majid rasool
As..Welcm To My Fb Page Also Visit My YouTube Channel. https://youtube.com/@majidrasool
30/04/2026
الحمدللہ
جاءالحق وزھق الباطل ،ان الباطل کان زھوقا
حق چھایا اور باطل ھارا ،اپریل کے مہینے کے اختتام پہ قادیانیوں کو ایک بڑی تاریخی رسوائی ۔۔۔
10 اپریل 1974 رابطہ عالم اسلامی کے تحت مکہ کے اھم اجلاس میں قادیانی کافر قرار پائے،
29 اپریل 1984پاکستان میں امتناع قادیانیت آرڈینس جاری کیا گیا،
30 اپریل 1999مرزا مسرور ملعون چناب نگر کی تختی کی آیات پر سیاھی پھیرنے کے جرم میں گرفتار ھوا،
پھر گزشتہ 29 اپریل کی پوری رات اسلام کے دوشیروں نے قادیانی آفیشل مناظرین کے لتے لئے ،اور پہلے کی طرح ایک بار پھر انھیں ذلت امیز شکست سے دوچار کیا،الحمدللہ
ان مناظرین کی تیاری اور تعاون کے سلسلہ میں بیک اپ کے طور پہ پوری رات کچھ ھستیاں ساتھ ھال میں موجود رھیں ،
عدنان رشید بھائی ،امتیاز بھائی کو بہت بہت سلام محبت،
اور انکے
اور معاونین سھیل یعقوب باوا صاحب
مفتئ سیف الرحمن صاحب
مولانا ممتازالحق صاحب
عزت اللہ خان صاحب
مولانا عثمان اقبال صاحب
بندہ کے بڑے بھائی حافظ عبدالخالق اعوان
چئیرمین منیراحمد فاونڈیشن
اللہ سب حضرات کو جزائے خیر عطافرمائے
پوری دنیا کے مسلمانوں کو بالعموم مبارکبادپیش کرتے ھیں ،
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ
ظہیراحمدظہیر
30اپریل
30/04/2026
I've just reached 300 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉
11/01/2026
I got over 10 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉
17/10/2025
الحمدللہ
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے
دارالعلوم رشیدیہ گنڈبانہال
کا سالانہ جلسۂ دستار بندی
بروز اتوار، 19 اکتوبر 2025
کو منعقد ہونے جارہا ہے۔
تمام احباب و ساتھیوں سے پرزور اپیل ہے کہ
اس بابرکت اور روحانی اجتماع میں ضرور تشریف لائیں۔
مادرِ علمی نے اپنے تمام ابنائے قدیم کو مطلع کیا ہے،
برائے کرم ضرور شرکت فرماکر دارالعلوم کی حوصلہ افزائی کریں۔
29/06/2025
"سیلاب کی لہروں میں کھڑی مردانہ غیرت
سوات کی وادی میں آنے والے ہولناک سیلاب میں، جب پانی کی بےرحم لہریں ہر سمت سے زندگی کو نگلنے آ رہی تھیں، تب انسانیت ایک لمحے کے لیے ٹھہر گئی۔ ایک چھوٹے سے پتھریلے ٹاپو پر، زندگی ایک لکیر کی صورت میں کھڑی تھی مرد، عورتیں، بچے
سب موت کے دھانے پر۔ لیکن غور سے دیکھیے!
