Haji Abdur Rasheed Offical

Haji Abdur Rasheed Offical

Share

politicial belog for offical info ibox

24/03/2026

آج تانگیر کے علاقے درکالی میں عبدالوحید عباسی نے اپنی پوری فیملی سمیت حاجی عبدالرشید کے ساتھ باضابطہ طور پر الحاق کر لیا۔ سابقہ وزیر اعلیٰ کی پالیسیوں اور کارکردگی سے مایوسی کے بعد انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ علاقے کی سیاست میں ایک مثبت اور خوش آئند اضافہ ہے۔
ہم عبدالوحید عباسی اور ان کے خاندان کے اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان شاء اللہ ہم ان کی توقعات اور امیدوں پر پورا اترنے کے لیے دن رات محنت کریں گے اور عوام کی خدمت کو اپنا اولین مقصد بنائیں گے۔
عباسی خاندان کی اس بھرپور حمایت سے نہ صرف ہمارے قافلے کو مزید تقویت ملے گی بلکہ تنگیر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہوگی۔ ان شاء اللہ آنے والا وقت کامیابیوں اور ترقی کا پیغام لے کر آئے گا۔

Photos from Haji Abdur Rasheed Offical's post 15/12/2025

امیدِ سحر سے روشن کل کی طرف✊✌️

19/11/2025

اگر اگلے ہفتے تک اگون کا پاور ہاؤس نہیں کھولا گیا تو عوام کے ساتھ مل کر شیخ کا پاور ہاؤس بھی بند کریں گے
تانگیر کے عوام اس وقت سخت سردی، شدید مشکلات اور بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بجلی کے بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات اور نااہلی نے لوگوں کو مزید اذیت میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف موسم سرما پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، دوسری طرف گھروں میں روشنی تک میسر نہیں یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
اگون پاور ہاؤس کئی دنوں سے بند پڑا ہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی مقامی لوگوں کے بار بار مطالبے کے باوجود نہ مرمت کا بندوبست ہو رہا ہے اور نہ ہی بجلی بحال کرنے کے کوئی سنجیدہ اقدامات سامنے آ رہے ہیں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
اب عوام نے فیصلہ کیا ہے
اگر حکومت نے اگلے ہفتے تک اگون پاور ہاؤس کو نہ کھولا، نہ ٹھیک کیا، اور نہ بجلی کی بحالی کے مؤثر اقدامات کیے
تو پھر عوام کے ساتھ مل کر شیخ کا پاور ہاؤس بھی بند کر دیا جائے گا کیونکہ جب عوام تک بجلی نہیں پہنچ رہی تو چند مخصوص افراد کے گھروں تک بجلی کیوں پہنچے؟ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔حکومت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی، غیر سنجیدہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور یاد رکھے کہ تنگیر کے عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
یہ وقت ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے، بجلی بحالی کو اولین ترجیح بنایا جائے اور سردیوں میں لوگوں کو مزید مشکلات میں نہ دھکیلا جائے۔
عوام اب متحد ہیں اور اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو عوام اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے

24/10/2025

گلگت بلتستان کے آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی حکومت کے آخری تین مہینوں میں حکومتی اختیارات منجمد (Freeze) کر دیے جاتے ہیں تاکہ حکومت اپنی مدت کے آخری دنوں میں عوامی مفاد کے نام پر کرپشن، ٹھیکوں کی بندربانٹ اور غیر قانونی بھرتیوں سے گریز کرے۔ مگر اس بار ایک خاص اور قابلِ تعریف قدم یہ اٹھایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے اختیارات حکومت کے آخری ایک مہینے میں منجمد کیے، جس سے کم از کم عوام کا خزانہ مزید لٹنے سے بچ گیا۔

یہ وہی خزانہ ہے جسے پچھلے تین چار سالوں سے موجودہ کرپٹ ٹولہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے لوٹتا رہا۔ عوام کے نام پر بننے والے ترقیاتی منصوبے، سڑکوں کے کام، صحت اور تعلیم کے فنڈز—سب کچھ کرپشن کی نذر کر دیا گیا۔ عوام کی فلاح کے لیے آنے والا ہر پیسہ چند مخصوص جیبوں میں چلا گیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج گلگت بلتستان جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال خطے کا خزانہ خالی پڑا ہے۔
لیکن اب جب کہ اختیارات منجمد ہو چکے ہیں، یہ کرپٹ ٹولہ ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود کچھ نہیں کر پا رہا۔ الیکشن کمیشن کا یہ قدم عوام کے مفاد میں ایک مثبت اور جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ اگر یہی پالیسی ہمیشہ سختی سے نافذ کی جائے تو آنے والی حکومتوں کو بھی معلوم ہوگا کہ عوامی خزانہ ذاتی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اگلے الیکشن میں ایسے لوگوں کو مسترد کریں جنہوں نے عوام کے اعتماد کے بدلے کرپشن کو فروغ دیا۔ گلگت بلتستان کو ایک صاف شفاف اور ایماندار قیادت کی ضرورت ہے جو عوامی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے

17/10/2025

اج تانگیر کے نوجوانوں کے درمیاں کچھ وقت گزارا لیکن بہت افسوس ہوا ایک سی ایم کے حلقے کے بچوں کے گرونڈ کے حالت کو دیکھ کر اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تانگر کے عوام نے جن کو منتخب کیا وہ عوام کے بچوں سے کتنا لگاؤ رکھتےہیں
انشاء اللہ میں تانگیر سے منتخب ہوا توتانگیر کے نوجوانوں کو تعلیم اور کھیل کے میدان میں بھرپور تعاون کرونگا
تانگیر کے نوجوانوں کی آواز بنوں گا!
تعلیم، کھیل اور ترقی ہر نوجوان کا حق ہے، اور ان شاء اللہ میں تانگیر میں ایک مثبت انقلاب برپا کر کے دکھاؤں گا۔
کرپشن، سفارش اور ناانصافی کی سیاست کا خاتمہ میرا مشن ہے۔
ہماری منزل ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت تانگیر ہی ہیں

Photos from Haji Abdur Rasheed Offical's post 22/08/2025

گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جو اپنی حسین وادیوں، برف پوش پہاڑوں، شفاف دریاؤں اور دلکش جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج یہ خوبصورت خطہ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے شدید اثرات کی زد میں ہے، اور یہاں کے ہزاروں لوگ اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہو کر بے گھر ہو رہے ہیں۔گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی تیزی سے پگھلنے، بے وقت بارشوں، لینڈ سلائیڈز، سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Floods - GLOFs) کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ان قدرتی آفات نے نہ صرف لوگوں کے گھر اور زمینیں چھین لی ہیں بلکہ زراعت، مال مویشی اور مقامی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔لیشیئرز کی کثرت: یہاں دنیا کے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں جو تیزی سے پگھل رہے ہیں۔نازک جغرافیائی ساخت: بلند پہاڑ، تنگ وادیاں اور ڈھلوانی زمین معمولی بارش یا زلزلے پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیتی ہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی و تعمیرات: قدرتی نظام کو نظرانداز کر کے دریا کنارے اور ڈھلوانی مقامات پر تعمیرات ماحولیاتی خطرات کو بڑھا دیتی ہیں۔جنگلات کی کمی: بے تحاشا درختوں کی کٹائی نے زمینی کٹاؤ (Soil Erosion) اور سیلابی ریلوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔عالمی ماحولیاتی تبدیلی: دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے سے گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ بڑےپیمانے پر شجرکاری کی جائے تاکہ زمین مضبوط ہو اور لینڈ سلائیڈنگ کم ہو۔محفوظ منصوبہ بندی: گھروں اور دیہات کی تعمیر ماہرین کی رہنمائی میں ایسے مقامات پر کی جائے جہاں خطرات کم ہوں۔مقامی آبادی کی تربیت: لوگوں کو ماحولیاتی خطرات اور ان سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جائیں۔جدید ٹیکنالوجی کا استعمال: سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی بروقت پیشگوئی کے لئے جدید سسٹمز لگائے جائیں۔متبادل روزگار: وہ لوگ جو زمین و کھیتی سے محروم ہو جائیں انہیں متبادل روزگار فراہم کیا جائے۔قانون سازی اور عمل درآمد: غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی نظام کو نقصان پہنچانے والے عوامل پر سختی سے پابندی عائد کی جائے۔
قومی اور عالمی تعاون: حکومت پاکستان اور عالمی ادارے مل کر اس خطے کے لئے ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے بنائیں۔
اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو گلگت بلتستان کے لاکھوں لوگ اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہو کر ماحولیاتی پناہ گزین (Climate Refugees) بن جائیں گے، اور اس کا اثر صرف اس خطے پر نہیں بلکہ پورے پاکستان پر پڑے گا کیونکہ یہاں کے دریاؤں سے پورے ملک کو پانی ملتا ہے۔
گلگت بلتستان صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ پاکستان کی ماحولیاتی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ قدرتی وسائل کے تحفظ، مقامی آبادی کی فلاح اور عالمی تعاون ہی اس خطے کو ماحولیاتی تباہی سے بچا سکتا ہے۔
CNN International
CNN
Geo News Urdu
ARY News Urdu
NASA Climate ChangeHamid Mir
Haji Abdur Rasheed

22/08/2025

Gilgit Baltistan

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


12
Gilgit
20001