Bagarote Students Organisation, Gilgit
بگورو قوم کی نمائندہ طلبہ تنظیم،جو علاقائی اور قومی تعمیروترقی اور علمی بہتری کیلئے جدوجہد کر رہی ہے
01/05/2026
آج مورخہ 30 اپریل 2026 بمقام قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تنظیمی اراکین کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر تنظیم کی نئی عبوری کابینہ تشکیل دی گئی۔
:
- *چیئرمین*: یاسر
- *صدر*: سہلین عباس
- *نائب صدر*: ذیشان
- *جنرل سیکرٹری*: مقداد حسین
- *فنانس ہیڈ*: منصف
- *پروگرام آرگنائزر*: منیب حسین
- *میڈیا انچارج*: علی مظفر
تمام نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کے حقوق اور تنظیم کی بہتری کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
منجانب:
بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت
15/04/2026
بگروٹ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کا ایک اہم اجلاس سبزہ زار کے مقام پر منعقد ہوا جس میں تنظیم کے کابینہ ممبران، یونیورسٹی کے طلباء اور معزز سینئرز نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی میں طلباء کو درپیش مسائل اور ان کے عملی حل کے حوالے سے جامع گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ تنظیم کی موجودہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ الیکشن کے سلسلے میں حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت ہوئی ۔
# Studentsunity
26/12/2025
ریاست اور انتظامیہ
کی جانب سے گلگت بلتستان میں منظم سازش کے تحت یک طرفہ ٹریفک صرف اور صرف اس لئے چلائی جا رہی ہے تاکہ خطے میں مسلکی منافرت کی آگ کو بھڑکائی جا سکے۔ اور گلبر سرکار کے غلیظ دور میں معدنیات کے حوالے سے اپنے بیرونی آقاؤں کے ساتھ جو معاہدات کۓ ہیں ان پر بآسانی عمل درآمد کر سکے۔
اور ایک مخصوص فرقے کو اور اس فرقے سے متعلق چند اہم علاقوں کو دہشتگرد اور انتہا پسند دکھانے کی ریاستی اور انتظامی سطح پر باقاعدہ پوری پوری انویسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔
جسکا عملی ثبوت یہ ہے کہ ایک دہشتگردی کا واقعہ جسمیں سہولت کاری کے لئے "پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز" نے اپنے ہی ایجنٹوں کا استعمال کروڑوں روپے دے کے حلقہ 3 سے کیا۔ اور پورا کا پورا نزلہ اپنے ان سہولت کار ایجنٹوں کے بدولت حلقہ 3 پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ جسمیں "ڈائریکٹر اور پروڈیوسر" کو منہ کی کھانی پڑی۔ اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق کے تحت حلقہ 3 میں سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک جال بچھایا جا رہا ہے، گویا گلگت بلتستان کے سارے شرپسند اور دہشتگرد عناصر حلقہ 3 میں ہی رہتےہوں۔
ہم ریاست پاکستان ،حکومت گلگت بلتستان اور گلگت انتظامیہ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ حلقہ 3 گلگت کے ساتھ سوتیلی ماں کا یہ سلوک بند نہیں کیا گیا تو انشا اللہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہم خوب جانتے ہیں ۔
اور فی الفور یہ سی سی ٹی وی کیمروں ڈالا یہ ڈارمہ حلقہ 3 سے بند کرے۔۔لالو سر، چلاس، کے کے ایچ کاغان اور ناران سے ہمارے سینکڑوں جنازے آے ہیں وہاں آج تک کوئی اضافی احتیاطی تدبیر ان بنیادوں پر کیوں نہیں اٹھائی گئی ہیں ؟
کیا ریاست پاکستان ، حکومت گلگت بلتستان اور انتظامیہ کو ہمارے وہ سینکڑوں جنازے آج تک نظر نہیں آے؟
لہذا ہم ریاست ،حکومت اور انتظامیہ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ یک طرفہ ٹریفک چلانا بند کرے اور قانون اور انصاف کی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ بصورت دیگر اگر ایک پوری کمیونٹی ریاست، حکومت اور انتظامیہ کی ان یکطرفہ کاروائیوں کی وجہ سے نا امیدی کی طرف چلی گئی تو وہ مرحلہ پھر کسی کے بھی حق میں اچھا نہیں ہوگا۔
ماشاءاللہ صدر صاحب
صدر بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت کامریڈ میر بابر حسین کو رہائی مبارک ہو۔
14/12/2025
آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں
صدر بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن و وائس چیئرمین قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کامریڈ میر بابر حسین تین مہینوں کی جبری قید کاٹنے کے بعد باعزت طریقے سے رہا ہوگئے۔
