Learning & Growing

Learning & Growing

Share

learning starts from questioning

Photos from Learning & Growing's post 04/06/2026

سکردو روڈ کی خستہ حالت

سنا ہے کہ سکردو روڈ کے مختلف مقامات پر، جہاں ماضی میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ رہتا تھا، حفاظتی ٹنلز تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاکہ مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت میسر آ سکے۔ تاہم جب سڑک مکمل ہوئی تو کسی بھی مقام پر یہ ٹنلز نظر نہیں آئے۔ نتیجتاً آج بھی معمولی بارش اور ہوا سے پتھروں کے گرنے یا لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں سڑک گھنٹوں بلکہ بعض اوقات پورے دن کے لیے بند ہو جاتی ہے۔اور اب تک پتھر گرنے سے کئی اموات بھی ہوچکی ہیں۔
اس صورتحال سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سالانہ ہزاروں سیاح بھی متاثر ہوتے ہیں سیاح سکردو بوئنگ جہاز آنے کی وجہ سے پہلے سکردو ائیرپورٹ اور پھر گلگت کی طرف رخ کرتے ہیں اور گلگت سکردو روڈ سیاحت کے لیے بطور اہم شاہراہ استعمال کرتے ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ مقامات پر نہ مناسب واشروم اور رہائش کی سہولت موجود ہے، نہ ہی ہوٹل کا انتظام اور نہ موبائل نیٹ ورک کام کرتا ہے۔ ایسے میں مسافروں کو شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بلتستان کے الیکشن 2026 میں منتخب ہونیوالے سیاسی نمائندوں، متعلقہ اداروں اور شاہراہوں کی تعمیر و نگہداشت کے ذمہ دار حکام سے گزارش ہے کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے پر فوری توجہ دیں۔ خطرناک مقامات کی نشاندہی، حفاظتی ٹنلز کی تعمیر یا تکمیل، بروقت صفائی کے انتظامات اور ہنگامی رابطے کی سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام اور سیاح محفوظ سفر کر سکیں اور علاقے کی سیاحت و معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔

04/06/2026

عید غدیر مبارک

07/05/2026

عدلِ نجاشی، جب ایک عیسائی بادشاہ کی بصیرت اسلام کی ڈھال بن گئی جب کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کرگئے تھے۔
تحریر: دلیرشاہ

تاریخِ عالم میں ایسے لمحات کم ہی ملتے ہیں جب ایک مذہب کے پیروکاروں کو دوسرے مذہب کے حکمران نے نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کے دفاع میں اپنی سلطنت کو داؤ پر لگا دیا۔ ہجرتِ حبشہ کا یہ واقعہ محض ایک سفر نہیں بلکہ حق و صداقت کی وہ پکار تھی جس نے ایک منصف مزاج بادشاہ کے دل کی کایا پلٹ دی۔
اعلانِ نبوت کے پانچویں سال جب مکہ کی زمین مسلمانوں پر تنگ کر دی گئی، تو رحمتِ عالم ﷺ نے صحابہ کی بے بسی دیکھ کر ایک ایسی سمت اشارہ کیا جہاں انصاف کا سورج طلوع ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم حبشہ چلے جاؤ تو بہتر ہے، وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سرزمینِ صدق (سچائی کی زمین) ہے۔"
قریشِ مکہ نے مسلمانوں کا تعاقب کیا اور حبشہ پہنچ کر نجاشی کے درباریوں کو تحائف سے خرید لیا۔ عمرو بن العاص (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) اور عبداللہ بن ابی ربیعہ نے بھرپور کوشش کی کہ بادشاہ مسلمانوں کو سنے بغیر ہی نکال دے۔ لیکن اصحمہ نجاشی کی جبلت میں عدل تھا۔ اس نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
"خدا کی قسم! میں ان لوگوں کو جو میرے پاس پناہ لینے آئے ہیں، اس وقت تک حوالے نہیں کروں گا جب تک ان کا موقف نہ سن لوں۔"
سیدنا جعفر بن ابی طالب علیہ سلام جب دربار میں کھڑے ہوئے تو ان کے لہجے میں وہ اعتماد تھا جو صرف ایمان سے ملتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تصویر کشی کی جس نے حبشہ کے دربار کو ہلا کر رکھ دیا گو کہ حضرت جعفر طیار جو بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے نہ ہی جاہل تھے اور نہ ہی بت پرست ۔کعبہ میں سارے قبائل کے بت تھے لیکن بنو ہاشم کے بت نہیں تھے اور آپ نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا:

