Bazm-e-Raza. Rishra
An Educational & Cultural Organisation
18/01/2024
20/04/2023
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
ترجمہ: اے نبیؐ کہو کہ، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
سورۃ آل عمران | سورة نمبر: 3 | آیت نمبر: 31
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
شرح:
اگر تو نے میرے پیغمبر محمدﷺ کی اوران کی تعلیمات کو اپنا شعار بنایا تو جان لے کہ ہم تیرے ہی ہیں اور یہ دنیا تو الگ رہی لوح و قلم بھی تیرے ہوں گے۔
شارح: اسرار زیدی
نظم: جوابِ شکوہ
کتاب: بانگِ درا
19/02/2023
Here is the Entry for the day
نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہيں کسی مردِ راہ داں کے ليے
Nishan-e-Rah Dikhate The Jo Sitaron Ko
Taras Gye Hain Kisi Mard-e-Rah Daan Ke Liye
Once who were beacons to the brightest stars,
Have long been awaiting a guide to show them the way now.
جو لوگ ستاروں کو راستے کا پتا بتاتے تھے، وہ آج اس درجہ بے بس ہیں کہ راستہ دکھانے والے کسی آدمی کے لیے بیٹھے ترس رہے ہیں، (یہ مسلمانوں کے سابقہ اوج و عظمت اور موجودہ زوال کی طرف اشارہ ہے)
غلام رسول مہر
Reference: https://goo.gl/bCUo7j
15/02/2023
Here is the Entry for the day!
وہ سجدہ ، روحِ زميں جس سے کانپ جاتی تھی
اُسی کو آج ترستے ہيں منبر و محراب
Woh Sajda, Rooh-E-Zameen Jis Se Kanp Jati Thi
Ussi Ko Aj Taraste Hain Minber-O-Mehrab
The prostration that once shook the earth’s soul,
Now leaves not a trace on the mosque’s decadent walls.
آج مسجدوں کے منبر و محراب ان سجدوں کو ترس رہے ہیں جن سے زمین کی روح کانپ جاتی تھی، یعنی علمائے شریعت کی شان وہ نہ رہی جس کی برکت سے ان کے سجدے زمین کو لرزا دیتے تھے۔ غلام رسول مہر
Reference: https://goo.gl/L93Zxu
31/01/2023
علامہ سیماب اکبر آبادی اور بہادر شاہ ظفر: ’’دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں..
سیماب ؔ اکبر آبادی کے شعر کی تو اس کے لیے اتنا کہوں گا کہ سیمابؔ اکبر آبادی چوں کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے بعد کے شاعر ہیں ۔1880ء میں اکبر آباد آگرہ میں تولد ہوئے ۔آپ نے بہادر شاہ ظفر کی زمین میں غزل کہی لیکن کسی شخص یا اشاعتی اِدارے نے قصداً ،سہواً یا شرارتاً اس شعر کو بہادر شاہ ظفرؔ کی غزل میں شامل کر دیا۔بہادر شاہ ظفرؔ کا کوئی بھی مستند کلیات اٹھا کر دیکھیں تو یہ شعر نہیں ملے گا ۔ہاں دیگر مندرجہ ذیل چھے اشعار ضرور موجود ہوں گے۔
لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بلبل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں
اک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں
کانٹے بچھا دیے ہیں دلِ لالہ زار میں
دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پانوں سوئیں گے کنج مزار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
(بہادر شاہ ظفر ؔ اور جنگ آزادی کے اولین مجاہد ص495،ڈاکٹر ودیا ساگر آنند)
1951ء میں کراچی شہر میں انتقال کرنے والے سیماب ؔ کی غزل جو بہادر شاہ ظفرؔ کی زمین میں ہے اس کے مجموعہ کلام ’’کلیم عجم ‘‘میں ہے جو دارالاشاعت قصر ادب ،آگرہ سے1936 ء میں طبع ہوئی ۔اس غزل کے باقی اشعار ملاحظہ ہوں ۔
شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں
خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں
آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد ،دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خلشِ بار بار میں
سو ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے
ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں
تم نے تو ہاتھ جو روستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا ،رہا ستمِ روزگار میں
اے پردہ دار اب تو نکل آ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیمابؔ پھولی اگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو ہوا ئے بہار میں
اس کے علاوہ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے ساتھ منسوب شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن ‘‘ ہے
جب کہ سیماب ؔ کے اصلی شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن‘‘ ہے
اب رہا سوال اُردو کی نصابی کتب میں یہ شعر شامل ہے تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اس کے مرتبین ہیں یاجو مجلس مشاورت میں شامل ہیں لیکن افسوس کے آج تک کسی کو اس بات کی زحمت تک گوارانہ ہوئی کہ دیکھ تو لے حقیقت کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق پر توجہ دی جائے ۔تحقیق ہی واحد ذریعہ ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرتا ہے۔
بشکریہ فرہاد احمد فگار...............................
