Manzoor Levi
I am serving as a Social Activist and legal advisor.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص آپ سے ملنے مدینے کو چلا💙 جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا۔۔ ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔۔ جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔ آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس شخص نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں ، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہرو میں آتا ہوں۔۔۔ آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔۔
آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں ،،،
سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا بادشاہ ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق اعظم ہے ) ۔۔۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے ۔۔۔۔۔ وہ شخص ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں۔۔۔۔ جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا "امیر المومنین" کی سدا سن کر اس شخص کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی، خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہاں آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں۔۔۔ غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں۔“
سبحان اللہ
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کے اخلاق و عادات ۔
(کنزالعمال ج ۶ : ۳۴۳)
❤️
جزاک اللہ خیرا
10/12/2025
(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)
حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة
ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کرکے ہمیں مفتوح کر لیاگیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کررہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔
جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”
قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جا کر دستک دی،
جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کررہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔
عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام : ”ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔
سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا :قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کرلیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟
قتیبہ نے کہا :نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہوتو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جاچکا تھا۔
ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کردے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور "لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ" کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
بلوچستان اور پشتونخوا میں قتل عام، غزہ میں قتل عام اور مسلمانوں کی بےحسی اس کی مثالیں ہیں۔
مستند حوالہ جات:
1) فتوح البلدان — امام بلاذری (م 279ھ)
باب: فتح سمرقند
(اہلِ سمرقند کی شکایت اور قاضی کے فیصلے کا بنیادی ذکر)
2) تاریخ الطبری — ابن جریر طبری (م 310ھ)
جلد 7 / واقعاتِ سمرقند
(قتیبہ بن مسلم کا فتحِ سمرقند اور اہلِ شہر کی فریاد کا حوالہ)
3) الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (م 630ھ)
سال 95–96 ہجری کے واقعات
(فتحِ سمرقند اور عدالتی فیصلہ مختصر بیان ہوا ہے)
دلچسپ و عجیب تاریخ
04/11/2025
قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے تو پتہ چلے گا۔
🐒اصحاب سبت کی کہانی
سمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمیان واقع تھی، میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اللہ نے اپنے کلام میں کیا ہے:
> "اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے تھی۔ جب وہ ہفتہ کے دن حد سے بڑھنے لگے تھے، اور ان کی مچھلیاں ہفتے کے دن ان کے سامنے سطح آب پر ظاہر ہو جاتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں۔ اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے۔"
(سورۃ الاعراف: 163)
یہاں "اصحاب سبت" رہتے تھے، جو یہودی قوم میں سے تھے۔ اللہ نے ان کے لئے ہفتے کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا اور انہیں دنیا کے امور میں مشغول ہونے سے منع کیا تھا، کیونکہ وہ باقی دنوں میں عبادت کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن تجارت، صنعت اور مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اللہ کا ایک امتحان تھا، کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت ہونے لگی، مگر وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے حیلے سے انہیں پکڑنا شروع کر دیا۔
ابن عباس اور دوسرے علماء کے مطابق، یہودی اس زمانے میں ہفتے کے دن کی حرمت پر عمل پیرا تھے۔ مچھلیاں اس دن ان کی طرف امن و سکون سے آجاتیں کیونکہ وہ انہیں باقی دنوں میں پکڑتے تھے۔ اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈالا اور ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت سے انہیں آزمایا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے حیلے کا سہارا لیا۔