"اے بادشاہ! ہم جاہل تھے، بت پوجتے تھے، بدکاریاں کرتے تھے، اور کمزوروں کا حق مارتے تھے۔ پھر اللہ نے ہم میں ایک ایسا رسول بھیجا جس کی امانت اور پاکدامنی کی گواہی دشمن بھی دیتے ہیں۔"
نجاشی نے جب کلامِ الٰہی سننے کی خواہش کی، تو حضرت جعفر علیہ سلام نے سورۃ مریم کی تلاوت فرمائی۔جب وہ اس آیت پر پہنچے:
حضرت جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں القرآن کی سورۂ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائی :
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
كهيعص ۝
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا ۝ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا ۝قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا ۝
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔
کٰہٰیٰعٰص۔
یہ آپ کے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی۔جب انہوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا۔عرض کیا: اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے سے سفید ہوگیا ہے، اور اے میرے رب! میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر محروم نہیں رہا۔
اور حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں پڑھی جانے والی مشہور آیات:
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ۝فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۝
ترجمہ:“اور کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف ایک جگہ جا بیٹھی۔ پھر اس نے ان سے پردہ کر لیا، تو ہم نے اس کی طرف اپنی روح (فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا، اور وہ اس کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔”
جب حضرت عیسیٰؑ اور بی بی مریمؑ کا تذکرہ ہوا، تو دربار کا منظر بدل گیا۔ بادشاہ اس قدر رویا کہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔
نجاشی نے ایک لکڑی زمین پر ماری اور کہا: "خدا کی قسم! عیسیٰؑ اس لکڑی کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں تھے جو تم نے بیان کیا ہے۔ یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کے نور ہیں۔"
اگلے دن مکہ کے وفد نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدے کو بنیاد بنا کر دوبارہ اکسانے کی کوشش کی، مگر نجاشی نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قریش کے تحائف واپس کر دیے اور فرمایا:
"تمہارا سونا تمہیں مبارک ہو، میں اللہ کے نبی کے ساتھیوں کو کسی صورت حوالے نہیں کروں گا۔ تم لوگ میری سلطنت میں امن سے رہو، جو تمہیں ستائے گا وہ مجھ سے لڑے گا۔"
نجاشی کا عدل اسے اسلام کی آغوش تک لے آیا۔ یہ تاریخ کا وہ منفرد اعزاز ہے کہ جب 9 ہجری میں نجاشی کا انتقال ہوا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے مدینہ میں صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا:
"تمہارے ایک صالح بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔" یہ تاریخ میں کسی بھی بادشاہ کے لیے دیا گیا سب سے بڑا خراجِ تحسین تھا کہ زمین پر بسنے والے سب سے عظیم انسان نے اس کے لیے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔
داستانِ نجاشی ہمیں سکھاتی ہے کہ "انصاف" کسی مذہب کا پابند نہیں ہوتا۔ ایک غیر مسلم عادل بادشاہ اللہ کو اس ظالم مسلمان سے زیادہ عزیز ہے جو اپنے اقتدار کے لیے انسانیت کا خون کرتا ہے۔ حق ہمیشہ وہاں پناہ پاتا ہے جہاں عدل کی شمع روشن ہو۔

مراجع:
صحیح البخاری کتاب الجنائز
صحیح مسلم کتاب: الجنائز
مسند احمد بن حنبل
سیرت ابن اسحاق
سیرت ابن ہشام
الطبقات الکبریٰ لابن سعد




#داستان حق

01/05/2026

کہا جاتا ہے کہ خلیجی ممالک اور گرد و نواح میں بارشوں کو روکنے اور مصنوعی خشک سالی پیدا کرنے کے لئے HAARP ٹیکنالوجی بطور جنگی ہتھیار استعمال ہوئی تھی جو اس جنگ میں ڈسٹرب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ جاری چل پڑا ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے ؟ اسی HAARP ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا میں خشک برف کے چڑکاو سے مصنوعی برف باری اور بارش بھی برسائی جاسکتی ہے۔
احباب کا کیا خیال ہے؟

