Powered By Raja Taimour
Influencer
18/04/2026
میٹھی زبان والے کی مرچیں بھی بک جاتی ہیں بد زبان کا گڑ بھی نہیں بکتا
17/04/2026
بنگلہ دیش کی ڈاکٹر کا غیر معمولی
بنگلہ دیش کی ڈاکٹر کا غیر معمولی اور ناقابلِ یقین کارنامہ
دل کی گہرائیوں سے اس ڈاکٹر کو سلام پیش کرتا ہوں۔
جب جدید ڈیجیٹل مشینیں کام نہ کر سکیں تو ڈاکٹر سُریکھا چودھری نے ایک ناقابلِ یقین کارنامہ انجام دیا۔ اس عظیم خاتون کو سلام، جنہوں نے تقریباً سات منٹ تک اپنے منہ کے ذریعے نومولود بچے کو آکسیجن دی۔ اور اس کی وجہ سے وہ بچہ زندہ بچ گیا،🤲
14/04/2026
ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک بادشاہ نے ایک شہر میں بہت بڑا ایک تالاب بنوایا، اور پورے شہر میں اعلان کر دیا کہ اس تالاب میں روزانہ ہر آدمی ایک گلاس دودھ ڈالے گا۔
اور پھر اسے غریبوں میں بانٹا جائیگا۔
رات ھوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا:
" یہ شہر اتنا بڑا ھے کہ اگر ہر کوئی ایک گلاس ڈالنے لگ جائے تو پورا تالاب بھر جائیگا،اسلئے ھمارے نہ بھرنے سے کچھ نہیں ھو گا۔ "
اسی طرح ہر گھر میں یہی سوچا گیا۔
اگلے دن صبح جب دیکھا تو تالاب بالکل خالی تھا۔
تب بادشاہ نے کہا :
" دیکھا تم لوگوں نے کیسے تم لوگوں کی سوچ کیوجہ سے یہ تالاب بالکل خالی ھے،اگر ہر کوئی اپنی سوچ کو مثبت رکھتا تو یہ تالاب بھرا ھوا ھوتا۔ اگر ہر کوئی یہ نیکی سمجھ کر ایک گلاس اس تالاب میں ڈال دیتا تو یہ تالاب غریبوں کی بھوک مٹا سکتا تھا۔ "
اگر ھم سب بھی اپنی اپنی سوچ کو ٹھیک کر لیں تو یہ دنیا امن کا ھہوارہ بن جائے،
ہر کسی کے دل میں ایک دوسرے کیلئے محبت ھو،بس بات صرف ھماری سوچ کی ھے۔"
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
14/04/2026
*اپنے رب سے ہی مانگنے کا تجربہ کیجئے*
دہلی کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔
سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔
کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔
چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی آواز اب صاف سنائی دے رہی تھی۔ کوئی نوجوان بڑی دردناک آواز میں بانسری بجا رہا تھا۔
بادشاہ نے گھوڑا روکا۔ کچھ فاصلے پر دیکھا کہ ایک نوجوان شکستہ اور میلے کپڑے پہنے ایک درخت کے نیچے بڑی بے نیازی کے ساتھ ریت پر نیم دراز ہے اور دنیا کی ہر فکر سے آزاد، بڑی مستی کے ساتھ بانسری بجا رہا ہے۔
بادشاہ دیر تک اسے دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ کیا اس جنگل کا بادشاہ یہی شکستہ حال نوجوان ہے؟
نوجوان بانسری بجانے میں مگن تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک نظر دیکھا اور دل میں سوچا: "ہونہہ! کوئی شکاری ہوگا۔" پھر دوبارہ بانسری بجانے لگا۔
بادشاہ اس کے قریب پہنچا اور پوچھا:
"میاں صاحبزادے! یہاں کہیں پینے کے لیے پانی بھی مل جائے گا؟"
