Sajad Raza

Sajad Raza

Share

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا وہ قلم تیرے ہیں

14/01/2026

🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍
*خون کے رشتے ناراض ہو سکتے ہیں، ختم نہیں ہو سکتے، خاندان کو جوڑے رکھنا ایک فن ہے اور اس فن کا نام ہے `برداشت`*
*_ख़ून के रिश्ते नाराज़ हो सकते हैं, ख़त्म नहीं हो सकते, ख़ानदान को जोड़े रखना एक फ़न है और उस फ़न का नाम है `बर्दाश्त`_*
🌼 ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟♥️ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟🌼

07/01/2026

*ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ اگر یہی وقت آپ کی موت کا وقت ہو!*

کیا آپ کے پاس کوئی ایسی نیکی ہے جو آپ کو بچا لے؟
کوئی ایسا عمل جو آپ کے لیے آگے کی منزل آسان کر دے؟
کیا آپ نے کبھی اللہ کی رضا کے لیے کوئی ایسی قربانی دی ہے جو خالصتاً اس کی راہ میں ہو؟
کیا کوئی ایسا عمل ہے جس پر آپ بھروسہ کر سکیں اور اللہ سے اس کے بدلے اپنی بخشش کی دعا کر سکیں؟
کیا آپ کے پاس ایسی کوئی نیکی ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہو؟

آج اس بارے میں ضرور غور کریں، اپنا محاسبہ کریں اور ایسے اعمال کی جانب قدم بڑھائیں جو آخرت میں آپ کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکیں۔

یہ نصیحت سب سے پہلے میرے لیے ہے، اور پھر آپ سب کے لیے۔

07/01/2026

آج کے نوجوان فارغین متوجہ ہوں :
ملحدین اور دیوبندی دونوں اسلام کے دشمن ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان بد مذہبوں باطل فرقوں کے بیانات کو شیئر کرنے والے علماء ہوشیار ہو جائیں کیونکہ آپ کے یہ جو جذباتی حرکات ہیں یہ آپ کی نسلوں کے عقائد کو برباد کر سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ان کے بیانات کو شیئر کریں گے تو جو عوام اہل سنت بالکل سادہ مجاز کے ہیں وہ ان کے بیانات سے ان کی طرف راغب ہوں گے اور دھیرے دھیرے ان خبیثوں کی محبت ان کے دل میں پیدا ہوگی اور پھر نتیجہ یہ ہوگا کہ جو عوام اہل سنت بالکل سادہ مجاز کے ہیں وہ ان کے عقائد کی طرف راغب ہوں گے اور پھر ان کے باطل عقائد کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے اس لیے آپ کی ایک ادنی سی غلطی آپ کی نسلوں کو برباد کر سکتی ہے اور ہمیں ان بدبختوں سے
کیا غرض ؟ جن کے آباؤ اجداد نے اللہ اس کے رسول کی توہین کی ہوں وہ کیا ذات باری کو سمجھ سکتا ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ ان خبیثوں کی ویڈیوز ان کے بیانات ان کے کلپ کو ہرگز ہرگز اپنے اسٹیٹس وغیرہ پر نہ لگائیں :
نوٹ: اپنے اندر کی کمی کو دور کی جائے نہ کہ ان خبیثوں کی تشہیر کی جائے
مسلک اعلیٰ حضرت یہ ڈیمانڈ کرتا ہے
ان خبیثوں کے بیانات کو سننا حرام ، حرام ، حرام ۔ اب اپنی کمی کو دور کرنے کے بجائے ان لوگوں کی تشہیر کرنے والا مجرم ہے

28/12/2025
26/12/2025

کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ نے زمین کی حرکت کی نفی کی ہے ؟

ایک واحد اثر جو حضرت ابن مسعود سے روایت کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی نفی پر دلیل پکڑی جاتی ہے ۔ اور ائمہ نے اپنی تفاسیر میں اسی اثر کے تحت ساری ابحاث کی ہیں ۔ ہم اس اثر کی حقیقت واضح کرینگے اس تحریر میں :

امام طبری اس اثر کو روایت کرتے ہیں :
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذَهَبَ جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: حَدِّثْنَا مَا حَدَّثَكَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَنَّ السَّمَاءَ فِي قُطْبٍ كَقُطْبِ الرَّحَا، وَالْقُطْبُ عَمُودٌ عَلَى مَنْكِبِ مَلِكٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " لَوَدِدْتُ أَنَّكَ افْتَدَيْتَ رِحْلَتِكَ بِمِثْلِ رَاحِلَتِكَ؛ ثُمَّ قَالَ: مَا تَنْتَكِتُ الْيَهُودِيَّةُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فَكَادَتْ أَنْ تُفَارِقَهُ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا} كَفَى بِهَا زَوَالًا أَنْ تَدُورَ "

