SocialConnect
Join us as we explore, engage, and connect. Stay tuned for news, events, and more. Let's build meaningful connections together!"
08/01/2026
جنگِ زاب (750ء) – اموی سلطنت کے زوال کی فیصلہ کن گھڑی
اسلامی تاریخ میں بعض جنگیں محض عسکری تصادم نہیں ہوتیں بلکہ وہ تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔ جنگِ زاب بھی ایسا ہی ایک عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے تقریباً ایک صدی تک حکمرانی کرنے والی اموی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور اسلامی دنیا میں عباسی خلافت کے قیام کی راہ ہموار کی۔ یہ جنگ 750ء میں دریائے زابِ کبیر کے کنارے لڑی گئی اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی۔
اموی خلافت کا عروج اور وسعت
اموی خلافت کی بنیاد 661ء میں حضرت معاویہؓ نے رکھی۔ ان کے بعد اموی خلفاء کے دور میں اسلامی سلطنت نے غیر معمولی وسعت اختیار کی۔ اندلس سے لے کر وسطی ایشیا تک اسلامی پرچم لہرایا گیا۔ مضبوط فوج، منظم انتظامیہ اور تیز فتوحات امویوں کی پہچان بن گئیں۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی عظیم سلطنت اندرونی کمزوریوں کا شکار ہونے لگی، جو بالآخر اس کے زوال کا سبب بنیں۔
اموی سلطنت کے زوال کے اسباب
اموی خلافت کے آخری دور میں کئی سنگین مسائل جنم لے چکے تھے:
1. نسلی امتیاز
غیر عرب مسلمانوں (موالی) کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا، جس سے ایک بڑی آبادی اموی حکمرانوں سے بدظن ہو گئی۔
2. سیاسی ناانصافیاں
کئی خلفاء کے دور میں اقتدار کو خاندانی وراثت بنا دیا گیا، جس سے خلافت کی روح متاثر ہوئی۔
3. عوامی ناراضی
گورنروں کی سخت گیری، ظلم اور مالی دباؤ نے عوام کو بغاوت پر آمادہ کر دیا۔
4. اہلِ بیتؓ سے متعلق معاملات
اہلِ بیتؓ سے وابستہ بعض تلخ واقعات نے بھی عوام کے دلوں میں امویوں کے خلاف نفرت پیدا کی۔
عباسی تحریک کا ظہور
امویوں کے خلاف سب سے مؤثر تحریک عباسی تحریک ثابت ہوئی۔ اس تحریک کا آغاز خفیہ طور پر ہوا اور اس کا مرکز خراسان بنا۔ تحریک کا نعرہ تھا:
"الرضا من آلِ محمد"
اس نعرے نے مظلوم طبقات، موالی، اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنے والوں اور اموی مخالفین کو یکجا کر دیا۔
ابو مسلم خراسانی کا کردار
عباسی تحریک کو منظم اور طاقتور بنانے میں ابو مسلم خراسانی کا کردار فیصلہ کن تھا۔ ان کی قیادت میں عباسی افواج نے اموی اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔
جنگِ زاب کا میدان اور فریقین
یہ فیصلہ کن جنگ دریائے زابِ کبیر (موجودہ شمالی عراق) کے کنارے لڑی گئی۔
اموی فریق
قیادت: مروان بن محمد (مروان ثانی)
حیثیت: اموی خلافت کا آخری خلیفہ
فوج: تعداد میں زیادہ مگر انتشار کا شکار
عباسی فریق
قیادت: عبداللہ بن علی
فوج: منظم، پرجوش اور نظریاتی اتحاد سے بھرپور
جنگ کا آغاز
دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں۔ اموی فوج کے پاس جنگی تجربہ تو تھا، مگر:
فوج کے حوصلے کمزور تھے
قیادت پر اعتماد باقی نہ رہا
