Chitral Express
Chitral Express is the Chitral's Largest and eminent Online News Network. Send your pressers to [email protected] or WhatsApp at +923450990083
Chitral Express is the largest online Unicode newspaper in Chitral. It publishes news, analysis, and articles on a daily basis. The Chitral Express is the voice of public aspirations and believes that it is your fundamental right to be informed wherever you are. Therefore, the news is conveyed to readers and viewers through various platforms such as the internet, mobile, email, and television. All
30/07/2026
چترال (چترال ایکسپریس)لوئر چترال ٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول کے دسویں بیچ کا کورس کامیابی سے مکمل ہونے پر ڈی پی او آفس بلچ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال، ریشم جہانگیر نے کی۔
تقریب کے دوران ڈی پی او ریشم جہانگیر نے کورس مکمل کرنے والے تربیت یافتہ نوجوانوں میں ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
لوئر چترال ٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول کے دسویں بیچ کی فراغت؛ ڈی پی او آفس میں پروقار تقریب چترال (چترال ایکسپریس)لوئر چترال ٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول کے دسویں بیچ کا کورس کامیابی سے مکمل ہونے پر ڈی پی او آفس بلچ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب ...
30/07/2026
قومیں صرف آبادیوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں؛ قومیں اپنے اجتماعی شعور، ترجیحات اور ردِعمل سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید چھین لے، بجلی کے بل گھر کا سکون برباد کردیں، بے روزگاری نوجوانوں کے خوابوں کو مایوسی میں بدل دے اور کرپشن انصاف کے راستے میں دیوار بن جائے، تو ایک باشعور معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ وہ سوال کرے، آواز اٹھائے اور اپنے حق کے لیے پُرامن جمہوری جدوجہد کرے۔
اسی تناظر میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے 7 اگست 2026ء کے احتجاج کو محض ایک سیاسی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ یہ احتجاج ان مسائل کے خلاف آواز ہے جن کا براہِ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے۔ پٹرولیم لیوی، مہنگائی، ٹیکسوں، لوڈشیڈنگ اور معاشی پالیسیوں پر جماعتِ اسلامی نے اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج درست ہے؟
اگر احتجاج پُرامن، آئینی اور جمہوری حدود میں ہو تو اس کا حق کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ یہ شہری آزادی کا حصہ ہے۔ حکمرانوں سے سوال کرنا، اپنے مطالبات پیش کرنا اور عوامی مسائل پر اجتماعی آواز بلند کرنا جمہوریت کی روح ہے۔ البتہ احتجاج کی کامیابی صرف ہجوم کی تعداد سے نہیں، اس کے نظم، اخلاقی قوت اور مطالبات کی سنجیدگی سے بھی متعین ہوتی ہے۔
جماعتِ اسلامی پہلی بار احتجاج کے میدان میں نہیں اتری۔
اس جماعت کی سیاسی تاریخ میں احتجاج، دھرنے، عوامی رابطہ اور مختلف قومی و عالمی مسائل پر آواز اٹھانے کی ایک مستقل روایت ملتی ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے مسائل ہوں، کرپشن کے خلاف آواز ہو، عوامی حقوق کا معاملہ ہو یا فلسطین جیسے عالمی انسانی بحران کا سوال، جماعتِ اسلامی نے مختلف مواقع پر احتجاجی سیاست کو اپنا ذریعہ بنایا ہے۔
اس جدوجہد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سیاسی طریقۂ کار پر تنقید بھی ہوسکتی ہے۔ انتخابی سیاست میں اس کی کارکردگی پر بحث بھی ہونی چاہیے۔ لیکن ایک بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جماعتِ اسلامی نے اپنی سیاست کو صرف انتخابی موسم تک محدود نہیں رکھا۔
یہی اس بحث کا اہم پہلو ہے۔
ووٹ اور اقتدار کی خواہش ہر سیاسی جماعت کے لیے فطری سیاسی مقصد ہوسکتی ہے، لیکن جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ مختلف عوامی اور انسانی مسائل پر انتخابی مفاد سے ہٹ کر بھی میدان میں دکھائی دیتے ہیں۔ وقت، توانائی، وسائل اور صلاحیتیں صرف کرنا کسی بھی سیاسی جدوجہد کی قیمت ہوتی ہے۔
