Saifi network

Saifi network

Share

Akalmand Banna Chhor Do
Bahut Kuchh Sikh Pauge....
.....Sultan Azhar....
عقلمند بننا چھوڑ دو

06/05/2026

اللہ کی مشیت کا پردہ اوڑھ کر اپنی ذہنی معذوری چھپانے والے کب تک خود کو دھوکا دیں گے؟

یہ کائنات تماشائیوں کے لیے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے لیے بنائی گئی ہے، جہاں ہر عمل کا ایک ردعمل اور ہر نادانی کا ایک منطقی انجام ہے۔ ہم نے تقدیر کو ایک ایسی "کالی چادر" بنا لیا ہے جس کے نیچے ہم اپنی بے تدبیری، خانگی محاذ پر اپنی نالائقی اور دشمن کے سامنے اپنی بزدلی کو چھپا کر سکون کی نیند سونا چاہتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو زمین پر اپنی حاکمیت کا امین (خلیفہ) بنایا (سورہ البقرہ، آیت 30)، تو اسے عقلِ سلیم کی وہ تلوار بھی عطا کی جس سے وہ حالات کا رخ موڑ سکے۔ جو شخص اپنے گھر کے سکون کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دے یا جو گروہ بغیر کسی ڈھال اور اسٹریٹجی کے خود کو بربادی کی کھائی میں دھکیل دے، وہ اللہ کی طرف سے آزمایا نہیں جا رہا، بلکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے "عقل کے نظام" کی توہین کر رہا ہے۔

اسلام کا پورا مزاج ہی "بصیرت" اور "منصوبہ بندی" سے عبارت ہے۔ اللہ کے محبوب ﷺ، جن کی ایک ٹھوکر سے پہاڑ سونا بن سکتے تھے، وہ جب مکہ سے مدینہ کا رخ کرتے ہیں تو غیبی معجزوں پر تکیہ کرنے کے بجائے ایک ایک موڑ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں؛ دشمن کو الجھانے کے لیے بستر بدلتے ہیں، سراغ رسانی کا نیٹ ورک بناتے ہیں اور ماہرِ فن کی خدمات حاصل کرتے ہیں (سورہ التوبہ، آیت 40)۔ یہ سب ہمیں یہ سمجھانے کے لیے تھا کہ "مومن" وہ نہیں جو حالات کی لہروں پر بہنے والا تنکا ہو، بلکہ وہ ہے جو لہروں کی طاقت کو ناپ کر اپنا راستہ خود بنائے۔ اگر آپ زندگی کے کسی بھی محاذ پر—چاہے وہ سماجی ہو یا عسکری—بغیر کسی 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' کے اترتے ہیں، تو آپ سنتِ رسول ﷺ کے سب سے بڑے سبق یعنی "تدبیر" سے انحراف کر رہے ہیں۔

قرآن کا قانون دو ٹوک ہے: "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی" (سورہ النجم، آیت 39)۔ یہ کوشش محض جسمانی مشقت کا نام نہیں، بلکہ یہ اس ذہنی بیداری کا نام ہے جو انسان کو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈسنے نہیں دیتی۔ جو قومیں اور جو افراد اپنی غلطیوں کو "اللہ کا لکھا" کہہ کر محاسبے سے فرار اختیار کرتے ہیں، اللہ ان کی حالت کبھی نہیں بدلتا (سورہ الرعد، آیت 11)۔ نصرتِ الٰہی کبھی "بے ہوش" جذباتیت کا ساتھ نہیں دیتی، وہ ہمیشہ ان کے لیے ہوتی ہے جو پہلے اپنی عقل کو وحی کے تابع کر کے میدانِ عمل میں پوری تیاری کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کا بوجھ اللہ کی مشیت پر ڈالنا بند کریں اور اس "سیاسی اور سماجی شعور" کو اپنائیں جو اسلام کا اصل ورثہ ہے۔