شاہجہاں کا شاہانہ لباس اور شاندار گھوڑا دیکھ کر چرواہا ذرا چونکا، مگر جلد ہی سنبھل کر بولا:
"یہاں پانی کہاں! پانی تو بستی میں ملے گا۔ تھوڑی ہی دور بستی ہے۔"
یہ کہہ کر اس نے ہاتھ کے اشارے سے راستہ بتایا اور پھر بے نیازی کے ساتھ بانسری بجانے لگا۔ جانور چر رہے تھے اور وہ اپنی دھن میں مست تھا۔
شاہجہاں گھوڑے پر سوار ہو کر جانے کی سوچ ہی رہا تھا کہ نوجوان نے پوچھا:
"کیا تمہیں پیاس لگی ہے؟"
بادشاہ نے عاجزی سے جواب دیا:
"ہاں بھئی! پیاس سے برا حال ہے۔"
چرواہا اٹھا اور درخت کی جڑ میں رکھا ہوا میلا کچیلا برتن اٹھایا اور بولا:
"لو، یہ پی لو۔ اس میں پانی ہے۔"
شاہجہاں نے بے قراری کے ساتھ پانی اپنے حلق میں انڈیل لیا۔ پیاس کی شدت سے وہ بے حال ہو چکا تھا۔ پانی تو اس نے پہلے بھی پیا تھا، لیکن آج اسے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ نعمت اسے پہلی بار ملی ہو۔
وہ احسان مندی اور محبت بھری نظروں سے چرواہے کو دیکھتے ہوئے بولا:
"میاں صاحبزادے! تم رہتے کہاں ہو؟"
چرواہے نے جواب دیا:
"اسی بستی میں رہتا ہوں، چند میل دور۔"
شاہجہاں نے پوچھا:
"کیا تم کبھی شہر بھی گئے ہو؟"
"کیا تم شہر میں رہتے ہو؟ دہلی میں لال قلعہ ہے نا، وہاں ایک بہت بڑی مسجد ہے، وہ ہمارے بادشاہ نے بنوائی ہے، کیا تم وہیں رہتے ہو؟ میں ایک بار باپ کے ساتھ وہاں گیا تھا۔"
چرواہے نے جواب دیتے ہوئے کہا:
"تم کل وہاں آ جانا لال قلعہ میں، اور دیکھو کوئی چیز لاؤ تو میں تمہیں کچھ لکھ کر دے دوں۔"
بادشاہ نے اسے انعام سے نوازنا چاہا۔
"کیا تم لال قلعے میں رہتے ہو؟ تب تو تم نے شاہجہاں بادشاہ کو ضرور دیکھا ہوگا؟" چرواہے نے حیرت سے شاہجہاں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں ہی شاہجہاں ہوں۔" بادشاہ نے جواب دیا۔
"تم بادشاہ ہو؟ ہمارے بادشاہ؟" حیرت سے چرواہا بادشاہ کو دیکھتا رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی شاہجہاں کو دیکھ رہا ہے۔ آج چرواہا اپنے بادشاہ سے باتیں کر رہا تھا۔ اسے اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔ آج بادشاہ اس کا مہمان تھا، مگر وہ ڈر رہا تھا کہ اس نے بادشاہ کو بڑی بے رخی سے جواب دیا تھا۔ وہ کچھ سوچ میں پڑ گیا۔
بادشاہ نے اس کا سکوت توڑتے ہوئے کہا:
"تم ہمارے پاس آنا، ہم تمہیں انعامات دیں گے۔ دیکھو، پیڑ کی چھال اٹھا لاؤ۔"
بادشاہ نے پیڑ کی چھال پر کوئلے سے کچھ لکھ کر اسے دیا اور کہا:
"تم یہ لے کر لال قلعہ میں آنا، میں تمہارا انتظار کروں گا۔"
اور شاہجہاں وہاں سے لوٹ آیا۔
کئی دن گزر گئے۔ شاہجہاں اپنے میزبان کا بے چینی سے انتظار کرتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنے میزبان کو انعام دے کر مالا مال کر دوں گا۔
جمعہ کا دن تھا۔ بادشاہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے جامع مسجد جا چکا تھا۔ لال قلعہ میں کئی روز سے چرواہے کا انتظار تھا۔ آج دوپہر کے وقت وہ دروازۂ قلعہ پر پیڑ کی چھال لیے ہوئے پہنچا تو دروازے کے محافظوں نے اسے فوراً پکڑا اور دو سپاہیوں کے ساتھ شاہجہاں کی خدمت میں جامع مسجد بھیج دیا۔