تصویر کا منظر اپنے اندر ایک ایسا پیغام لئے بیٹھا ہے جو صرف وہی پڑھ سکتا ہے جس کی نگاہ میں ایمان اور دل میں غیرت زندہ ہو۔
یہاں سب سے پہلے اور سب سے آخر میں مرد کھڑے ہیں ایک محافظ کی طرح، ایک دیوار کی مانند۔ درمیان میں خواتین اور بچے اور ان کے آگے ایک نوجوان لڑکا، چھوٹا سہی، مگر مردانگی کے اسباق لیے ہوئے۔ یہ کوئی معمولی ترتیب نہیں، یہ فطرت کا وہ نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمایا
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"
(النساء: 34)
"مرد عورتوں پر ذمہ دار اور محافظ ہیں۔"
یہ آیت محض الفاظ نہیں، بلکہ اس تصویر میں مجسم حقیقت ہے۔
یہ تصویر اس بات کا عملی ثبوت ہے
مشکل وقت آ جائے تو فطرت خود مرد کو آگے کرتی ہے یہی اس کا مقام ہے، یہی اس کا شرف۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد کو اس عکس جیسی غیرت، شجاعت اور تحفظ کی طاقت دے، اور ہر عورت کو اس حقیقت کا ادراک کہ مرد اس کا دشمن نہیں بلکہ اللہ کا بنایا ہوا محافظ ہے ۔
یہ تصویر کسی بزدل معاشرے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی ہے جس میں مرد اب بھی اپنی جگہ پر کھڑا ہے، اور عورت اب بھی اس کی پشت پر پناہ لیتی ہے
ایسی ہی تصویر ہمارا اصل نظریہ ہے، ہمارا فطری نظام ہے،
تادم تحریر ان میں سے تین افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ جبکہ سات افراد کی لاشیں مل چکی ہیں باقی لوگوں کے لیے سرچ اپریشن جاری ہے # follower's
24/05/2025
09/04/2025
آٹھ سال گزر گئے، مگر ایک بیوی نے اپنے مرحوم شوہر کی قمیص وہیں ٹنگی رہنے دی، جیسے وہ کبھی گیا ہی نہ ہو
وہ روز اُس کی جیب میں پیسے رکھتی۔ جب بھی بچے کچھ مانگتے، وہ محبت بھری نرمی سے کہتی:
"بیٹا، اپنے ابو کی جیب سے لے لو
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک ماں کی گہری حکمت تھی—وہ چاہتی تھی کہ اُس کے بچے اپنے والد کو کبھی نہ بھولیں، اُن کی غیر موجودگی کو کبھی خلا نہ بننے دے، بلکہ ہر لمحے اُن کی موجودگی محسوس کریں
ماں صرف محبت نہیں، قربانی اور بے لوث وفا کا ایک زندہ مثال ہے
21/02/2025
🔴تاریخِ کشمیر کی کتابوں کے صفحات پلٹنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کی وادی ہمیشہ تاریخ دانوں ، مسافروں اور سچ کے متلاشیوں کے لیے روحانی کشش کا مقام بنی رہی ہے ۔ یہ جگہ ہمیشہ ان کے لیے پرسکون پناہ گاہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے وادی کے دور دراز کونوں میں تنہائی اور مراقبہ کے مقاصد کے لیے اپنا ٹھکانہ لیا۔ اس سر زمین نے عظیم داعیان اسلام اور علماء کرام جیسے عبد الرحمن بلبل شاہ ؒ ، میر سید علی ہمدانی ؒ ، میر محمد ہمدانیؒ ، سید جلال الدین بخاری ، سید تاج الدین، اور سید حسین سمنانیؒ وغیرہ کا استقبال کیا ہے ۔
ان اولیا ٕ و علماۓ کرام میں سے بعض نے یہاں کچھ وقت گزارا اور اپنے آبائی مقامات پر واپس چلے گئے لیکن کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اِس سر زمین کو اپنی مستقل آرام گاہ بنایا۔
حضرت کوثر علی شاہ افغانی نقشبندی مجددی قادری و چستی ، ایک ایسے بزرگ ہے جنھوں نے افغانسان سے آکر وادی کشمیر کو اپنا مستقل مسکن بنایا ، آپ جلال آباد افغانستان کے ایک گاؤں ” داؤ گل “ میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک پٹھان قبیلے سے تھے اور آپ کے والد کا نام محمد علی شاہ تھا۔
