Dew-Ink Foundation
Shina adab
07/09/2023
آج کی بات
اشفاق اؔنجم ساموں
اشفاق صاحب ایک اچھے انسان کے ساتھ ساتھ وادی گریز کے ایک ابھرتے ہوۓ شاعر ، افسانہ نگار ہے ، اشفاق صاحب کوشینا اردو اور کشمیری زبان میں عبور حاصل ہیں۔ بہت جلد اشفاق صاحب کی کتاب بھی ہمارے ہاتھوں میں ہوگی انشاءلله ،امید ہیں اشفاق صاحب ادبی خدمات کرتے رہیں اور ایک کامیاب سخن ور رونما ہونگے اللہ آپ کی صحت میں برکت عطا کرے سلامت رکھے ۔۔۔ جناب والا کی ایک بےحد خوبصورت نظم "وادی گریز" آپ سامعین کی نذر۔۔۔اس نظم کے اندر اشفاق صاحب نے جس خوبصورتی سے گریز میں پای جانے والی ہر ایک شے کا ذکر کیا ہیں وہ آپ پڑنے کے بعد ہی اس خوبصورتی کو محسوس کرسکتے ہیں امید ہے
*وادی گریز*
مٹی یہاں کی ہے کتنی ذرخیز
میرا وطن ہے میرا گریز
ملک کشمیر کا ہے یہ چمن
ہر دور میں صدا رہے یہ گلشن
شروع ہوتا ہے تراگ بل کے حسیں چمن سے
بانڈی پورہ کا ہوتا ہے نظارہ کوہ خرم سے
بلندیوں پہ ہے یہ واقع
چوٹیوں میں خوبصورت اک چوٹی
پیر بابا کی ہیں جس پر نظر
بلند و بالا ہے جس کی ڈگر
جس کے درے سے ہوتا ہے نظارہ
دنیا کی درلب پہاڑی کا
شینا میں جس کو دیا میر کہتے ہے
ننگا پربت جسے تاریخ دان کہتے ہیں
سرحد پار پاکستان میں ہے اس کا قرار
دامن میں جس کے گلگت اور اسکردہ کا ہے بازار
مشہور ہے وہاں کے لوگوں کا پیار
رازدان کی ہے یہ پہاڑی
گیارہ ہزار سو فٹ جو ہے اونچی
یہاں سے جس نے بھی نظریں دوڑائ
وہ سیراب ہوا ہوگا دِلکش نظاروں سے
یہ پھلواڑی ہے پھولوں کی
خوشبو سے ہے جو معطر
ہزاروں جس میں چھڑکیں گیے ہو اطہر
گلاب جیسی ہے اس کی شکل
دنگ رہ جاتی ہے دیکھنے والوں کی عقل
قدرت نے بنایا ہے اس کیا خوبصورت
ہرطرف ہے لہلہاتے ہوے چمن
آ میری سیماب نظر سے دیکھو
یہ وادی گل پوش ہے
نظر میں بسے اسی کے پھول ہیں پمپوش ہے
ہر طرف اس کی ہے وادیاں
آو تم بھی دیکھو یہاں کی گھاٹیاں
یہاں کے جنگل ہیں بہت گھنے
یہاں درختوں کے مضبوط ہیں تنے
الگ ہی پہچان ہے ان کی
یہاں کی ہوا سے آتی ہے مدہوشیوں میں بھی جاں
پدم کے جنگل میں بس پدم ہیں
برزے کے جنگل ہر قدم قدم یہ ہیں
جڑی بوٹیاں یہاں ہیں لاتعداد
شالا مشری , جوگی پادشاہ , کی الگ ہے بات
زیرہ یہاں ہے تین قسم کا
سبز , سنہرا, اور خوشبو دار کالا
آہ وادی گریز ہے جیسے کشمیری پیالہ
یہ کشمیر کا حسن ہے , داناوں کا مسکن
وارد جو ہوتا ہے پہلے گریز
کشمکش میں ہوتا ہے دیکھ لوں کون سے میلے
لگتا ہگ یہاں آسماں بلکل سرپر ہے
سورج بھی پھوٹتا ہے ان ہی پہاڑوں سے