مگر اس سے بھی بڑا سوال ہمارے معاشرے کے سامنے کھڑا ہے۔
ہم بحیثیت قوم کس چیز کے لیے بیدار ہوتے ہیں؟
کرکٹ کا میچ ہو تو شائقین گھنٹوں پہلے میدان پہنچ جاتے ہیں۔ پولو ہو تو گراؤنڈ کے گرد ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ سرکس، تفریحی میلہ یا کوئی بڑا پروگرام ہو تو ٹکٹ، وقت اور سفر کی مشکلات بھی لوگوں کو نہیں روکتیں۔ کھیل اور تفریح یقیناً زندگی کا حصہ ہیں؛ قوم کو خوشی، کھیل اور تفریح کا حق حاصل ہے۔
مگر المیہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں تفریح ہماری ترجیح بن جائے اور اپنے حقوق ہماری ترجیح نہ رہیں۔
چند ماہ قبل چترال میں میری موجودگی کے دوران ایک منظر نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور کیا۔ بازار پل کے مقام پر چند افراد کرپشن اور عوامی مسائل کے خلاف دو دن سے احتجاجی دھرنے میں بیٹھے تھے۔ مساجد کے ذریعے لوگوں تک اطلاع پہنچائی گئی، سوشل میڈیا پر پیغامات جاری ہوئے، بینرز لگائے گئے اور عوام کو شرکت کی دعوت دی گئی۔
مگر بہت سے لوگ احتجاج سے بے اعتنائی کا اظہار کرتے ہوئے گزر رہے تھے۔
پھر پولو میچ کا وقت آیا تو منظر یکسر بدل گیا۔ لوگ جوق در جوق گراؤنڈ کی طرف روانہ ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ میچ چار بجے شروع ہونا ہے، مگر شائقین ڈیڑھ بجے ہی وہاں پہنچ رہے تھے۔
یہ واقعہ پولو کے خلاف نہیں تھا۔ یہ ہماری قومی ترجیحات کا آئینہ تھا۔
اور یہی منظر صرف پولو تک محدود نہیں۔ کرکٹ کے میدان، سرکس کے خیمے، تفریحی میلوں اور دوسرے پروگراموں میں بھی ہماری اجتماعی شرکت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ ہم تماشے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے مستقبل کے لیے وقت نکالنے سے گریز کرتے ہیں۔
ہم بجلی کے بل پر گھر میں غصہ کرتے ہیں، مگر اس مسئلے کے خلاف منظم آواز اٹھانے والے سے دور رہتے ہیں۔
ہم کرپشن کو برا کہتے ہیں، مگر کرپشن کے خلاف کھڑے ہونے والے کو ’’سیاسی‘‘ کہہ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔
ہم مہنگائی کی شکایت کرتے ہیں، مگر اس کے خلاف آواز اٹھانے کو سیاسی مفاد قرار دے کر خود کو الگ کرلیتے ہیں۔
یہی تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
کیا ہم صرف شکایت کرنے والی قوم بن چکے ہیں؟
اگر عوام اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھر حکمرانوں پر جواب دہی کا دباؤ کہاں سے آئے گا؟
یہاں جماعتِ اسلامی کی جدوجہد ایک اہم مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جس مسئلے کو اٹھا رہی ہے، وہ مسئلہ حقیقی ہے یا نہیں۔ اگر مسئلہ حقیقی ہے تو پھر بحث مطالبے کے حل پر ہونی چاہیے، نہ کہ صرف اس جماعت کے نام پر جو اسے اٹھا رہی ہے۔
یہی جمہوری بلوغت ہے۔
حکومت کو بھی احتجاج کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر مطالبات غلط ہیں تو اعداد و شمار اور دلیل کے ساتھ جواب دیا جائے؛ اگر جائز ہیں تو عملی اقدامات کیے جائیں۔ خاموشی، تاخیر اور نظرانداز کرنے سے عوامی بے چینی کم نہیں ہوتی، بڑھتی ہے۔
اسی طرح احتجاج کرنے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ احتجاج پُرامن رہے، قانون کا احترام کیا جائے اور عام شہریوں کی مشکلات کو کم سے کم رکھا جائے۔ سڑک بند کرنا مقصد نہیں؛ بند دروازے کھلوانا مقصد ہونا چاہیے۔
اور عوام کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔
ہمیں ہر سیاسی جماعت کا اندھا پیروکار بننے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے مسائل کو پہچانیں، مطالبات کو سمجھیں، درست اور غلط میں فرق کریں اور جہاں حق کی بات ہو وہاں آواز بلند کرنے سے نہ گھبرائیں۔
جماعتِ اسلامی سے اختلاف کیجیے، مگر اس کی جدوجہد کو سنے بغیر مسترد نہ کیجیے۔
حکومت سے سوال کیجیے، مگر سوال دلیل کے ساتھ۔
احتجاج کیجیے، مگر امن اور قانون کے دائرے میں۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج کیا کر رہے ہیں؟