چرواہا ڈرتا سہمتا جامع مسجد کے اندر داخل ہوا۔ جمعہ کی نماز ہو چکی تھی، لوگ جا چکے تھے، کچھ جا رہے تھے۔ بادشاہ کے درباری جامع مسجد میں موجود تھے۔ سپاہی چرواہے کو درباریوں کے حوالے کر کے واپس ہو گئے۔
چرواہے نے پوچھا:
"بادشاہ کہاں ہیں؟"
درباریوں نے کہا:
"دیکھو، وہ جو محراب کے قریب بیٹھے ہیں، وہی بادشاہ ہیں۔"
شاہجہاں اس وقت بڑی عاجزی اور لجاجت سے دعا مانگ رہا تھا۔
چرواہے نے کہا:
"نہیں! میں تو شاہجہاں بادشاہ کو پوچھ رہا ہوں جنہوں نے لال قلعہ بنوایا ہے اور جو لال قلعہ میں رہتے ہیں۔"
"ہاں بھائی! یہی شاہجہاں بادشاہ ہیں۔" درباریوں نے اسے اطمینان دلایا۔
وہ کچھ دیر بادشاہ کو دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک شخص دونوں ہاتھ پھیلائے، گڑگڑا کر فقیروں کی طرح کیا مانگ رہا ہے اور کیوں مانگ رہا ہے۔
اس سے رہا نہ گیا۔ اس نے پوچھا:
"یہ بادشاہ کیا مانگ رہے ہیں اور کس سے مانگ رہے ہیں؟ یہ تو بادشاہ ہیں، لال قلعے والے بادشاہ!"
درباریوں نے کہا:
"یہ اللہ سے مانگ رہے ہیں۔ اللہ سے ہر ایک مانگتا ہے، چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر۔"
چرواہا یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ پھر اچانک وہ ایک طرف کو چل دیا۔ درباریوں نے اسے روکنا چاہا، لیکن وہ نہ رکا۔ لوگوں نے اسے بہت روکا، جانے کی وجہ پوچھی، مگر اس نے کچھ نہ بتایا اور اپنی راہ لے لی۔
شاہجہاں دعا سے فارغ ہوئے۔ خادم بادشاہ کو لینے دوڑے۔ خادموں نے شاہجہاں کو بتایا کہ چرواہا آیا تھا۔
بادشاہ نے بڑی بے چینی سے پوچھا:
"کہاں ہے وہ؟"
شاہجہاں کئی دن سے اپنے میزبان کا بڑی بے قراری سے انتظار کر رہا تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ واپس چلا گیا۔ ہم نے اسے بہت روکا، لیکن وہ نہ رکا۔
بادشاہ نے فوراً کچھ لوگوں کو گھوڑوں پر بھیج دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ اس نوجوان کو لے کر واپس آ گئے۔
بادشاہ نے عزت کے ساتھ چرواہے کو اپنے پاس بٹھایا اور دیر تک اس کی خاطر تواضع کرتے رہے، مگر چرواہا ہر عزت و اکرام سے بے نیاز تھا۔
شاہجہاں نے اس سے پوچھا:
"میاں! تم مجھ سے ملنے آئے تھے، پھر ملے بغیر ہی واپس کیوں چلے گئے؟"
وہ خاموش رہا۔
بادشاہ نے دوبارہ کہا:
"میاں! میں تمہارا بڑی شدت سے انتظار کر رہا تھا، اور تم ملے بغیر ہی واپس جا رہے تھے۔ بتاؤ تو سہی، کیا بات ہوئی؟"
چرواہے نے جواب دیا:
"میں آپ سے انعام لینے آیا تھا، مگر میں نے دیکھا کہ آپ خود ہاتھ پھیلا کر مانگ رہے تھے۔ جب آپ خود مانگ رہے تھے تو بھلا مجھے کیا دیتے؟ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ میں بھی اسی سے مانگوں جس سے آپ مانگ رہے تھے۔"
یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دینے والا صرف اللہ ہے۔ اگر وہ نہ دینا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی ایک ذرہ نہیں دے سکتی، اور اگر وہ دینا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کی عطا کو روک نہیں سکتی۔
بندے کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں، ہر بندہ محتاج ہے، اور جو جتنا بڑا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ محتاج ہے۔
14/04/2026
“وہ گاؤں کا سکون… اور آج کی زندگی”
پہلے جب ہم گاؤں میں رہتے تھے… زندگی کتنی سادہ مگر پُرسکون تھی۔
صبح فجر کی اذان کے ساتھ آنکھ کھلتی، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہوتی، پرندوں کی آوازیں دل کو عجیب سا سکون دیتی تھیں۔ نہ کوئی جلدی، نہ کوئی پریشانی۔
گاؤں کی کچی گلیاں، مٹی کی خوشبو، اور وہ سب لوگ…
ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا، ہر دروازہ اپنے جیسا لگتا تھا۔
بچوں کی ہنسی، کھیتوں میں دوڑنا، نہ موبائل تھا نہ سوشل میڈیا…
مگر خوشی پوری تھی۔
شام کو سب لوگ اکٹھے بیٹھتے، چائے پیتے، باتیں کرتے…
کوئی تنہائی نہیں تھی، کوئی ڈپریشن نہیں تھا۔
پھر وقت بدلا…
ہم شہر آ گئے۔
اب سب کچھ ہے — بڑا گھر، موبائل، انٹرنیٹ…
مگر وہ سکون کہیں کھو گیا۔
صبح آنکھ کھلتی ہے تو سب سے پہلے فون دیکھتے ہیں…
گھر میں سب موجود ہوتے ہیں، مگر ہر کوئی اپنے اپنے سکرین میں گم ہے۔
پہلے لوگ دل سے جیتے تھے…
اب لوگ صرف مصروف ہیں۔
گاؤں میں کم تھا، مگر سکون زیادہ تھا۔
آج سب کچھ ہے… مگر دل خالی سا لگتا ہے۔
30/03/2026
شیخ چلی اور "شیر کا شکار"
ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، "اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔"
شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔
تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی "بہادری" یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔
شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ شیر سمجھا کہ سامنے کوئی دوسرا شیر کھڑا ہے! وہ غصے سے دھاڑنے لگا۔ شیخ چلی نے دیکھا کہ شیر خود کو ہی دیکھ کر غصے سے پاگل ہو رہا ہے، تو شیخ نے بھی دور سے ہی اپنی لاٹھی لہرا کر چیخنا شروع کر دیا: "اوئے شیرو! اب تیری خیر نہیں، میں تجھے دیکھ رہا ہوں!"
شیر نے جب دوسری طرف سے آواز سنی، تو وہ مزید بپھر گیا اور آئینے پر چھلانگ لگا دی۔ آئینہ چکنا چور ہو گیا اور شیر کے پنجے زخمی ہو گئے۔ شیر درد سے کراہتا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا۔
شیخ چلی نے جب دیکھا کہ شیر بھاگ گیا ہے، تو وہ پیڑ سے باہر نکلا اور فاتحانہ انداز میں بولا: "دیکھا! میں نے اپنی عقلمندی سے شیر کو شکست دے دی۔ اب یہ شیر کبھی واپس نہیں آئے گا کیونکہ وہ جان گیا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا 'جادوگر' رہتا ہے جو آئینے کے اندر سے بھی لڑ سکتا ہے!"