عوامی حمایت ختم ہو چکی تھی
دوسری طرف عباسی لشکر:
مضبوط نظم و ضبط رکھتا تھا
نظریاتی جوش سے سرشار تھا
فتح کے لیے متحد تھا
جنگِ زاب کا فیصلہ کن مرحلہ
جنگ کے دوران عباسی فوج نے بھرپور حملہ کیا۔ اموی فوج دریائے زاب کے کنارے پسپائی پر مجبور ہو گئی۔ تنگ میدان اور بدانتظامی کے باعث:
بہت سے اموی سپاہی دریا میں ڈوب گئے
فوج کی صفیں ٹوٹ گئیں
مروان ثانی جنگ کا پانسہ پلٹنے میں ناکام رہا
بالآخر یہ جنگ امویوں کی مکمل شکست پر منتج ہوئی۔
مروان ثانی کی فرار اور موت
جنگ میں شکست کے بعد مروان بن محمد مصر کی طرف فرار ہوا، مگر وہاں بھی اس کی قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ 750ء میں اسے قتل کر دیا گیا، اور یوں اموی خلافت کا عملی طور پر خاتمہ ہو گیا۔
عباسی خلافت کا قیام
جنگِ زاب کے بعد عباسیوں نے اقتدار سنبھال لیا۔
ابوالعباس السفاح پہلے عباسی خلیفہ مقرر ہوئے
دارالحکومت دمشق سے عراق منتقل ہوا
بعد میں بغداد علم و تہذیب کا عظیم مرکز بنا
عباسی دور میں:
علم و ادب کو فروغ ملا
انتظامی اصلاحات ہوئیں
اسلامی تہذیب نے نیا عروج دیکھا
08/01/2026
آزاد بھی ایک مولوی تھا۔۔
مونچھوں کو تاؤ دیتے، ہاتھوں میں سگریٹ کا کش لگائے یہ مولوی،وقت کا امام ابوالکلام آزاد ہے
آج کے دستار بند و دماغ بند مولوی اسے کبھی اپنا آئیڈیل قبول نہیں کریں گے
ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کے حیثیت سے منصب سنبھالا اور ہندو قوم کو تعلیم کے اس میدان تک پہنچایا کہ آج دنیاء کے بڑی مائیکروسوفٹ کمپنیاں ان پر رشک کرتے ہیں کینڈا سے لیکر امریکی ایوانوں تک انڈین نیشنیلٹی کے لوگ پہنچ چکے ہیں
یہ کون تھا آیئے تاریخ سے پوچھتے
آغاء شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ جونہی مولانا کی رحلت کا اعلان ہوا سینکڑوں لوگوں کا سنّاٹا چیخ و پکار سے تھرّا گیا ۔ دن چڑھے لگ بھگ دو لاکھ انسان ، آزاد کے کوٹھی سے باہر جمع ہو گئے تمام ہندوستان میں سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں کے پرچم سرنگوں کر دیئے گئے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ماتمی ہڑتال ہو گئ ،دہلی میں ہُو کا عالم تھا حتی کہ بینکوں نے بھی چھٹی کر دی ایک ہی شخص تھا جس کیلئے سب کے آنکھوں میں آنسوں تھے
پنڈت جواہر لال نہرو کی بے چینی کا یہ حال تھا کہ ایک رضاکار کی طرح عوامی ہجوم میں گھس جاتے پنڈت جی نے اپنے دائیں بائیں سیکیورٹی افسروں کو دیکھا تو ان سے پوچھا ۔
"آپ کون ہیں ؟"
کیوں کھڑے ہیں میرےآگے پیچھے؟
"آپ کی حفاظت کیلئے"
"کیسی حفاظت ؟ موت تو اپنے وقت پر آ کے رہتی ہے بچا سکتے ہو تو مولانا کو بچا لیتے؟"
۔
جنازہ اٹھا ، پنڈت نہرو ، مسٹر دھیبر ، صدر کانگرس ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، جنرل شاہ نواز ، پروفیسر ہمایوں کبیر ، بخشی غلام محمد اور مولانا کے ایک عزیز جنازہ گاڑی میں سوار تھے ۔ ان کے پیچھے صدر جمہوریہ ہند ، نائب صدر اور مرکزی و صوبائی وزراء کی گاڑیوں کی لمبی قطار تھی ،