اب انتخاب آپ کا ہے!
آج خود سے ایک سوال کیجیے: کیا آپ اللہ کے وہ سپاہی بننا چاہتے ہیں جو کائنات کے قوانین کو مسخر کر کے حق کی حاکمیت قائم کرتے ہیں، یا وہ ماتم کدہ جو اپنی ہی پیدا کردہ بربادیوں پر "صبر" کا لیبل لگا کر خود کو تسلی دیتا رہے؟ اسلام آپ کو بے بسی کے غار سے نکال کر "خدا پرستی" اور "حکمتِ عملی" کے سنگم پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ کا ایمان آپ کو بیدار مغز اور بہترین منصوبہ ساز نہیں بنا رہا، تو آپ کو اپنے ایمان کے تصور کی اصلاح کرنی ہوگی۔ اٹھئیے! اس سے پہلے کہ وقت کی لہریں آپ کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیں، اپنی عقل کو وحی کی روشنی میں بیدار کیجیے اور حالات کو شکست دینے کے لیے "محمدی اسٹریٹجی" کا علم بلند کیجیے۔ منزل ان کا انتظار کر رہی ہے جو ہوش مندی کو اپنا شعار بناتے ہیں۔

06/05/2026

05/05/2026

یہ سیریز جو آرہی وہ انٹیلکچول لیول کی ہوگی۔ لہذا اس پر آپکی توجہ درکار ہوگی۔

سیریز اسلامک ورلڈ ویو اینڈ لاز
قسط نمبر 1 ورلڈ ویو کیا ہے

نظریہِ حیات (Worldview): انسانی سوچ کا نقطہِ آغاز اور عقل کا اصل حاکم

تصور کریں کہ ایک وسیع و عریض میدان میں ایک شخص تیزی سے دوڑ رہا ہے۔ اسے دوڑتا دیکھ کر آپ کے ذہن میں پہلا سوال کیا آئے گا؟

یقیناً آپ سوچیں گے کہ "یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور اس کی منزل کیا ہے؟"

بالکل اسی طرح، جب ایک انسان اس دنیا میں شعور کی آنکھ کھولتا ہے، تو اس کے سامنے بھی زندگی کا ایک طویل اور پرپیچ راستہ موجود ہوتا ہے۔ اس راستے پر قدم رکھنے سے قبل، لاشعوری طور پر ہی سہی، اسے انہی بنیادی سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

میں کون ہوں؟ اس کائنات کا خالق کون ہے؟ اور میرے زندہ رہنے کا مقصد کیا ہے؟

ان بنیادی اور بڑے سوالات کے جواب میں انسان کے ذہن میں جو ایک خاکہ، تصویر یا خاکہ بنتا ہے، اسے عام فہم زبان میں "نظریہِ حیات" (Worldview) کہا جاتا ہے۔

آئیے اس بات کو ایک انتہائی سادہ، مثال سے سمجھتے ہیں۔ جب آپ کسی کاغذ پر ایک سیدھی لکیر کھینچنا شروع کرتے ہیں، تو لکیر بننے سے پہلے کاغذ کی سطح پر قلم کی نوک ایک "نقطہ" (Dot) بناتی ہے۔ وہ ایک نقطہ ہی یہ طے کرتا ہے کہ اب یہ لکیر کس سمت میں سفر کرے گی، دائیں جائے گی، بائیں مڑے گی یا سیدھی چلے گی۔ ہماری زندگی اور سوچ کا معاملہ بھی بالکل اسی کاغذ اور قلم جیسا ہے۔ انسان کا نظریہِ حیات وہ پہلا "نقطہ" ہے، جہاں سے انسانی عقل اور سوچ اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ اگر یہ نقطہ اپنی صحیح جگہ پر لگ جائے تو زندگی کی لکیر خود بخود 'صراطِ مستقیم' (سیدھے راستے) پر کھینچتی چلی جاتی ہے، اور اگر آغاز کا یہ نقطہ ہی ٹیڑھا ہو جائے، تو اس سے نکلنے والی عقل کی لکیر جتنا آگے بڑھے گی، اتنی ہی گمراہی کی گہرائی میں اترتی چلی جائے گی۔