ایک دن، گاؤں کے ایک فرد کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، تو شیطان نے اسے ایک حیلہ سکھایا۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کے کنارے آیا اور ایک بڑی مچھلی کو دیکھ کر اس کی دم کو رسی سے باندھ کر کنارے پر لگا دیا، اور شام کو واپس آ کر مچھلی کو لے کر چلا گیا اور اسے بھون کر کھایا۔ جب اس کے ہمسائے اس سے پوچھنے آئے تو اس نے کہا کہ یہ تو محض ایک مچھلی کی کھال ہے جو اس نے بھون لی ہے۔ اگلے ہفتے اس نے یہی کام پھر کیا، اور دوسروں کو بھی بتا دیا، تو انہوں نے بھی اس کی تقلید شروع کر دی۔
بنی اسرائیل نے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے نت نئے حیلے ایجاد کئے۔ بعض نے جمعہ کے دن سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے گڑھے کھودے تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں ان گڑھوں میں جمع ہو جائیں اور پھر آسانی سے پکڑی جا سکیں۔ یہ کام عام ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے علانیہ مچھلی پکڑ کر بازار میں بیچنی شروع کر دیں۔ جب فاسقوں نے علانیہ اس طرح مچھلی پکڑنا شروع کیا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے انہیں روکا اور ڈرایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ نیک لوگوں نے ان سے الگ ہو کر ایک دیوار بنا لی اور ان کے ساتھ رہنا ترک کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کریں اور شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔"
(سورۃ الاعراف: 164)
چنانچہ یہ قوم تین گروہوں میں بٹ گئی؛ ایک وہ جو نافرمانی کرتے ہوئے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے لگے، ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ دوسرا گروہ ان کو روکنے والا تھا جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اور تیسرا گروہ وہ تھا جو نہ تو گناہ کرتے اور نہ روکتے تھے۔
پھر رات کو اللہ کا عذاب آیا اور فاسقوں کو سزا کے طور پر نوجوانوں کو بندر اور بوڑھی عورتوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ صبح جب نیک لوگ اپنے کاموں پر گئے تو فاسقوں کو وہاں موجود نہ پا کر حیران ہو گئے۔ جب انہوں نے دیوار پر چڑھ کر جھانکا تو دیکھا کہ فاسق بندر اور خنزیر بن گئے ہیں، اور آوازیں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے ان کے دروازے کھولے تو ہر بندر اپنے قریبی انسان کو دیکھ کر اس کے کپڑے سونگھتا اور روتا تھا۔
مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی ان کی نسل چلی۔ اس طرح ان کی موت ہو گئی اور وہ آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بن گئے۔
منقول
ہمارے اوپر جو حکم ہیں وہ بھی پڑھ لیجیے گا
30/10/2025
زندگی نے مجھے ایک سبق بہت دیر سے سکھایا۔ہر لڑائی لڑنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ہر بحث آپ کی عزت نہیں بڑھاتی، اور ہر شخص آپ کی توجہ کے قابل نہیں ہوتا۔
زندگی سے سیکھیے کہ کب خاموشی اختیار کرنا سب سے طاقتور فیصلہ ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کے فیصلے وقت پر چھوڑ دیں ۔ اپنی توانائیاں غلط لوگوں پر خرچ مت کریں..
04/09/2025
*ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*
"میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..
آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."
شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے..
بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .
اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا..
شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.
مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.
شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..
عورت نے جواب دیا..
"کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."
شیوانا نے مسکرا کر کہا..
"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟
اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے..
تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..
یہ بُت احمق نہیں ھے..
وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی
مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا..
کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..
دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے..
جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!
مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔
منقول
*دین اسلام کا ہر فرد اپنی جگہ قیمتی ہے*
یہ وہ دین ہے جو کبھی خالد بن ولیدؓ کی تلوار کا محتاج ہوا جب جنگیں شدت اختیار کر گئیں، اور کبھی حسان بن ثابتؓ کے اشعار کا محتاج ہوا جب فکری جنگیں چھڑ گئیں۔
خالدؓ حسانؓ کی جگہ نہیں لے سکتے تھے، اور حسانؓ خالدؓ کی جگہ نہیں لے سکتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک مورچے پر کھڑا کیا ہے، اور ہم پر فرض ہے کہ اس مورچے کی حفاظت کریں — نہ اُسے کمتر سمجھیں اور نہ ہی اپنے مورچے کو دوسروں سے برتر جانیں۔
غزوہ تبوک کے موقع پر عثمان بن عفانؓ کا مال اُبی بن کعبؓ کی قراءت سے زیادہ اہم تھا، لیکن قرآن کے جمع کیے جانے کے وقت اُبی بن کعبؓ کی قراءت، عثمانؓ کے مال، خالدؓ کی تلوار اور حسانؓ کے اشعار سے بڑھ کر اہمیت رکھتی تھی۔
لہٰذا جب تمہاری باری آئے، تو شیر بن جاؤ!