24/11/2022
پروین شاکر
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی .............................................
24/11/2022
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا...
پروین شاکر کا یومِ پیدائش
November 24, 1952
(پیدائش: 24 نومبر 1952ء – وفات: 26 دسمبر 1994ء)
——
منتخب کلام
——
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
——
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
——
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
——
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کر لی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
——
ضرورتوں نے ہمارا ضمیر چاٹ لیا
وگرنہ قائل رزق حلال تھے ہم بھی
——
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
——
وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا
——
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے
——
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
——
دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف
مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی
——
چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا
اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
میرے لبوں پہ مہر تھی ، پر شیشہ رو نے تو
شہر شہر کو میرا واقفِ حال کر دیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری یہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
——
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے
ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاہتا ہے
یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی
اور کچھ روز ، کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے
رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن
رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تیری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
——
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا
کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا
جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی
خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا
جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا
آئنے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا
ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا
——
وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں
زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایہ نہیں
میری قسمت میں فقط درد تہہ ساغر ہی ہے
اول شب جام میری سمت وہ لایا ہی نہیں
تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا
ذہن نے میرے بھی اب کے دل کو سمجھایا نہیں
کان بھی خالی ہیں میرے اور دونوں ہاتھ بھی
اب کے فصل گل نے مجھ کو پھول پہنایا نہیں
——
جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کر بکھرے کوئی
ااب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پر دروازے سے جھانکے کوئی
——
شہر وفا میں دھوپ کا ساتھی نہیں کوئی
سورج سروں پر آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
——
تیرے بدلنے کے باوصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
——
سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں
——
اب ان مکانوں پر دبیز پردے ہیں
وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
——
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
کون جانے کہ نئے سال میں تُو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
——
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
——
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیاہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
——
میرے گھر کا کچا رستہ
وقت ملے تو زحمت کرنا
——
تمھاری سالگرہ پر
یہ چاند اور یہ ابر رواں گزرتا رہے
جمال شام تہہ آسماں گزرتا رہے
بھرا رہے تیری خوشبو سے تیرا صحن چمن
بس ایک موسم عنبر فشاں گزرتا رہے
سماعتیں تیرے لہجے سے پھول چنتی رہیں
دلوں کے ساز پہ تو نغمہ خواں گزرتا رہے
خدا کرے تیری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
دیار وقت سے تو شادماں گزرتا رہے
میں تجھ کو دیکھ نہ پاؤں تو کچھ ملال نہیں
کہیں بھی ہو تو ستارہ نشاں گزرتا رہے
میں مانگتی ہوں تیری زندگی قیامت تک
ہوا کی طرح سے تو جادواں گزرتا رہے
میرا ستارہ کہیں ٹوٹ کر بکھر جائے
فلک سے تیرا خط کہکشاں گزرتا رہے
میں تیری چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھ لوں اور پھر
تمام راستہ بے سائباں گزرتا رہے
یہ آگ مجھ کو ہمیشہ کیے رہے روشن
میرے وجود سے تو شعلہ ساں گزرتا رہے
میں تجھ کو دیکھ سکوں آخری بصارت تک
نظر کے سامنے بس اک سماں گزرتا رہے
ہمارا نام کہیں تو لکھا ہوا ہو گا
مہ و نجوم سے یہ خاکداں گزرتا رہے
——
تاج محل
سنگ مرمر کی خنک بانہوں میں
حسن خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں
گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے
وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے!
ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں
اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے
جس کی لو عمر گئے اک دل شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی!
اسی مہتاب کی اک نرم کرن
سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو
عشق رنگ ابدیت سے سرافراز ہوا
کیا عجب نیند ہے
جس کو چھو کر
جو بھی آتا ہے کھلی آنکھ لیے آتا ہے
سو چکے خواب ابد دیکھنے والے کب کے
اور زمانہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر لیے جاگ رہا ہے اب تک!.............................................
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
24, G. T. Road. NEAR ;BADI MASJID. RISHRA. HOOGHLY
Rishra
712248