Informative Hub

Informative Hub

Share

اگر مناسب سمجھیں تو لائک کر دیں

16/12/2025

Beetroot cultivation!! چقندر کی کاشت!! Beetroot farming
#چقندر

07/12/2025

آج کچھ لوگ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود صاحب کے بارے میں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مضبوط بنیاد دی۔
وہ اپنے کام کے ماہر تھے اور حساس ترین مراحل میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

جب پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، پابندیاں لگ رہی تھیں اور ہمارے سائنس دانوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی، تب بہت سے کام رک سکتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے مشکل حالات میں بھی اپنا کردار پورے حوصلے کے ساتھ ادا کیا۔
انہوں نے تحقیق، ڈیزائن اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے اہم کام خاموشی سے کیے اور ملک کے لیے بہتر حل تلاش کرتے رہے۔

ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی عالمی طاقتوں نے بھی ان پر پابندیاں لگا دیں۔ دنیا ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرتی ہے جو اس کے منصوبوں کو ناکام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ڈاکٹر صاحب نے افغانستان کی تعمیرِ نو اور قرآن و سائنس کے موضوع پر تحقیق جیسے شعبوں میں بھی کام کیا جسے بہت سراہا گیا۔ ان کی سائنسی تحقیق اور قرآن کی روشنی میں لکھی گئی تفسیر آج بھی حوالہ سمجھی جاتی ہے۔

جو لوگ آج ان پر تنقید کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنی کم ظرفی کا اظہار کر رہے ہیں۔
قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہیں، نہ کہ ان کی خدمات کو بھول جاتی ہیں۔

27/11/2025

راجہ رضوان بریگیڈئیر کے والد کا نام راجہ اسلم تھا جو کہ خان پور میں چوکیداری کا کام کرتا تھا اسکی والدہ ایک ٹیچر تھی ان دونوں نے اسکو محنت کرکے پالا اس کو فوج میں بھرتی کروایا ایک دن اسکا والد اسکو ملنے اسکے کینٹ والے گھر گیا بریگیڈر رضوان اپنے آرمی آفیسران کے ساتھ مصروف تھا اس نے جب والد کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھا تو دوستوں کو بتایا کہ یہ میرا گاوں میں مالی ہے۔ اسکا والد گاوں واپس آ گیا اور پھر غیرت سے پاگل ہو گیا اور روڈ پر اسی حالت میں مر گیا۔ کل صبح اس بریگیڈئیر کو ملک سے غداری کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ وہاں انصاف کی چکّی ذرا دھیرے سے چلتی ہے۔ مگر چکّی کے پاٹوں میں بہت باریک پِستا ہے (received from retired Army Officer
منقول۔۔۔۔
#قراةالعین زینب

01/11/2025

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ارباب طاہر کی عدالت میں آج کا دن کچھ مختلف تھا۔
عدالت میں چار ایسے افراد کی ضمانت پر بحث ہو رہی تھی جنہیں بلاسفیمی کیسز میں پھنسایا گیا تھا۔

سب سے پہلے ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ پیش ہوا۔ بڑے اعتماد سے کہنے لگا،
“سر! ہم رولز کے مطابق چلتے ہیں۔ جب شکایت آتی ہے تو ہم انویسٹی گیشن کرتے ہیں۔ پھر اپنے سورس سے پتا لگاتے ہیں کہ ملزم کہاں ہے۔”

جج صاحب نے فوراً پوچھا، “یہ سورس کیا ہوتے ہیں؟”

مدثر شاہ بولا، “سر فیس بک ہمیں ڈیٹا نہیں دیتا، تو ہم اپنے سورس سے معلومات لیتے ہیں۔ کچھ ہیکر ہوتے ہیں، کچھ ٹریکر۔”

جج صاحب نے بھنویں چڑھائیں، “یعنی آپ ہیکرز کے ذریعے لوگوں کو ٹریس کرتے ہیں؟”

“جی سر، ہمارے سورس فیس بک یا واٹس ایپ پر چیٹ کرتے ہیں، بندے کو پھساتے ہیں، بلاتے ہیں، پھر ہم پکڑ لیتے ہیں۔”

یہ سنتے ہی عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ جج صاحب نے قلم میز پر رکھ دیا۔
“تو پہلے آپ ایف آئی آر درج کرتے ہیں، پھر بندہ پھنساتے ہیں؟”

مدثر شاہ نے ہاں میں سر ہلایا، “جی بالکل سر!”