رات چاندنی اور تاروں کی برمار
ہر موڈ پر سرحدیں پاک وطن ملتی ہے بار بار
فوجی چوکیوں کی ہے یہاں دوطرفہ قطار
دونوں کے بیچ میں ہے کانٹوں سے لدی تار
گزرتے ہیں پھر بھی یہاں سے شہسوار
رازدان کی چوٹی ,لگا ہے لوگوں کا کاروبار
نچلے میدانوں میں ہے بانڈی پورہ کا بازار
دانئں طرف کرگل اور دراس کا اونچا کوہسار
اک طرف ہے وادی گریز کا سبزار
قبلے کی طرف مظفر آباد کا پیار
یہ ہے وادی کشمیر جو منقسم ہے
اس کے حسن کو جو بھی دیکھتا ہے
چہرے پر ہوتی ہے اس کے تبسم
جب رازدان سے اترا نچلی طرف
پہنچا سفید برزوں کے جنگل کے پاس
خوبصورت میدان جس کا ہے خاص
جبھی کیے اور موڑ کراس
دم لیا زیڈکوسی نالے پر اور لی گہری سانس
اتر کر اس میٹھے پانی کے نالے پر
بجھائ میں نے خوب پیاس
چند میل آگے بکروالوں کا آیا مقام
دہی نالہ جس کا ہے نام
جو پورے کشمیر میں ہے زبان پہ خاص و عام
کیونکہ صدیوں سے یہ مشہور ہے
مکھن , دہی , اور دیسی گھی کے لیے
نصیب ہوتی ہگ جس کو بھی یہ چیزیں
پاتا ہے لزیز ذائقے کا انعام
پھر چند میل آگے ہے یہاں کا پہلا گاوں آباد
کورگ بل ہے نام جس کا
سرسبز بھی ہے اور شاداب
جس کے چاروں طرف ہیں ہرے بھرے میدان
بھیڑ بکریوں کو چراتے ہیں وہاں کارواں
تھوڑا آگے بڑا تو پہنچا دوسرا مقام
بہت ہی خوبصورت گاوں
کنزلون ہے جس کا نام
یہی سے ملاقات ہوتی ہے مسافر کی
بہتے ہوے تیز دریا سے
بہتاب ہے جس میں نیلم کی
سرحد پار اسے دریاے نیلم کہتے ہیں
یہاں کشن گنگا سے جانتے ہیں
بنایا گیا ہے اب اسے بجلی کا ممبا
اب اس کے بہاو کو کی روگ
کیونکہ اس کے دو کناروں کو ملا کر
باندھ بنایا گیا ہے ادھر
سنا ہے بجلی بناینگے اسی سے ہزار سے زائد میگاواٹ
افسوس اجڑ گیا وہ میرا گاوں "بڈون"
یہاں کی خوبصورتی کروں کیا میں بیاں
بوے فارس یہاں ہر زرے میں ہے عیاں
زبان یہاں کی ہے شینا
جو عام ہے لوگوں کی بیانی میں
شوکت پوٹ پہاڑی یہیں ہے
حاجی بل بھی یہیں ہے
کیارہ سے زیادہ اس کے ہے گاوں
مشہور ہے تاربل کے جنگل کے چھاؤں
جو بلکل ہے سرحد پر
بھگتور سے پڑتی ہے اس کی نظر
ازمرگ ہے یہاں کا اک صحت افزا مقام
پوری دنیا میں مشہور ہے جس کا نام
یہاں کا حسن ہے کیا خوب نرالہ
خوبصورتی میں ہے یہ علاقہ سب سے پیارا
کنزلون سے آگے نیل ہے گاوں
چاہتا ہے ہرکوی یہاں کے پھل کھاوں
اس سے آگے بڑھوں تو ہے پہاڑوں کی دو چوٹیاں
جو آپس میں جیسے ہے باتوں میں مشغول
دنیا بھر میں گریز ہمارا مقبول ہے
بانہوں میں جیسے بانہیں ملا کر
گونگروں کے ساز پر
نیلم اور کشن گنگا کی آواز پر
سارا جگ جھوم اٹھتا ہے