ہمیں جریر نے بحوالہ مغیرہ ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ ابراہیم نے کہا کہ جُندب بُجلی کعب احبار کے پاس جا کر واپس آئے۔حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:کہو کعب نے تم سے کیا کہا ؟ عرض کیا:یہ کہا کہ آسمان چکی کی طرح ایك کیلی میں ہے اور کیلی ایك فرشتے کے کاندھے پر ہے۔حضرت عبداﷲ نے فرمایا:مجھے تمنا ہوئی کہ تم اپنے ناقہ کے برابر مال دے کر ا س سفر سے چھٹ گئے ہوتے،یہودیت کی خراش جس دل میں لگتی ہے پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہے اللہ تو فرما رہا ہے بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ نہ سِرکیں،ان کے سرکنے کو گھومنا ہی کافی ہے۔
]تفسیر قرطبی [

یہ روایت سندا بھی ضعیف ہے اور متن کے اعتبار سے منکر بھی ہے ۔

سند میں علت:
اس روایت کو امام ابراہیم نخعی سے بیان کرنے والا راوی مغیرہ بن مقسم ہے ۔ جو خاص حضرت ابراہیم نخعی سے روایت کرنے میں ضعیف ہے ۔ کیونکہ انکا سماع امام ابراہیم نخعی سے بعض محدثین کے مطابق 4،5 احادیث کا تھاباقیوں میں تدلیس کرتے تھے اور بعض کا قول ہے کہ انکا سماع حضرت ابراہیم نخعی سے ثابت ہی نہیں ۔

ائمہ کے اقوال درج ذیل ہیں :
قال عبد الله بن أحمد: سَمِعتُهُ (يعني أَباه) وذكر مغيرة بن مقسم الضبي، فقال: كان صاحب سنة ذكيًا حافظًا، وعامة حديثه عن إبراهيم مدخول، عامة ما روى عن إبراهيم إنما سمعه من حماد، ومن يزيد بن الوليد، والحارث العكلي، وعن عُبيدة، وعن غيره، وجعل يضعف حديث المغيرة عن إبراهيم وحده
عبد اللہ بن احمد نے کہا: میں نے اسے (یعنی اس کے والد کو) سنا اور مغيرة بن مقسم الضبی کا ذکر کیا، فرمایا: وہ ایک صاحبِ سنت، ذہین اور حافظ تھا، اور اس کے زیادہ تر احادیث ابراہیم مدخول سے تھیں، اور جو کچھ بھی اس نے ابراہیم سے روایت کیا، وہ دراصل اس نے حماد، اور یزید بن الولید، اور الحارث العکلی، اور عُبیدہ، اور دیگر سے سنا تھا، اور انہوں نے مغيرة کے ابراہیم سے روایت کردہ احادیث کو منفرد طور پر ضعیف قرار دیا۔
]العلل [

یہی وجہ ہے امام ابن حجر اسکے بارے کہتے ہیں:
ثقة متقن إلا أنه كان يدلس و لا سيما عن إبراهيم
وہ ثقة اورمتقن تھا، البتہ وہ تدلیس کرتا تھا، خصوصاً ابراہیم سے
]تقریب التہذیب[

نیز طبقات المدلسین میں انکو تیسرے درجہ کا مدلس قرار دیا ابراہیم نخعی سےتدلیس کرنے کے حوالے سے ۔

اور یہی حکم امام ذھبی لگاتے ہیں :
وَرَوَى: نُعَيْمُ بنُ حَمَّادٍ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ:كَانَ مُغِيْرَةُ يُدَلِّسُ، وَكُنَّا لاَ نَكْتُبُ إِلاَّ مَا قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ.
نُعیم بن حماد نے ابن فضیل سے روایت کی، کہا:مغيرة تدلیس کرتا تھا، اور ہم صرف وہی لکھتے تھے جو وہ کہتا: "ابراہیم نے ہمیں روایت کی۔
]سیر اعلام النبلاء[

اب آتے ہیں اسکے متن کی طرف:
اور اس مذکورہ روایت کے مطابق اس میں زمین کی حرکت کی نفی بقول ابن مسعود رضی اللہ زمین کا زائل یا سرکنے کو قرار دیا جا رہا ہے ۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :
: {إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا} كَفَى بِهَا زَوَالًا أَنْ تَدُورَ
اللہ تو فرما رہا ہے بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ نہ سِرکیں،ان کے سرکنے کو گھومنا ہی کافی ہے۔

