KHESR.
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from KHESR., Legal Service, Bamboret Valley, Chitral.
The Aims and Objectives of the organization is to work for the Health,Education and Rights of kalash, and to provide correct informations about kalash rituals, about which people who are non kalash provinding and spreading wrongful notions. The aims and objectives of the page is to work for Health,Education and for the rights of the Indigenous people of The Kalasha Valleys Birir(Birew)Bamborate(Mu
فخرِ چترال، لکشن بی بی
کیلاش وادی کی وہ بیٹی جس نے آسمان بھی دیکھا، کتاب بھی لکھی اور اپنی قوم کی آواز بھی بنی
چترال کی پہچان صرف اس کے بلند پہاڑ، خوبصورت وادیاں اور قدرتی حسن نہیں، بلکہ یہاں کے وہ لوگ بھی ہیں جو خاموشی سے اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ شہرت کے لیے کام نہیں کرتے، وہ صرف اپنے حصے کی روشنی جلاتے ہیں، اور پھر وقت خود گواہی دیتا ہے کہ ان کا سفر عام نہیں تھا۔
لکشن بی بی بھی چترال کی ایسی ہی قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ کیلاش وادی سے تعلق رکھنے والی یہ باہمت خاتون صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک مکمل کہانی ہیں؛ ایک ایسی کہانی جس میں تعلیم ہے، حوصلہ ہے، شناخت کی تلاش ہے، اپنی تہذیب سے محبت ہے، اور اپنی کمیونٹی کے لیے کھڑے ہونے کا جذبہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ لکشن بی بی کیلاش کمیونٹی کی پہلی کمرشل پائلٹ رہیں۔ ایک دور دراز پہاڑی وادی سے نکل کر پائلٹ بننا خود ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ چترال کی بیٹیوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ خواب اگر بڑے ہوں، نیت صاف ہو اور حوصلہ قائم رہے تو راستے پہاڑوں سے بھی نکل آتے ہیں۔
لیکن لکشن بی بی کی اصل خوبصورتی صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے آسمانوں تک پہنچنے کا خواب دیکھا، بلکہ اس بات میں ہے کہ انہوں نے اپنی کامیابی کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنی کمیونٹی، اپنی شناخت اور اپنی ثقافت کے لیے آواز اٹھانے کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔
کیلاش کمیونٹی دنیا کی منفرد، قدیم اور رنگین ثقافتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس ثقافت کے لباس، رسم و رواج، زبان، تہوار، طرزِ زندگی اور اجتماعی شناخت میں ایک الگ حسن ہے۔ مگر بدلتے وقت، غلط فہمیوں، کمزور وسائل، تعلیمی مسائل اور ثقافتی دباؤ کے باعث یہ شناخت کئی چیلنجز سے بھی گزرتی رہی ہے۔ ایسے حالات میں لکشن بی بی جیسی شخصیت کا سامنے آنا صرف کیلاش کمیونٹی کے لیے نہیں بلکہ پورے چترال کے لیے فخر کی بات ہے۔
لکشن بی بی نے کیلاش ثقافت کو صرف روایت کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے ایک زندہ شناخت سمجھا۔ انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اگر اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنی رسومات اور اپنی کہانی کو خود بیان نہ کیا جائے تو دنیا اکثر دوسروں کی نظر سے ہمیں دیکھتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے “Kalasha: What I Know” کے نام سے کتاب لکھی، جس میں کیلاش کمیونٹی کی تاریخ، ثقافت، رسومات، عقائد، چیلنجز اور اصل تصویر کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی۔
یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ اپنی قوم کی کہانی لکھنا صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل، درد، مشاہدہ اور ذمہ داری کا کام ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کسی کمیونٹی کے بارے میں باہر کی دنیا میں بہت سی غلط فہمیاں موجود ہوں، تو اپنی آواز میں اپنی شناخت بیان کرنا ایک بڑی خدمت بن جاتی ہے۔