ہندوستانی فوج کے تینوں چیفس جنازے کے دائیں بائیں تھے ۔ دریا گنج سے جامع مسجد تک ایک میل کا راستہ پھولوں سے اَٹ گیا جب میت کو پلنگ پر ڈال دیا گیا سب سے پہلے صدر جمہوریہ نے پھول چڑھائے ،پھر وزیراعظم نے اس کے بعد غیر ملکی سفراء نے ، کئ ہزار برقعہ پوش عورتیں مولانا کی میت دیکھتے ہی ڈھائیں مار مار کر رونے لگیں ان کے ہونٹوں پر ایک ہی بول تھا "مولانا آپ بھی چلے گئے ہمیں کس کے سپرد کیا ہے ؟ ہندو دیویاں اور کنیائیں مولانا کی نعش کو ہاتھ باندھ کر پرنام کرتی رہیں ۔
مولانا احمد سعید دھلوی نے دو بج کر پچاس منٹ پر نماز جنازہ پڑھائ ۔
المختصر مولانا کو دفنانے کے بعد ہم ان کی کوٹھی میں گئے تو کچھ دیر بعد پنڈت جواہر لال آ گئے ۔ اور سیدھا مولانا کے کمرے میں چلے گئے پھر پھولوں کی اس روش پر گئے جہاں مولانا ٹہلا کرتے تھے ۔ ایک گچھے سے سوال کیا ۔
"کیا مولانا کی موت کے بعد بھی مسکراؤ گے ؟ 😢
کاش
پاکستان میں کوئی ایک مولوی اس شخصیت کے رول ماڈل کو اپناتا۔۔مگر نا ممکن !!
#ابوالکلام
08/01/2026
جنگِ نہروان: وہ دن جب مسلمان، مسلمان سے ٹکرایا
9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں:
ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔
سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: "حکم صرف اللہ کا ہے!"۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔ انہوں نے اپنا ایک الگ "خلیفہ" بھی بنا لیا—۔
لیکن محض عقیدے کا اعلان ہی کافی نہیں تھا۔ انہوں نے عام بستیوں میں دہشت پھیلانی شروع کر دی۔ جو ان کے عقیدے سے متفق نہیں تھا، اسے کافر قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ عبداللہ بن خبابؓ نامی ایک صحابی اور ان کی حاملہ بیوی کا قتل اس انتہا کی آخری حد تھی۔ جب قاتل حضرت علیؓ کے پاس گرفتاری کے لیے لائے گئے تو خوارج نے زور دے کر کہا کہ انہیں چھوڑ دو۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔
حضرت علیؓ نے فوج تیار کی، لیکن ان کا دل جنگ کے لیے نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ انہی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے میدانِ نہروان پہنچ کر خوارج کے پاس ایک قاصد بھیجا: "صرف قاتلوں کو حوالے کر دو، باقی سب معاف۔"
خوارج نے جواب دیا: "ہم سب قاتل ہیں، ہم سب نے فیصلہ کیا تھا۔" بات بنتی نظر نہیں آ رہی تھی۔
تب حضرت علیؓ نے اعلان کروایا: "جو شخص ہمارا لشکر چھوڑ کر چلا جائے، یا خوارج کے لشکر سے الگ ہو کر ہمارے پاس آ جائے، اس کے لیے امان ہے۔" یہ اعلان ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔ خوارج کے لشکر میں تفرقہ پڑ گیا۔ 1,200 سے 1,500 کے قریب لوگ، جو ممکنہ طور پر صرف جذبات میں آ کر شامل ہوئے تھے، راتوں رات میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ باقی رہ گئے محض 2,800 افراد، جو اپنی بات پر ڈٹے رہنے کو تیار تھے۔
صبح ہوئی۔ حضرت علیؓ نے اپنی فوج کو حکم دیا: "تم حملہ نہ کرنا، جب تک وہ حملہ نہ کریں۔" دونوں فوجیں گھنٹوں آمنے سامنے کھڑی رہیں۔ اچانک، خوارج کی صف سے ایک شخص باہر نکلا اور چیخا: "اے علیؓ! ہمارے درمیان خدا کی کتاب حاکم ہے، اسے پکار!"