اٹارنی جنرل نے سر پکڑ لیا، “سر، میں کیا کہوں؟ کیا ڈیفینڈ کروں؟”

جج نے پوچھا، “کیا آپ نے کبھی فیس بک (میٹا) کو رسمی طور پر ڈیٹا مانگا؟”

“نہیں سر، کبھی نہیں لکھا۔”

“تو پھر آپ چند گھنٹوں میں گرفتاری کیسے کر لیتے ہیں؟” جج کی آواز میں حیرت اور غصہ دونوں تھے۔

اسی دوران وکیل آصف علی تمبولی بولے،
“سر، میرے کیس میں فرانزک رپورٹ گرفتاری سے نو دن پہلے بن چکی تھی۔ نہ موبائل قبضے میں، نہ بندہ گرفتار، لیکن رپورٹ تیار!”
پھر انہوں نے ایف آئی آر دکھا کر بتایا کہ یہ تو سات دن پہلے ہی درج تھی۔

مدثر شاہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ فائلیں پلٹتا رہا۔
آخرکار بولا، “سر، یہ کاپی پیسٹ ہے۔”

“کیا؟” جج صاحب کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“تو آپ کاپی پیسٹ کر کے لوگوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں؟”

مدثر شاہ ہکلاتے ہوئے بولا، “سر… وہ ہیومن ایرر تھا۔ کمپیوٹر کی غلطی۔”

“نہیں صاحب، آپ نے خود کہا کہ کاپی پیسٹ کرتے ہیں!”
عدالت میں سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔

پھر ایک انسپکٹر کھڑا ہوا، “سر، یہ ایف آئی آر ہم نہیں بناتے، یہ تو سرکل انچارج کے حکم پر بنتی ہیں۔”

جج نے کہا، “ثبوت لائیں۔”
انسپکٹر باہر گیا، دستاویز لے آیا، اور عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
سب کے چہرے بدل گئے۔

جج نے غصے سے مدثر شاہ سے پوچھا، “کس قانون کے تحت آپ ایف آئی آرز بنا رہے ہیں؟”
مدثر شاہ نے دھیرے سے کہا، “سر، میں چودھری ایاز کے کہنے پر بناتا تھا۔”

“تحریری حکم دیا تھا یا زبانی؟”
“زبانی، سر۔”

“اور یہ صاحب کہاں ہیں؟”
تمبولی وکیل نے کہا، “سر، وہ لاہور میں کرپشن کیس میں بند ہیں۔”

جج صاحب نے گہرا سانس لیا، قلم رکھ دیا۔
“اٹارنی جنرل صاحب، اب آپ کچھ کہیں۔”

اٹارنی جنرل نے صاف کہا،
“سر، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ میں ڈیفینڈ نہیں کر سکتا۔ ہر طرف دو نمبری ہے۔”

عدالت میں سناٹا چھا گیا۔
پھر وکیل نے کہا، “جناب، کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ؟”

اٹارنی جنرل نے سخت لہجے میں کہا، “شٹ اپ! میں جھوٹے کیسز کے ساتھ نہیں ہوں۔”

اسی لمحے وکیل آصف تمبولی نے ایک اور بات کہی:
“سر، دونوں ملزمان کے موبائل کا IMEI نمبر ایک ہی ہے!”

جج نے طنزاً کہا، “کاپی پیسٹ!”

اور عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی۔
خود جج صاحب بھی ہنس پڑے، لیکن اس ہنسی کے پیچھے دکھ چھپا تھا —
ایک ایسا دکھ جو انصاف کے نام پر کی جانے والی “کاپی پیسٹ” کارروائیوں پر تھا۔

27/10/2025

بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی — امیدوں کی نئی کرن

پاکستان کرکٹ ٹیم کے شائقین کے لیے یہ خوشی کی خبر ہے کہ بابر اعظم اور نسیم شاہ ایک بار پھر قومی اسکواڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی واپسی نے نہ صرف ٹیم میں نئی جان ڈال دی ہے بلکہ مداحوں کے دلوں میں ایک بار پھر جیت کی امیدیں بھی جگا دی ہیں۔