لکشن بی بی کا سفر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تعلیم انسان کو صرف نوکری یا ڈگری نہیں دیتی، بلکہ انسان کو اپنی جڑوں کو سمجھنے، اپنی قوم کے مسائل کو محسوس کرنے اور اپنی کمیونٹی کے لیے بہتر راستہ تلاش کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم، تجربے اور عالمی exposure کو اپنی کمیونٹی کی بہتری کے لیے استعمال کیا، یہی کسی بھی کامیاب انسان کی اصل پہچان ہے۔
حالیہ عرصے میں لکشن بی بی کا نام اس وقت بھی نمایاں ہوا جب چترال اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ہزاروں کتابوں کے عطیے کی خبر سامنے آئی۔ کتاب کسی بچے کے ہاتھ میں صرف کاغذ نہیں ہوتی، وہ سوچ کا دروازہ ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب بچے کو سوال کرنا سکھاتی ہے، دنیا کو سمجھنا سکھاتی ہے، اور کبھی کبھی کسی خاموش بچے کے اندر چھپا ہوا اعتماد بھی جگا دیتی ہے۔
چترال جیسے دور دراز علاقے میں جہاں بہت سے بچوں کو معیاری تعلیمی مواد، لائبریریوں، رہنمائی اور exposure کی کمی کا سامنا رہتا ہے، وہاں کتابوں کا عطیہ ایک معمولی عمل نہیں بلکہ علم کے راستے میں ایک مثبت قدم ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر علم، مطالعہ اور شعور کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
لکشن بی بی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے کیلاش کمیونٹی کی خود اعتمادی، ثقافتی وقار اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کیا۔ کسی بھی قوم کے لیے اپنی پہچان پر فخر کرنا بہت ضروری ہے۔ جب ایک بچہ اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنی ثقافت سے شرمندہ نہیں بلکہ باخبر اور پُراعتماد ہوتا ہے، تو وہ معاشرے میں زیادہ مضبوط کردار ادا کرتا ہے۔
چترال کی بیٹیوں کے لیے لکشن بی بی کا سفر ایک واضح پیغام ہے:
اپنے خوابوں سے خوفزدہ نہ ہوں، اپنی جڑوں سے دور نہ ہوں، اور اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں۔ اگر اللہ نے آپ کو علم، موقع، آواز یا صلاحیت دی ہے تو اسے دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بنائیں۔
چترال کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہر نوجوان کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف حوصلہ افزائی، رہنمائی، مواقع اور مسلسل سپورٹ کی ہے۔ اگر ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم، کتاب، ہنر، اعتماد اور درست رہنمائی ملے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے چترال کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
لکشن بی بی کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ فخر صرف بڑے عہدوں سے نہیں ملتا، بلکہ فخر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے لوگوں، اپنی تہذیب اور اپنی زمین کے لیے کچھ اچھا چھوڑ کر جائے۔ آسمان تک پہنچنا بڑی بات ہے، مگر اپنے لوگوں کے لیے زمین پر روشنی چھوڑنا اس سے بھی بڑی بات ہے۔
ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم لکشن بی بی کو ان کی تعلیمی، ثقافتی اور سماجی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، ہمت، کامیابی اور مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ چترال کی بیٹیوں، کیلاش کمیونٹی، نوجوانوں اور علم و ثقافت سے محبت رکھنے والوں کے لیے حوصلے کی علامت بنی رہیں۔
آپ کے خیال میں چترال کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ کتابیں، لائبریریاں، scholarships، skills training، career guidance یا اپنی ثقافت اور زبان سے جڑی تعلیم؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
Pakistan news, latest news, breaking news, KPK news, Chitral news, Lakshan Bibi, Kalash Valley, Kalasha culture, Chitrali women, Chitral education, Kalasha community, books donation Chitral, Chitral youth, Upper Chitral, cultural heritage Pakistan, women empowerment Chitral
Disclaimer: This post is shared for informational and news reporting purposes only. We do not support, oppose, promote, or endorse any person, organization, opinion, action, or event mentioned. The content is shared in the public interest and follows community guidelines.