آپ نے رسمی طور کوٸی تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن بچپن سے ہی آپ اولیاء اللہ اور علماۓ دین کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ والدین کے انتقال کے بعد ، 26 سال کی عمر میں ، آپ نے کچھ کام کرنے کے ارادے سے اپنا گاؤں چھوڑ دیا۔ اور راولپنڈی ، کراچی اور لاہور چلے گئے اور پٹھان کوٹ پہنچے۔ یہاں آپ نے اپنے پہلے مرشد ”سید نور محمد “ عرف باباکو سے ملاقات کی ہیں ۔
" الحیاة الکوثریہ " جو اردو میں کوثر صاحب پر ایک سوانح عمری ہے ، اور مولوی عزیز اللہ اخون کی تصنیف ہے ، جنہوں نے زیادہ تر وقت کوثر صاحب کی صحبت میں گزارا اور مختلف جگہوں پر قیام کیا۔ انھوں نے ان کی زندگی پر بہت زیادہ روشنی ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں کہ کوثر صاحب نے ایران ، عراق ، شام ، فلسطین اور اردن کا سفر کیا۔ بغداد میں شاہ جیلان کے مزار پر بھی حاضری دی۔ آخر میں اردن سے مدینہ شریف کا سفر کیا۔ یہ دور ان کے لیے واقعی مشکل تھا۔ انھوں نے راتیں بیابان اور صحراؤں میں بغیر کھانے کے گزاریں اور پیدل سفر کیا۔ وہ بیماری کی وجہ سے پہلے سال اپنا حج نہیں کر سکے اور اسے اگلے سال کا انتظار کرنا پڑا ۔ عرب میں سال بھر کے قیام کے دوران وہ قرآن و حدیث سیکھنے کے لیے بڑے بڑے علماء کی صحبت میں بیٹھ گئے۔ حج کرنے کے بعد وہ کلکتہ آگیے ۔
تقسیم ہندوستان سے پہلے کوثر صاحب نے دو مرتبہ وادی کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اننت ناگ میں قیام کیا تھا۔ 1950 ٕ کی دہائی کے دوران اپنے تیسرے دورے میں وہ اننت ناگ ، سنت نگر اور برزولہ میں رہے۔
انہوں نے کچھ وقت سری نگر کے ایک گاؤں میں بھی گزارا جو نیو تھیڈ ہارون سرینگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک مختصر مدت کے لیے وہاں رُکے 1957 ٕ میں کوثر صاحب چیکریشی پورہ بانڈی پورہ آئے۔ جہاں ان سے پہلے مختلف اوقات میں تین صوفی بزرگ رہے تھے اور وہاں ایک چھوٹی مسجد بھی تھی۔
کوثر صاحب نے اس مسجد کو بڑھایا ، ایک چھوٹی سی رہائش گاہ بنائی ، اردگرد کی زمین کو ایک باغ میں تبدیل کر دیا اور ایک مکتب شروع کیا۔ بعد میں اس مکتب کو درسگاہ ، پھر ایک پرائمری اسکول اور بعد میں مڈل اسکول میں تبدیل کیا اور عمارت کو تین منزلہ تک بڑھایا۔ یہ اسکول مذہبی اور عمومی تعلیم دونوں پیش کرتا ہے اور 2006 میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔ اس جگہ ایک خوبصورت چشمے سے پورے بارہ مہینوں میں صاف پانی نکلتا ہے۔
کوثر صاحب پورے برصغیر کے اسلامی اسکالرز کے لیے تحریک کا ذریعہ رہے ہیں۔ حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی ؒ ، سابق وزیر اعلی جموں و کشمیر جناب شیخ محمد عبداللہ ، کشمیر کے سب سے بڑے دینی مدرسہ دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے ناظم اعلی حضرت مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی، جیسی عظیم شخصیات بھی ان سے بہت متاثر
ہوئے۔