سوشل میڈیا پر جوش و خروش

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کرکٹ کے دیوانوں نے بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی کا زبردست خیر مقدم کیا۔
ٹویٹر (X)، انسٹاگرام، اور فیس بک پر مداحوں نے لکھا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہوگی۔
کئی صارفین نے پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ اسکواڈ میں توازن اور حکمتِ عملی دونوں کا امتزاج نظر آ رہا ہے۔
البتہ، کچھ مداحوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مزید مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بینچ تیار کیا جا سکے۔

کوچنگ اسٹاف کے خیالات

ہیڈ کوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:

> “بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی ٹیم کے لیے بہترین خبر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر کھلاڑی اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ میدان میں اُترے۔ یہ اسکواڈ متوازن ہے، اور ہمارا ہدف جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف شاندار کارکردگی دکھانا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑی فٹنس اور فارم کے لحاظ سے بہترین پوزیشن میں ہیں، اور ٹیم کے اندر ایک مثبت ماحول قائم ہے۔

تربیتی کیمپ اور تیاریوں کا حال

پاکستانی ٹیم اس وقت لاہور میں جاری تربیتی کیمپ میں مصروف ہے جہاں کھلاڑی فٹنس، نیٹ پریکٹس، اور کمبی نیشن پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔
سیریز سے قبل ایک وارم اپ میچ بھی رکھا گیا ہے تاکہ حتمی پلیئنگ الیون کے لیے ٹیم کمبی نیشن کو پرکھا جا سکے۔

امیدوں بھرا مستقبل

بابر اعظم اور نسیم شاہ کی شمولیت نہ صرف ٹیم کی بولنگ اور بیٹنگ لائن کو مضبوط بنائے گی بلکہ ٹیم میں اعتماد کی نئی لہر بھی پیدا کرے گی۔
شائقین کرکٹ ایک بار پھر دل thام کر اس سیریز کے انتظار میں ہیں، کہ شاید یہ وہ وقت ہو جب پاکستان دوبارہ اپنی پرانی جارحانہ کرکٹ کی روایت کو زندہ کرے۔

When Babar Azam & Naseem Shah return — the vibe changes! 💥
پاکستانی ٹیم میں نئی جان، نیا جوش، اور جیت کی نئی اُمید 🇵🇰
"

27/10/2025

بارش، ٹریکٹر ٹرالی اور ہم: ایک نئی شروعات، ایک بہتر آئندہ

#کسان #ٹریکٹرٹرالی

14/10/2025

سوڈان، امریکہ اور اسرائیل:
خانہ جنگی کے پیچھے کون؟

سنہ 1983 میں جان گارانگ نامی ایک سابق فوجی افسر نے سوڈان کے جنوبی علاقے سے ہتھیار اٹھائے تو کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ جنگ دو دہائیوں تک چلے گی اور بیس لاکھ لوگ مارے جائیں گے۔ اس جنگ نے نہ صرف سوڈان کو دو حصوں میں بانٹ دیا بلکہ پورے مشرقی افریقہ کا نقشہ بدل دیا۔ سوڈان کے لوگ اس جنگ کو امریکی اور اسرائیلی سازش قرار دیتے ہیں۔

سوڈان کے شمال میں عرب نژاد مسلمان اور جنوب میں افریقی نسل کے عیسائی اور روایتی مذاہب کے ماننے والے بستے تھے لیکن یہ لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کیساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں شمال کو الگ اور جنوب کو الگ رکھ کے ان میں تقسیم پیدا کی اور پھر آزادی کے بعد موقع ملتے ہی دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے لڑوا دیا۔ سنہ 1973 میں ایک امن معاہدہ کے بعد پہلی خانہ جنگی ختم ہوئی لیکن جب صدر جعفر نمیری نے 1983 میں شریعت نافذ کی تو جنوبی حصے میں غصہ بھڑک اٹھا۔ اسی سال جان گارانگ نے "سوڈان پیپلز لبریشن آرمی" کے نام سے بغاوت شروع کی۔