06/06/2026
06/06/2026
جناب فیض گنجور ڈپٹی کمشنر صاحب لوئر چترال۔
آن جباب کے حضور میں زیل مضموں سے درخواست اہلیان کلاش وادی گزاری جاتی ہے۔ درخواست کا۔متن یہ ہے۔
درخواست بمراد وادی کلاش بمبوریت، رومبور اور برہر کے مال مویشیوں کو چراگاہ لیے جانے کے لیے این او سی کی اجازت درخواست کا مقصد ہے۔!!
جناب والا !
انتہائی آداب کے ساتھ موبانہ گزارش آن جناب کے حدمت میں گزاری جاتی ہے۔
1یہ کہ جناب تینوں وادیوں کے زندگی، رہن سہن ، کلاش اور
کلاش مذہب سے جوڑے ہوئے رواج ، ثقافت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
2 یہ کہ جیسا کہ صدیوں سے کلاش وادیوں کالاش آباد ہیں۔ انکی زندگی اور انکے بقا ہی مال مویشی پالنا اور یہ ہی مال مویشیان ہی کلاش مذہب اور ثقافت کو زندگی بخشتی ہیں۔
3 یہ وادی کلاش میں تھوڑی بہت زرعی کھیت جس میں جوار کے علاوہ دوسرا فضل کا بالکل ممکن نہیں ہے اگر ہے بھی تو وہ نہ ہونے برابر ہے۔4
4 یہ کہ غریب لوگ ہیں اپنے چھوٹے بڑے کھیتوں جوار کاشت کرتے ہیں۔ اور مال مویشیوں کو چراگاوں میں لے جاتے ہیں مال مویشیاں اب وادیوں کے لوئر حصوں میں رکھنا ناممکن ہے۔ لوگ چراگاہ اپر لے جاتے ہیں۔ اگر چراگاوں میں نہ لے جائینگے تو مال مویشی لوگوں زیر کاشت زمینات جس میں جوار کی فصل ہوتی ہے۔ وہ انکا پورا سال کا زریع ہوتے ہیں۔۔
یہ فصل جات جب پک جائینگے تو چراگاہوں سے مال مویشی نیچے لائے جاتے ہیں۔ جو کہ آکتوبر کا مہنہ ہوتا ہے۔ یہ مہنہ جوں چرگاہوں میں مویشیاں جانے وقت ہے۔
5 یہ عوام اپنے مال مویشیوں کو چراگاہ لے جانا چاہیے ہیں پر لوگوں کو نہیں لے جانے دیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسلہ ہر سال وادی کلاش کے پرامن لوگ اس صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں۔
6 پیچھلے سال بھی ایسے ہی صورت حال رہا اور اس سے کئی سال پہلے بھی تو ہم نے یہ ایشو ضلعی انتظام سے اٹھائے تھے کہ کلاش وادیوں کے لوگوں کو آئیندہ ایسے پریشانی نہ سہنے پڑے۔
7 یہ کہ اس سال پھر یہ ایشو عوام کلاش وادہوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگ پہلے سے مبہگائی کی وجہ پریشان ہیں جیبوں میں پیسہ نہیں ہیں ہر فرد چترال آ جا نہیں سکتے۔
8 یہ پچھلے سال کا درخواست بھی جو ہم گزاری تھی درخواست ھذا کے ساتھ لف کیجاتی ہے۔
9 یہ کہ جناب والا اس صورت حال درخواست کی ضرورت لاحق ہوئی اور درخواست ھذا گزاری جاتی ہے۔ جناب والا یوں آن جناب نے ہر لحاظ سے سائلیں کے لیے اسانیاں پیدا کیا ہے۔ دادرسی ہمیشہ آن جناب کی اصول ہائی رہی ہے۔
10 آن جناب کی بڑاہی اور عہدہ کی شان میں تو گستخی نہیں ہوگی کہ میں آن لائن بزرائع سوشل پلیٹ فارم جناب والا کو یہ درخواست عرض کروں معافی چاہتا ہوں تمام وادی کلاش کے عوام کی طرف سے۔
اندریں حالات اسدعا کیجاتی ہے کہ درخواست پر جلدی زاتی دلچسپی لے کر غور ہووے۔ شکریہ۔
اہلیان وادی کلاش : بمبوریت ، رومبور اور بریر بزریع نابیگ ایڈوکیٹ اقلیتی کونسلر وی بمبوریت ۔
بمبوریت اپڈیٹ بمبوریت اپڈیٹ
06/06/2026