جبکہ یہ الفاظ منکر ہیں ۔ اس سے بہترین اور اوثق رجال نے یہ متن بیان نہیں کیا۔
جیسا کہ خود امام طبری اس روایت کو پہلے اما م ابو وائل کی سند سے بیان کرتے ہیں جو یوں ہے:
حدثنا ابن بشار قال : ثنا عبد الرحمن قال : ثنا سفيان ، عن الأعمش ، عن أبي وائل قال : جاء رجل إلى عبد الله ، فقال : من أين جئت ؟ قال : من الشأم ، . قال : من لقيت؟ قال : لقيت كعبا . فقال : ما حدثك كعب ؟ قال : حدثني [ ص: 482 ] أن السماوات تدور على منكب ملك . قال : فصدقته أو كذبته ؟ قال : ما صدقته ولا كذبته . قال : لوددت أنك افتديت من رحلتك إليه براحلتك ورحلها ، وكذب كعب ، إن الله يقول ( إن الله يمسك السماوات والأرض أن تزولا ولئن زالتا إن أمسكهما من أحد من بعده )
ابن بشار نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ اعمش سے، وہ ابو وائل سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا:
ایک آدمی حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے پاس آیا۔ حضرت عبد اللہ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟
اس نے کہا: میں شام سے آیا ہوں۔
حضرت عبد اللہ نے فرمایا: وہاں کس سے ملاقات ہوئی؟
اس نے کہا: میری ملاقات کعب (الاحبار) سے ہوئی ہے۔
حضرت عبد اللہ نے فرمایا: کعب نے تم سے کیا بات بیان کی؟
اس نے کہا: کعب نے مجھے یہ بات بتائی کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے پر گھومتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ نے فرمایا: تم نے اس کی بات کی تصدیق کی یا اسے جھٹلایا؟
اس نے کہا: نہ میں نے اس کی تصدیق کی اور نہ اسے جھٹلایا۔
حضرت عبد اللہ نے فرمایا: مجھے تو یہ پسند تھا کہ تم اپنی سواری اور اس کے سامان کے بدلے اس کے پاس جانے سے بچ جاتے (یعنی کاش تم وہاں گئے ہی نہ ہوتے)، اور کعب نےغلط کہا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے سرک نہ جائیں، اور اگر وہ سرک جائیں تو اس کے بعد کوئی بھی انہیں تھام نہیں سکتا۔
]تفسیر قرطبی و سندہ صحیح [

اس روایت کے تمام رجال معروف ثقہ متقن ہیں۔
اس میں فقط حضرت ابن مسعود رضی اللہ نے اس بات کا رد کیا کہ فرشتے کے کندھوں کےسہارے آسمان نہیں گھوم رہے بلکہ یہ بغیر کسی سہارے کے اللہ کے حکم کے سبب موجود ہے ۔
باقی نہ ہی کہیں زمین کی حرکت کی نفی کی گئی ہے اور نہ ہی آسمان کی حرکت پر بات کی گئی ہے بلکہ سرکنے یا زائل ہونے کی نفی موجود ہے ۔

اس روایت کو مزید ہم امام شعبی کے کلام سے سمجھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں کے کندھوں پر آسمان کے گھومنے کی نفی بوجہ گھومنے کے نہیں بلکہ آسمان و زمین کا بغیر کسی سہارے و ستون کے قائم رہنے کے سبب تھا۔