حضرت علیؓ نے جواب دیا: "میں اس سے زیادہ کتابِ خدا کا طالب ہوں۔"
یہ جواب سنتے ہی خوارج کا ایک گروہ بپھر گیا۔ انہوں نے پہلا تیر چلایا۔ پھر دوسرا۔ پھر ایک ہی جوش میں، تمام 2,800 خوارج نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر پر یکبارگی حملہ کر دیا۔
یہ جنگ نہیں تھی، یہ ایک قتلِ عام تھا۔ حضرت علیؓ کے تربیت یافتہ لشکر نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ تلواریں چلنے لگیں۔ آوازیں گونجنے لگیں۔ تھوڑی ہی دیر میں سب ختم ہو گیا۔
شام ڈھلتے ڈھلتے، نہروان کا میدان ایک خوفناک خاموشی میں ڈوب گیا۔ زمین 2,400 سے زائد خوارج کی لاشوں سے پٹی پڑی تھی۔ حضرت علیؓ کے لشکر سے محض سات سے تیرہ افراد شہید ہوئے تھے۔
حضرت علیؓ نے زخمیوں کے علاج کا حکم دیا۔ لاشوں کو ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ ان کے چہرے پر فتح کی خوشی نہیں، بلکہ ایک گہرا غم تھا۔ وہ زمین پر بیٹھ گئے اور فرمایا: "افسوس! کاش میں کل ہی مر گیا ہوتا۔"
لیکن اس خونریزی سے صرف نو سے بارہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ انہی فراریوں میں ایک نام عبدالرحمن بن ملجم المرادی کا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے تقریباً دو سال بعد، 19 رمضان 40 ہجری کو، مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں حضرت علیؓ کے سر پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے وہ وار کیا، جو آپ کی شہادت کا سبب بنا۔ نہروان کا خونی سایہ، آخر کار اپنے مرکز تک پہنچ ہی گیا۔
نہروان کا میدان خالی ہو گیا، لیکن یہ اختلاف ختم نہ ہوا۔ خوارج کا نظریہ ایک آگ کی طرح پھیلتا رہا۔ وہ ایک باقاعدہ فرقہ بن گئے اور آنے والی صدیوں میں کئی بار بغاوتیں کرتے رہے۔ انہوں نے یہ خطرناک عقیدہ دیا کہ "جو ہمارا عقیدہ نہیں رکھتا، وہ کافر ہے اور اس کا قتل جائز ہے۔"
جنگ نہروان محض ایک لڑائی نہیں تھی۔ یہ وہ المناک موڑ تھا جہاں سیاسی اختلاف، مذہبی تفسیر اور تلوار کا راستہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اس دن مسلمانوں نے پہلی بار بڑی تعداد میں اپنے ہی بھائیوں کو میدانِ جنگ میں دیکھا۔ یہ وہ زخم تھا جو کبھی پورے طور پر نہیں بھرا۔ آج بھی جب اسلامی تاریخ میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی بات ہوتی ہے، تو نہروان کا یہ واقعہ ایک گہرا اور پر درد سبق بن کر سامنے آتا ہے۔
کون پرسان حال ہے میرا
زندہ رہنا کمال ہے میرا
جوں ایلیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Senai