السلام و علیکم / اشپاتا! امید ہے کہ سب خیر و عافیت سے ہونگے۔ اپنا خیال رکھیں، کیونکہ کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ سب لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو موقع ملے، وہ مزے لیں اور آپ کو گرائیں۔ ایسے لوگوں کا بے حد قدر و عزت کرنا آپ پر فرض ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو آپ کا قدر و عزت اور حیثیت کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ خدا را ان کو کھو مت دیجیے۔ ان کے احساسات کو ٹھیس مت پہنچائیں، کیونکہ یہ بڑے کام کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ جب برے حالات میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں، کیونکہ وہ آپ کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں یا پھر آپ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی مدد ہمیشہ کیجیے۔ اگر کسی کے کام آسکتے ہو، کسی کی طرح کسی کا ٹانگ نہیں کھینچتے ہو، یہ ہی کام ایک انسان کا ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو دوسرے انسان کی مدد کے لیے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اب نے انسانوں کی قدر و احترام اور عزت آپ پر فرض ہے۔ آپ جب ایک انسان کی مدد کرتے ہیں تو انسان کی شکل میں آپ کے پاس آتا ہے، اس وقت آپ کو نہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ شیطان ہے۔ خیر کوئی بات نہیں، انسان پر رحم کھانا چاہیے۔ کچھ لوگ دولت مند ہو کر بھی غریب ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ غریب ہو کر بھی دولت مند ہوتے ہیں۔ بعض لوگ خود کو عزت مند سمجھتے ہیں، مگر وہ ہیں نہیں۔ کچھ لوگ تو ڈاون ٹو آرتھ ہوتے ہیں، ان کے پاس عزت و دولت اور خاندانی بھی ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی خود نمائی نہیں کرتے۔ یہ جو بعد میں خود کو رائس بناتے ہیں، نہ تو ان کا کوئی تاریخ ہوتا ہے، نہ پہچان، نہ خاندانی ہوتے ہیں، نہ ہی کوئی نگ و ناموس رکھتے ہیں۔ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بعد میں خود نمائی کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ان کی کیا اوقات ہے، کیا حیثیت ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انسان پر، خاندان کے اوپر، قوموں کے اوپر وقت آچکے ہوتے ہیں، کبھی وہ بھی رائس ہوا کرتے تھے، اب نہیں رہے، تو کیا ان کی تاریخ کو مسخ کر دیا جائے، ان کے بارے میں جو زبان پر آجائے بول یا لکھ دیا جائے تاکہ ان کو اتنا نیچا دیکھا دیا جائے کہ ان کی اصلیت کو تباہ ہو کر رہ جائے وہ سر نہ اٹھا پائے ۔ جو درحقیقت میں خاندانی رائس ہوتے ہیں، ان کا لیول ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ جو موجودہ سوشل میڈیا کے دو دہار تیز تلوار جیسے دور میں بھی انکے اوپر اور انکے ثقافت اور تاریخ کے اوپر کیچڑ اور غلاظت پھنکے جانے کے باوجود کھبی بھی ناخوش نہیں وہ جانتے ییں کہ انکی دنیا کی تاریخ میں انکی مذہب ، ثقافت ، رواج اور خاص کر پاکستانی ہونے کی کیا اہمیت ہے۔موجودہ سوشل میڈیا کے دو دہار تیز تلوار جیسے دور میں بھی انکے اوپر اور انکے ثقافت اور تاریخ کے اوپر کیچڑ اور غلاظت پھنکے جانے کے باوجود کھبی بھی ناخوش نہیں وہ جانتے ییں کہ انکی دنیا کی تاریخ میں انکی مذہب ، ثقافت ، رواج اور خاص کر پاکستانی ہونے کی کیا اہمیت ہے۔
The SHO and entire police force at Bumborate police station are commended for their outstanding work in promptly arresting the individual who made derogatory remarks against the Kalasha people. The accused was taken into custody, apologized for his actions, and was forgiven by the Kalash Elders in accordance with the community's customary laws.