وہ گھر پہنچ کر پورے محلے میں ڈینگیں مارتا پھر رہا تھا کہ اس نے شیر کو صرف اپنی آنکھوں کی گھور سے بھگا دیا ہے۔ بیچارے محلے والے مسکرا کر رہ
گئے اور شیخ اپنی ہی جھوٹی بہادری کے نشے میں چور رہا۔
شیخ چلی کی اس بہادری کی کہانی کا اختتام تب ہوا جب محلے کے کچھ شکّی لوگوں نے کہا، "بھائی! اگر شیر واقعی ڈر کر بھاگا ہے، تو ذرا ہمیں بھی دکھاؤ وہ جگہ جہاں شیر زخمی ہوا تھا۔"
شیخ چلی نے سینہ پھلا کر کہا، "ضرور! چلو میرے ساتھ!"
سب لوگ اس کے پیچھے جنگل پہنچے۔ شیخ چلی وہاں پہنچ کر ٹھٹھک گیا، کیونکہ جہاں اس نے شیر کو آئینہ دکھایا تھا، وہاں شیر کے قدموں کے نشانات تو تھے، لیکن ساتھ ہی ایک بھیڑ کا بچہ بھی گھاس چر رہا تھا۔
شیخ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور اپنی بات سنبھالتے ہوئے بولا: "دیکھو! یہ شیر اتنا ڈرپوک تھا کہ وہ شیر سے بھیڑ بن کر بھاگا ہے! یہ جو بھیڑ کا بچہ دیکھ رہے ہو نا؟ یہ وہی شیر ہے جو میری دھمک سے سکڑ کر چھوٹا ہو گیا ہے!"
محلے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے، مگر شیخ چلی نے اتنی سنجیدگی سے یہ بات کہی کہ گاؤں کے نادان لوگ اس دن سے اس کا نام "شیر کو بھیڑ بنانے والا جادوگر" رکھ بیٹھے۔
نتیجہ:
شیخ چلی کی دنیا میں منطق اور عقل کا وہی حال تھا جو بارش میں کاغذ کی کشتی کا ہوتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو بھی اتنی دیدہ دلیری سے 'کرشمہ' بنا کر پیش کرتا تھا کہ سننے والا اپنی ہنسی روکنے پر مجبور ہو جائے
28/03/2026
بہتی ہوا سا تھا وہ ۔۔ کہاں گیا اسے ڈھونڈو ۔۔
We will miss you Naseem Shah !
Naseem Shah’s career (2019–2026) 💔🥺
25/03/2026
دعا ہے اگلے سال کا رمضان ہمیں پھر سے نصیب ہوآمین❤️
23/03/2026
صبح کا وقت تھا۔ ایک نوجوان راستے پر چلا جا رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک بزرگ عورت آ رہی ہے۔ وہ بہت خوبصورت تھی، اس کے کپڑے چمک رہے تھے، اور اس کے ہاتھ میں پانچ چیزیں تھیں۔
نوجوان قریب آیا تو عورت نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، میں زندگی کی دیوی ہوں۔ میرے پاس پانچ نعمتیں ہیں۔ تم ان میں سے ایک انتخاب کر سکتے ہو۔"
اس نے اپنے ہاتھ پھیلائے تو نوجوان نے دیکھا—ایک ہاتھ میں خوبصورتی تھی، دوسرے میں محبت، تیسرے میں شہرت، چوتھے میں دولت، پانچویں میں خوشی۔
نوجوان نے حیرت سے پوچھا: "صرف ایک؟"
دیوی بولی: "صرف ایک۔ اور سوچ سمجھ کر چننا، کیونکہ ہر نعمت کی اپنی قیمت ہے اور اپنا انجام۔"
نوجوان نے بہت دیر سوچا۔ خوبصورتی؟ اس کے ساتھ لوگ محبت کریں گے۔ محبت؟ یہ تو سب سے پیاری چیز ہے۔ شہرت؟ پوری دنیا اسے جانے گی۔ دولت؟ ساری خواہشیں پوری ہوں گی۔ خوشی؟ یہی تو سب چاہتے ہیں۔
