My Hunza
My Hunza
A platform dedicated to the voice, heritage, and future of Hunza Valley. Culture • Development • People • Legacy
02/04/2026
30/04/2025
https://www.facebook.com/share/p/16f8qachFx/
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔فدا برچہ
یومِ مزدور — عزت کا دن یا منافقت کا جشن؟
ہر سال یکم مئی کو ہم بڑے فخر سے "یومِ مزدور" مناتے ہیں۔
ملک بھر میں چھٹیاں ہوتی ہیں، ٹی وی چینلز پر پروگرام چلتے ہیں، اور شہروں میں ہوٹلوں یا ایئر کنڈیشنر کانفرنس ہالز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش پوش افراد مزدوروں کے حقوق پر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں چائے، بسکٹ اور کیمرے تو ہوتے ہیں، مگر مزدور نہیں ہوتا۔ کیونکہ اصل مزدور تو اُس وقت بھی کسی فیکٹری میں مشین سے لڑ رہا ہوتا ہے، کسی سڑک پر پتھر توڑ رہا ہوتا ہے، یا ہوٹل میں برتن دھو رہا ہوتا ہے۔ اُس کے لیے نہ چھٹی ہے، نہ تقریب، نہ ہمدردی — بس محنت، پسینہ اور خاموشی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لغت میں "مزدور" کسی اور مخلوق کا نام ہے۔ ایک ایسی مخلوق جس کے لیے ایوانوں میں قانون بنتے ہیں، جس کے نام پر تقاریر کی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں وہ نہ ان تقریبات میں شامل ہوتا ہے، نہ ان قوانین سے مستفید۔ ہم جسے مزدور سمجھتے ہیں وہ تو بس زندگی کی چکی میں پسنے والا وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں میں چھالے ہیں، کمر جھکی ہوئی ہے، آنکھوں میں تھکن ہے، اور دل میں فقط ایک ہی خواہش — اپنے بچوں کے لیے روٹی، کپڑا اور تعلیم۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے مزدور کو صرف ایک مشین سمجھا ہے، اُس کی انسانیت، اُس کی عزت، اُس کے احساسات کو یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔ ہم نے اُس کی محنت سے فائدہ تو اٹھایا، مگر اُسے اُس کا حق، اُس کا وقار، اُس کی پہچان کبھی نہ دی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معاشرے کا سب سے زیادہ قابلِ عزت فرد مزدور ہی ہے، کیونکہ وہ بغیر کسی شکایت کے اپنے خون پسینے سے اس قوم کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔
مگر ہم نے اُسے کیا دیا؟ نہ تحفظ، نہ تعلیم، نہ صحت، نہ عزت۔ صرف ایک دن کا فریب، ایک دن کا جشن، جس میں ہم خود کو مہذب ثابت کرتے ہیں اور اُسے پھر باقی 364 دنوں کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سراسر دھوکہ ہے، منافقت ہے، اور اس قوم کی اخلاقی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یومِ مزدور منانا ہے تو ایئر کنڈیشنر ہالوں میں نہیں، مزدور کی زندگی میں بہتری لا کر منائیں۔ اُسے اُس کا حق دے کر، اُس کے بچوں کو اسکول بھیج کر، اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھ کر منائیں۔ ورنہ خدارا یہ تماشہ بند کریں، یہ تقریریں، یہ تصویریں، اور یہ دکھاوے — کیونکہ یہ سب اُس شخص کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو اس ملک کا اصل معمار ہے۔
گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹری میں خواتین کی محنت اور کردار کو سراہنا چاہئے، لیکن ان کی حفاظت اور عزت پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ دیر رات تک کام کروانا اور محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم نہ کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ ہوٹل مالکان، مقامی انتظامیہ، اور معاشرتی تنظیموں کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ خواتین کو محفوظ، عزت افزا اور حقوق پر مبنی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
Insan ke ikhlas (khaloos) ka asli imtihan tab hota hai jab woh apni kamyabi aur achhe dinon mein bhi un logon ko nahi bhoolta jo uske bure waqt mein uske saath the. Yeh woh log hote hain jinhone mushkil waqt mein madad ki, saath diya, aur himmat bandhai. Agar koi insaan apne achhe waqt mein bhi in sathiyon ka sath nahi chhorte, toh yeh uske sahi ma’no mein khalis hone ki nishani hai. Aise log asal mein wafadar aur shukarguzar hote hain, aur yahi asal insaniyat ki pehchan hai.
گلگت بلتستان میں بڑے بڑے ہوٹلوں کا قیام تیزی سے جاری ہے جس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ مل رہا بلکہ مرد خواتین کیلٸے روزگار کے مواقع میسر آرہے ہیں۔ ہوٹل مالکان سے گزارش یہ ہے کہ وہ ملازمین بالخصوص خواتین کا احترام کریں، کام کے لیے منصفانہ اور محفوظ ماحول فراہم کریں۔ حکومت ان ملازمین کے حقوق اور ان کے عزت نفس کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے قانون سازی کرے۔ صحافی حضرات بھی ان ملازمین کی پشت پناہی کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gilgit