Athens Universal.

Athens Universal.

Share

the platform that combines us !!!

20/05/2026

اہم اطلاع 🔴
حال ہی میں گالاچی کے علاقے میں کم عمر بچوں کو اغوا کرنے کی 3 کوششیں دیکھی گئی ہیں، جن میں آج گالاچی کی پہاڑی پر بچوں کو اغوا کرنے کی بھی ایک کوشش شامل ہے۔
وہاں حیران کن بات یہ تھی کہ دو 12 سالہ لڑکوں نے ایک پانچ سالہ بچے کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ قریب کھڑی گاڑی تک لے جانے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کے ساتھ چلا جائے۔ جب والدین کو اندازہ ہوا کہ کیا ہونے والا ہے، تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا،،،، اور وہ لڑکے چھوٹے بچے کے والدین کو دیکھ کر تقریباً 6 میٹر اونچی جگہ سے پہاڑی کے پیچھے کود کر فرار ہو گئے…
نہ صرف بذات خود اپنے بچوں کے لیے بلکہ اگر آپ کے اردگرد جان پہچان والی فیملیز ہیں تو برائے کرم ان سب کو بھی خبردار کر دیں کہ کچھ خاص گروپ سرگرم ہیں بہت احتیاط برتیں ۔ اپنے بچوں کا بہت خیال رکھیں ۔

حال ہی میں گالاچی کے علاقے میں کم عمر بچوں کو اغوا کرنے کی 3 کوششیں دیکھی گئی ہیں، جن میں آج گالاچی کی پہاڑی پر بچوں کو اغوا کرنے کی بھی ایک کوشش شامل ہے۔
وہاں حیران کن بات یہ تھی کہ دو 12 سالہ لڑکوں نے ایک پانچ سالہ بچے کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ قریب کھڑی گاڑی تک لے جانے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کے ساتھ چلا جائے۔ جب والدین کو اندازہ ہوا کہ کیا ہونے والا ہے، تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا،،،، اور وہ لڑکے چھوٹے بچے کے والدین کو دیکھ کر تقریباً 6 میٹر اونچی جگہ سے پہاڑی کے پیچھے کود کر فرار ہو گئے…
نہ صرف بذات خود اپنے بچوں کے لیے بلکہ اگر آپ کے اردگرد جان پہچان والی فیملیز ہیں تو برائے کرم ان سب کو بھی خبردار کر دیں کہ کچھ خاص گروپ سرگرم ہیں بہت احتیاط برتیں ۔ اپنے بچوں کا بہت خیال رکھیں ۔

17/05/2026

*الیگزینڈر ڈوبرِنٹ یورپی یونین کی اندرونی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے حمایت برقرار*
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے یورپی یونین کی اندرونی سرحدوں پر کنٹرول جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موجودہ لائحہ عمل مہاجرتی پالیسی کا اہم حصہ رہنا چاہیے، حالانکہ عدالتیں اور محققین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے، جو اپنی وزارت کا ایک سال مکمل کرنے والے ہیں، مہاجرتی تبدیلی پر سخت موقف اپنائے بیٹھے ہیں۔ تاہم عدالتوں نے ان کی پالیسی کے مرکزی نکتے یعنی سرحدی کنٹرولز کو غیر قانونی قرار دینا شروع کر دیا ہے، جبکہ مہاجرتی امور کے ماہرین نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان کے پیش کردہ اعداد و شمار واقعی کسی کامیابی کو ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔
مرکزِ دائیں بازو کی جماعت CSU سے تعلق رکھنے والے ڈوبرِنٹ نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن سرحدی نگرانی سخت کرنے کا اعلان کیا تھا، جو CDU/CSU اتحاد کے ایک اہم انتخابی وعدے کی تکمیل تھی۔
اس کے بعد سے وفاقی پولیس نے سرحدوں پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس بھیجنا شروع کیا۔ ٹیگس شاؤ کے مطابق ڈوبرِنٹ کی تقرری سے اپریل 2026 تک تقریباً 1,340 افراد کو سرحد سے واپس لوٹایا گیا۔
ماہانہ بنیادوں پر مسترد کیے جانے والوں کی تعداد تقریباً 2,000 سے 3,000 کے درمیان برقرار رہی، جو ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کے اعداد و شمار سے زیادہ مختلف نہیں۔
دوسری جانب پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ تعداد 2023 میں 3 لاکھ 50 ہزار سے کم ہو کر گزشتہ برس 1 لاکھ 70 ہزار رہ گئی۔
ڈوبرِنٹ نے اس کمی کو اپنی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا: ہم اب تک سرحدوں پر 8,000 گرفتاری کے وارنٹس پر عمل درآمد کر چکے ہیں
تاہم مہاجرتی امور کی محقق وکٹوریہ ریٹیگ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے ٹیگس شاؤ سے گفتگو میں کہا: اگر اعداد و شمار بڑھ جائیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم پوشیدہ معاملات کو سامنے لا رہے ہیں۔ اگر تعداد کم ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں، اور اگر تعداد وہی رہے تو کہا جاتا ہے کہ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سائنسی اعتبار سے یہ مکمل فضول بات ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ نہایت مؤثر ہے۔
متعدد عدالتیں بھی ان کنٹرولز کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں۔ حال ہی میں کوبلنز کی انتظامی عدالت نے مارچ سے ستمبر 2025 کے دوران لکسمبرگ اور جرمنی کی سرحد پر نافذ داخلی سرحدی کنٹرولز کو غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت کے مطابق وفاقی حکومت ان اقدامات کی ضرورت کو مناسب انداز میں ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
اس کے باوجود ڈوبرِنٹ نے کہا ہے کہ وہ یہ کنٹرولز برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کے سیاستدان اولی گریوچ نے کہا کہ قانون کے مطابق سرحدی کنٹرولز کو منظم کرنے کے طریقے تلاش کرنا فوری ضرورت ہے۔
ڈوبرِنٹ نے ان کنٹرولز کو عارضی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب یورپی مہاجرتی نظام مؤثر انداز میں کام کرنے لگے گا تو جرمنی دوبارہ سرحدی کنٹرولز سے دور جا سکے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسا کب ممکن ہوگا۔
*طالبان سے مذاکرات پر تنقید!!!*
افغانستان میں بے دخلیوں کے انتظام کے لیے طالبان سے براہِ راست رابطوں کے فیصلے پر ڈوبرِنٹ کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
گرین پارٹی کے رکنِ پارلیمان مارسل ایمرش نے اسے سرحدی پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے ڈوبرِنٹ پر طالبان کے لیے دروازہ کھولنے کا الزام لگایا۔
ZDF کے پروگرام میگزین روئیال کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ طالبان کے نمائندے جرمن سرکاری عمل میں شامل رہے تاکہ ان بے دخلیوں کو ممکن بنایا جا سکے۔
ایمرش نے کہا: یہ حقیقت مکمل طور پر نظر انداز کی جا رہی ہے کہ یہ حکومت دہشت گردی کی نمائندہ ہے، انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی کرتی ہے اور خواتین پر شدید ظلم ڈھاتی ہے۔
دریں اثنا، زارلینڈ کی SPD وزیرِ اعلیٰ آنکے رہ لنگر نے خبردار کیا کہ سرحدی کنٹرولز کو مستقل شکل نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا: میں اب بھی سمجھتی ہوں کہ یورپ میں مستقل سرحدی کنٹرولز کوئی مناسب حل نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدت میں ایسے اقدامات فائدے سے زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔

16/05/2026

ڈرائیورز ایسوسی ایشن (ایتھنز ، گریس) کے قیام سے ڈرائیور برادری میں خوشی کی لہر، پہلی مرکزی باڈی تشکیل !!!!
ΈΝΩΣΗ ΟΔΗΓΏΝ ΤΡΊΤΩΝ ΧΩΡΏΝ
THIRD COUNTY DRIVERS ASSOCIATION
شہر بھر کے ٹرک، ٹیکسی، بس، وین اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے اپنے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ایک مشترکہ ڈرائیورز ایسوسی ایشن قائم کر دی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا آغاز گزشتہ سال کیا گیا تھا، جبکہ اس کی پہلی مرکزی باڈی 15 مئی 2026 کو باضابطہ طور پر تشکیل دے دی گئی۔
ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد ڈرائیور برادری کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں اور حکام تک پہنچایا جا سکے۔ مرکزی باڈی کی تشکیل کے موقع پر مقررین نے کہا کہ ڈرائیور حضرات ملک کی ترقی اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ روزمرہ ٹرانسپورٹ، مسافروں کی سہولت اور سامان کی ترسیل انہی کی محنت کی بدولت ممکن ہوتی ہے۔
اس موقع پر صدر سید نوید کاظمی کا کہنا تھا کہ ڈرائیورز ایسوسی ایشن ڈرائیوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر روزگار، مناسب اجرت، سڑکوں پر تحفظ، طبی سہولیات اور سماجی فلاح کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان ڈرائیوروں کے لیے تربیتی پروگرامز، روڈ سیفٹی آگاہی مہمات اور حادثات کی صورت میں امدادی تعاون بھی ایسوسی ایشن کی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔
مرکزی باڈی کے عہدیداران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ڈرائیور برادری کو متحد رکھتے ہوئے ہر ڈرائیور کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ڈرائیوروں کے لیے بہتر قوانین، انشورنس، سوشل سیکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ باعزت اور محفوظ ماحول میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
شہری حلقوں نے بھی ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پلیٹ فارم ڈرائیور برادری کی فلاح، اتحاد اور مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
--------------------------------------------------------------
تمام ڈرائیور بھائیوں (ٹرک، ٹیکسی، بس، وین وغیرہ) سے گزارش ہے کہ وہ ہماری ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں ضرور شامل ہوں۔
اس گروپ کا مقصد ڈرائیور برادری کے مسائل، معلومات، اپ ڈیٹس اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو ایک دوسرے تک پہنچانا ہے۔
براہ کرم اس لنک کے ذریعے گروپ جوائن کریں اور اس مشترکہ پلیٹ فارم کا حصہ بنیں:

https://chat.whatsapp.com/HVDHk6Ct3NaKGAIry3SstX

آپ کی شرکت ہمارے اتحاد اور مضبوطی کا باعث ہوگی.

03/05/2026

3 Μαΐου γιορτάζουμε την Παγκόσμια Ημέρα Ελευθεροτυπίας.

25/04/2026

دیس پردیس+نوائے وطن میں خصوصی رپورٹنگ!!!

24/04/2026

Big congratulations on the relaunch! 📰✨
Wishing you success, growth, and many great stories ahead.

Photos from Athens Universal.'s post 21/04/2026

ایتھنز میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم پر تاریخی دعائیہ اجتماع، یورپ میں پہلی سرکاری سرپرستی میں منعقدہ تقریب
یونان (ایتھنز) شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ایصالِ ثواب اور بلندیٔ درجات کے لیے ایتھنز میں ایک باوقار اور روحانی دعائیہ تقریب اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف مسلم کمیونٹیز نے بھرپور شرکت کر کے عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ دنیا بھر کی طرح یونان میں بھی شہید کا چہلم نہایت اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔
شیعہ مسلم کمیونٹی کے زیرِ اہتمام یہ تقریب ایتھنز کی سرکاری جامع مسجد میں منعقد ہوئی، جہاں پاکستانی کمیونٹی کے علمائے کرام، مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور مقامی مسلم نمائندگان نے شرکت کی۔ جنوبی یونان سے مفتیِ اعظم کی خصوصی شرکت نے تقریب کو مزید اہمیت بخشی، جبکہ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی۔
یہ تقریب وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ خصوصی اجازت نامے کے تحت منعقد کی گئی، اور اسے یورپ میں اپنی نوعیت کی پہلی مذہبی محفل قرار دیا جا رہا ہے جو سرکاری سرپرستی میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔
تقریب کے اختتام پر شہید آیت اللہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ سرکاری جامع مسجد میں ان کی تصاویر آویزاں کر کے شرکاء نے عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایرانی سفیر سمیت دیگر اسلامی ممالک کے سفارتکاروں اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
ترجمان شیعہ مسلم کمیونٹی، سید اشیر حیدر نے اپنے خطاب میں اس تقریب کے انعقاد پر ریاستی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تمام شرکاء کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کی تقاریب امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔

Photos from Athens Universal.'s post 18/04/2026

یونان میں اردو صحافت کی علمبردار اخبار نواۓ وطن اور دیس پردیس کی مشترکہ اشاعت کی تیاری کے حوالے سے نوائے وطن فرینڈز گروپ میں صحافی ساتھیوں کی ایک میٹنگ امونیا میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں بلائی گئی،جس میں نوائے وطن ایتھنز کے دیرینہ ساتھی اور تازہ گروپ آف کمپنیز کی سپورٹنگ ٹیم نے شرکت کی،صحافی برادری میں سینئیر ترین صحافی اور مصنف سکندر ریاض چوہان،نوائے وطن کے دیرینہ ساتھی اور صحافی سلیم بابا برنالی،اجمل سہیل بٹ،مرزا محمد رفیق،شبیر گھمن،نوائے وطن+دیس پردیس کے سینئیر ایڈیٹر سید اشیر حیدر،چئیر مین پاکستان جرنلسٹس کلب یونان ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا اور ایڈیٹر ان چیف نوائے وطن ارشاد احمد بٹ،سرپرست اعلیٰ مبشر احسن وڑائچ اور انکی ٹیم ،معروف ٹک ٹاکر عرفان بھٹی شامل تھے،گروپ کے ساتھیوں نے اخبار کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا،ارشاد احمد بٹ نے گروپ کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا، کہ اخبار نوائے وطن+دیس پردیس پاکستانی برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور انکے بہتر حل کیلئے کوشاں رہے گی،انہوں نے مزید واضع کیا کہ یہ گروپ کسی بھی تنظیم کی مخالفت یا محاز آرائی کے بجائے مدد گار بنے گی اور کسی بھی منفی سوچ کو رد کرتے ہیں ،اخبار انشاءاللہ اپریل کے آخری ہفتہ مارکیٹ میں دستیاب ہو گا،اور یونان میں پاکستانی برادری میں مفت تقسیم کیا جائیگا،سوشل میڈیا کے دور میں پرنٹ میڈیا کا آغاز ایک مشکل چیلنج تھا،جسے تازہ گروپ آف کمپنیز نے قبول کیا،گروپ میں شریک تمام ساتھیوں نے اسے ایک صحافتی معرکہ قرار دیتے ہوئے بھر پور تعاون کا عندیہ دیا۔انشاءاللہ بہت جلد صحافت کے میدان میں ایک “بگ سرپرائز” بھی پاکستانی برادری کو چونکا دے گی،،،،،ہم بنیں گے آپکی آواز۔

17/04/2026

*اٹلی اور یورپ کو مہاجرین کی ضرورت ہے — مگر وہ یہ بات تسلیم نہیں کرتے*
یورپ کی آبادیاتی گھڑی تیزی سے چل رہی ہے۔ 2030 تک اندازہ ہے کہ یورپی یونین کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کی عمر 65 سال سے زیادہ ہوگی۔
پیدائش کی کم ہوتی شرح کے ساتھ مل کر، کام کرنے کے قابل عمر کی آبادی میں یہ کمی مزدوروں کی قلت کو مزید بڑھائے گی۔
اس کا نتیجہ ایک مانوس یورپی تضاد کی صورت میں نکلتا ہے: حکومتیں ایک طرف پناہ اور سرحدی کنٹرول کو سخت کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے قانونی ہجرت کے راستوں کو بڑھا رہی ہیں۔
اٹلی شاید اس کشمکش کی سب سے واضح مثال پیش کرتا ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کمی کے بعد، اٹلی کی آبادی بمشکل مستحکم ہوئی ہے۔
اس کی وجہ نہ تو پیدائش میں اضافہ ہے اور نہ ہی ہجرت میں کمی، بلکہ نقل مکانی ہے۔ خالص آمد نے پیدائش اور اموات کے درمیان مستقل فرق کو متوازن کیا ہے، اور ایک ایسے ملک میں آبادیاتی توازن پیدا کیا ہے جہاں عمر رسیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اگر اس مساوات سے ہجرت کو نکال دیا جائے، تو اٹلی کی آبادی اب بھی تیزی سے کم ہو رہی ہوتی۔
لیکن سیاسی طور پر، ملک مخالف سمت میں جا رہا ہے۔
جیورجیا میلونی کی حکومت نے سخت پالیسی کو مزید مضبوط کیا ہے: حراست کی مدت بڑھانا، خاندانی ملاپ کو محدود کرنا، پناہ کے عمل کو تیز کرنا، اور اٹلی کی سرحدوں سے باہر کنٹرول کے اقدامات کو وسیع کرنا۔
یہ اقدامات یورپ بھر میں ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعداد و شمار بھی اسی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025 میں پناہ کی درخواستوں میں 27 فیصد کمی آئی۔
لیکن اسے صرف ہجرت میں کمی کی کہانی سمجھنا گمراہ کن ہوگا۔ دراصل ایک راستہ (انسانی بنیادوں پر داخلہ) کم ہو رہا ہے، جبکہ دوسرا راستہ خاموشی سے دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔
قانونی ہجرت، جو اب زیادہ تر لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جڑی ہوئی ہے، مسلسل بڑھ رہی ہے۔
میلونی کا “فلو ڈکری”
اٹلی میں اس کی واضح مثال ڈی کریٹو فلوسی (فلو ڈکری) ہے، جو 2026 سے 2028 تک کا حکومتی پروگرام ہے۔ اس کے تحت غیر یورپی کارکنوں کے لیے تقریباً پانچ لاکھ داخلوں کی اجازت دی گئی ہے، جن میں سے صرف 2026 میں ہی 150,000 سے زیادہ شامل ہیں۔ یہ اس کمی کو ظاہر کرتا ہے جسے مقامی مزدور اب پورا نہیں کر سکتے۔
اس کا نتیجہ ایک دوہرا نظام ہے۔
ایک طرف سخت اور نمایاں پناہ کا نظام ہے جو کنٹرول کا پیغام دیتا ہے۔
دوسری طرف لیبر مائیگریشن کا ایک تکنیکی نظام ہے جو معمر ہوتی معیشت میں خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اٹلی، یورپ کے دیگر ممالک کی طرح، دو متضاد تقاضوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے: سرحدی کنٹرول کے سیاسی مطالبات اور غیر ملکی مزدوروں پر معاشی انحصار۔
اس لحاظ سے، اٹلی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنے مہاجرین کو داخل ہونے دیتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے آنے کے بعد انہیں کس طرح معاشرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آبادیاتی دلیل کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پیدائش سے متعلق پالیسیاں اور ہجرت کی پالیسیاں مختلف وقت کے پیمانوں پر کام کرتی ہیں۔ نئے پیدا ہونے والے بچے کئی دہائیوں بعد جا کر لیبر مارکیٹ میں شامل ہوتے ہیں، جبکہ بڑھتی عمر کے مسائل ابھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ہجرت اس دباؤ کو تیزی سے کم کر سکتی ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب ممالک کارکنوں کو مؤثر طریقے سے اپنی طرف متوجہ کریں، انہیں برقرار رکھیں اور معاشرے میں ضم کریں۔
اس فرق کو مزید واضح طور پر اسپین کی مثال سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسپین نے زیادہ کھلے اور ترقی پر مبنی نقطہ نظر اپنایا ہے، جس میں بھرتی کے ساتھ قانونی حیثیت دینا اور وسیع شمولیت شامل ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی کا ماڈل زیادہ مبہم ہے۔
اگرچہ قانونی لیبر کے راستے بڑھ رہے ہیں، لیکن وہ سختی سے کنٹرول کیے جاتے ہیں اور سیاسی طور پر کم نمایاں رکھے جاتے ہیں۔ توجہ انضمام کے بجائے افادیت پر زیادہ ہے۔
یہ توازن کب تک برقرار رہ سکتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ آبادیاتی حقائق آسانی سے تبدیل نہیں ہوتے۔
اگرچہ مجموعی طور پر اٹلی کی آبادی مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن کام کرنے کی عمر کی آبادی اب بھی کم ہو رہی ہے اور عمر کا تناسب مزید خراب ہو رہا ہے۔
مسلسل آمد کے بغیر، کمی دوبارہ شروع ہو جائے گی؛ اور بہتر انضمام کے بغیر، یہ آمد اپنی مکمل صلاحیت نہیں دکھا سکے گی۔
لہٰذا اصل تضاد صرف بندش اور کشادگی کے درمیان نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے ملک کے درمیان ہے جو بڑھتے ہوئے ہجرت پر انحصار کر رہا ہے، اور ایک پالیسی نظام جو اب بھی مہاجرین کو اپنے طویل مدتی مستقبل کا حصہ تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Athens?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Athens