ابتدا میں امریکہ اور اسرائیل دونوں کا اس تحریک سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ امریکہ اس وقت نمیری کا اتحادی تھا اور سوویت اثر کے خلاف اسے اپنا دوست سمجھتا تھا۔ اسرائیل نے تو سوڈان سے تعلقات کب کے توڑ دیے تھے اور اسے غیر اہم عرب ملک سمجھتا تھا۔ لیکن جیسے ہی 1985 میں نمیری کا تختہ الٹا اور اسلام پسندوں نے اثر بڑھانا شروع کیا، حالات بدل گئے۔ سنہ 1989 میں جب عمر البشیر اور حسن الترابی نے فوجی بغاوت کر کے اقتدار سنبھالا تو وہ دور سوویت یونین کے بعد کا تھا جب امریکہ اور اسکے اتحادی نام نہاد دہشتگردی کی جنگ کا ماحول بنا رہے تھے۔ القاعدہ کے شدت پسندوں کا بہانہ بنا کر واشنگٹن نے سوڈان کو دشمن قرار دے دیا۔

یہیں سے کہانی میں وہ موڑ آیا جس نے کئی غلط فہمیاں پیدا کیں۔ امریکہ نے انسانی امداد اور سفارتی مدد کے بہانے سے اس علیحدگی پسندی کی تحریک کو مضبوط بنایا۔ امریکہ پر اپنے ملکی قانون کی پابندی تھی کہ جب تک جنگ جاری ہو، کسی فریق کو ہتھیار نہیں دیے جا سکتے۔ سنہ 1993 سے 2005 تک امریکہ نے دو ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی لیکن یہ بظاہر خوراک، پناہ گزینوں اور امن مذاکرات پر خرچ ہوئی۔

اسرائیل کا کردار بھی اسی طرح مشکوک رہا اور اسرائیل نے خفیہ طور پر اسلحہ دیا۔ اسرائیل کی زیادہ توجہ ایتھوپیا اور ایران کے اثر کو روکنے پر تھی، سوڈان کے باغی اس کے مرکزی ایجنڈے میں نہیں تھے لیکن اسرائیل بہرحال اس سازش کا حصہ بنا۔

امریکہ کے اتحادی حمایت جنوب کے پڑوسی ممالک سےسوڈان کے ہمسائیہ ممالک میں سے امریکی اتحادیوں ایتھوپیا کے مینگسٹو اور یوگنڈا کے یوری موسیوینی نے جان گارانگ کو اسلحہ فراہم کیا۔ یوگنڈا ایس پی ایل اے کا سب سے بڑا سہارا بن گیا۔ ہتھیار زیادہ تر مشرقی یورپ سے خریدے گئے۔

امریکی نے خفیہ طریقے سے اس پوری سازش کی نگرانی کی۔ کانگریس کے کچھ اراکین، خاص طور پر بلیک کاکس اور ایونجیلیکل گروہ، جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کی حمایت کرتے تھے مگر حکومت نے براہ راست عسکری مدد سے گریز کیا۔ کلنٹن اور بعد میں بش انتظامیہ نے بظاہر مذاکرات پر زور دیا۔ سنہ 2002 کے "ماچاکوس پروٹوکول" نے امن کی راہ ہموار کی اور سنہ 2005 میں ایک جامع معاہدے کے بعد جنگ ختم ہوئی۔ اسی معاہدے نے جنوبی سوڈان کو خودمختاری دی اور 2011 میں وہ الگ ملک بن گیا۔

لیکن قیمت بہت بھاری تھی۔ دو ملین جانیں ضائع ہوئیں، چار ملین لوگ بے گھر ہوئے، جنوبی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اس جنگ نے مذہبی اور نسلی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ سوڈان کے شمال میں یہ یقین پختہ ہوا کہ جنوبی باغیوں کو مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے، جس نے نہ صرف امریکی مخالفت کو ہوا دی بلکہ فوجی آمریت کو جواز دیا۔