12/04/2026

امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے پر پہنچے ختم ہوگئے
🇮🇷 🇺🇸

05/04/2026

عوام صرف دو ہفتے پیٹرول ڈیزل استعمال نہ کریں بلکہ پیٹرول ڈیزل کا مکمل بائیکاٹ کریں پیدل چلیں غیر ضروری سفر نہ کریں اور دیکھیں پیٹرول اور ڈیزل 150 کا ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔

05/04/2026

مولا علی علیہ سلام نے دنیا اور دنیا کے لوگوں کے عروج و زوال کی بابت فرمایا:
"ایسا نہیں ہوتا کہ دنیا کے کسی آدمی پر عیش اور خوشحالی کی برسات زیادہ دیر تک برستی رہے اور پھر اس پر مصیبتوں اور تکلیفوں کی بارش کی بوچھاڑ نہ پڑے۔"

02/04/2026

ایک تلخ حقیقت !!!!
اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے اربوں ڈالر بطور امانت موجود ہیں، جبکہ ہمارے اپنے سیاستدان، بڑے تاجر اور بیوروکریسی اپنے اربوں کھربوں ڈالرز لندن، سوئٹزرلینڈ ، دبئی اور دیگر مغربی ممالک کے بینکوں میں محفوظ کیے بیٹھے ہیں۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔
آج جب تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، اور غریب و متوسط طبقہ بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے، ایسے میں حب الوطنی کا تقاضا صرف نعروں سے پورا نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات مانگتا ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جنگ کے بادل ہمارے سروں پر بھی منڈلا رہے ہیں، اور ایسے نازک وقت میں ہر صاحبِ حیثیت فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک کے ساتھ کھڑا ہو۔ملک کی خراب معاشی صورتحال ملک کی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔
اگر بیرونِ ملک بنکوں میں پڑے ہوئے ڈالرز کا صرف 50 فیصد بھی پاکستان کے بینکوں میں منتقل کر دیا جائے تو روپے کی قدر مستحکم ہو گی بلکہ نہ صرف ڈالر 50 روپے کا ہوگا اور تیل بھی 50 روپے فی لیٹر ہوجائے گا اسے مہنگائی میں بھی واضح کمی آ سکتی ہے۔ اور معیشت کو فوری سہارا ملے گا، اعتماد بحال ہوگا، اور ملک ایک بڑے مالی بحران سے بھی آسانی سے نکل سکتا ہے۔ یہ قدم صرف معیشت نہیں بلکہ قوم کے حوصلے کو بھی بلند اور مضبوط کرے گا۔
یاد رکھیں، آپ لوگوں نے یہ دولت اسی سرزمین سے کمائی ہے۔ آج ملک کے لئے مشکل وقت آیا ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ اس مٹی کا قرض اتارا جائے۔ اگر اس وقت بھی ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی تو آنے والی نسلیں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔ آئیں، مشکل کی اس گھڑی میں صرف باتیں نہیں بلکہ عملی قربانی دے کر ثابت کریں کہ ہم واقعی ہم سب اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔

31/03/2026

مشکل فیصلہ غریب کی سوکھی روٹی کو آدھا کرنا نہیں بلکہ امیر کے پراٹھے پے لگے گھی کی مقدار کو کم کرنا ہوتا ہے۔۔۔
منقول

26/03/2026

قوم کو عصبیت اور تکفیریت سے نکالنے کے لئے نصاب سے نفرت آمیز مواد، سوشل میڈیا سے نفرت آمیز تقاریر اور ماضی کے جنگجوں کے قصے کہانیاں نکال کے رومی کی مثنوی معنوی اور دیوان شمس، ابن عربی کی فصوص الحاکم اور فتوحات المکیہ جیسے تصوف کی کتابوں کو پڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ قوم فرقہ واریت کی عفریت سے نکل کر پہلے اچھے انسان بنے اور پھر انسانیت کا سبق سیکھ سکے اور دوسرے فرقے، مذہب اور دین کے بنی نوع انسان سے نفرت کی بجائے محبت شروع کرے

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Gilgit
15100