جیسا کہ امام یعقوب بن سفیان فسوی روایت کرتے ہیں :
ال يحي فأخبرني (186 ب) عبد الملك بن أبجر قال: سمعت الشعبي يقول: لما قدمت الشام نزلت بعبد العزيز بن مروان، فبينا أنا جالس في المسجد ذات يوم دخل شيخ قصير أحمر أصلع أقرع، فاشرأبوا له فقالوا: هذا علام العلماء، فجعل يجلس في الحلق وينتقل فيها، فقلت اللهم جئني به. فجاء فجلس في الحلقة التي أنا فيها، فقال: حدثنا ذو الكتابين أن السماء على منكب ملك. قلت: أكذبك كتاب الله. فأقبلت عليهم فقلت: ما تعجبون من ان أكذب من أكذبه الله عز وجل أزعم هذا أن السماء على منكب ملك والله عز وجل يقول: رفع السماوات بغير عمد ترونها 13: 2 [3]
حیٰ نے فرمایا کہ عبد الملک بن أبجر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے الشعبي کو یہ کہتے سنا:
"جب میں شام پہنچا تو عبدالعزیز بن مروان کے پاس ٹھہرا۔ ایک دن میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک چھوٹا، سرخ، گنجا اور تلوار والا بزرگ داخل ہوا۔ سب اس کی طرف بڑھے اور کہا: یہ عالموں کا علامہ ہے۔ وہ حلق میں بیٹھا اور ادھر ادھر حرکت کرتا رہا۔ میں نے کہا: اللہ! مجھے اس کے پاس لے آ۔
وہ آیا اور اس حلق میں بیٹھ گیا جہاں میں بیٹھا تھا۔ اس نے کہا: ‘ذو الكتابین نے ہمیں بتایا کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے پر ہے۔’
میں نے کہا: میں کتابِ اللہ کی مخالفت کرتا ہوں۔ (یعنی یہ جھوٹ ہے۔) لوگ تقریباً ناراض ہو گئے یا ناراض ہوئے۔ پھر انہوں نے کہا: تم امیر المومنین کے مہمان کے پاس کیوں آئے ہو؟ اور اس پر سب متفق ہو گئے۔
میں نے ان سے کہا: کیا تمہیں عجیب لگتا ہے کہ میں اس کی بات جھٹلاؤں جسے اللہ عزوجل جھٹلایا ہے؟
اس نے دعویٰ کیا کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے پر ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"آسمانوں کو بغیر ستون کے اٹھایا" (الرحمن: 2)
]المعرفة والتاريخ وسندہ صحیح[

یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس آیت میں مراد تزولا سے ہٹ جانے سرکنے یا اوپر سے نیچے گرنے کے معنی لیے ہیں ۔
جیسا کہ امام أبو محمد عبد الحق الأندلسي المحاربي (المتوفى: 542هـ) اس لفظ کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
أخبر عن إمساكه السماوات والأرض بالقدرة، وقوله أَنْ تَزُولا معناه كراهة أَنْ تَزُولا، ومعنى الزوال هنا التنقل من مكانها والسقوط من علوها،
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشاندہی ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کو اپنی طاقت سے تھامے ہوئے ہے۔ اور اس کے الفاظ "أَنْ تَزُولا" کا مطلب ہے کہ یہ اپنی جگہ سے ہٹنے سے منع ہیں، یعنی اللہ کی مرضی کے بغیر یہ ہٹیں یا گر جائیں۔
یہاں "زوال" سے مراد اپنی جگہ سے ہٹ جانا یا بلندی سے گرنا ہے۔

اسکے بعد بعض مفسرین کے حوالے سے نزول کی مراد حرکت و گردش سے ہٹنے کا ذکر ہے :
وقال بعض المفسرين معناه أَنْ تَزُولا عن الدوران،
اور بعض مفسرین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین گردش یا حرکت سے ہٹ جائیں۔

اور یہاں حرکت و گردش کو اس لیے شامل کیا کیونکہ انکے بقول یہ بات حضرت ابن مسعود کے کلام میں موجود ہے ۔ جیسا کہ آگے کہتے ہیں :

ويظهر من قول عبد الله بن مسعود أن السماء لا تدور وإنما تجري فيها الكواكب
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آسمان خود نہیں گھومتا بلکہ اس میں ستارے اور سیارے حرکت کرتے ہیں۔

اور پھر وہی متن پر مبنی روایت لاتے ہیں جسکو ہم نے شروع میں ثابت کیا کہ مغیرہ نے ابرہیم نخعی سے بیان کیااور روایت معلل ہے ۔ جس میں نفی گردش کے الفاظ ہیں اور اس آیت کے مطابق ابن مسعود کی طرف یہ بات منسوب ہے :
أَنْ تَزُولا وكفى بها زوالا أن تدور
کہ انکا زوال ہو ، اور اس کے لیے یہی کافی ہے کہ انہیں گھومتا ہوا مان لیا جائے
(جس پر ہمارے لوگ یہ مقدمہ کھڑا کر لیتے ہیں کہ پس حضرت ابن مسعود نےچونکہ آسمان کے زوال یا سرکنے کو گھومنے کے مترادف قرار دیا پس آسمان اگر ساکن ہے تو زمین بھی ساکن ہوئی )
پھر امام ابن عطیہ اندلسی وہی معلول روایت نقل کرتے ہیں :
وذلك أن الطبري أسند أن جندبا الجبلي رحل إلى كعب الأحباري ثم رجع فقال له عبد الله بن مسعود: حدثنا ما حدثك، فقال: حدثني أن السماء في قطب كقطب الرحا، والقطب عمود على منكب ملك، فقال له عبد الله بن مسعود: لوددت أنك افتديت رحلته بمثل راحلتك ورحلك، ثم قال: ما تمكنت اليهودية في قلب عبد فكادت أن تفارقه، ثم قال: إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا وكفى بها زوالا أن تدور
] المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز[