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ یہ مسلسل احتساب، سوال، اختلاف، اظہار اور شہری شرکت کا نام ہے۔ اگر عوام صرف انتخابات کے دن بیدار ہوں اور باقی پانچ سال خاموش تماشائی بنے رہیں تو پھر جمہوریت کا حقیقی مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
کرکٹ دیکھیں، پولو کھیلیں، سرکس دیکھیں، تفریح کریں؛ ضرور کریں۔ مگر اپنے حقوق کو تماشا نہ بننے دیں۔
اگر آج کسی دوسرے کی محرومی ہمیں بے چین نہیں کرتی تو کل ہماری اپنی محرومی شاید کسی دوسرے کو بے چین نہ کرے۔
قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی؛ عوام کے شعور، کردار اور اجتماعی ردِعمل سے بھی لکھی جاتی ہے۔
اس لیے سوال صرف جماعتِ اسلامی سے نہیں، ہم سب سے ہے:
کیا ہم اپنے مسائل کے تماشائی رہیں گے، یا اپنے مستقبل کے ذمہ دار شہری بنیں گے؟
آج ضرورت کسی جماعت کی اندھی حمایت کی نہیں؛ ضرورت حق اور باطل، درست اور غلط، عوامی مفاد اور سیاسی مفاد کے درمیان فرق کرنے والے شعور کی ہے۔
اور اگر جماعتِ اسلامی کسی عوامی مسئلے پر آواز اٹھاتی ہے تو اسے سیاسی تعصب سے بالاتر ہوکر سننا چاہیے۔ ممکن ہے ہر بات درست نہ ہو، مگر ممکن ہے اس آواز میں ہمارے اپنے کسی دکھ کی بازگشت ضرور موجود ہو۔
قومیں تماشائی بن کر تاریخ نہیں بناتیں؛ قومیں اس وقت تاریخ بناتی ہیں جب وہ اپنے حق، اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے لیے بیدار ہوجاتی ہیں۔
(چترال ایکسپریس)
30/07/2026
بوہتولی، لوئر چترال کے محمد اکبر کی ایف پی ایس سی کے تین تحریری امتحانات میں شاندار کامیابی
چترال: آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ کے فزکس کے لیکچرر محمد اکبر، جن کا تعلق بوہتولی، لوئر چترال سے ہے، نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے تین مختلف آسامیوں کے تحریری امتحانات میں کامیابی حاصل کی.
ان کی یہ کامیابی ان کی علمی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح مظہر ہے۔
ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق محمد اکبر نے درج ذیل امتحانات میں کامیابی حاصل کی:
- لیکچرر فزکس (BS-17)، جونیئر نیول اکیڈمی / PN کیڈٹ کالج، اورماڑہ، وزارتِ دفاع کے تحریری امتحان میں ملک بھر میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔
سینئر ایلیمنٹری ٹیچر (فزکس) (BS-16)، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
وائس پرنسپل (مرد) (BS-18)، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحریری امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی۔
اساتذہ، طلبہ، اور اہلِ علاقہ نے محمد اکبر کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل اور مزید کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
چترال (چترال ایکسپریس) تحریری معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف ریشن پاور کمیٹی نے 31 جولائی سے چترال۔شندور روڈ غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں ریشن پاور کمیٹی کے زیر اہتمام ایک بڑا عوامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سو سے زائد مقامی افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں 31 جولائی کے احتجاجی جلسے اور آئندہ کے ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
29/07/2026
چترال (چترال ایکسپریس)چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے صدر اشفاق علی خان کی قیادت میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال سے اہم ملاقات کی، جس میں ضلع میں معدنیات کے شعبے کو درپیش مسائل بالخصوص ورکنگ این او سی اور دھماکہ خیز مواد کے اجازت نامے (EL-4) کے اجراء پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وفد میں نائب صدر آفتاب محمد ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
چترال: مائن اونرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ڈی پی او سے ملاقات، معدنیات کے شعبے کے مسائل پر گفتگو چترال (چترال ایکسپریس)چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے صدر اشفاق علی خان کی قیادت میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال سے اہم ملاقات کی، جس میں ضلع م...