اس منطق کو سمجھنے کے بعد، ہمارے لیے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے کہ انسانی زندگی میں "عقل" کا اصل مقام کیا ہے۔

عموماً انسان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری عقل ہی میری سب سے بڑی رہنما ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عقل اپنے آپ میں نہ تو خدا ہے، نہ کوئی حتمی رہنما اور نہ ہی صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے والا کوئی الہامی ترازو۔

عقل کی حیثیت تو محض ایک پروسیسنگ یونٹ (Processing Unit) یا ایک مشین کی طرح ہے۔ ایک مشین خود سے کچھ تخلیق نہیں کرتی، بلکہ آپ اس میں جو خامی یا خوبی پر مبنی مواد (Input) ڈالیں گے، وہ اسی حساب سے نتیجہ (Output) نکال کر دے گی۔ انسان کا یہ 'نظریہِ حیات' ہی وہ سافٹ ویئر یا اِن پٹ ہے، جو عقل کی مشین میں ڈالا جاتا ہے، اور پھر عقل اسی دائرے (Paradigm) کے اندر قید ہو کر زندگی کے فیصلے کرتی ہے۔

اس بات کو ایک تاریخی کہانی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مغربی دنیا کو لیجیے۔ وہاں صدیوں تک مذہب کے نام پر چرچ اور سائنسدانوں کے درمیان ایک خونی جنگ لڑی گئی۔ اس تصادم کا انجام یہ نکلا کہ مغربی انسان نے مذہب، خدا اور آخرت کو اپنے نقطہِ آغاز سے نکال باہر پھینکا۔ مگر انسانی عقل کسی نقطے کے بغیر کام نہیں کر سکتی، لہٰذا جب مذہب کو نکالا گیا تو وہاں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ اس خلا کو بھرنے کے لیے انسان نے اپنا خدا خود تراشا، اور وہ نیا خدا تھا: انسان کی اپنی ذات، اس کے ذاتی مفادات، نفس اور خواہشات (Desires)۔

اب جب مغربی انسان کا نقطہِ آغاز یہ بن گیا کہ "کوئی خدا نہیں ہے، صرف یہ دنیا کی زندگی ہے اور میری ذات ہی سب کچھ ہے"، تو اس نقطے سے جس تہذیب اور رویے نے جنم لیا وہ کیسا تھا؟

جب اس نظریے کا حامل شخص ایک بچے کو تربیت دے گا تو وہ اسے سکھائے گا کہ، "بیٹا! اس دنیا میں سب سے بڑا عقلمند وہ ہے جو سب سے زیادہ دولت مند ہے، طاقتور ہے اور مادی وسائل پر قابض ہے۔" بچہ یہ سن کر بڑا ہوتا ہے۔ اب اس بچے کا ورلڈ ویو طے ہو چکا ہے کہ زندگی کا مقصد دولت کمانا اور نفس کو خوش کرنا ہے۔ اب جب وہ عقل کے پروسیسنگ یونٹ کا استعمال کرے گا، تو اس کی عقل اسے دولت کمانے کے طریقے بتائے گی، پھر چاہے وہ راستے سود، فریب یا دھوکے سے ہی کیوں نہ گزرتے ہوں۔ اس لیے کہ اس کا الٰہ (خدا) اخلاقیات کا خالق نہیں، بلکہ اس کا اپنا نفس ہے۔

شاید یہاں آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ مغربی معاشرے میں تو پھر بھی بڑی دیانتداری نظر آتی ہے، وہ اپنے کاروبار میں ملاوٹ نہیں کرتے، تو کیا وہ بغیر خدا کے ایک اچھے نظریے پر کھڑے نہیں؟