یہاں تک یہ ثابت ہوا کہ قرآن کی آیت سے انہوں نے أَنْ تَزُولا کا معنی اوپر سے نیچے گر جانے اور ہٹ یا مڑ جانے کے لیے ہیں ۔ اور یہ معنی نفی حرکت پر نہیں کیونکہ زمین اپنے ایک خاص مدار میں گھوم رہی ہے ۔

جیسا کہ ایک اور مفسر أبو حيان الأندلسي (المتوفى: 745هـ) اسی آیت کے زمین کی حرکت کی نفی کرنے والوں کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں :
إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا: وَالظَّاهِرُ أَنَّ مَعْنَاهُ أَنْ تَنْتَقِلَا عن أماكنها وتسقط السموات عَنْ عُلُوِّهَا.
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ہٹ نہ جائیں۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں اور آسمان اپنی بلندی سے نہ گر جائے

اور پھر قیل سے ان لوگوں کا موقف بیان کرتے ہیں جو ان تزولا سے مراد گردش سے ہٹ جانے کا قول کرتے ہیں :
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ أَنْ تَزُولَا عَنِ الدَّوَرَانِ. انْتَهَى
ور کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی گردش سے سرک نہ جائیں انکی عبارت ختم ہوئی۔

پھر اس موقف کا رد کرتے ہوئے امام کہتے ہیں :
وَلَا يَصِحُّ أَنْ الْأَرْضَ لَا تَدُورُ
اور یہ درست نہیں کہ زمین گھومتی ہی نہ ہو۔
]البحر المحيط في التفسير[

یہی وجہ ہے کہ اسی حضرت ابن مسعود رضی اللہ کی طرف معلل اثر کو نقل کرتے ہیں :
قيل لابن مسعود إن كعبا يقول: إن السماء تدور في قطبة مثل قطبة الرحى في عمود على منكب ملك فقال: كذب كعب إن الله تعالى يقول: إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا وكفى بها زوالا أن تدور،
پھر اسی اثر کی بنیاد پر کہتے ہیں :
وأما الأرض فلا خلاف بين المسلمين في سكونها والفلاسفة مختلفون والمعظم على السكون، ومنهم من ذهب إلى أنها متحركة وأن الطلوع والغروب بحركتها ورد ذلك في موضعه،
زمین کے بارے میں مسلمانوں میں اس کے ساکن ہونے میں اختلاف نہیں، اور فلسفی اس میں مختلف ہیں۔ اکثر علما زمین کے ساکن ہونے کے قائل ہیں، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ متحرک ہے اور سورج و چاند کے طلوع و غروب اس کی حرکت کی وجہ سے ہیں، اور اس کا رد متعلقہ مقام پر بیان کیا گیا ہے۔"
]تفسیر آلوسی[

معلوم ہوا مفسرین اور شارحین نے ایک معلل اثر کی بنیاد پر یہ موقف رکھا ہے ۔ جبکہ حضرت ابن مسعود سے تزول بمعنی گردش نفی نہیں ہے ۔

اور اس غیرثابت اثر کی وجہ سے بعض شارحین نے قرآن کی مذکورہ آیت :

اور جبکہ اسکے برعکس قرآن میں واضح طور پر فرمان موجود ہے :
قرآن میں اللہ کا فرمان:
"کُلٌّ" فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ
ہر شہ اپنے مدار میں تیر رہی ہے (ہر شہ ساکن نہیں)
{سورة الأنبياء:33}

نیز دوسرے مقام پر الہ فرماتا ہے:
لَا الشَّمۡسُ يَنۡۢبَغِىۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ‌ؕ "وَكُلٌّ" فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ‏
نہ ہی سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ ہی رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔
اور ہر ان میں ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔
{سوره یٰسین :40}

نوٹ: اللہ نے مطلق طور پر قران میں فرما دیا لفظ "کل" سے کہ ہر شے اپنے مدار میں تیر یعنی حرکت میں ہے۔
اور سائنس بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے اور قرآن سے اتفاق کرتی ہے۔

