Shian e Haider
this page is about information of Ahlebait (as) Islamic knowledge Noha majalis and all type of Zikr e Ahlebait (as)
05/07/2026
# ya hussain
25/06/2026
حضرت عباس ع نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت چاہی، لیکن امام علیہ السلام نے فرمایا: عباس! تم میرے لشکر کے علمدار ہو، اگر تم چلے گئے تو میرا لشکر بکھر جائے گا۔
تاہم، بچوں کی پیاس کی شدت دیکھ کر امام علیہ السلام نے آپ کو صرف پانی لانے کی اجازت دی۔
حضرت عباس علیہ السلام ایک مشکیزہ لے کر نہرِ فرات کی طرف بڑھے۔ یزیدی فوج کے ہزاروں پیاسے سپاہیوں نے آپ کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن آپ نے اپنی بے مثال شجاعت اور حیدری طاقت سے صفوں کو چیر دیا اور نہرِ فرات پر پہنچ گئے۔
جب آپ نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور پانی چلو میں لیا، تو آپ کو امام حسین علیہ السلام اور چھوٹے بچوں کی پیاس یاد آگئی۔ آپ نے وفاداری کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہوئے پانی واپس نہر میں گرا دیا اور خود ایک قطرہ بھی نہ پیا۔
آپ نے مشکیزہ پانی سے بھرا اور خیموں کی طرف روانہ ہوئے۔ یزیدی فوج جانتی تھی کہ اگر پانی خیموں تک پہنچ گیا تو حسینی لشکر میں نئی طاقت آ جائے گی۔ اس لیے عمر بن سعد کے حکم پر پوری فوج نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور تیروں کی بارش کر دی۔
ایک شقی (نوفل بن ارزق یا زرعہ بن شریک) نے درخت کے پیچھے سے چھپ کر حملہ کیا اور آپ کا داہنا بازو شہید کر دیا۔ آپ نے علم اور مشکیزے کو بائیں ہاتھ میں تھام لیا۔
کچھ ہی دیر بعد ایک اور وار کے ذریعے آپ کا بایاں بازو بھی شہید کر دیا گیا۔ اب آپ نے مشکیزے کے تسمے کو اپنے دانتوں سے پکڑ لیا تاکہ پانی خیموں تک پہنچ سکے۔
آپ کی تمام تر کوشش یہ تھی کہ پانی بچوں تک پہنچ جائے، لیکن ایک ظالم نے ایسا تیر مارا جو سیدھا مشکیزے پر لگا اور سارا پانی بہہ گیا۔ اسی دوران ایک تیر آپ کی آنکھ میں لگا اور ایک شقی نے لوہے کے گرز سے آپ کے سر مبارک پر وار کیا۔ بازو نہ ہونے کی وجہ سے آپ گھوڑے سے زمین پر تشریف لائے اور اپنے بھائی کو آواز دی: "یا اخا، ادرک اخاک" (اے بھائی! اپنے بھائی کی خبر لیجیے)۔
جب امام حسین علیہ السلام اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو آپ کا تڑپتا ہوا جسم دیکھا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
"الآن انْکَسَرَ ظَهْری وَقَلَّتْ حیلَتی"
(اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میری تدبیر ختم ہو گئی)
حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی گود میں آخری سانس لی اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی لاش مبارک کو امام خیموں میں نہیں لائے کیونکہ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے خیموں میں نہ لے جایا جائے کیونکہ میں بچوں سے پانی لانے کا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔ آج بھی آپ کا روضہ مبارک کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے روضے سے کچھ فاصلے پر اسی جگہ قائم ہے جہاں آپ شہید ہوئے تھے۔
16/06/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Tehran