سوڈان کے لیے یہ جنگ صرف ایک خانہ جنگی نہیں تھی بلکہ ایک ایسا عمل تھا جس نے اس کے مستقبل کی سمت طے کر دی۔ سوڈان میں پھیلی مذہبی انتہاء پسندی بھی امریکہ اور اتحادیوں کی ہی دین تھی۔ سوویت یونین کے مقابلہ کرنے کیلئے جس طرح پاکستان میں عرب ممالک کی مدد سے سلفیت، وہابیت اور تکفیریت پھیلائی گئی تھی ویسے ہی سوڈان میں بھی کیا گیا تھا۔ سوڈان میں سوشلسٹ تحریک بہت مضبوط تھی مگر اسے امریکی مدد سے ختم کیا گیا تھا۔ عمر البشیر نے اسی جنگ کے سائے میں اپنی طاقت کو مضبوط کیا اور مغرب کو موقع مل گیا کہ سوڈانی عالمی تنہائی میں دھکیل دے۔ ادھر جنوبی سوڈان آزادی کے بعد خود خانہ جنگی کا شکار ہوا کیونکہ امن معاہدہ جلدی میں ہوا تھا، اور مسائل جیسے تیل کی تقسیم اور سرحدی جھگڑے حل نہ ہو سکے تھے۔

آج سوڈان ایک بار پھر انتشار میں ڈوبا ہوا ہے، وہی پرانے زخم اب نئے ناموں کے ساتھ پھر سے سامنے آ گئے ہیں۔ فوج اور نیم فوجی فورسز کی لڑائی، بیرونی مداخلت، اور ٹوٹی ہوئی ریاستی ساخت ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ مغربی ممالک کی مداخلت اچھے بھلے ملک کے پیر اکھاڑ کر اسے اپنے راستے سے ایسے بھٹکاتی ہے کہ پھر انہیں کبھی منزل نہیں ملتی۔

راجہ مبین اللہ خان

14/10/2025

سعودی عرب میں کفیل سسٹم کا خاتمہ: غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک نیا دور

سعودی عرب نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کا نہ صرف سعودی عرب کی معیشت پر گہرا اثر پڑے گا، بلکہ لاکھوں غیر ملکی محنت کشوں کی زندگیوں میں بھی ایک نئی تبدیلی آئے گی۔ سعودی حکومت نے کفیل سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں رائج تھا، جس میں غیر ملکی کارکنوں کو سعودی شہری یا کمپنی کے "کفیل" کے تحت کام کرنا پڑتا تھا۔ اس سسٹم کے تحت، غیر ملکی کارکنوں کو اپنی روزگار، رہائش اور دیگر فیصلوں میں اپنے کفیل کی اجازت کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن اب سعودی عرب نے یہ سسٹم ختم کر دیا ہے، جس سے غیر ملکی کارکنوں کو آزادی اور خودمختاری ملے گی۔

کفیل سسٹم کی مشکلات

کفیل سسٹم کے تحت غیر ملکی کارکنوں کے لیے کام کرنا ہمیشہ آسان نہیں تھا۔ اس سسٹم میں کارکنوں کو اپنے کفیل کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی قدم نہیں اٹھانے دیا جاتا تھا۔ اگر کسی کارکن کو اپنی ملازمت تبدیل کرنی ہوتی تھی، تو اسے پہلے اپنے کفیل سے اجازت لینا پڑتی تھی۔ اسی طرح، رہائش کے مسائل، ویزا کی مدت، یا کسی بھی دوسری اہم ضرورت کے لیے کفیل کی مرضی ضروری ہوتی تھی۔ اس کے نتیجے میں اکثر کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعض اوقات یہ سسٹم کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بھی بنتا تھا، اور انہیں اپنے کفیل کی زیادتی یا غلط رویے کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔

کفیل سسٹم کا خاتمہ: تبدیلی کی ایک نئی لہر

اب سعودی عرب نے اس سسٹم کو ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے کیونکہ اس سے سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی محنت کشوں کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں گی۔ سعودی حکومت کے اس فیصلے کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کو آزادی فراہم کرنا اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا موقع دینا ہے۔ اس تبدیلی سے کارکنوں کے لیے ایک نیا دور شروع ہو گا، جہاں وہ آزادانہ طور پر اپنے کیریئر کی سمت کا تعین کر سکیں گے اور اپنے کام کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کر سکیں گے۔

