Al Bareilly Sharif Network
A Page Spreading the Teaching of Ahle Sunnah According to "Maslak e Ala-Hazrat "
Riyadh Metro 🇸🇦
ऐ शहंशाह ए मदीना अस्सलातु वस्सलाम
Follow My Page 🇮🇳
12/06/2026
*सब ए जुमां/जुमां के दिन रूहों का घर आनां*
हजरत शाह अब्दुल हक मुहद्दिस रहमतुल्लाह अलैह नक्ल करते है की- बाज रिवायतो मे आया है की मय्यत की रुह सबे जुमा को अपने घर आती है और देखती है की उसकी तरफ से कोई सदका करता है या नहीं....
*📚फतावा रजवीया जिल्द-9, सफा-652*
मोमीन की रुह हर सब ए जुमां, ईद के दिन, आशुरह के दिन, और शब ए बरात, अपने घर आकर बाहर खड़ी होती है और हर रुह गमनाक बुलन्द अवाज से निदा करती है की ऐ मेरे घर वालो ऐ मेरे औलाद ऐ मेरे रिश्तेदारो सदका करके हम पे मेहरबानी करो।
*📚कशफुल गैत बाब : अहकामे दुआ सफा-66*
*📚फतावा रजवीया जिल्द-9, सफा-652*
कम से कम जुमा के दिन अपने घर इन्तकाल कर चुके घरवालो को इसाले सवाब जरुर कर दिया करे। क्योंकी हम जो पढ़कर या सदका करके इसाले सवाब करेंगे वो उनको पहुंचेगा जिससे उनको फायदा हासिल होगा।
अगर वो मय्यत गुनाहगार थी तो गुनाह माफ होंगे और नेकियां मिलेगी और मय्यत नेक थी तो उसके जन्नत मे दर्जे बुलंद होंगे।
12/06/2026
تذکرہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنه
قسط .۶
(1)تعلیم کا نظام
(2)مدارس کا قیام
(3)ہجری سال کا آغاز
(4)اِشاعتِ اسلام
(5)بیت اللہ کی توسیع
(6)غلہ کے گودام
(7)دریاؤں پر بند کی تعمیر
(8)مہمان خانوں کی تعمیر
(9)فوج کامحکمہ
(10)نئی سڑکیں
(11)کئی نئے شہر آباد کیے گئےان شہروں میں کوفہ،بصرہ،فسطاط،موصل اور جیزہ جیسے بڑے شہر بھی شامل تھے
(12)نہروں کی تعمیر(بے شمار نہریں بنائی گئیں جن کی وسعت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے جب نہروں کی تعمیرات ہو رہی تھی اس وقت صرف صوبہ مِصر میں ایک لاکھ بیس ہزار مزدور سالانہ کام کر رہے تھے)
(13)تقریباً4,000مساجد اور 900جامع مساجد کی تعمیر
(14)آپ کے 10 سال 6 ماہ 4 دن کے دورِخلافت میں 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل پر اِسلام کا پرچم لہرانے لگا۔
(15)گورنروں سے حلف
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم
رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دورِخلافت میں
(1)
تعلیم کا نظام:
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله عنه کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا تھا جو دورِجہالت میں بھی پڑھے لکھے تھے اور ایمان لانے کے بعد اپنی تعلیم سے دوسرے لوگوں کو بھی مستفیض کیا۔یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے دورِخلافت میں تعلیم کے لئے بھی با قاعدہ ایک محکمہ قائم کیا۔
آپ نے نصاب تعلیم میں قرآنِ پاک کی ناظرہ تعلیم اور حفظ قرآنِ پاک عربی لغت اور عربی ادب کی تعلیم کو نصاب تعلیم کا جزو بنایا اور اس مقصد کے لئے ان اساتذہ کا بندوبست کیاجو کہ حفاظ تھے مفسر تھے محدث تھے فقیہہ تھے ادیب تھے مجاہد تھے اور خاص کر بارگاہِ نبوی صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کے تربیت یافتہ تھے ۔ آپ نے اساتذہ کی معقول تنخواہیں مقرر کیں تاکہ وہ دلجمعی سے طلباء کو تعلیم دے سکیں۔
رفتہ رفتہ جب نظامِ تعلیم چل پڑا تو آپ نے نظام تعلیم میں حدیث و فقہ کی تعلیم اور فنِ کتابت کو بھی اس نصاب کا حصہ بنادیا ۔
اس کے علاوہ ہر طالب علم کو نیزہ بازی، شمشیر زنی تیراندازی نشانہ بازی اور شہسواری کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔
(2)
