Mufti Hammad Raza Fans
this page Islamic motivational speaker
12/12/2025
12/12/2025
السلامُ علیکم ❤️
*⚠️ दीवाली की रात ⚠️*
*⚠️ शयात़ीन के शुरूर से बचने का ख़ास़ अ़मल✨*
✍🏻 नबीरा ए ह़ुज़ूर स़दरुश्शरीअ़ह ह़ज़रत अ़ल्लामा मुफ्ती जमाल मु़स़्त़फ़ा नूरी अमजदी साहब क़िब्ला प्रिन्सिपल जामिया अमजदिया घोसी शरीफ (मऊ)
___________________________________
अमावस की रात जादुगर अपनी त़ाक़त को बढ़ाते हैं और कई त़रह़ के सिफ़ली व सह़री कर्तव्य (अ़मल) करते हैं आप सब अपनी और अपने अहले_खाना की ह़िफ़ाज़त का ख़याल रखें ख़ास़ त़ौर पर बच्चों को मग़रिब बाद घर से बाहर निकलने से रोके रखें और मज़कूरह ज़ेल वज़ाइफ की पाबंदी करें_:
(1) आयतल् कुर्सी 7 मर्तबा पढ़कर अपने और अपने सब घर वालों पर दम करें
(2) सूरह ए फ़लक़ & सूरह ए नास 21 या 41 मर्तबा और या अल्लाहु या रह़मानु या रह़ीमु 101 मर्तबा पानी पर पढ़कर दम करें और सब घर वाले पियें, इस अ़मल को आज बाद नमाज़े मग़रिब से फ़ज्र तक के दरमियान में किसी भी वक्त करलें और अगर रात में किसी सबब ना कर पाएं तो कल दिन में करलें,
अल्लाह करीम हम सबकी ह़िफ़ाज़त फ़रमाये और बुज़ुर्गाने दीन के साया ए करम मे रखे।
(आमीन बिजाहि सय्यिदिल् मुरसलीन ﷺ💚)
*ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا؛ کیا کمال کا انسان ھوگا وہ جو ھوا میں اُڑ سکے۔*
ابوسعید نے جواب دیا؛ یہ کونسی بڑی بات ھے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ھے۔
اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ھے؟
یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ھے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ھے۔
تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ھے؟
میری نظر میں کمال یہ ھے کہ لوگوں کے درمیان رھو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ۔ کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔
یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔
حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔
دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔
: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے*
ﻣﺼﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﻥ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ، ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﭨﯿﺴﭧ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﺱ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﻣﺼﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻥ ﮔﻦ ﮔﻦ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻗﺼﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭘﮭﻴﻨﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﯾﮧ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔
ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺑﺲ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺼﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﻮ ، ﯾﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ۔
ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺍﺋﮯ ، ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﮏ ﺍﭖ ﮐﺮﻭﺍ ﺁﺋﯿﮟ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﯾﻮﺭﭖ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺍﺋﮯ ، ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺟﮍ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔
ﺍُﺳﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ، ﻋﻼﺝ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ، ﺑﮯ ﺷﮏ حدیث میں ﺳﭻ ہے ﮐﮧ ﺻﺪﻗﮧ ﮨﺮ ﺑﻼ ﮐﻮ ﭨﺎﻟﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﮯ ﺷﺌﯿﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺵ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮمائے ...
Subscribe to get exclusive benefits:
https://www.facebook.com/100091545821964/subscribenow
अस्सलामों अलैकुम प्यारे दोस्तों♥️♥️♥️
وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کے لئے ترغیب دیتا تھا۔
جب امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی_عرب کو جتلایا کہ امریکی تحفظ کے بغیر تمہاری حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔
ان ہی دنوں سعودیہ میں ایک اونٹ کو 16 ملین ریال کا سونے کاہار پہنایا گیا تھا ۔
اسلام کا کتنا عبرتناک منظر تھا جب معتصم بااللہ آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔!
کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کہ سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے جواہرات رکھ دیے۔۔۔۔۔!
پھر معتصم سے کہا :
" کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "
بغداد کا تاج دار بےچارگی و بےبسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
بولا " میں سونا کیسے کھاؤں؟ "
ہلاکو نے فورا کہا :
" پھر تم نے یہ سونا اور چاندی کیوں جمع کیا؟
وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کے لئے ترغیب دیتا تھا،
کچھ جواب نہ دے سکا۔۔۔۔۔!
ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے
اور سوال کیا:
" تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہیں بنائے ؟
تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی کہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟"
خلیفہ نے تأسف سے جواب دیا:
" اللہ کی یہی مرضی تھی "
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا:
" پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہوگی "
ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا اور چشم فلک نے دیکھا کہ اس نے بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔۔۔!
ہلاکو نے کہا " آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔۔۔۔!"
اور ایسا ہی ہوا۔۔۔۔
تاریخ تو فتوحات گنتی ہے
محل،
لباس،
ہیرے،
جواہرات
اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں۔۔۔۔۔!
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا مگر دیوار پر تلواریں ضرور لٹکی ہوئی ہوتی تھیں۔
ذرا تصور کریں۔۔۔۔۔۔!
جب یورپ کے چپےچپے پر تجربہ گاہیں
اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا
اور
اسی دوران برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران ڈلیوری فوت ہو جانے پر ریسرچ کے لئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل سکول کی بنیاد رکھ رہا تھا۔۔۔۔۔!
جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے تب یہاں تان سین جیسے گوئیے نت نئے راگ ایجاد کر رہےتھے اور نوخیز خوبصورت و پرکشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔!
جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے تب ہمارے ارباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔۔۔
تاریخ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی ؟
شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟
درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں، طوائفوں، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا جھرمٹ ہے یا نہیں ؟
تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی۔۔۔۔!
M***i Hammad Raza Fans
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Alinagar
Azamgarh
275102