کفیل سسٹم کے خاتمے کے فوائد

1. خودمختاری اور آزادی
سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن اب آزاد ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے کفیل کی مرضی کے بغیر اپنی ملازمت تبدیل کر سکیں گے۔ انہیں کسی بھی جاب یا کمپنی میں کام کرنے کی اجازت ہوگی اور وہ اپنے کیریئر کے بارے میں آزادانہ فیصلے کر سکیں گے۔

2. کارکنوں کے حقوق کا تحفظ
اس فیصلے سے غیر ملکی کارکنوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین دلایا جائے گا۔ اب کارکنوں کو کفیل کی زیادتی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور انہیں اپنے کام کرنے کے حالات کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

3. معاشی ترقی
غیر ملکی کارکنوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملنے سے سعودی عرب کی معیشت میں ترقی ہو گی۔ کارکن اپنی مہارتوں اور تجربے کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکیں گے، جس سے پیداواریت میں اضافہ ہوگا اور سعودی عرب کی معیشت کو مزید فائدہ پہنچے گا۔

4. سعودی عرب کی عالمی سطح پر شہرت
سعودی عرب کا یہ قدم عالمی سطح پر اس کے مثبت تاثر کو مزید مستحکم کرے گا۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کے غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے اور دنیا بھر میں سعودی عرب کی ایک مثبت تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ فیصلہ سعودی عرب کے لیے کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب کا یہ فیصلہ صرف غیر ملکی کارکنوں کے لیے نہیں، بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ سعودی عرب کی معیشت زیادہ تر غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتی ہے، اور ان کارکنوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اگر سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو آزادی ملتی ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں گے، جس سے ملک کی معیشت میں اضافہ ہوگا۔

اس کے علاوہ، سعودی عرب کے لیے یہ فیصلہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ وہ اپنے کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور عالمی سطح پر مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب نے اس فیصلے کے ذریعے اپنے شراکت دار ممالک میں بھی ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کو اہمیت دیتا ہے اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

آگے کا راستہ

سعودی عرب میں کفیل سسٹم کا خاتمہ ایک قدم اور اس کے بعد کیا اقدامات کیے جائیں گے، اس کا انحصار سعودی حکومت کی پالیسیوں پر ہے۔ اس تبدیلی کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ کارکنوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے اور ان کی شکایات کے لیے مؤثر نظام فراہم کرنے کی ضرورت ہو گی تاکہ اس نئے سسٹم کا فائدہ ہر کارکن کو مل سکے۔

سعودی عرب کا نیا دور

سعودی عرب میں کفیل سسٹم کا خاتمہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں غیر ملکی کارکن اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں گے، اپنے کیریئر کی سمت متعین کر سکیں گے اور اپنی محنت کے بدلے بہترین مواقع حاصل کر سکیں گے۔ سعودی عرب کا یہ قدم نہ صرف کارکنوں کے لیے خوشی کا باعث ہے، بلکہ اس سے سعودی عرب کی عالمی شہرت میں بھی اضافہ ہوگا۔

خلاصہ

سعودی عرب میں کفیل سسٹم کا خاتمہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس کا نہ صرف سعودی عرب کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا بلکہ اس سے سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کی زندگیوں میں بھی خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کے عالمی امیج کو بہتر کرے گا اور غیر ملکی کارکنوں کو اپنے حقوق کا تحفظ فراہم کرے گا۔ اب سعودی عرب میں ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جہاں کارکن آزادی سے اپنے فیصلے خود لے سکیں گے اور اپنے کام کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کر سکیں گے۔

#آزادی

13/10/2025

میرا نام رمضان ہے۔ میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں ایک آڈیٹر ہوں۔ اکاؤنٹس آفس وہ ہوتا ہے جہاں سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن وغیرہ جاری ہوتی ہے۔ چپڑاسی سے لے کر ضلعی اکاؤنٹ آفیسر تک کیونکہ رشوت لیتے ہیں۔ تو میں نے جب سروس جائن کی چند دن بعد ہی دیہاڑی لگنی شروع ہوگئی۔ اکاؤنٹ آفسز میں ہم سارے جائز ناجائز کام رشوت لے کر کرتے ہیں۔ تنخواہ ہم بس وہاں جانے آنے کی لیتے ہیں۔ وہاں ایک ورک فولڈ کرنے ، فائل اوپن کرنے، کوئی کام کرنے کے پیسے سائل کو بذریعہ کلرکس یا ہمارے چپڑاسیوں کے ذریعے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ڈائریکٹ بھی ڈیل کر لیتے ہیں۔ پولیس تو پھر بھی شاید کسی سے نہ پیسے لیتی ہو مگر ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہاں کوئی تگڑی سفارش آجائے بڑے افسر کی یا کسی ایم این اے ایم پی اے کی تو ریٹ کم یا بندہ دیکھ کر ویسے بھی کام ہوجاتے ہیں۔