A request has been made to the Chief Minister of KPK, Inspector General of KPK Police, DPO Chitral Lower, and DC Chitral Lower to address a recent incident where a vlogger attempted to spread hatred on social media, misrepresenting a discussion that took place in Rumbur Kalash Valley during a religious festival, and giving a wrong meaning to the event when he tried to enter the Joshe. A video of the incident is available on TikTok, Facebook, and YouTube.
22/05/2026
کلاش وادیوں میں کلاش اور مسلمان دونوں آباد ہیں۔ انکے آپس میں ایک دوسرے کے لیے قدر ، عزت اور احترام دنیا کو معلوم ہے اور جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ سارا چترال ، کلاش برادری کے لوگوں کو انتہائی قدر کے نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور کلاش بھی اپنے چترال کے لوگوں کو اسی طرح دیکھتے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ ہمارے چترال میں تین برادری رہتے ہیں۔ کلاش، سنی مسلمان اور اسماعیلی مسلمان۔ ہمارے اسماعیلی مسلمانوں کے امام پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ امام کی چترال آمد پر ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ ہم سب کی مہمان ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم امام سے مطالبہ، درخواست اور گزارش کرتے ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ جس طرح پورے چترال میں آغا خان ایجوکیشن سسٹم ہے، آغا خان صحت مرکز کام کر رہے ہیں۔ اس سے لوگوں کی صحت اور ایجوکیشن کے میدان میں بہت فائدہ ہو رہی ہے۔ چونکہ وادی کلاش کے عوام انتہائی غریب، پسماندہ ہیں بنسبت چترال کے دیگر حصوں سے، ہم ہس ہائنس پرنس امام سے اسدعا کرتے ہیں اور ہم اپنے اسماعیلی مسلمانوں سے بھی گزارش کرتے کہ آپ ہمارے اس گزارش کو امام تک پہنچائیں کہ ان تینوں وادیوں کے عوام کے لیے بھی اپنے طرف سے خصوصی رحم کریں۔ ان وادیوں میں اگرچہ کلاش مذہب اور سنی مسلمان آباد ہیں۔ وہ انتہائی پرآمن لوگ ہیں۔ ان کے لیے آغاخان ایجوکیش اور آغاخان صحت مرکز بنائیں۔ تاکہ علاقوں میں سب کے لیے صحت کا بہتریں سہولیت ہوں اور بچوں کے لیے بہتریں تعلیمی مرکز ہوں جہاں تعلیم حاصل کر کے ملک کی خدمت اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ جس طرح دیگر علاقوں کے ہمارے بچے مستفید ہو رہے ہیں۔ آخر میں ایک بار پھر آپ کی چترال تشریف آوری پر ہم آپ کا مشکور ہیں۔
ناچیز کا تعلق کلاش مذہب سے ہے۔ موجودہ کلاش / اقلیتی کونسلر، سابقہ متحدہ چترال(undivided ) کااقلیتی ممبر ڈسڑکٹ کونسل چترال اور وکالت کے شعبہ سے تعلق ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Bamboret Valley
Chitral
17200