اس منطق کو اگر ورلڈ ویو کے پیمانے پر پرکھیں تو حقیقت بہت مختلف نظر آتی ہے۔ وہ دیانتداری یا وعدے کی پابندی کسی خدا کے خوف کی وجہ سے نہیں کرتے، بلکہ اس کا محرک بھی ان کا ورلڈ ویو یعنی "نفس اور پیسہ" ہے۔ ان کی عقل انہیں یہ سمجھاتی ہے کہ اگر میں نے دودھ میں پانی ملایا یا اپنی مصنوعات میں گراوٹ پیدا کی، تو مارکیٹ میں میرے برانڈ کا نام خراب ہو جائے گا اور میں مقابلہ بازی سے باہر ہو کر اپنا پیسہ اور رتبہ کھو دوں گا۔ گویا ان کا یہ بظاہر نیک عمل بھی آخر کار پیسے کے حصول کی مشین سے ہی منسلک ہے۔ ان کی اچھائی اور برائی دونوں مادی فائدے کے گرد گھومتی ہیں۔

اب اس کے عین مقابل آئیے، اور اسی منطقی دھاگے سے ایک مسلمان کے نظریہِ حیات کو دیکھئے۔

مسلمان کا نقطہِ آغاز بہت شفاف اور الہامی ہے۔ اس کائنات کو دیکھنے کی اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ، "اس دنیا کو ایک اللہ نے پیدا کیا ہے، اور میری حیثیت ایک مختارِ کل کی نہیں، بلکہ خدا کے بھیجے ہوئے ایک 'خلیفہ' (نائب) کی ہے، جسے ایک دن مر کر جوابدہ ہونا ہے۔" یہاں اللہ، اس کے رسولﷺ کی سنت، کتابیں اور آخرت کا عقیدہ مل کر اس کا "ایمانِ مفصل" یا بنیادی ورلڈ ویو تشکیل دیتے ہیں۔

یہ وہ عظیم الشان نقطہ ہے جو ایک عام مسلمان کی عقل کی پوری سمت ہی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جب یہی نظریہِ حیات ایک مسلمان بچے کے دماغ (پروسیسنگ یونٹ) میں ڈالا جاتا ہے تو اس کی عقل کی بنیادیں خالص ہو جاتی ہیں۔ کل کو جب وہ کسی دکان پر بیٹھ کر تجارت کرتا ہے، اور اس کا نفس اسے زیادہ منافع کمانے کے لیے دھوکہ دینے کی ترغیب دیتا ہے، تو وہاں اسے کسٹمر یا برانڈ خراب ہونے کا خوف نہیں روکتا۔ وہاں اس کی عقل فوراً پکار اٹھتی ہے کہ "نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے، لیکن میں ملاوٹ نہیں کر سکتا کیونکہ میرا نظریہ مجھے بتاتا ہے کہ مجھے اپنے عمل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے، جو پوشیدہ کو بھی دیکھتی ہے۔ یہ صرف معیشت تک محدود نہیں ہے یہ ورلڈ ویو ایک سائنسدان جب اپنے سامنے رکھے گا اس کا پورا نظریہ اور سوچنے کا انداز یکسر بدل جائے گا۔ ایک فلاسفر رکھے گا تو اسکی پوری فلاسفی بدل جائے گی ایک پولیٹیکل سائینس کا طالب علم رکھے گا اس کی پوری پولیٹیکل سائینس میں یہ ورلڈ ویو نظر آرہا ہوگا۔ وہ نفسیات کا ماسٹر ہوگا تو اسکی پوری نفسیات کی ڈاکٹرین جگہ جگہ اسکے ورلٖڈ ویو کی گواہئ دے رہی ہوگی

اور یہ وہی جج کرسکتا ہے جس کا اپنا خود کا کوئی ورلڈ ویو ہو۔ جو خود ورلڈ ویو کے بغیر ہو وہ ہر ایک سے امپریس ہوجائے گا ہر ایک ہی بات اسے سچی لگنے لگے گی اور کوئی بھی اسے اٹھا کر جہاں چاہے گا لے جائے گا۔