مدارس کا قیام:
آپ نے نظام تعلیم کو روانی سے چلانے کے لئے مدارس تعمیر کروائے اور ہر مسجد کے ساتھ مدرسہ کی تعمیر پر بھی بھر پور توجہ دی۔
الغرض آپ نے اپنے دورِخلافت میں ماحول کے مطابق اور وقت کے تقاضوں کے مطابق شعبہ تعلیم پر بھر پور توجہ دی۔
آپ کے نزدیک تعلیم کا پہلا مقصد یہ تھا کہ توحید کےدیوانے تیار کئے جائیں جو کہ راہِ حق کے متلاشی ہوں اور ان کا مقصدِحیات توحید ہو ۔ لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفٰی اُجاگر کیا جاۓ اور ان کو حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کے اسوۂِ حسنہ کے مطابق زندگی گزارنے کی تعلیم دی جاۓ ۔لوگوں کو رشتہ اخوت میں باندھا جائے اور انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد سے آگاہی دی جائے
(3)
ہجری سال کا آغاز:
آپ نے اپنے دورِخلافت میں با قاعدہ ہجری سال کا آغاز کیا اور اس مقصد کے لئے حضرت سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مشورہ سے حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کی ہجرت سے نئے سال کا آغاز کیا اور سال کا آغاز محرم الحرام سے کیا گیا۔
(4)
اِشاعتِ اسلام:
آپ نے اپنے دورِخلافت میں دین کی اشاعت کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور دین اسلام کی تبلیغ کے لئے دور دراز علاقوں میں وفود بھیجے۔
مفتوحہ علاقوں میں لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لئے معلمین کا انتظام کیا جو ان علاقوں میں جا کر لوگوں کو اسلامی تعلیمات اور توحید کا درس دیتے ۔
آپ نے اپنے دور میں اپنی فوج کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ کسی کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ انہیں اپنے اخلاق سے متاثر کریں
آپ فرمایا کرتے تھے کہ دین میں زبردستی نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کےدورِخلافت میں بے شمار فتوحات کے علاوہ لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں بھی داخل ہوۓ۔
(5)
بیت اللہ کی توسیع:
سن ۱۷ (سترہ)ہجری میں آپ نے مسجدِنبوی کی توسیع کا بھی حکم دیا
کیونکہ حضور صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم سے منسوب اس شہر کی آبادی روز بروز بڑھ رہی تھی اور باہر سے بھی لوگ صرف حضور صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم سے محبت کی خاطر مدینہ منورہ میں آباد ہو رہے تھے اور ان سب کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ نماز مسجدِنبوی میں ادا کریں جس کی وجہ سے مسجدِنبوی نمازیوں کے لئے کم پڑ رہی تھی۔
اور آپ کے دورِخلافت میں فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو ہر سال حج کرنے والے زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا جس کے باعث بیت اللہ شریف کی توسیع ناگزیر ہوگئی
آپ نے ازواجِ مطہرات کے حجروں کو جوں کا توں رہنے دیا اور ان کے علاوہ گرد وپیش کے مکانات کو خرید کر مسجدِنبوی کے صحن میں شامل کر لیا گیا۔
آپ کے دورِخلافت میں مسجدِنبوی کے طول میں چالیس گز کا اضافہ کیا گیا جبکہ عرض میں بیس گز کا اضافہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ آپ نے بیت اللہ شریف کی آرائش وزیبائش پر بھی بھر پور توجہ دی۔
(6)
غلہ کے گودام:
سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنه نے غله کو محفوظ رکھنے کے لئے تاکہ قحط سالی میں کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو غلہ کے گودام تعمیر کرواۓ جس میں سرکاری غلہ کو محفوظ رکھا جاتا۔
(7)
