Ahmad Raza Sabri
Love the country, love the people, for the country for the people!
01/06/2026
23/05/2026
17/05/2026
13/05/2026
عورت ایسی ہوتی ہے، عورت ویسی ہوتی ہے، ہزار باتیں ہیں مگر۔۔۔
بہت ریسرج کے بعد یہ پتہ چلا کہ بیوی صرف تین طرح کی ہوتی ہے، ایک تو وہ جو آپ اور آپ کے بچوں سے جتنا پیار کرے اتناہی پیار آپ کے والدین سے کرے، اگر آپ ایسی کٹیگری میں ہیں تو خوش نصیب ہیں۔
دوسری وہ جو آپ اور بچوں پر تو جان نچھاور کرے مگر آپ کے والدین سے پڑوسی کی طرح برتاؤ کرے۔ اگر آپ ایسی کسی خاتون کے اسیر ہیں اور حق زوجیت سے بڑھ کر اس پر گرویدہ ہیں تو آپ زندگی اور آخرت دونوں میں ناکام و نامراد رہیں گے، آخرت تو بعد کی چیز ہے، دنیا میں سوائے نامرادی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
تیسری وہ جو نہ تو آپ اور بچوں کی پرواہ کرے نہ ہی آپ کے والدین کی۔ ایسی خاتون قابل رحم ہے، اس کو اس کے حال پر چھوڑیں، نصیب کا فیصلہ سمجھ کر نبھائیں اور آخر کی دونوں ہی صورتوں میں والدین کو احساس دلائیں کہ بہو نہیں تو کیا ہوا بیٹا ان کا سہارا ہے اور وہ اکیلے نہیں ہیں۔
یہ ریتیش تیواری ہیں، مغربی بنگال کے کاشی پور بیلگچھیا ودھان سبھا کے نو منتخب بی جے پی رکنِ اسمبلی، جن کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے نہ کوئی کام کریں گے اور نہ ہی کوئی سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک عوامی نمائندہ صرف ایک مذہب کا ہوتا ہے؟
جو لوگ آئین کی قسم کھا کر بھی نفرت اور تفریق کی بات کریں، کیا وہ واقعی جمہوریت کے محافظ کہلانے کے لائق ہیں؟
افسوس!
ہندوستان کی جمہوریت اب مساوات سے زیادہ نفرت کی سیاست کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
جب عوام کو مذہب کے نام پر بانٹا جائے، تو ملک کمزور اور انسانیت شرمندہ ہو جاتی ہے۔
11/05/2026
سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پٹرول کم جلاؤ، تیل کم کھاؤ!
2014 سے 2018 تک وزیر اعظم نریندر کی غیر ملکی سفروں، چارٹرڈ فلائٹس، ایئرکرافٹ مینٹیننس اور سرکاری انتظامات پر 2000 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ بعد میں 2022 سے 2024 کے درمیان 38 غیر ملکی دوروں پر تقریباً 258 کروڑ روپے مزید خرچ کیے گئے۔
2025 کی بعض سفروں پر الگ سے 67 کروڑ روپے کے اخراجات کا انکشاف ہوا۔ یعنی عوام ٹیکس بھرتی رہی اور حکومت “وشو گرو ٹور پیکیج” چلاتی رہی۔
اب وہی وزیر اعظم عوام کو نصیحت دے رہے ہیں کہ سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پٹرول کم جلاؤ، تیل کم کھاؤ۔ بھائی صاحب! عوام نے آپ کو اس لیے وزیر اعظم بنایا تھا کہ معیشت سنبھالو، نہ کہ پورے ملک کو کسی ہاسٹل وارڈن کی طرح چلاؤ۔
خود دنیا کے درجنوں ممالک کے دورے کریں گے، کیمروں کے سامنے گلے ملیں گے، غیر ملکی اسٹیڈیموں میں شو کریں گے، ہزاروں کروڑ خرچ ہوں گے، لیکن اگر ایک عام آدمی اپنی بیٹی کی شادی میں دو چوڑیاں خرید لے تو قومی مفاد خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
عوام پوچھ رہی ہے کہ آخر ان سفروں سے حاصل کیا ہوا؟ کیا بے روزگاری کم ہوئی؟ کیا روپیہ مضبوط ہوا؟ کیا پٹرول سستا ہوا؟ کیا کسان امیر ہوا؟ کیا متوسط طبقہ ٹیکس سے آزاد ہوا؟ کیا چین خوفزدہ ہوا؟
12 سال سے ہر بحران کا علاج عوام کی جیب میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ کبھی گیس چھوڑو، کبھی سبسڈی چھوڑو، کبھی قربانی دو، کبھی کم کھاؤ، کبھی کم گھومو۔ یعنی حکومت صرف تقریریں کرے گی اور عوام تپسیا کرے گی۔
تاریخ میں رہنماؤں نے قربانی اُس وقت مانگی تھی جب ملک خود کسی جنگ میں مبتلا ہو۔ لال بہادر شاستری نے “ایک وقت کا کھانا چھوڑ دو” اس لیے کہا تھا کیونکہ ملک کے پاس اناج نہیں تھا اور وزیر اعظم خود سادگی کی زندگی گزارتا تھا۔ لیکن آج کون سی جنگ چل رہی ہے؟ کون سی ہنگامی قحط سالی آئی ہوئی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ 2014 میں “اچھے دن” کا خواب دکھایا گیا تھا، اور 2026 آتے آتے عوام کو “کم خرچ کرو مہم” میں دھکیل دیا گیا۔
آج حالات یہ ہو گئے ہیں کہ وزیر اعظم ملک کو ایک ترقی یافتہ قوم کم اور ضبط و تحمل کے کیمپ زیادہ بنا رہے ہیں۔ سونا مت خریدو۔ بیرونِ ملک مت جاؤ۔ پٹرول مت جلاؤ۔ تیل کم کھاؤ۔ کل کو شاید یہ بھی کہہ دیں کہ شادی بھی آن لائن کر لو تاکہ بجلی کا بل بچ سکے۔
ملک تقریروں سے نہیں چلتا، ملک مضبوط معیشت، روزگار، صنعت، پیداوار اور جوابدہی سے چلتا ہے۔ لیکن یہاں ہر ناکامی کا الزام عوام کے سر پھوڑ دیا جاتا ہے۔
عوام اب پوچھ رہی ہے کہ “قربانی” صرف عام آدمی ہی کرے گا یا اقتدار بھی کبھی اپنے شاہانہ اخراجات کا حساب دے گا؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Hira Complex, Qutubuddin Lane, Near Daryapur Masjid, Sabzibagh
Patna
8000004