آخر اس نے کہا: "مجھے دولت دو۔"
دیوی نے اسے سونے کا ایک سکہ دیا اور کہا: "یہ لے۔ دولت مل گئی۔ اب جا۔"
نوجوان بہت خوش تھا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ سب کچھ خرید سکتا ہے۔ اس نے مہنگے کپڑے خریدے، بڑا گھر خریدا، نوکر رکھے، دوستوں کو دعوتیں دیں۔ لوگ اس کے پاس آتے، اس کی خاطر مدارت کرتے، اس کی تعریف کرتے۔
لیکن چند دنوں میں ہی اس نے دیکھا کہ یہ دوست تب تک اس کے پاس تھے جب تک وہ ان پر پیسے خرچ کرتا تھا۔ جب اس نے دینا بند کیا تو وہ غائب ہو گئے۔
اس کی بیوی اس سے پیار نہیں کرتی تھی، وہ اس کے پیسوں سے پیار کرتی تھی۔ اس کے بچے اس سے محبت نہیں کرتے تھے، وہ اس کے تحفوں سے محبت کرتے تھے۔
ایک دن وہ بیمار پڑ گیا۔ کوئی اس کے پاس نہیں آیا۔ دوست غائب تھے، بیوی گھوم رہی تھی، بچے کھیل رہے تھے۔ وہ اکیلا تھا۔
اس نے سوچا: "یہ دولت کس کام کی جب کوئی پیار کرنے والا نہیں؟"
وہ دیوی کے پاس گیا اور بولا: "مجھے دولت نہیں چاہیے۔ مجھے محبت دو۔"
دیوی نے سر جھٹک دیا۔ "تم نے انتخاب کر لیا تھا۔ اب واپس نہیں جا سکتے۔"
نوجوان اداس ہو گیا۔ اس نے اپنی ساری دولت لٹا دی اور تنہا رہنے لگا۔
دوسرا شخص آیا۔ وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، بہت خوبصورت۔ اس نے دیوی سے کہا: "مجھے خوبصورتی دو۔"
دیوی نے اسے خوبصورتی دے دی۔ وہ لڑکی اتنی خوبصورت ہو گئی کہ لوگ دیکھتے رہ جاتے۔ شہر بھر میں اس کی تعریف ہونے لگی۔ بہت سے لڑکے اس پر فدا ہو گئے۔ اس کی شادی ایک امیر گھرانے میں ہو گئی۔
لیکن خوبصورتی کی قیمت بھی تھی۔ لوگ اس کے چہرے کو دیکھتے، اس کی روح کو نہیں۔ دوست اس کے حسن کے پیچھے بھاگتے، اس کی ذات کو نہیں۔
وہ بڑی ہوئی تو اس کی خوبصورتی ختم ہونے لگی۔ جھریاں آنے لگیں، رنگ ڈھلنے لگا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دوست بھی ختم ہونے لگے۔ اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا۔ اس کے بچے اسے دیکھنے نہ آتے۔
وہ بڑھاپے میں بالکل اکیلی تھی۔ اس کے پاس نہ دوست تھے، نہ پیار، نہ کوئی سہارا۔
وہ روتی اور کہتی: "کاش میں نے محبت مانگی ہوتی، یا خوشی، یا شہرت بھی مانگی ہوتی۔ خوبصورتی تو پانی کے بلبلے کی طرح ہے—آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔"
تیسرا شخص آیا۔ وہ ایک جوان لڑکا تھا، خواب دیکھنے والا۔ اس نے دیوی سے کہا: "مجھے شہرت دو۔ میں دنیا کا مشہور ترین آدمی بننا چاہتا ہوں۔"