پہلے پہل احساس ندامت رہتا تھا۔ بعد میں نجانے کیسے دل مطمئن ہوگیا۔ نئے سروس جائن کرنے والوں سے لے کر ریٹائر شدہ بزگ مرد و خواتین سے میں حرام خوری کے بنا کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ ہم لوگ سیدھا جواب نہیں دیتے بس کام کو کرتے نہیں ہیں۔ یا فضول اعتراض لگاتے رہتے ہیں۔ اگلا بندہ ذلیل ہوکر رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جتنا کسی کا سکیل ہے جتنے پیسوں کا کام ہے۔ اس کا اتنا ہی ریٹ ہوگا۔ بقایا جات کی ادائیگی میں ریٹ بڑھ جاتا ہے۔ اور ریٹائرمنٹ کے بعد ادائیگی کا ریٹ اب لاکھوں میں ہے۔

شادی ہوئی۔ پہلا بیٹا نابینا پیدا ہوا۔ ماتھا ٹھنکا کہ یہ میرے گناہوں کی سزا تو نہیں۔ جو بھی جسٹیفکیشنز بنا رکھی تھیں۔ معلوم تو بہرحال تھا کہ خود بھی حرام کھاتا ہوں اور اہل و عیال کو بھی جو عیاشیاں میسر ہیں وہ سب حرام کی کمائی سے ہیں۔ ایک سوا لاکھ تنخواہ سے کیا بنتا ہے۔ جبکہ میرے ریگولر اخراجات چار سے پانچ لاکھ تھے۔ دو تین گرل فرینڈز کے بھی تمام اخراجات ادا کرنے ہوتے تھے۔ وہ سب بھی سرکاری ملازمین ہی تھیں۔ آفس کسی کام سے آئیں تو سیٹنگ بن گئی۔

خیر دوسری بیٹی پھر نابینا پیدا ہوئی۔ اس بار تو علاج بھی بہت کروایا۔ جدید سے جدید اسکیننگ کروائی۔ پہلے بیٹے کی تو آنکھیں ہی نہیں کھلتی تھیں۔ اس بار آنکھوں کی ساخت بہت پیاری اور نارمل تھی۔ مگر نور نہیں تھا۔ اب کی بار یہ خیال بہت حاوی ہوگیا کہ پکڑ ہوگئی ہے۔ پھر تاویلیں گھڑتا کہ میرے گناہوں کی سزا ان معصوموں کو کیوں؟ اللہ ایسے کیوں کرے گا؟ اب تک رشوت لینا نہیں چھوڑی۔ بلکہ اب ریٹس بڑھا دیے۔ کہ بچوں کا علاج بھی بہت مہنگا تھا۔ وہ بھی ساتھ شروع کروا دیا۔

کبھی کبھار کسی بزرگ کا کام فری بھی کرکے خود کو بڑا دیالو اور حاتم طائی سمجھنے لگتا۔ جب ڈاکٹر نے کہا آپ کے بچے کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ جو مرضی کر لیں۔ یہ پیدائشی نابینا ہیں۔ تو میری بیوی نے طلاق کا مطالبہ کر لیا۔ وجوہات کئی تھیں۔ میرے افئیرز، بچوں سے لاپرواہی، اور رشوت لینا نہ چھوڑنا۔ اس سے کوئی اچھا سلوک نہ کرنا۔ میرے گھر والوں کا اس پر ان معذور بچوں کا الزام لگانا۔ وہ پڑھی لکھی تھی۔ پہلے تو سب سہتی رہی۔ پھر اس نے بہت اچھا کام کیا اور بچے چھوڑ کر اپنے بھائی کے پاس بحرین شفٹ ہوگئی۔ عدالت سے طلاق کا بھی نوٹس بھجوا دیا۔