جیسا کہ سائنس کا مشہور دعوی ہے:
Everything in the Universe is in motion
کائنات میں ہر شے (مسلسل) حرکت میں ہے۔

بعض لوگ اس لفظ میں کل میں زمین کو استثناء دینے کی کوشش کرتے ہیں ایک آیت پیش کرکے اسکے غلط مفہوم سے

جیسا کہ کہتے ہیں :
جیسا کہ انکی پیش کردہ آیات درج ذیل ہوتی ہیں:
اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ
کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور "اس کے لئے پہاڑ بنائے" اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں
{سورہ النمل 61}

اس ایت سے زمین کا ساکن ہونا بیان کر رہے ہوتے ہیں قرار متحرک زمین کا کہا اللہ نے۔
یہاں قرار سے مراد زمین کا ساکن ہونا نہیں بلکہ زمین کا بیلنس ہونا یعنی زمین کا سرک نا جانے کا مطلب مراد ہے۔
اسکی وجہ اسی آیت میں اگلے الفاظ ہیں۔ اللہ نے اس زمین کے اقرار یعنی بیلنس میں ہونے کی وجہ "پہاڑ" کو بیان کیا ہے۔
اور یہی دعوی سائنس کا ہے:
اور پہاڑ جو ہماری زمین کی ٹکٹونک پلیٹس کے آپس میں ملنے کی وجہ سے جو ابھار بنتے وہ پہاڑ کی شکل میں وجود میں آتے ہیں۔
یہ زمین کو بیلنس کرتے ہیں۔

جیسا کہ سائنس کا دعوی ہے:
The Mountains are for the Earth what are balancing corrective masses for rotating bodies like the wheel: They stabilize the Earth indeed. Without Mountains, the Earth's vibration can cause catastrophic failure,

یعنی پہاڑ زمین کے لیے وہی کام کرتے ہیں جو کہ بیلینس کوریکیشن "ماس" گھومتے ہوئے پہیے کے لیے سرانجام دیتا ہے۔ اسی طرح پہاز زمین کو متحرک (بیلنس) کونے کے لیے ضروری ہیں۔
پہاڑوں کے بغیر زمین کی وائبریشن کی وجہ سے وہ نقصان ہوتے جس سے زمین سلامت کبھی رہہ نہ پاتی۔
اب کوئی مولوی یہ لائن پڑھ لے کہ بقول سائنس پہاڑ زمین کو سٹیبل کرتے ہیں پس سائنس نے مان لیا زمین گھوم نہیں رہی ورنہ سٹیبل کیسی؟
یہی کام مولوی ان آیات کے ساتھ کر رہے ہیں۔
کہ قران کا زمین کو بطور چادر اقرار یعنی بیلنس شدہ متحرک کہنا ہے کہ انسان کے قدموں سے سرک نہ جائے ایسا ہی سائنس کا دعوی ہے۔

جیسا کہ قران فرماتا ہے:
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا
[ النبأ 6- 7]

یہاں زمین سے مراد وہ چادر وہ سطح ہے جس پر ہم چلتے ہیں۔
اور جیسا قرآن کا دعوی ہے کہ کائنات کی ہر چیز حرکت میں ہے یہی سائنس کا دعوی ہے۔ کہ ہر شے موشن میں ہے۔
الغرض نتیجہ یہ ہے کہ

قران میں زمین کا قرار بطور "چادر" ہے کہ جس پر چلا جائے۔
اور زمین کی حرکت بطور "planet" سیارہ ہے۔ جس میں "کل" میں زمین شامل ہے۔

اور مفسرین نے اس آیت کے تحت کل میں سیاروں کو بھی شامل کیا ہے ۔
جیسا کہ امام شيخ علوان (المتوفى: 920هـ)
نے اس ''کل'' میں سیارے بھی شامل کر دیے۔
كُلٌّ اى كل واحد من الشمس والقمر وسائر السيارات فِي فَلَكٍ
''کل'' یعنی ہر ایک سورج اور چاند اور سیاروں میں اپنے مدار میں ہیں۔
[القرآنية والحكم الفرقانية]

اتنے دلائل کے بعد کچھ مولوی ایک اور اعتراض بھی کرتے ہیں ان آیت کے تحت لفظ کل میں استثناء کے طور پر
اس پر کچھ لوگوں کا ایک اعتراض درج ذیل تھا:
لفظ کل میں تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے
یعنی سورج و چاند اور ان کے توابع نجوم میں سے ہر ایک ۔۔
ﺗﻨﻮﻳﻨﻪ ﻋﻮﺽ ﻋﻦ اﻟﻤﻀﺎﻑ ﺇﻟﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺸﻤﺲ ﻭاﻟﻘﻤﺮ ﻭﺗﺎﺑﻌﻪ ﻭﻫﻮ اﻟﻨﺠﻮﻡ
[تفسیر جلالین]