اسی لیے اکثر افراد کو اپنے اس معاملے میں کنفیوز دیکھا ہوگا کبھی وہ اسلام کو سیکولرازم کے ساتھ ملا دیتے ہیں کبھی لبرل ازم کے ساتھ ملا دیتے ہیں تو کبھی سوشل ازم کے ساتھ حالانکہ ان سب کا ورلڈ ویو بلکل مختلف ہے۔

اسی طرح ہمارے لیڈرز ہوتے ہیں ان کا کیونکہ ورلڈ ویو خود کنفیوز ہوتا ہے تو وہ اکثر مثالیں بھی کنفیوز کرنے والی دیتے نظرآتے ہیں ترقی کا راز چین یا امریکہ ایک مسلمان کے نزدیک دونوں نہیں کیونکہ دونوں کا نظریہ سیم ہے یعنی نفس کی خدائی

لیکن عام بندا انہی دو میں سے ایک کی طرف لٹک رہا ہوگا۔

انسان کبھی بھی آزاد عقل (Independent Intellect) کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ اس کی عقل ہمیشہ اس کے "نظریہِ حیات" (Worldview) کی غلام ہوتی ہے۔ یہی ورلڈ ویو دراصل وہ رنگین چشمہ ہے جو ہم اپنی آنکھوں پر سجاتے ہیں۔ اگر چشمے کا شیشہ کالا ہو تو پوری کائنات تاریک نظر آتی ہے، اگر شیشہ مادیات (Materialism) کے رنگ میں رنگا ہو تو ہر رشتہ، ہر عمل محض ایک کاروبار محسوس ہوتا ہے، اور اگر وہ چشمہ نورِ الٰہی سے دھلا ہو تو پھر عقل کی رہنمائی انسان کو ایک سچے، پرامن اور متوازن سفر پر لے نکلتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین اور امریکہ تو ترقی کر گئے اسے ہم کہ رہے ہیں کہ وہ ہمارا ماڈل نہیں ہوسکتا

تو پھر اسلام کا ماڈل کیا یہ ہے کہ ترقی نہ کی جائے؟
اور پہاڑوں یا مسجدوں کے کونوں میں چھپ کر بیٹھ جایا جائے؟

کیا اسلام پیٹ بھرنے کے خلاف ہے؟
وہ کونسا ایسا ورلڈ ویو دیتا ہے؟
اور وہ کیسے کامیابی کی ضمانت ہے
وہ کیسے مغرب چین روس کے ورلڈ ویو سے بہتر ہے؟
یہ جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتیظارکیجئے

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

19/04/2026

غسل میت ایک عمل نہیں، یہ دل سے کیا جانے والا عبادت کا لمحہ ہوتا ہے... وہ وقت جب زمین پر صرف ایک خاموش جسم ہوتا ہے لیکن آسمان پر فرشتے اس منظر کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں

جو لوگ میت کو غسل دیتے ہیں
ان کے لیے یہ بات بڑی اہم ہے کہ وہ میت کے قریب جا کر نرمی سے، آہستہ آواز میں اس کے کان کے پاس بولیں
اسے اپنا نام بتائیں یہ بتائیں کہ آپ اسے غسل دینے آئے ہیں
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے تسلی دیں، اسے مضبوط کریں، اسے بشارت دیں
کہ ان شاء اللہ وہ بہت خوبصورت ملاقات کی طرف جا رہا ہے... اپنے رب سے

کیونکہ یہ لمحے میت کے لیے بہت نازک ہوتے ہیں
چاہے وہ کتنا ہی نیک اور پختہ ایمان والا ہو
موت کے بعد کا پہلا مرحلہ ہر ایک کے لیے پُر خوف اور بھاری ہوتا ہے

اسی لیے جو شخص یہ لمحہ سمجھتا ہے، اور نرمی، محبت اور فہم سے کام لیتا ہے
وہ دراصل اللہ کے خاص توفیق یافتہ بندوں میں سے ہوتا ہے

