر ڈوگرہ فوج نے موڈوری قلعہ کو تباہ کر دیا اور یہاں محصُور 2000 افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا جن میں عورتیں ، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کے دوران متعدد خواتین کو اغوا کر کے سری نگر سمیت ریاست جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں لے جایا گیا ۔1870ء میں جب برطانوی فوج کے کرنل جارج ہیورڈ وادئی یاسین آئے تو انہوں نے یہاں ڈوگرہ فوج کی جانب سے برپا کی گئی درندگی اور تباہی دیکھی ۔ اُنہوں نے یہاں کا آنکھوں دیکھا حال کلکتہ کے ایک اخبار کو لکھ بھیجا ۔ جب مہاراجہ کی فوج کے ظلم کی داستان انگریزوں تک پہنچ گئی تو کرنل جارج ہیورڈ کو درکوت کے مقام پر قتل کر دیا گیا ۔

موسمِ گرما میں وادئی یاسین میں پاکستان بھر سے کثیر تعداد میں سیاح آتے ہیں اور یہاں کے حُسن اور معتدل موسم سے لُطف اندوز ہوتے ہیں ۔ یہاں سیاحوں کے لئے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ جا بجا ریستُوران بنے ہوئے ہیں جہاں مناسب داموں میں قیام و طعام کی سہُولیات دستیاب ہوتی ہیں ۔ یاسین خاص اور طاؤس کے درمیان نازبر کی طرف سے آنے والے دریا کے صاف پانی کا نظارہ انتہائی دلکش ہوتا ہے ۔ قرقلتی ، ماکولی ، نازبر ، تھوئی ، مورونگ اور برنداس جیسی خُوبصورت جگہیں سیاحوں کے دل موہ لیتی ہیں ۔ درکوت کے گرم چشمہ اور نازبر نالے کے کڑوے چشمہ کا پانی جہاں مقامی لوگوں کی مختلف بیماریوں کا علاج ہے وہیں یہ چشمے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بھی ہیں ۔

وادئی یاسین کی خُوبصُورتی اور یہاں کے لوگوں کی خُوبیوں کے تذکرے کے ساتھ یہاں کے مسائل کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔ وادئی یاسین کی اکثر سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے ۔ بارشوں کے موسم میں کئی کئی دن تک یہ سڑکیں آمدورفت کے قابل نہیں رہتیں ۔ یہاں معیاری ہسپتال نہ ہونے کے باعث اکثر مریضوں کو گلگت یا کسی دُوسرے شہر میں لے جانا پڑتا ہے ۔ یہاں بجلی کا نظام بھی تسلی بخش نہیں ہے اور دن میں کئی بار بجلی بند کی جاتی ہے ۔ سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے یہاں بجلی کا نظام بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وادئی یاسین میں فنی تعلیمی اداروں اور لائبریری کی کمی شدت سے محسُوس کی جا رہی ہے ۔ یہاں انٹرنیٹ کی خدمات کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ یہاں کے لوگ آن لائن کاروبار کر سکیں اور طلباء و طالبات آن لائن پڑھائی کر سکیں ۔ ایک سب سے بڑا المیہ یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مثبت سرگرمیوں کے مواقع نہ ہونے کے باعث وادئی یاسین کے نوجوان تیزی سے منشیات کی لت میں مبتلاء ہو رہے ہیں ۔ مقامی عوامی نمائندوں اور گلگت بلتستان کی حکُومت کو چاہئے کہ وہ وادئی یاسین کے مسائل پہ توجہ دیں تا کہ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بھی بُلند کیا جا سکے ۔

( محمد بشیر کشمیری )

11/03/2021

Junction of Ghizer and Yasin River above Sheli Gupis
photograph by Aurel Stein
August 1913
published "innermost Asia"
2020 photograph mine 😊

25/02/2021

The Super Uniform Club proudly announce free uniform in Yasin region for the orphan and the most needy students with collaboration with .
The newly stablished uniform factory has not only created jobs but highly enthusiastic about helping the needy students in the Yasin tehsil and in future may extend to the whole district.
The factory produces all kind of uniform locally at a reasonable price.
It is requested to inform us about the needy students around.

Photos from Wasoography's post 14/02/2021

Khalti Lake Gupis Ghizer Gilgit Pakistan ❤

Want your business to be the top-listed Photography Service in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Gilgit