Saifullah Rana
اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے بعد بھی اگر نوجوان طلبا اور طالبات کو ان سوالات کا سامنا ہے
(1) اب ہم کیا کریں ؟
(2) کون سا شعبہ ہمارے لیے بہتر ہو گا ؟
(3) کیا مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک جائیں ؟ اور کون سا ملک مزید تعلیم کے لیے بہتر ہو گا ؟
(4) اب جاب کے لیے کہاں درخواست دیں ؟
یہ سوالات لمحہ فکر ہیں حکومت ، والدین ، اساتذہ اور نظام تعلیم کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
اور مجھ سمیت تمام والدین اور اساتذہ ان نوجوان طلبا اور طالبات کے سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ کہ کہیں نا کہیں ہم اپنی ذمہ داری سے غافل ہوئے اور ہمیں اب بھی احساس نہی ہو رہا کہ بچے کو اسکول میں داخل کروانے کے بعدہم سب (نصاب +نمبر + پوزیشن ) کے دائرہ سے باہر نہی نکل پا رہے
حکومت ، والدین اور اساتذہ سب کو جدید دنیا کو سمجھنے کے لیے تربیت کی ضرورت ہے ہمیں اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہو گی ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئندہ چند سالوں میں نوجوانوں کی مایوسی ، ( جہاں 50 فیصد سے زیادہ نوجوان ہیں) انتہائی بھیانک اور خطرناک ہو گی
انا اور معافی۔۔۔ اللہ کے بندے
سائنس اور ٹیکنالوجی دنیا میں لوگوں کا رہن سہن تبدیل کرتی ہے سہولت اور آرام مہیا کرتی ہے لیکن کامیابی اور دنیا کو برقرار رکھنے سے اس کا کوئی تعلق نہی ہےدنیا کی کامیابی اخلاقیات سے ہے اور اخلاقیات کا تعلق انسانیت اور انسانیت کا تعلق اللہ پاک سے تعلق ہےاور اللہ پاک سے تعلق اللہ کے بندوں سے منسلک ہے
اللہ کے بندوں سے تعلق میں رکاوٹ انا اور (میں) ہیں درجہ بندی کا تکبر ہے (جو فطری ہے)جب میں اس انا کا شکار ہوتا ہوں تو دل کی بے چینی اور پستی کا شکار ہوتا ہوں اور جب اپنی انا اور “میں” کو چھوڑتا ہوں تو دل کے اطمینان اور کامیابی کو محسوس کرتا ہوں کمزور شخص ہوں کبھی کبھی انا اور “ میں” سے جیت پاتا ہوں اکثر ہار جاتا ہوں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اپنے بندوں سے کھلے دل سے معافی مانگنے اور انکساری کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔
آپ میں سے بھی کوئی ہے جو اپنی انا سے اکثر ہارتا ہے ؟ درجہ بندی کا تکبر لیے پھرتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو تنہائی میں اللہ سے معافی مانگنے کے ساتھ اللہ کے بندوں سے کھلے عام معافی مانگو انکساری اپناو ۔۔۔۔۔ چند گنتی کے لوگ ہوتے ہیں جو ماضی میں جھانکتے ہیں غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور ماضی کےرشتوں کو یاد رکھتے ہیں یہ ہی کامیاب لوگ ہیں جو دنیا کے مستقبل کو قابو کرتے ہیں
پاکستان کو اپنی منزل اور پہچان کی تلاش ہے مدد کریں ..............
پاکستان کامطلب کیا “ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ “ اس نعرے پر وجود میں آنے والا کرہ ارض کا پہلا ملک ، یہ وہ جملہ ہے جو ہر پاکسنانی فخر سے ادا کرتا ہے اور آج بھی بڑی تعداد ہے جو انتہائی جذباتی ہو جاتی ہے اس نعرہ پراور بحیثیت مسلمان ہونا بھی چاہیے لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ان جذباتی لوگوں میں سے آدھوں کو اس کا مطلب نہی پتا اور آدھے جن کو پتا ہے وہ عمل نہی کرتے ؟
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کچھ دور اندیشوں ( نا عاقبت اندیشوں) کو پتا لگ گیا تھا کہ اس نعرہ کا مفہوم اور اہمیت کیا ہے اور اس کو کیسے اور کن کن مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے لیکن اس کو استعمال کرنا اتنا آسان نہی تھا معاملہ ذرا سا بھی بگڑا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے چنانچہ اس کو قابل عمل بنانے سے پہلے معاشرے کے مختلف اور انتہائی اہمُ عناصر کو ساتھ ملایا گیا جن میں علما ، جاگیردار ، بیوروکریسی ، سیاستدان اور 80 کی دھائی میں (خاص طور پر) فوج کے ایک حصے کو بھی شامل کر لیا گیا ....