اگر ممکن ہو، تو میت کو سینے سے لگا لو، اس کے ہاتھ پر ہاتھ پھیر دو
اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کا بوسہ لو
جیسے وہ زندہ ہو
کیونکہ حقیقت یہ ہے...
وہ تمہاری ہر بات سن رہا ہوتا ہے
محسوس کر رہا ہوتا ہے
بس بولنے سے عاجز ہوتا ہے

غسل دینے سے پہلے اُس سے پوچھ لو
کہ وہ پانی کیسے درجہ حرارت کا پسند کرتا تھا
وہی درجہ رکھو تاکہ وہ راحت محسوس کرے

اور سب سے اہم بات...
اس کے ستر کا خیال رکھو
اتنی احتیاط سے کہ تمہاری نظریں بھی اس پر بلا وجہ نہ پڑیں
حرکتیں نرمی سے کرو
لمس میں سکون ہو، اور دل میں خشیت

کیونکہ یہ وہ لمحہ ہے
جس میں ایک بندۂ مؤمن کو اُس کے سب سے عظیم سفر کے لیے تیار کیا جا رہا ہے
وہ سفر، جس کا وہ پوری زندگی انتظار کرتا رہا
اپنے رب سے ملاقات کا لمحہ

اکثر غسل کے وقت نیک لوگوں کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے،
چہرے پر ایسی روشنی ہوتی ہے
کہ جو غسل دے رہا ہوتا ہے
اس کا دل کہتا ہے کاش میں جان پاؤں وہ کیا دیکھ رہا ہے... کس کی طرف جا رہا ہے

واقعی خوش نصیب ہیں وہ لوگ
جنہیں اللہ نے شرعی طریقے سے غسل دینا سکھایا
اور خوش نصیب ہیں وہ
جو ان لمحوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں
کیونکہ یہ وقت چھپے ہوئے ہوتے ہیں
کوئی انسان نہیں دیکھتا
مگر اللہ کی نگاہ وہاں سب سے زیادہ ہوتی ہے

اور یاد رکھو، جیسا کرو گے
ویسا ہی تمہارے ساتھ ہو گا

اللّٰہم ارزقنا حسن الخاتمہ... آمین
اللّٰہم اجعلنا ممن يخشاك بالغيب ويحسن العمل في السر والعلن

اللّٰہم ہمیں حسنِ خاتمہ عطا فرما
آمین

اللّٰہم ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
جو تیرے غیب میں ہونے کے باوجود تجھ سے ڈرتے ہیں
اور چھپ کر بھی اور ظاہر میں بھی نیک عمل کرتے ہیں

19/04/2026

20 April
World Durood
Day

19/04/2026

تمہاری زندگی کا کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس بات کا پابند ہے کہ وہ تمہاری دیکھ بھال کرے تمہیں بچائے یا وہ تبدیلی لائے جس کا تم انتظار کر رہے ہو جب تک تم خود اپنے معاملات کی باگ ڈور نہیں سنبھالتے کوئی تمہاری مدد کے لیے دوڑا نہیں آئے گا دوسروں کے سہارے کی امید چھوڑ دو تم اب بڑے ہو چکے ہو اور اب تمہارا مظلومیت کے لبادے میں جینا قابل قبول نہیں رہا یہ سچ ہے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا یا جس ماحول میں تم پروان چڑھے اس کے ذمہ دار تم نہیں ہولیکن حرکت نہ کرنے کے فیصلے کے تم مکمل طور پر ذمہ دار ہو
تمہاری زندگی کی ذمہ داری صرف تم پر ہے کوئی اور آ کر تمہیں نہیں سنبھالے گا جب تک تم خود کھڑے ہونے کا فیصلہ نہ کرو
ماضی تمہاری غلطی نہیں ہو سکتا مگر آگے نہ بڑھنا یقیناً تمہارا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔..

Photos from Saifi network's post 19/04/2026

18/04/2026

26/02/2026

17/02/2026

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Muzaffarpur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Muzaffarpur
SAIFI78692