دریاؤں پر بند کی تعمیر:
آپ نے دریاؤں پر بند تعمیر کروائے تاکہ سیلاب کے دنوں میں جو پانی شہروں میں داخل ہو کر تباہی مچاتا تھا اس سے شہر محفوظ رہ سکیں ۔
اس مقصد کے لئے آپ نےسب سے پہلے مکہ مکرمہ کے نواح میں بند تعمیر کروایا تاکہ بیت اللہ شریف اور اس کی حدود جو کہ عمومًا سیلاب کے دنوں میں پانی سے بھر جاتی تھی اس کی روک تھام ہو سکے۔
(8)
مہمان خانوں کی تعمیر:
آپ نے اپنے دورِخلافت میں مہمان خانوں کی بھی تعمیر فرمائی تاکہ دوسرے شہروں سے آۓ ہوۓ مسافروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
(9)
فوج کامحکمہ:
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالٰی عنه اور پھر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنه کے ابتدائی زمانہ خلافت میں فوج کا باقاعدہ محکمہ موجود نہ تھا اور نہ ہی تنخواہ دار فوج موجود تھی۔
جب بھی کبھی جہاد کا موقع ہوتا تو اعلان کیا جاتا جس پر ہزاروں مسلمان رضاکارانہ طور پر جہاد کے لئے تیار ہو جاتے
سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه نے رفتہ رفتہ پھیلتی ہوئی اسلامی حکومت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوۓ فوج کا محکمہ قائم کیا جس میں باقاعدہ لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور ان کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔
محکمہ فوج کے قیام کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنه نے مدینہ منورہ، فلسطین، اردن، حمص ، دمشق، مصر، فسطاط، موصل، بصرہ اور کوفہ میں فوجی مراکز قائم کئے ۔
اس کے علاوہ اسلامی مملکت کے مختلف حصوں میں چھاؤنیوں کی تعمیر کی گئی بیرکوں کی تعمیر کی گئی اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ فوج کی باقاعده تر بیت کی جائے اور انہیں ہرقسم کی سہولیات میسر کی جائیں ۔
آپ نے فوج کی آسانی کے لئے بہت سے انتظامات گئے جن میں کوچ کی حالت میں فوج کو حکم تھا کہ وہ جمعہ کے روز قیام کریں تاکہ تازہ دم ہونے کے بعد اپنا سفر جاری رکھ سکیں ۔
فوج کو دوسرے علاقوں میں بھجواتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ فوج کو وہاں کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
فوجی لشکر کے ساتھ قاضی محاسب، طبیب،جراح، مترجم اور افسرخزانہ کا تقرر کیا جاتا تاکہ دوران جنگ كسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو ۔
آپ نے فوج کے حساب کتاب کے لئے ایک علیحدہ فوجی دفتر قائم کیا جہاں ہر فوجی کا حساب کتاب رکھا جاتا۔
شہید ہونے والے فوجی کے لواحقین کی بھر پور مالی امداد کی جاتی
نادار ہونے والے اور فوجیوں کو باقاعدہ ماہانہ وظائف دیئے جاتے ۔
فوجیوں کی چھٹیوں اور دیگر معاملات کا حساب کتاب بھی اس محکمہ کے ذمہ تھا۔ اس محکمہ کے ذمہ یہ بھی کام تھا کہ وہ ہر سال فوج میں نئی بھرتیاں بھی کریں تاکہ بوقت ضرورت فوج کثیر تعداد موجود ہو۔
(سیرتِ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)
(10)
سڑکوں کی تعمیر:
سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے دورِخلافت میں بیت المال کی اضافی رقم سے بہت کی تعمیرات بھی کروائیں جن میں سب سے اہم سڑکوں کی تعمیر ہے تاکہ لوگوں کو آمد ورفت میں آسانی ہو ۔
اس مقصد کے لئےسڑکوں کا جال بِچھایا گیا پُل تعمیر کئے گئے اور چَوکیاں قائم کی گئیں۔
۱۷(سترہ) ہجری میں حرمین شریفین کے درمیان سڑک کا کام مکمل ہوا جہاں ہر منزل پر ایک فوجی چوکی قائم کی گئی سرائے بنائی گئیں ہر منزل پر پانی کا انتظام کیا گیاجس کے لئےکئی کنویں اور چشمے کھودے گئے ۔حجاجِ کرام کو حج کی بہترین سہولیات میسر کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے گئے ۔