اس نعرہ کو استعمال کرنے کے لیے نصاب کے اہم مضامیں ، معاشرتی علوم ، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو اپنی مرضی سے ترتیب دیا گیا جن میں اکثر تاریخی اور اسلامی حقائق کو مسخ کر دیا گیا وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہونے لگی یہ نعرہ اپنا جادوئی اثر دکھانے لگا . پاکستانی قوم اور خاص طور پر نوجوان کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ پاکستان وجود میں آنے کا مقصد اسلام کی پوری دنیا پر حکمرانی اور دنیا میں اسلام کو بچانا ہے اب کوئی مانے یا نا مانے ہر پاکستانی نے سمجھ لیا کہ عالم اسلام کے ہر مسلئہ کی ذمہ داری ان پر لازم ہے اورانتہا کی خوش فہمی کہ ہم عالم اسلام کے لیڈر ہیں اس خوش فہمی(شدید) نے پاکستانیوں کی اکثریت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ، اور ہم پاکستان کو بھول کر ، اپنے حقیقی اور زمینی مسائل بھول کر اسلامی دنیا کی ترجمانی کرنے لگے ......
ان حالات میں غیر ملکی طاقتوں کو یہ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں بنائے جذباتی لوگ بہت کارآمد لگے اور ان طاقتوں نے مزید حصہ ڈالا اور پاکستان کے سیاستدانوں ، جاگیر داروں ، بیورو کریسی اور فوج میں سے ان لوگوں کو ساتھ ملا لیا جو اس نعرہ کی بنیاد پر مزے سے “ معصوم “ لوگوں پر پہلے ہی حکمرانی کر رہے تھے اب ہم لوگ اسلام کے نام پر لڑ رہے تھے ہر اس جگہ دخل دیتے جہاں ہمارا کو ئی لین دین نہی ..... ہمارے وہ لوگ جو پاکستان بننے کے بعد اس سازش میں شامل تھے ان کی موجیں لگ گئیں وہ غیر ملکی طاقتوں سے پیسے وصول کرتے اور اس نعرہ کی بنیاد پر ہمیں کسی نا کسی فساد یا جنگ میں جھونک دیتے اور ہم فخر سے کہتے “ مجاہدین اسلام “ اور دنیا ہمیں “ دہشت گرد اور کرائے کے قاتل “ کا خطاب دیتی رہی اور دے رہی ہے .
مجا ہد اور غازی ( بقول ہمارے) بنتے رہے تعلیم اور شعور مٹتا گیا اور جب یقین ہو گیا کہ قوم مکمل ذہنی غلام بن چکی ہے تو اب نیا گیم پلان تیار کیا گیا سیاست سیاست سکھائی گئی اور پھر الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یقین دلایا گیا کہ آپ دانشور ہو ، فلاسفر ہو ، عالم فاضل ہو اور انتہا کا سیاسی شعور رکھتے ہو ، مذہبی تو پہلے ہی بڑی محنت سے بنا دیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم دنیا کی نظروں میں جاہل ، شدت پسند، مانگنے والے اور مقروض قوم ہیں رشوت ، حرام ، بے ایمانی ہماری رگوں میں سرایت کر گئی ہے لیکن خوش فہمی پہلے سے بھی زیادہ شدید ... ہم ایٹمی طاقت ہیں عالمی سیاست ہمارے گرد گھومتی ہے ہم ایک نئی عالمی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں اور بے شمارپھیلی ہوئی کہانیاں .......