چترال (چترال ایکسپریس)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت ڈی پی او آفس بلچ میں ہفتہ وار "آردرلی روم" کا انعقاد کیا گیا، جس میں فورس کے جائز مسائل کے حل اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
آردرلی روم کے دوران مختلف پولیس افسران اور اہلکاروں نے اپنے محکمانہ ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
29/07/2026
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت اور عظیم امانت ہے۔ اسلام انسان کو نہ صرف اپنی جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے بلکہ ہر ایسے عمل سے بھی روکتا ہے جو اس کی جان، عزت اور وقار کو نقصان پہنچائے۔ افسوس کہ آج کے دور میں ذہنی دباؤ، مایوسی، معاشی مشکلات، خاندانی مسائل اور تنہائی کے باعث خود کشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
*خود کشی ایک عظیم گناہ، ایک سنگین انسانی المیہ اور اسلام کی روشن تعلیمات*۔۔تحریر: ابوسلمان محمد قاسم زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت اور عظیم امانت ہے۔ اسلام انسان کو نہ صرف اپنی جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے بلکہ ہر ایسے عمل سے بھی روکتا ہے جو اس کی جان، ع....
28/07/2026
چترال (چترال ایکسپریس)ریجنل پولیس آفیسرز (آر پی او) ملاکنڈ ریجن، سید فدا حسن شاہ (پی ایس پی) نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے تحت ملنے والے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملاکنڈ ریجن میں متعدد پولیس افسران کے فوری طور پر تبادلوں اور تعیناتیوں کا حکم جاری کر دیا ہے۔
آن لائن نوٹیفکیشن کے مطابق لوئر چترال اور شانگلہ کے پولیس ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
ملاکنڈ ریجن میں پولیس افسران کے تبادلے، آر پی او سید فدا حسن شاہ نے اعلامیہ جاری کر دیا چترال (چترال ایکسپریس)ریجنل پولیس آفیسرز (آر پی او) ملاکنڈ ریجن، سید فدا حسن شاہ (پی ایس پی) نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے تحت ملنے والے اختیارات کا استعمال کرتے ہ...
28/07/2026
مختار علی خان کی فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں نمایاں کامیابی
اپر چترال کے علاقے بونی سے تعلق رکھنے والے مختار علی خان نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے ذریعے منعقدہ پرنسپل (BS-19) کے تحریری امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک بھر کے امیدواروں کی میرٹ لسٹ میں دسویں جبکہ خیبر پختونخوا کی سطح پر دوسرے نمبر پر جگہ حاصل کی ہے۔ یہ امتحان وفاقی نظامتِ تعلیم (Federal Directorate of Education)، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت منعقد کیا گیا۔
مختار علی خان اس وقت آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان چترال کے AKU-EB Affiliated Schools Support Unit میں کریکولم سپورٹ اسپشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس حیثیت سے وہ چترال اور گلگت بلتستان کے اے کے یو ای بی سے منسلک اسکولوں میں نصابی معاونت، تدریسی معیار کی بہتری، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ، کلاس روم سپورٹ، امتحانی نظام کی مضبوطی اور تعلیمی قیادت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت، علمی صلاحیت اور پیشہ ورانہ وابستگی کا مظہر ہے بلکہ چترال کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی قومی سطح پر تعلیم کے شعبے میں اپنی خدمات کے ذریعے مزید کامیابیاں سمیٹتے رہیں گے۔
انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں بچپن کا زمانہ اہم مانا جاتا ہے، جس میں انسانی عادات و اطوار کی ابتدا ہوتی ہے اور پھر ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ اس نشوونما کے ساتھ جذبات اور احساسات بھی پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ان تمام کی نشوونما صحیح طور پر کی جائے تو متوازن شخصیت پھلتی پھولتی ہے، لیکن ایسی نشوونما میں والدین کی تعلیم و تربیت کو کافی ------------------------------------
مزید تفصیلات اس خبر میں 👇👇👇
موبائل فون پر ہماری خبریں مزید دلچسپ انداز میں پڑھنے کے لیے ہماری نئی اینڈرائیڈ اپ ڈاؤن لوڈ کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=co.median.android.qdpajla
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Qashqar Center, School Road Muldeh
Chitral
17200