جس طرح خیبر کی جنگ میں علی بن ابی طالبؓ کی تلوار مرحب کو ختم کر سکتی تھی، لیکن وہ بلالؓ جیسے غلام کو آزاد نہیں کرا سکتی تھی — اور ابوبکرؓ کا مال بلالؓ کو آزادی دلا سکتا تھا، لیکن مرحب کو نہیں مٹا سکتا تھا۔
یہ دین مقابلہ نہیں، بلکہ تکمیل کا دین ہے۔ ہر فرد کی اپنی جگہ ہے۔
آج بھی یہی حال ہے — مختلف مورچے ہیں، اور ہم سب کسی نہ کسی مورچے پر ہیں۔
• ماں اپنے گھر میں مورچے پر ہے، کیونکہ مردوں کی تربیت ایک عظیم کام ہے۔
• استاد اپنی کلاس میں مورچے پر ہے، کیونکہ جاہل قوم کو قیادت نہیں دی جا سکتی، وہ صرف تابع بن سکتی ہے۔
• مجاہد اپنے مورچے پر ہے، جس کی جگہ امام مسجد نہیں لے سکتا۔
• امام مسجد اپنے مورچے پر ہے، جس کی جگہ تاجر نہیں لے سکتا۔
لیکن تاجر کا صدقہ، خیرات اور لوگوں کی مدد بھی مجاہد کے خون اور امام کے علم جتنا اہم ہے۔
دیکھو اللہ نے تمہیں کہاں کھڑا کیا ہے — وہی تمہارا مورچہ ہے۔ اسے سنبھالو، اس میں محنت کرو، اور جب ہر فرد اپنا کردار ادا کرے گا، تب یہ اُمت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گی۔
لہٰذا خود سے آغاز کرو — دوسروں سے توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارا کام کریں گے۔
12/04/2025
*فراڈ کال الرٹ*
آپ کو کسی موبائل فون سے کال آئے گی۔ اٹھاتے ہی ایک خاتون خودکار طریقے سے (آٹومیٹک) شروع ہوجائے گی کہ’’السلام علیکم، یہ کال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے کی جارہی ہے۔ آپ کے خلاف درج شکایت آپ پر ثابت ہوچکی ہے۔ اگلے دو گھنٹوں میں آپ کے نام پر رجسٹرڈ تمام سمز بند ہو جائیں گی۔ مزید تفصیلات کے لئے 9 دبائیں۔"
9 دبانے کے بعد فراڈیے لوگ آپ کے ایزی پیسا، جاز کیش یہاں تک کہ بنک اکاونٹ لوٹنے کی کوشش کریں گے۔ ایسی کال کسی کو موصول ہو، تو فورا کال کو بند کردیں۔
(یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، تاکہ لوگ فراڈیوں سے بچ سکیں۔)
صرف 80 لاکھ یہودیوں کو 2 ارب سے زائد مسلمان بدعائیں دے رہے ہیں میدان میں نکلنے کی کسی میں ہمت نہیں ہورہی .عرب تلواریں لہرا کر ۔ترکی ڈرامے بنا کر ۔ایرانی دھمکی لگا کر اور ہمارے حکمران ترانے لگا کر امت مسلمہ کی حفاظت کر رہے ہیں
05/04/2025
مولوی حضرات اور پاکستان کی تباہی
مولویوں نے تباہ کر دیا اس ملک کو کیا واقعی..؟؟؟
ایک تحقیق آپ بھی پڑھیے..
باہر ملک میں کچھ دانشور یوں فرماتے ہیں کہ :
"پاکستان کی تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار مولوی ہے.."
ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر میں نے ایک تحقیق کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا کہ..
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مدرسہ دیوبند سے مولوی فاضل ڈگری یافتہ تھے..