2000 سے 2020 یعنی ان20 سالوں میں روشن پاکستان ، آزاد خیال پاکستان کا نعرہ آیا اور کوئی شک نہی کہ یہ خوش آئند اور تازہ ہوا کا جھونکا تھا کیونکہ امید پیدا ہو گئی کہ اب ان سازشی ٹولے نے مذہب اور ملک کے حقیقی نظریہ پر جو دھول ڈالی ہے وہ صاف ہو گی اور ہماری آئندہ آنے والی نسل مذہب اسلام اور نظریہ پاکستان کی اصل روح سے روشناس ہو گی لیکن افسوس ایسا نا ہو سکا .................. روشن خیال ، آزاد خیال پاکستان کے ساتھ ساتھ اسی دور میں ڈیجیٹل پاکستان بھی بن رہا تھا یہی وہ وقت تھا جب نئی نسل کو ٹیکنالوجی اور جدید تعلیم کے ذریعے روشن ، آزاد خیال اور ڈیجیٹل پاکستان سے متعارف کروانا تھا اور ان کے ذہنوں پر مسلط کردہ جھوٹے اور سازشی نظریات کی جگہ اصل حقائق لانے تھے بدقسمتی کہیں یا کوتاہی کہیں نئی نسل کو سکھایا گیا کہ روشن خیالی لکھنے اور بولنے میں بے باکی (بغیر مطالعہ کے) ، آزاد خیالی کا مطلب بے حیائ اور ڈیجیٹل پاکستان کا مطلب جدید الیکٹرانک آلات کا استعمال بطور سٹیٹس ، تفریح ...........
ان 20 سالوں میں پروان چڑھنے والی نسل کی اپنی کوئی سوچ نہی ہے جو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر پڑھتے اور دیکھتے ہیں اسی کو من و عن تسلیم کر لیتے ہیں جبکہ روشن خیالی اور آزاد خیالی کا مطلب تعلیم ، شعور ، سوچنا سمجھنا اور پھر فیصلہ کرنا کہ ملک اور قوم کا فائدہ کیا ہے لیکن سازشیوں نے روشن خیالی کو نئے اور منفی انداز میں متعارف کروایا ۔۔۔۔۔۔
علما دین کی ذمہ داری ہے کہ بتائیں کہ قرآن کا پیغام دنیا میں زندگی گذانے کے لیے کیا ہے اور آخرت میں کامیابی کا تعلق دنیاوی کامیابی سے بھی ہے قرآن اور سائنس کا مقابلہ کروانا اور پھر سائنس کے کارناموں کو زبردستی قرآن سے ثابت کرنا ، اس عمل نے بہت رسوا کیا ہے ، سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک اور قوم کو ترقی دینے کے لیے جدید دنیا کی حکمت عملی اپنائیں، معاشی طاقت بنائیں ، عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کریں ، جب ایسا کر لیں تو بعد میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کی طرف توجہ دے لیں (مہربانی) ....
حالات اتنے خطرناک ہو چکے ہیں کہ پاکستانی خود کو مجاہد اسلام کہتے ہیں ، عاشق رسول کہتے ہیں ہر بندہ عالم اور سیاسی شعور رکھنے والا بن چکا ہے فلاسفر اور دانشوروں کی بھر مار ہے ملک انہی بنیادوں پر گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور اب ان گروہوں کوآپس میں لڑوایا جائے گا اور کہا جائے گا ملک شعور اور آگہی کے مرحلے سے گذر رہا ہے
کاش اب بھی سمجھ آ جائے کہ “ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ “ کا اصل مفہوم کیا ہے اللہ پاک نے قرآن اور رسول کے ذریعے کیا پیغام پہنچایا ہے دین اور دنیا کا کیا تعلق ہے توحید اور عشق رسول کے کیا تقاضے ہیں اور ہم نے کیا سمجھ لیاُہے ؟
نوجوانوں اور نئی نسل کو حقیقت کی طرف لائیں نصاب کو منافقت سے نکالیں اور حقائق پر مبنی اور دنیاوی علوم کی ترقی پر مربوط نصاب تشکیل دیں اللہ پاک کی ذات سے بچوں اور نوجوانوں کو ڈرانے کی بجائے ذات باری تعالی کی رحمت ،محبت اور حکمت سے متعارف کروائیں اللہ پاک نے اپنی مخلوق سے جو انصاف اور محبت کا حکم دیا ہے اس کے بارے بتائیں .
میں لکھاری نہی ہوں بحیثیت استاد اور دوران تدریس جو محسوس کیا ، جو مشاہدہ کیا اسے مختصر طریقے سے لکھ دیا ، کسی کی دل آزاری مقصد نہی ہے اور نا ہی اس تحریر سے متفق ہونا لازم ہے
سیف اللہ رانا
31/12/2021
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Rafi Garden College Road
Bahawalnagar
62300