کامریڈ میر بابر کا جرم فقط اتنا تھا کہ انہوں نے گلگلت بلتستان کے قومی شناخت کے ساتھ ساتھ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں غیر قانونی فیسوں میں اضافے کے خلاف اور بہترین تعلیمی سہولیات کے لیے ،عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی جبری گرفتاری کے خلاف اور گلگلت بلتستان کے قومی وسائل کی تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کرنا تھا۔
ہم گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور طلباء کو یہ باور کراتے ہیں کہ ہم قومی شناخت اور قومی خودمختاری کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔
18/11/2025
قراقرم یونیورسٹی کو کنٹرولڈ chaos کی ایک پالیسی کے تحت چلایا جاتا ہے۔
اگر خدانخواستہ یہاں واقعی طلبہ کو علم کی طرف لایا جائے اور ایک بہتر ماحول فراہم کیا جائے تو وہ گلگت بلتستان کے بارے میں مشکل اور تنقیدی سوالات اٹھائیں گے جو کہ ناقابل قبول ہے۔
یہاں ضروری سمجھا جاتا ہے کہ مسلکی، نسلی اور ہر طرح کے اختلافات کو زندہ رکھا جائے تاکہ طلبہ کی توجہ بٹے، اور سیکھنے کی ایک سنجیدہ فضا قائم نہ ہو سکے۔ یہی اصل پالیسی ہے۔
براہِ مہربانی اس بگاڑ کا الزام طلبہ پر مت ڈالیں۔
گلگت بلتستان کا معاشرہ تعلیم کو سماجی ترقی کا ذریعہ سمجھتا ہے، اسی لیے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی زمینیں تک بیچ دیتے ہیں۔ ہر طالب علم بہتر زندگی کے خواب کے ساتھ داخلہ لیتا ہے، مگر اسے جلد ہی احساس ہوتا ہے کہ پورا نظام ناانصافی پر کھڑا ہے—اور وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہی حالت اُن بے حد محنتی اساتذہ کی ہے جو ایک مقصد کے ساتھ یہاں آتے ہیں، لیکن جلد سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی لگن کا کوئی صلہ نہیں ملے گا، بلکہ بعض کو مثال بنا کر زندگی تنگ کی جاتی ہے۔
—چند دن پہلے مجھے KIU میں ایک لیکچرپر مدعو کیا گیا تھا
سننے کے لئے آنے والوں کی تعداد دیکھ کر میں حیران تھا۔ سب سے دلچسپ مرحلہ طلبا کے سوالات کا سیشن تھا۔ مجھ یوں لگا جیسے یہ طلبا صدیوں سے بولنے کے انتظار میں ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے طلبہ کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر کوئی اس یونیورسٹی میں ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ میری گفتگو تقریباً دو گھنٹے جاری رہی، اور زیادہ تر وقت طلبہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے۔ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں میرا کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا۔
براہِ مہربانی ان طلبہ کو بولنے دیں۔ ورنہ وہ خود ہی اظہار کے راستے تلاش کریں گے—کبھی سڑکیں بند کرکے اور کبھی آپس میں جھگڑ کر۔
قراقرم یونیورسٹی کے اصل دشمن کون لوگ ہیں ۔؟
میرے خیال میں اب تھوڑ اوپن ڈبیٹ ہونی چاے بہت ہوگیا ۔ان مزہبی انتہا پسند ٹولوں کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔
24/10/2025
سنو اور زرا غور سے پڑھو
بابر حسین جس کو کامریڈ میر بابر کے نام سے پکارا جاتا ہے جو تقریباً بچین سے ہی گلگت بلتستان کے مظلوم عوام کی آواز بنا ہوا ہے۔ یونیورسٹی کی زندگی میں میر بابر حسین نے طالب علموں کی معاشی معاشرتی اور سیاسی زندگی پر گہرا اثر پیدا کیا ہے ۔ میر بابر وہ ہے جس ہر ضرورت مند طالب علم کی معاشی طور پر ہر ممکن مدد کی ہے کے آئی یو (kiu) کے اندر فیسوں کے معاملہ میں میر بابر نے جتنی قربانیاں دی ہے شاید آج تک کسی نے اتنی بڑی قربانی نہیں دی ہوگی ۔ کے آئی یو میں نئے آنے والے طالب علموں کو علم ہونا چاہیے کہ آج آپ لوگوں کی فیس تھوڑی جو کم ہے تو میر بابر اور اس کے ساتھیوں کی بدولت ہے جس پوری یونیورسٹی میں احتجاج کر کے فیسوں کے معاملہ کو حل کیا جس کی بنا پر میر بابر کے اوپر کئی ایف آئی آر ہوئے۔ انشاء اللہ کے آئی یو یونیورسٹی کا ہر طالب علم میر بابر بن کر نکلے گا اور اپنے بھائی صدر میر بابر کی رہائی تک اس کا ساتھ دیگا اور اپنا حق ادا کرے گا۔ جلد سے جلد رہائی نہ ملنے کی صورت میں پورے گلگت بلتستان کے طالب علموں کا احتجاج ہوگا۔۔۔
میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے
صدر بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن و نائب چیئرمین قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میر بابر حسین کو فوری رہا کیا جائے۔
منجانب: بگروٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit