Athens Universal.

Athens Universal.

Share

the platform that combines us !!!

03/05/2026

3 Μαΐου γιορτάζουμε την Παγκόσμια Ημέρα Ελευθεροτυπίας.

25/04/2026

دیس پردیس+نوائے وطن میں خصوصی رپورٹنگ!!!

24/04/2026

Big congratulations on the relaunch! 📰✨
Wishing you success, growth, and many great stories ahead.

Photos from Athens Universal.'s post 21/04/2026

ایتھنز میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم پر تاریخی دعائیہ اجتماع، یورپ میں پہلی سرکاری سرپرستی میں منعقدہ تقریب
یونان (ایتھنز) شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ایصالِ ثواب اور بلندیٔ درجات کے لیے ایتھنز میں ایک باوقار اور روحانی دعائیہ تقریب اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف مسلم کمیونٹیز نے بھرپور شرکت کر کے عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ دنیا بھر کی طرح یونان میں بھی شہید کا چہلم نہایت اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔
شیعہ مسلم کمیونٹی کے زیرِ اہتمام یہ تقریب ایتھنز کی سرکاری جامع مسجد میں منعقد ہوئی، جہاں پاکستانی کمیونٹی کے علمائے کرام، مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور مقامی مسلم نمائندگان نے شرکت کی۔ جنوبی یونان سے مفتیِ اعظم کی خصوصی شرکت نے تقریب کو مزید اہمیت بخشی، جبکہ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی۔
یہ تقریب وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ خصوصی اجازت نامے کے تحت منعقد کی گئی، اور اسے یورپ میں اپنی نوعیت کی پہلی مذہبی محفل قرار دیا جا رہا ہے جو سرکاری سرپرستی میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔
تقریب کے اختتام پر شہید آیت اللہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ سرکاری جامع مسجد میں ان کی تصاویر آویزاں کر کے شرکاء نے عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایرانی سفیر سمیت دیگر اسلامی ممالک کے سفارتکاروں اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
ترجمان شیعہ مسلم کمیونٹی، سید اشیر حیدر نے اپنے خطاب میں اس تقریب کے انعقاد پر ریاستی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تمام شرکاء کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کی تقاریب امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔

Photos from Athens Universal.'s post 18/04/2026

یونان میں اردو صحافت کی علمبردار اخبار نواۓ وطن اور دیس پردیس کی مشترکہ اشاعت کی تیاری کے حوالے سے نوائے وطن فرینڈز گروپ میں صحافی ساتھیوں کی ایک میٹنگ امونیا میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں بلائی گئی،جس میں نوائے وطن ایتھنز کے دیرینہ ساتھی اور تازہ گروپ آف کمپنیز کی سپورٹنگ ٹیم نے شرکت کی،صحافی برادری میں سینئیر ترین صحافی اور مصنف سکندر ریاض چوہان،نوائے وطن کے دیرینہ ساتھی اور صحافی سلیم بابا برنالی،اجمل سہیل بٹ،مرزا محمد رفیق،شبیر گھمن،نوائے وطن+دیس پردیس کے سینئیر ایڈیٹر سید اشیر حیدر،چئیر مین پاکستان جرنلسٹس کلب یونان ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا اور ایڈیٹر ان چیف نوائے وطن ارشاد احمد بٹ،سرپرست اعلیٰ مبشر احسن وڑائچ اور انکی ٹیم ،معروف ٹک ٹاکر عرفان بھٹی شامل تھے،گروپ کے ساتھیوں نے اخبار کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا،ارشاد احمد بٹ نے گروپ کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا، کہ اخبار نوائے وطن+دیس پردیس پاکستانی برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور انکے بہتر حل کیلئے کوشاں رہے گی،انہوں نے مزید واضع کیا کہ یہ گروپ کسی بھی تنظیم کی مخالفت یا محاز آرائی کے بجائے مدد گار بنے گی اور کسی بھی منفی سوچ کو رد کرتے ہیں ،اخبار انشاءاللہ اپریل کے آخری ہفتہ مارکیٹ میں دستیاب ہو گا،اور یونان میں پاکستانی برادری میں مفت تقسیم کیا جائیگا،سوشل میڈیا کے دور میں پرنٹ میڈیا کا آغاز ایک مشکل چیلنج تھا،جسے تازہ گروپ آف کمپنیز نے قبول کیا،گروپ میں شریک تمام ساتھیوں نے اسے ایک صحافتی معرکہ قرار دیتے ہوئے بھر پور تعاون کا عندیہ دیا۔انشاءاللہ بہت جلد صحافت کے میدان میں ایک “بگ سرپرائز” بھی پاکستانی برادری کو چونکا دے گی،،،،،ہم بنیں گے آپکی آواز۔

17/04/2026

*اٹلی اور یورپ کو مہاجرین کی ضرورت ہے — مگر وہ یہ بات تسلیم نہیں کرتے*
یورپ کی آبادیاتی گھڑی تیزی سے چل رہی ہے۔ 2030 تک اندازہ ہے کہ یورپی یونین کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کی عمر 65 سال سے زیادہ ہوگی۔
پیدائش کی کم ہوتی شرح کے ساتھ مل کر، کام کرنے کے قابل عمر کی آبادی میں یہ کمی مزدوروں کی قلت کو مزید بڑھائے گی۔
اس کا نتیجہ ایک مانوس یورپی تضاد کی صورت میں نکلتا ہے: حکومتیں ایک طرف پناہ اور سرحدی کنٹرول کو سخت کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے قانونی ہجرت کے راستوں کو بڑھا رہی ہیں۔
اٹلی شاید اس کشمکش کی سب سے واضح مثال پیش کرتا ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کمی کے بعد، اٹلی کی آبادی بمشکل مستحکم ہوئی ہے۔
اس کی وجہ نہ تو پیدائش میں اضافہ ہے اور نہ ہی ہجرت میں کمی، بلکہ نقل مکانی ہے۔ خالص آمد نے پیدائش اور اموات کے درمیان مستقل فرق کو متوازن کیا ہے، اور ایک ایسے ملک میں آبادیاتی توازن پیدا کیا ہے جہاں عمر رسیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اگر اس مساوات سے ہجرت کو نکال دیا جائے، تو اٹلی کی آبادی اب بھی تیزی سے کم ہو رہی ہوتی۔
لیکن سیاسی طور پر، ملک مخالف سمت میں جا رہا ہے۔
جیورجیا میلونی کی حکومت نے سخت پالیسی کو مزید مضبوط کیا ہے: حراست کی مدت بڑھانا، خاندانی ملاپ کو محدود کرنا، پناہ کے عمل کو تیز کرنا، اور اٹلی کی سرحدوں سے باہر کنٹرول کے اقدامات کو وسیع کرنا۔
یہ اقدامات یورپ بھر میں ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعداد و شمار بھی اسی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025 میں پناہ کی درخواستوں میں 27 فیصد کمی آئی۔
لیکن اسے صرف ہجرت میں کمی کی کہانی سمجھنا گمراہ کن ہوگا۔ دراصل ایک راستہ (انسانی بنیادوں پر داخلہ) کم ہو رہا ہے، جبکہ دوسرا راستہ خاموشی سے دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔
قانونی ہجرت، جو اب زیادہ تر لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جڑی ہوئی ہے، مسلسل بڑھ رہی ہے۔
میلونی کا “فلو ڈکری”
اٹلی میں اس کی واضح مثال ڈی کریٹو فلوسی (فلو ڈکری) ہے، جو 2026 سے 2028 تک کا حکومتی پروگرام ہے۔ اس کے تحت غیر یورپی کارکنوں کے لیے تقریباً پانچ لاکھ داخلوں کی اجازت دی گئی ہے، جن میں سے صرف 2026 میں ہی 150,000 سے زیادہ شامل ہیں۔ یہ اس کمی کو ظاہر کرتا ہے جسے مقامی مزدور اب پورا نہیں کر سکتے۔
اس کا نتیجہ ایک دوہرا نظام ہے۔
ایک طرف سخت اور نمایاں پناہ کا نظام ہے جو کنٹرول کا پیغام دیتا ہے۔
دوسری طرف لیبر مائیگریشن کا ایک تکنیکی نظام ہے جو معمر ہوتی معیشت میں خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اٹلی، یورپ کے دیگر ممالک کی طرح، دو متضاد تقاضوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے: سرحدی کنٹرول کے سیاسی مطالبات اور غیر ملکی مزدوروں پر معاشی انحصار۔
اس لحاظ سے، اٹلی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنے مہاجرین کو داخل ہونے دیتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے آنے کے بعد انہیں کس طرح معاشرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آبادیاتی دلیل کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پیدائش سے متعلق پالیسیاں اور ہجرت کی پالیسیاں مختلف وقت کے پیمانوں پر کام کرتی ہیں۔ نئے پیدا ہونے والے بچے کئی دہائیوں بعد جا کر لیبر مارکیٹ میں شامل ہوتے ہیں، جبکہ بڑھتی عمر کے مسائل ابھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ہجرت اس دباؤ کو تیزی سے کم کر سکتی ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب ممالک کارکنوں کو مؤثر طریقے سے اپنی طرف متوجہ کریں، انہیں برقرار رکھیں اور معاشرے میں ضم کریں۔
اس فرق کو مزید واضح طور پر اسپین کی مثال سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسپین نے زیادہ کھلے اور ترقی پر مبنی نقطہ نظر اپنایا ہے، جس میں بھرتی کے ساتھ قانونی حیثیت دینا اور وسیع شمولیت شامل ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی کا ماڈل زیادہ مبہم ہے۔
اگرچہ قانونی لیبر کے راستے بڑھ رہے ہیں، لیکن وہ سختی سے کنٹرول کیے جاتے ہیں اور سیاسی طور پر کم نمایاں رکھے جاتے ہیں۔ توجہ انضمام کے بجائے افادیت پر زیادہ ہے۔
یہ توازن کب تک برقرار رہ سکتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ آبادیاتی حقائق آسانی سے تبدیل نہیں ہوتے۔
اگرچہ مجموعی طور پر اٹلی کی آبادی مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن کام کرنے کی عمر کی آبادی اب بھی کم ہو رہی ہے اور عمر کا تناسب مزید خراب ہو رہا ہے۔
مسلسل آمد کے بغیر، کمی دوبارہ شروع ہو جائے گی؛ اور بہتر انضمام کے بغیر، یہ آمد اپنی مکمل صلاحیت نہیں دکھا سکے گی۔
لہٰذا اصل تضاد صرف بندش اور کشادگی کے درمیان نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے ملک کے درمیان ہے جو بڑھتے ہوئے ہجرت پر انحصار کر رہا ہے، اور ایک پالیسی نظام جو اب بھی مہاجرین کو اپنے طویل مدتی مستقبل کا حصہ تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

16/04/2026

*اسپین نے تقریباً 500,000 غیر دستاویزی مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی*

اسپین کی حکومت نے 500,000 غیر دستاویزی مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس سے انہیں باقاعدہ طور پر لیبر مارکیٹ (افرادی قوت) میں شامل کیا جا سکے گا۔

وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اپنی حکومت کے اس فیصلے کو "انصاف کا عمل" اور اسپین کے لیے ایک ضرورت قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر ہسپانوی عوام کے نام اپنے خط میں، سوشلسٹ رہنما سانچیز نے کہا کہ اس بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے کا مقصد "تقریباً پانچ لاکھ افراد کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے جو پہلے ہی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں"۔

اسپین کی قدامت پسند اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی (PP) نے اس اقدام کو روکنے کی کوشش کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی مہاجرین کو انعام دینے کے مترادف ہے اور مزید لوگوں کو آنے کی ترغیب دے گا۔

حکومت کے منصوبے کے تحت غیر دستاویزی مہاجرین کو ایک سال کا قابلِ تجدید رہائشی پرمٹ دیا جائے گا۔ اہل ہونے کے لیے درخواست دہندگان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پہلے ہی پانچ ماہ سے اسپین میں رہ رہے ہیں اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے۔ درخواست دینے کی مدت 16 اپریل سے جون کے اختتام تک ہوگی۔

سانچیز نے کہا کہ مہاجرین نے "ایک امیر، کھلے اور متنوع اسپین کی تعمیر میں مدد دی ہے، جس کے ہم حامل ہیں اور جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں"۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ مہاجرین معیشت اور عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام اس ملک کے لیے درست ہے جس کے بہت سے شہری ماضی میں بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔

فنکاس (Funcas) تھنک ٹینک کے اندازے کے مطابق اسپین میں تقریباً 840,000 غیر دستاویزی مہاجرین موجود ہیں، جن میں اکثریت لاطینی امریکہ سے تعلق رکھتی ہے۔

بولیویا سے تعلق رکھنے والے ایک گرافک ڈیزائنر ریکارڈو نے کہا: "یہ بہت سے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگا، انہیں کام اور بہتر معیارِ زندگی تک رسائی ملے گی۔" وہ خود مستحکم ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس اسکیم کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "اس سے ہسپانوی ریاست کو زیادہ آمدنی ہوگی اور آجرین کے لیے قانونی طور پر زیادہ کارکن دستیاب ہوں گے۔"

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندازے غلط ہیں اور تقریباً دس لاکھ مہاجرین اس اسکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے اس منصوبے کو "قابلِ مذمت" قرار دیا ہے۔

اس کے برعکس، کیتھولک چرچ نے حکومت کی اس قانون سازی کی حمایت کی ہے۔

یہ اسکیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کے کئی دیگر ممالک امیگریشن پر کنٹرول سخت کر رہے ہیں۔

ماضی میں سوشلسٹ اور پیپلز پارٹی دونوں حکومتیں مہاجرین کے لیے عام معافی (amnesty) دے چکی ہیں۔ سب سے حالیہ مثال 2005 کی ہے، جب ایک سوشلسٹ حکومت کے تحت 577,000 افراد کو رہائش دی گئی تھی۔

11/03/2026

ایتھنز میں ٹریفک پولیس کی ایک نئی خصوصی سروس !!!!
ڈرائیونگ ایسوسی ایشن کا واٹس ایپ گروپ۔
https://chat.whatsapp.com/HVDHk6Ct3NaKGAIry3SstX?mode=gi_t

26/02/2026

اگر آپ ایتھنز (یونان) میں پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ ہیں (مسافر ٹیکسی، ٹرک ، بس، وین، چلاتے ہیں) تو آج ہی انا واٹس ایپ گروپ جائن کریں
https://chat.whatsapp.com/HVDHk6Ct3NaKGAIry3SstX?mode=gi_t

05/02/2026

پروفیشنل ڈرائیورز اب ایک ساتھ ایک آواز۔
------Driver's official WhatsApp group-----
واٹس ایپ گروپ میں ⚠️ صرف پروفیشنل ڈرائیونگ کے شعبے سے منسلک حضرات ہی شمولیت کریں شکریہ۔
https://chat.whatsapp.com/HVDHk6Ct3NaKGAIry3SstX?mode=gi_t

26/12/2025

اگر آپ کے پاس یورپ کا ڈرائیونگ لائسنس ہے تو اس ویڈیو میں جانئیے کہ کیا کیا تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Athens?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Athens