دیوی نے اسے شہرت دے دی۔ وہ لڑکا ایک فنکار تھا۔ اس کی پینٹنگز مشہور ہونے لگیں۔ لوگ دور دور سے اس کے کام دیکھنے آتے۔ اخباروں میں اس کے نام چھپتے۔ بادشاہ اسے محل میں بلاتے۔
لیکن شہرت نے اسے کہیں اور نہیں جانے دیا۔ وہ ہر وقت لوگوں کے درمیان رہتا، لیکن ہمیشہ اکیلا رہتا۔ لوگ اس کی شہرت سے محبت کرتے، اس سے نہیں۔ جب وہ بولتا تو لوگ سنتے، لیکن سن کر بھی نہ سنتے—وہ اس کی شہرت سنتے تھے، اس کی باتیں نہیں۔
ایک دن وہ بیمار پڑا تو اس کے پاس کوئی نہیں آیا۔ ڈاکٹر آیا تو اس نے بھی اپنے کارڈ پر دستخط لیے اور چلا گیا۔ وہ تنہا مرا، اپنی شہرت کے ساتھ۔
مرتے وقت اس نے کہا: "شہرت ایک آئینہ ہے—تم اسے دیکھتے ہو، وہ تمہیں دیکھتا ہے، لیکن چھو نہیں سکتے۔"
چوتھا شخص آیا۔ وہ ایک بوڑھا تھا، زندگی سے تھکا ہوا۔ اس نے کہا: "مجھے خوشی دو۔ میں نے ساری زندگی غم دیکھے، اب بس خوشی چاہیے۔"
دیوی نے اسے خوشی دے دی۔ وہ بوڑھا بہت خوش رہنے لگا۔ ہر وقت ہنستا، ہر چیز میں مزا لیتا۔ مشکل وقت میں بھی خوش، آسان وقت میں بھی خوش۔
لیکن ایک دن اس کی بیوی مر گئی۔ وہ پھر بھی خوش تھا۔ اس کا بیٹا مر گیا—وہ خوش تھا۔ اس کا گھر جل گیا—وہ خوش تھا۔ لوگوں نے کہا: "یہ پاگل ہو گیا ہے۔"
آخر وہ بھیک مانگنے لگا، لیکن پھر بھی خوش تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے: "دیکھو اسے، کتنا خوش ہے، حالانکہ اس کے پاس کچھ نہیں۔"
ایک دن وہ سڑک پر ہی مر گیا۔ مرتے وقت بھی ہنس رہا تھا۔ پاس سے گزرنے والوں نے کہا: "دیکھو، یہ پاگل تھا۔ خوشی میں مر گیا۔"
لیکن اس کی خوشی میں کوئی گہرائی نہیں تھی، کوئی معنی نہیں تھے۔ وہ صرف خوشی تھی، اور کچھ نہیں۔
پانچواں شخص آیا۔ وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، سادہ سی، معمولی سی۔ اس نے دیوی سے کہا: "مجھے محبت دو۔"
دیوی نے کہا: "محبت بہت خوبصورت ہے، لیکن اس کی قیمت بھی ہے۔"
لڑکی بولی: "کیا قیمت؟"
دیوی نے کہا: "محبت میں تم خود کو کھو دو گی۔ تم دوسروں کے لیے جیو گی، اپنے لیے نہیں۔ تم خوشی بھی لو گی اور غم بھی۔ محبت میں دونوں ہیں۔"
لڑکی نے کہا: "مجھے منظور ہے۔"
اسے محبت مل گئی۔ اس نے شادی کی، بچے پیدا کیے، ان کی پرورش کی۔ اس نے ساری زندگی دی، ساری خوشیاں دیں، سارے غم جھیلے۔
جب وہ بوڑھی ہوئی تو اس کے بچے جوان ہو گئے۔ وہ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کا شوہر مر گیا۔ وہ اکیلی رہ گئی۔
لیکن جب وہ مرنے لگی تو اس کے بچے واپس آئے۔ انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے کہا: "ماں، تم نے ہمارے لیے ساری زندگی دے دی۔ تم نے ہمیں محبت دی، اور ہم تمہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔"