الجواب :
اصل میں یہاں کل کو عام مخصوص قائدہ کے تحت مخصوص کیا گیا ہے کہ یہ اس ''کل'' سے مراد سورج ، چاند اور انکے ساتھ ستارے شامل ہیں۔
اب سب سے پہلی بات کہ یہ جن مفسرین نے نتوین کا مضاف الیہ بیان کیا ہے اس میں تخصیص کے ساتھ بھی ''کل'' میں اشیاء کو شامل کرنے میں اختلاف ہے۔
جیسا کہ صاحبین جلالین نے اس ''کل'' میں
سورج، چاند اور ستارے شامل کیے!
جبکہ انکے برعکس امام نسفی نے ''کل'' کی ضمیر فقط شمس اور چاند تک محدود کی ہے :
{وَكُلٌّ} التنوين فيه عوض عن المضاف إليه أي وكلهم والضمير للشموس والأقمار
یعنی کل سے مراد امام نسفی کے نزدیک اس قل کی ضمیر (کائنات) کے تمام سورج اور چاند کی طرف ہے
[تفسیر نسفی]

اسی طرح امام شيخ علوان (المتوفى: 920هـ)
نے اس ''کل'' میں سیارے بھی شامل کر دیے۔
كُلٌّ اى كل واحد من الشمس والقمر وسائر السيارات فِي فَلَكٍ
''کل'' یعنی ہر ایک سورج اور چاند اور سیاروں میں اپنے مدار میں ہیں۔
[القرآنية والحكم الفرقانية]

اسی طرح امام قرطبی فلکیات کی سب چیزیں جمع کر دیتے ہیں
(كل) يعني من الشمس والقمر والنجوم والكواكب والليل والنهار (في فلك يسبحون) أي يجرون ويسيرون بسرعة كالسابح في الماء
کل یعنی ان میں سورج، چاند، ستارے ، اور سیارے اور اندھیرا اور اجالا جو اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ۔ جیسا کہ تیراک پانی میں تیزی سے تیراکی کرتا ہے ۔
[تفسير القرطبي]

الغرض : بقول مفسرین ستارے ، چاند، سورج ، سیارے یہ سب اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں ۔ اور زمین بھی سیارہ ہے تو زمین بھی اس ''کل'' میں شامل ہے ۔ بیشک '' تنوین مضاف الیہ'' کا اصول لاگو کیا جائے یا نہ کیا جائے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنوین کے اصول کی اطلاق کی وجہ :
اصل میں اس وقت کے تمام مفسرین کا جو بھی فلسفہ تھا جسکی بنیاد پر انہوں نے علم فلکیات ، منفق و فلسفہ سے جو یہ قید لگائی کل میں وہ ا س لیے تھی کہ چونکہ اس وقت انسان نے زمین سے بارے خلا میں نہیں پہنچا تھا تو اسکا سارا مدار تحقیق زمین پر بیٹھ کر سیاروں اور ستاروں کی حرکات پر مشتمل علم تھا۔
جس میں یہ اندازہ نہیں ہو سکتا آیا جسکو ہم دیکھ رے ہیں یعنی ستارے و سیارے وہ ہمارے لحاذ سے حرکت میں ہیں ۔ یا حقیقت میں ہم حرکت کر رہے ہیں اور ہو ساکن ہیں ۔ یا ہم زمین پر موجود اور دیگر سیارے و ستارے ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے زمین کے بارے نہ ہی قرآن کی کسی نص سے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ساکن ہے اور نہ ہی اس موقف سے اختلاف کو نص قرآنی کی مخالفت کا درجہ دیا گیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام قرطبی کا مزید کلام :
وقيل: الجري للفلك فنسب إليها. والأصح أن السيارة تجري في الفلك، وهي سبعة أفلاك دون السموات المطبقة، التي هي مجال الملائكة وأسباب الملكوت، فالقمر في الفلك الأدنى، ثم عطارد، ثم الزهرة، ثم الشمس، ثم المريخ، ثم المشتري ثم زحل، والثامن فلك البروج، والتاسع الفلك الأعظم. والفلك واحد أفلاك النجوم. قال أبو عمرو: ويجوز أن يجمع على فعل مثل أسد وأسد وخشب وخشب. وأصل الكلمة من الدوران، ومنه فلكة المغزل، لاستدارتها.
[تفسیر قرطبی]