کوثر صاحب نے کئی مساجد اور تعلیمی ادارے مختلف جگہوں پر تعمیر کراۓ ۔ آپ کے ایک ماۓ ناز روحانی شاگرد ، ممتاز اسلامی اسکالر اور شعبہ عربی ، کشمیر یونیورسٹی کے ایکس ایچ او ڈی ، پروفیسر علامہ و مفتی عبدالغنی ازہری بھی آپ سے بہت متاثر ہوۓ ، چناچہ وہ آپ کو رہبر کامل قرار دے کر آپ کی صحبت کو خدا کی نعمتِ عظمی شمار کرتے ہوۓ لکھتے ہیں
کہ :
”” اس کمترین پر خدا کی بے شمار نعمتیں ہیں ۔ جہاں اللہ تعالی نے مجھے حضرت شاہ عبد القادر راۓ پوری ؒ جیسے مقتدر بزرگ اور مرشد سے بیعت کیا وہاں حضرت سید قطبِ وقت رسول شاہ صاحب عرف ناگہ بابا جی ملن گام ؒ کی مجلس بھی عطا کی اور حضرت پیر و مرشد سیدنا و مولانا قطب ولایت کوثر علی صاحب صفوی نقشبندی مجددی افغانیؒ جیسے رہبر کامل کی صحبتِ تام نصیب فرماٸی اور 28 سال بارہا حضرت شریف صاحب ؒ کی محفل ” ہدایت منزل “ میں حاضر ہونے کا موقع عنایت فرمایا ““
( نورِ عرفان ص 18 )
مفتی عبد الغنی ازہری صاحب کا” دار العلوم کوثریہ“ کے نام سے ہارون سرینگر میں ایک مدرسہ بھی چل رہا ہے جس کی وجہ تأسیس کے متعلق ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی اپنی کتاب آٸینہ مدارس جموں و کشمیر لکھتے ہیں کہ :
”” چونکہ پروفیسر عبد الغنی ازہری کو حضرت کوثر علی شاہ سے سلسلہ نقشبندیہ سے مکمل اجازت حاصل ہے ۔ اسلیے حضرت نے آپ کی یاد میں علاقہ ہارون میں دار العلوم کوثریہ کی بنیاد رکھی ۔ جہاں مجدد وقت ولی کامل حضرت کوثر علی شاہ نور اللہ مرقدہ نے ایک مدت تک قیام فرما کر عبادت و ریاضت کے ساتھ تبلیغ اسلام اور اصلاح باطنی کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔آپ کی یہ تمنا تھی کہ علاقہ ہارون میں ایک بہت بڑی دینی اور روحانی علوم و فنون کا مرکز قاٸم کیا جاۓ جسکی بنیاد کتاب و سنت اور علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت اور عقاٸد اھل السنت و الجماعت اور سلف صالحین کے طریقے کی حفاظت کے لیے ہوں ۔ چناچہ حضرت کی روحانی توجہ کا یہ اثر ہوا کہ علاقہ نیو تھید ہارون میں 35 سال بعد مدرسہ کی سنگ بنیاد 11 ربیع الاول 1414 ھ کو رکھ دی گٸی ۔
[ آٸینہ مدارس جموں و کشمیر ]
مولوی عزیز اللہ اخون "الحیاة کوثریہ" میں لکھتے ہیں کہ کوثر صاحب ایک سادہ اور متقی مسلمان تھے جو قرآن و سنت پر سختی سے عمل کرتے تھے اور ان کا بنیادی مقصد اللہ کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ ان کی نہ کوئی مادی خواہش تھی اور نہ ہی کوئی دنیاوی مفاد اور کبھی فرقہ وارانہ خیالات پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔ جب بھی کوئی معاملہ اس کے نوٹس میں کسی رہنمائی یا حل کے لیے لایا جاتا ، انھوں نے اس خاص معاملے کو قرآن کی تعلیم اور پیارے نبی ﷺ کی روایات کی روشنی میں حل کیا ۔ کوثر شاہ صاحب تہجد کی نماز پڑھنے سے کبھی محروم نہیں ہوئے ، فجر سے پہلے پڑھی جانے والی خصوصی دعا وہ کبھی نہیں چھوڑتے تھے ، وہ ہر قسم کے خود ساختہ طریقوں اور بدعات کے خلاف تھے ۔ وہ ہمیشہ معاشرتی برائیوں جیسے منشیات ، جہیز اور رشوت وغیرہ کے خلاف کھڑا رہے ۔
عام لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے ان کی طرف سے بار بار ملاقاتوں کا اہتمام کرنا معمول کی بات تھی۔