مجھے گھر والوں نے کہا کہ تم بچے اس کو لکھ دو۔ دیگر الفاظ میں یہ کہہ دو یہ بچے میرے نہیں ہیں۔ ہم کیوں ان کو سنبھالیں۔ میری گرل فرینڈز بھی میرے ساتھ شادی کے لیے راضی تھیں مگر ان بچوں کو کوئی قبول نہیں کرنے والا تھا۔ نجانے کیا ہوا۔

میں نے اپنا اور بچوں کا پاسپورٹ بنوایا۔ بغیر کسی کو بتائے۔ بحرین چلا آیا۔ اپنی بیوی کے پاس۔ ریزائن لکھ کر ای میل کر دیا کہ جاب نہیں کرنی۔ یہاں دونوں میاں بیوی نے ملازمت تلاش کی۔ اور ہم ایک سال کے اندر پاکستان سے تین سو گنا زیادہ پیسے کمانے لگے۔ ایک پیسہ بھی حرام نہیں تھا۔ سوچتا ہوں کاش ان سب لوگوں کو وہ رقم واپس کر سکوں جو ان سے ناجائز لی۔ اس کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ وہ پیسے کوئی چھ سات کروڑ بنتے ہیں۔ نیت کر لی ہے کہ اللہ اس قرض کو اتارنے سے پہلے موت نہ دینا۔ اس کو لوٹانے کا کوئی طریقہ تلاش کر رہا ہوں۔ اور یہ سوچتا ہوں کہ رزق ہماری قسمت میں وہی ہوتا ہے۔ بس ہمارا اپنا اختیار ہے اسے حلال ذرائع سے کمائیں یا حرام سے۔ وہاں میری پرموشن ہونی تھی اب۔ اور اتنے ہی پیسے کمانے تھے ماہانہ دس بارہ لاکھ۔ جو اب کما رہا ہوں۔ اس میں اسی فیصد حرام ہونا تھا۔ اور یہاں ایک پائی بھی حرام کی نہیں ہے۔

وہاں کمائی حرام کی تھی تو اسے ظاہر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پندرہ سال پرانی کھوتا کرولا چلاتا تھا۔ سب کولیگز اور سینئرز نے یہی بتایا تھا کہ موجیں جتنی مرضی کرو بس ظاہر کچھ نہیں کرنا۔ پراپرٹی نہیں خریدنی اپنا لائف اسٹائل نہیں اپ گریڈ کرنا۔ لعنت ہے ایسی کمائی پر جسے خرچ بھی کھل کر نہیں کر سکتے۔ سوچتا تھا یہ کیسی زندگی ہے یہ کیسا رتبہ ہے یہ کیسی دولت کما رہا ہوں۔ اور لوگ ہمیں ہمارے بعد کیا کہتے ہونگے۔جن کو ذلیل کرتے ہیں۔

اور اب یہ بھی سمجھ چکا ہوں۔ معذور بچے ہمارے گناہوں کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ وہ ہماری لائف میں کچھ ایسا لے کر آتے ہیں۔ جو پہلے نہیں ہوتا۔ میں اپنی بات کروں تو مجھے حیوان سے انسان ہی ان بچوں نے بنایا ہے۔ہمارا ٹوٹتا ہوا تعلق ان بچوں نے بچایا ہے۔ اور مجھے وہ راہ دکھائی جس کا میں اصل میں مسافر تھا۔ یہ بچے نہ ہوتے تو شاید آج بھی میں وہی بے ضمیر، بے غیرت ، بے شرم اور شیطان صفت درندہ ہوتا۔ جو نہ کسی بیوہ کی مجبوری دیکھتا، نہ یتیم بچوں کی پینشن جاری کرتا، نہ بزرگوں کو ذلیل کرنا چھوڑتا۔لعنت ہے اس زندگی پر اس نظام پر اور اس کو ایسا بدبودار بنانے والے، چلتے رہنے دینے والے ارباب اختیار اور اسکے شراکت داروں ، سہولت کاروں، اور میرے اپنے اوپر۔

خطیب احمد

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Bhakkar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Bhakkar