(11)
نئےشہر:
حضرت عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنه کے دورِخلافت میں کئی نئے شہر بھی آباد کئے گئےجن کا مقصد دفاعِ اسلامی کو مضبوط کرنا تھا۔
ان شہروں میں کوفہ، بصرہ، فسطاط، موصل اور جیزہ جیسے بڑے شہر بھی شامل تھے۔ان شہروں کی تعمیر سے اسلامی حکومت مزید مضبوط اور پائیدار ہوئی اور ان شہروں کی تعمیر میں بھی اس بات کا دھیان رکھا گیا کہ ان شہروں کی تعمیر دفاعی نقطہ نظر سے ہو تاکہ جنگ کے دنوں میں انہیں بطورِقلعہ اور رسد گاہ کے استعمال کیا جاسکے۔
(12)
نہروں کی تعمیر:
آپ نے تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینوں کی پیمائش اور ریکارڈ کے بعد ان زمینوں پر باقاعدہ کاشت کاری کے لئے نہری نظام وضع کیا جس کی بدولت لاکھوں ایکڑ بنجر زمینیں بھی سیراب ہوئیں اور کاشت کاری میں اضافہ ہو۔
آپ کے دورِخلافت کا شہری نظام دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تھا جس کے لئے دریاۓِنیل سے فسطاط شہر کے لئے ایک نہر نکالی گئی جس کی لمبائی ۶۹ (اُنہتر) میل تھی جس میں سے جہاز گزر کر مدینہ منورہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے تھے ۔
اس کے علاوہ دریائےِدجلہ سے نو ميل لمبی ایک نہر نکالی گئی جو بصرہ شہر کو سیراب کرتی تھی ۔
اس کے علاوہ بےشمار نہریں بنائیں گئیں جن کی وسعت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جب نہروں کی تعمیرات ہو رہی تھیں اس وقت صرف صوبہ مصر میں ایک لاکھ بیس ہزار مزدور سالانہ کام کر رہے تھے ۔
(13)
مساجد و جامع مساجد کی تعمیر:
آپ نےخلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد اس امر پر بھی توجہ دی کہ مختلف شعبوں کے لئے عمارتوں کا قیام ضروری ہے جس کے لئے آپ نے مذہبی شعبہ قائم کیا جس کے تحت چار ہزار کے قریب مساجد تعمیر کی گئیں ۔
اس کے علاوہ بیت المال کی عمارات اور دیگر عمارات جن میں فوجی چھاؤنیاں،جیلیں اور مہمان خانے شامل ہیں تعمیر کی گئیں۔
(سیرتِ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنه ص، ٧٩ تا ٨٠)
نو سو جامع مساجد کی تعمیرکی گئیں۔
(14)
فتوحات:
آپ کے دس سال چھ ماہ چار دن کے دورِخلافت میں بائیس لاکھ اکیاون ہزار تیس مربع میل پر اِسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ جس میں شام، مصر، عراق، جزیره خوزستان، ایران،آرمینیه آذر بائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران شامل تھے۔
(تاریخ ابن خلدون،ج1 ،ص384)
(15)
گورنروں سےحلف:
گورنروں کی تقرری کرتے وقت ان سے حلف لیتے کہ ”ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا،باریک کپڑے نہ پہننا،چَھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دروازے پر دربان نہ رکھنا، حاجت مندوں کے لئے ہر وقت دروازے کھلے رکھنا ۔
(تاریخ ابن خلدون،ج 1، ص386)
طالبِ دعا:-
اسیر تاج الشریعہ
عبد الوحید قادری
امن نگر بلگام کرناٹک
Madine Ka Khubsrat Manjar 💚
゚
12/06/2026
108वॉ उर्से आला हज़रत अगस्त 8/9/10/Coming Soon
12/06/2026
रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:-
जब अल्लाह तआला ने सारी मख़लूक़ को पैदा कर लिया, तो उसने अपने पास अर्श के ऊपर रखी हुई किताब में लिख दिया: ‘बेशक मेरी रहमत मेरे ग़ज़ब (क्रोध) पर ग़ालिब है।
सहीह अल-बुखारी:7418
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Saodagran Bareilly
Bareilly
243123