اس شرح کو مزید امام غلامہ رسول سعیدی صاحب نے بیان کیا ہے تبیان القرآن میں وہ فرماتے ہیں:
قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے یہ مدار آسمانوں مین ہین اور وہ کہتے تھے کہ پہلےآسمان میں قبر کی مدار ہے اور دوسرے آسمان میں عطارد کی مدار ہے ۔ تیسرے آسمان میں زہرہ کی مدار ہے ۔ اور چوتھے آسمان میں سورج کی مدار ہے ۔ پانچویں آسمان میں مریخ کی مدار ہے اور چھٹے آسمان میں مشتری کی مدار ہے ۔ اور ساتویں آسمان مین زحل کی مدار ہے ۔
یہ سات کواکب سیارہ (گردش کرنے والے ستارے) ہیں۔ ان کے بعد آٹھواں آسمان ہے جس کو فلک اطلس اور فلک البروج کہتے ہیں۔ فک الطلس میں وہ ستارے ہیں جو ثوابت ہیں اور گردش نہیں کرتے (کل میں تخصیص کرتے تھے ) یہ وہ ستارے ہیں جو ہم کو یہاں پر زمین سے نظر آتے ہیں (چونکہ ہم انکو حرکت کرتے نہیں دیکھتے لہذا یہ ساکن ستارے ہیں ) استارو سے مختلف شکلیں بن جاتی ہیں جس کے نام پر بارہ برج فرخ گئے ہیں
حمل ، ثور، جوزا ، سرطان ، سنبلہم، میزان ، عقرب، قوس، جدی ، دلو اور حوت۔
اس وجہ سے اس آسمان کو فلک البروک بھی کہتے یں ۔ اور نواں آسان فلک اعظیم ہے۔
اس تفصیل کو درج کرنے کے بعد علامہ غلام رسول سعیدی فرماتے ہیں:
یہ تفصیل قدیم فلسفہ کے مطابق ہے۔ اب حالیہ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاند اور سورج افلاک میں مرکوز نہیں ہیں۔ چاند زمین سے پونے دو لاکھ میل کی مسافت پر ہے اور کوئی سیارہ کسی آسمان میں مرکوز نہیں اور زمین سمیت تمام سیارے خلا کے اندر اپنے انے مدار میں گردش کر رہے ہین۔ اور جب خلا نورد چاند پر پہنے تو انو زمین بھی چاند کی طرح ایک روشن گولے کی طرح نظر آئی۔
[تبیان القرآن]

معلوم ہوا کہ اہل تفاسیر نے بھی ان آیات میں کل میں قیاسی اصول لاگو کیے جو علم نجوم یا فلسفہ یا مشاہدے کی بنیاد پر وجود میں آئے تھے۔ اور یہی تحقیق اور مشاہدہ ثابت ہو چکا کہ چونکہ زمین بھی حرکت میں ہے تو قرآن کی ان آیات میں ''کل'' میں جس طرح مفسرین نے چاند، سورج ، ستارے کے علاوہ سیاروں کو بھی شامل کیا اور اب زمین بھی ثابت ہے کہ ایک سیار ہے تو مفسرین کے اصول پر بھی زمین اس حرکت کرنے والے سیاروں میں مفسرین کے اصول سے بھی ثابت ہے۔

اور مشاہدہ و تحقیق کے اصول پر بھی زمین کا حرکت میں ہونا ثابت ہے ۔
اس لیے زمین کو قرآن کی نص پر ساکن سمجھنا غالی لوگوں کا کام ہے ۔ کیونکہ جنکا زمین کے ساکن ہونے کا نظریہ ہے انکے پاس قرآن میں ایک بھی نص وارد نہیں ۔ اور جو یہ اعتراضات کرتے ہیں ان میں بھی وہ تمام اعتراضات مفسرین کی ان تفاسیر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں نحوی، لغوی، فلسفی اور (انکے دور کے پر مبنی) مشاہداتی موقف تھے ۔

21/11/2025

ترجمان اہلسنت
حضرت علامہ الحاج الشیخ عبدالرشید داؤدی صاحب
مرکزی جامع مسجد شریف غازی ڈاڈورہ پلوامہ میں

15/11/2025

تیری سادگی تیری عاجزی تیری ہر ادا کمال ہے❤
❤مجھے فخر ہے مجھے ناز ہے میرا رہبر بے مثال ہے ❤
Rehbar Shaykh Dawoodi

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Ganderbal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Ganderbal