پہلے صدرِ پاکستان نے جامعہ ازہر سے دفاعی امور پر مفتی کا کورس کیا..
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم مدرسہ بریلی میں 8 سال پڑھے..
سول سروس اکیڈمی رائے ونڈ تبلیغی مرکز میں ہے..
الیکشن کمیشن، نیب اور پیمرا چیئرمین کے لئے درس نظامی یا مولوی فاضل کی شرط لازمی ھے..
نواز شریف، زرداری، گیلانی اور رحمن ملک کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن کی سند ھے..
ایوب، یحیی اور مشرف حافظ قرآن اور مولوی تھے..
پاکستان ملٹری اکیڈمی منصورہ لاہور میں واقع ہے..
پاکستان کے تمام پارلیمنٹیرنز کے پاس مدرسہ سے تعلیم کی 8 سالہ سند ہونا لازمی ہے..
پاکستان کے تمام صوبائی اور وفاقی وزراء مولوی فاضل ڈگری یافتہ ہیں جو ملک کے نامور مدارس کے فارغ التحصیل طلباء رہ چکے ہیں .اسی طرح ملک کے اکثر اداروں پر ان مدارس سے فارغ التحصیل لوگ قابض ہیں .
قومی اداروں مثلاً نادرا، ایف۔ آئی۔اے، واپڈا، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز کے ڈائریکٹرز ہمشہ سے مولوی ہی رہے..
ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود قحبہ خانے Brothels محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں..
تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے 8 ماہ فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ کرتے ہیں..
میڈیا ہاؤسسز کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کنٹرول کرتا ہے..
اور تو اور کرکٹ کی تباہی کے زمہ دار بھی مولوی اعجاز بٹ ، مولانا نجم سیٹھی چشتی اور حضرت علامہ مولانا شہر یار ہیں..
اور دیکھئے نا جب فارمولا کریم بھی ایک مہینے تک لگانے سے رنگ گورا نا ہو تو اس کا ذمہ دار بھی تو مولوی ہی ہوا نا.. آخر مولوی نے جمعہ کے واعظ میں کیوں نہیں بتایا کہ L'Oréal اور Olay کی نائٹ بیوٹی کریم فارمولا سے بہتر کام کرتی ہے..
بالکل صیح سوچا ماڈرن آنٹیوں لبرل بابوؤں نے…!
ذرا سوچنا چائیے کہ کن لوگوں کو ہم ذمہ دار ٹھہراتے ہیں آیا ان لوگوں نے ملک کو برباد کیا یا کسی اور نے . یہ مدارس والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اللّٰہ کو راضی کرنے اور اللّہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے وقف کی ہیں .
یا اللّٰہ ہمیں ہدایت فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفق عطا فرمادے .
05/04/2025
ہو سکتا ہے کے ہم سب اس خاموشی کا حصہ ہوں اور قیامت کے دن دوزخ ہمارا مقدر ہو میری سب دوستوں سے گزارش ہے مل کے آواز اٹھائیں ہو سکتا قیامت والے دن کچھ بچت ہو جائے
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے غزہ پٹی میں اتنی شدید ترین اور مسلسل بمباری کی، جس کے نتیجے میں 86 سے زائد فلسطینی شہید اور 280 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ جنگ کی سب سے ہولناک راتوں میں سے ایک تھی۔
فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس نے فیس بک پر لکھا:
"چند ہی گھنٹے باقی ہیں اور غزہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ تم ہمیں صرف جنت میں پاؤ گے۔ خداحافظ اُن سب سے جو تاریخ کے سب سے ظالم 'عرب' کہلائیں گے۔"
غزہ کی ایک فلسطینی لڑکی نے لکھا:
"ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور سب ختم ہو جائیں گے۔
اللہ اُس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا۔"
ایک فلسطینی شیخ نے کہا:
"میں نے ابھی اپنی بیٹی کو دفنایا ہے۔ بغیر سر کے۔"
پشیمانم پشیمانم پشیماں
یارسول اللّٰه صلى الله عليه وآلہ سلم 🥺🥺🥺🙏🙏🙏
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Gilgit