کوثر صاحب کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک محمد مقبول وانی تھے جنہوں نے تقریبا دس سال ان کی رہنمائی میں گزارے۔ وہ تقریبا روزانہ کوثر صاحب سے ملتے تھے اور شام کے اوقات میں انہیں مقدس کتابیں سناتے تھے۔ وہ ان کے کاتب بھی تھے اور ان کے لیے زیادہ خطوط لکھتے تھے ۔ وہ کوثریہ درسگاہ ٹرسٹ کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں اور انہوں نے سکول کے لیے قابل تحسین کام کیا ۔ کوثر صاحب کی خواہش تھی کہ یہ سکول ہر وقت پھلتا پھولتا رہے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کوثر صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور انہیں علاج کے لیے سرینگر لے جایا گیا۔ لیکن آپ شفایاب نہیں ہو پاۓ اور 24/ فروری / 1982ٕٕٕ ٕ کو 86 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 25 سال بانڈی پورہ میں گزارے۔
اس دنیا کو چھوڑنے سے پہلے ، انھوں نے مندرجہ ذیل اثاثے چھوڑے: شلوار قمیض ، کپڑے کا ایک ٹکڑا جسے حضرت عام طور پر اپنے کندھے پر رکھتے ہیں ، رومال ، چھڑی ، (عصی شریف) ، تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مشکوة شریف جیسی کتابیں ۔🔴
میں خود بھی دو بار ان کے مزار شریف پر گیا ہوں اور اسکے متصل میں واقع مسجد میں نماز عصر بھی پڑھی ہے ۔وہاں انسان پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور اللہ کے اس ولی کی موجودگی میں کیا عالم ہوتا اس کا بھی احساس ہوجاتا ہے ، اللہ ان کے درجات کو بلند فرماۓ اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین
05/02/2025
دانتوں کے کیڑا لگنے کی حقیقت: کیا واقعی ہوتا ہے؟
عام غلط فہمی:
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ دانتوں میں کیڑا کسی چھوٹے کیڑے کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی کیڑا نہیں ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
دانتوں کا خراب ہونا منہ میں موجود بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ بیکٹیریا منہ اور ہاضمے کے نظام میں موجود ہوتے ہیں۔
کیڑا لگنے کا عمل کیسے ہوتا ہے؟
جب ہم کھاتے ہیں، تو یہ بیکٹیریا کھانے کے بچے ہوئے ذرات کو تخمیر (Fermentation) کے عمل سے گزارتے ہیں۔
اس عمل سے تیزاب (Acid) پیدا ہوتا ہے۔
یہ تیزاب دانتوں کی سطح کو آہستہ آہستہ ختم کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ، دانتوں میں خالی جگہ یا سوراخ بن جاتا ہے، جو ہمیں کیڑا لگنے کے طور پر نظر آتا ہے۔
رات کو کیڑا لگنے کی شرح زیادہ کیوں ہوتی ہے؟
دن کے وقت:
آپ کی بات چیت اور کھانے کے دوران لعاب دہن (Saliva) تیزاب کو دھو دیتا ہے۔
اس سے نقصان کم ہوتا ہے۔
رات کے وقت:
نیند کے دوران لعاب دہن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ سے تیزاب زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور دانت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔
دانت صاف کرنے کا بہترین وقت:
رات کو سونے سے پہلے دانت صاف کرنا صبح کے وقت کی صفائی سے زیادہ اہم ہے۔
رات کو صفائی سے بیکٹیریا کے اثرات کم ہوتے ہیں اور تیزابیت کنٹرول میں رہتی ہے
کھانے کے فوراً بعد پانی سے کلی کریں۔
رات کو سونے سے پہلے برش کو اپنی عادت بنائیں۔
میٹھے یا نشاستہ والے کھانوں کے بعد خاص طور پر دانتوں کی صفائی کا خیال رکھیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Banihal
Banihal