چکراتا ہے دل گھوم اٹھتا ہے
میرا گھر بڈون گام میں تھا
جس کا ہے قصہ اب تمام
کیونکه اس گاوں کو اب وہاں سے اٹھایا گیا ہے
اور مرحومین کو سرد پانی میں ڈبویا ہے
اس گاوں کے بانہیں جانب ایک اور گام ہے
کھوپری جس کا نام ہے
درمٹ اور جگ شیے کا وہی بام ہے
بڈون کی کچھ پہاڑیوں کے نام ہے
درتھن , بجہ نیے , دآینریل مشہور و عام ہیں
آگے وانپورہ کا مشہور اک اور گام ہے
بڑا گاوں وہی تمام ہے
تاریخ میں درج جس کا نام ہے
کھنڈیال اک اور گاوں ہے
جنگل کے پڑتے جس پر چھاؤں ہے
دامن کوہ پر آباد ہے
کسر اور ڈسن جھیلں شاداب ہے
نچلی طرف اک اور گاوں ہے
کھنڈیال گاوں کی بانہوں میں
فقیر پورہ اور شاہ پورہ اسکا نام ہے
بزرگ پیروں کا یہ مقام ہے
"بابا دربیش " "بابا رزاق" کا یہاں مسکن ہے
آگے وادی گریز کا مرکز ہے
داور جس کا نام ہے
محبت کا ہے یہ مقام
مہمان نوازی میں گریز کی اپنی شان ہے
صدیوں سے الگ اس کی پہچان ہے
آگے اک خوبصورت گام ہے
مستن جس کا نام ہے
تمام دفاتر یہی رہایش پذیر ہیں
دریا کے دوسرے جانب انزہ باری پہاڑی کی خوبصورت ڈھلان ہے
ریورڑ چرتے ہیں جس پر کیلوں کے ہر صبح شام ہیں
مرکوٹ اک اور گاوں ہے
پاتل ون جھیل کی چھاؤں میں
جھلملاتی ہے جو لہریں اٹھاتی ہیں
وادی گریز کا زرہ زرہ
اس کی اونچائیوں سے دکھتا ہے کیا خوب سنہرا
میٹھی آوازیں یہاں گونجتی ہے
وادی گریز کی شان کیا اونچی ہے
آگے دریا کشن گنگا کی دوسری جانب
دو اور گاوں ہے آباد
اچھورا اور چورون گاوں ہے شاداب
دوست میرے یہاں کاتعداد ہیں
پاک سرحد انھی گاوں کے بعد ہے
چورون گاوں سے تاریخی راستہ سرحد پار جاتا ہے
آگے شاہراے ریشم "Silk Root" سے یہ ملتا ہے
وسطی ایشیا , یاد قند , روسی ترستان اور چینی تبت اور سمرقند تک
یہی سے کارواں جاتا ہے
پاک وطن یہی سے ہے
قمری وہاں کا پہلا گاوں ہے
گورے کوٹ اس کی بانہوں میں
جہاں ہمارا رشتہ دار ہے
مرحوم چاچا صمد کا پیار ہے
جو میری ماں کے قبیلے کا سردار ہے
آگے حبہ خاتون کا مشہور پہاڑ ہے
جس پر اس ملکہ نے لیا تھا کبھی قرار
جو ملکہ رہ چکی ہے ملک کشمیر کی
ہوی تھی پھر وارد گریز بھی
کیونکہ وہ یہاں کی بہو تھی
بادشاہ یوسف شاہ چک کی دلہن تھی
وادی گریز کی خوبصورتی کیا کروں میں بیاں
خوبصورتی میں ہے یہ سب سے زیادہ عیاں
یہاں کے لوگوں کی الگ شان ہے
پوری دنیا میں انجم ان کی پہچان ہے
لوگ یہاں کے جانے مانے ہیں
محبت کے بس وہ پروانے ہیں
🖊 اشفاق انجم سامون
Ishfaq Anjum Samoon Gurezi
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gurez Valley
Bandipora
193503