وہ مسکرائی اور بولی: "یہی تو محبت ہے۔ تم نے مجھے واپس دیا جو میں نے تمہیں دیا تھا۔"
مرتے وقت اس کے چہرے پر سکون تھا۔ اس کے پاس دولت نہیں تھی، خوبصورتی نہیں تھی، شہرت نہیں تھی، خوشی بھی نہیں تھی—لیکن اس کے پاس محبت تھی، اور وہی سب کچھ تھی۔
آخری شخص آیا۔ وہ کوئی نہیں تھا، میں تھا، تم تھے، ہم سب تھے۔ ہم دیوی کے سامنے کھڑے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کیا چنیں۔
دیوی نے ہم سے پوچھا: "بتاؤ، تم کیا چنتے ہو؟"
ہم نے کہا: "دیوی، ہم نہیں جانتے۔ دولت میں تنہائی ہے، خوبصورتی میں عارضیت، شہرت میں سطحیت، خوشی میں گہرائی نہیں۔ اور محبت میں غم بھی ہے۔"
دیوی نے مسکرا کر کہا: "تم نے سمجھ لیا۔ زندگی کی پانچ نعمتیں ہیں، لیکن کوئی ایک کامل نہیں۔ اصل حکمت یہ ہے کہ تم ان سب کو توازن سے لو۔ دولت تھوڑی، خوبصورتی تھوڑی، شہرت تھوڑی، خوشی تھوڑی، اور محبت بہت ساری۔"
ہم نے پوچھا: "یہ کیسے ممکن ہے؟"
دیوی بولی: "یہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ زندگی تمہیں سب کچھ دیتی ہے، لیکن تھوڑا تھوڑا۔ تمہارا کام ہے کہ اسے سنبھالو، اسے پروان چڑھاؤ، اور اس میں توازن رکھو۔ دولت کو محبت سے جوڑو، خوبصورتی کو عقل سے، شہرت کو عاجزی سے، خوشی کو سکون سے۔ پھر دیکھو کہ یہ پانچوں نعمتیں مل کر ایک مکمل زندگی بناتی ہیں۔"
ہم سمجھ گئے۔ زندگی میں کوئی ایک چیز سب کچھ نہیں ہوتی۔ اصل بات ہے ان سب کو سنبھالنا، ان میں توازن رکھنا، اور سب سے بڑھ کر—محبت کو کبھی نہ کھونا۔
اخلاقی سبق: زندگی کی پانچ بڑی نعمتیں ہیں—دولت، خوبصورتی، شہرت، خوشی، محبت۔ ان میں سے کوئی ایک کامل نہیں۔ اصل کامیابی ان سب میں توازن پیدا کرنا ہے، اور محبت کو سب سے اوپر رکھنا ہے۔
اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں اور پیج کو بھی ضرور فالو کریں۔
اور ہمارا وٹسپ چینل بھی جوائن کریں شکریہ
https://whatsapp.com/channel/0029VbCB5mU6hENmwgBe2L3j
22/03/2026
چار دن سگریٹ پی کر کہتے ہیں عادت ہو گئی ہےموبائل استعمال کر کے کہتے ہیں عادت ہو گئی ہے کاش رمضان کا پورا مہینہ نماز پڑھ کر بھی کوئی کہے کہ مجھے نماز کی عادت ہو گئی ہے
22/03/2026
اولڈہم برطانیہ
اولڈہم میں خوفناک حادثہ، باپ کی اجنبی خواتین کی تلاش، بچوں کی جان بچانے پر شکریہ ادا کرنے کی خواہش
اولڈہم میں ایک دل دہلا دینے والے ٹریفک حادثے کے بعد ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور نے دو نامعلوم خواتین کو تلاش کرنے کی اپیل کی ہے جنہوں نے حادثے کے فوراً بعد اس کے زخمی بچوں کی مدد کی۔
رہائشی محمد ظفیر اپنے بچوں کے ساتھ خریداری کے لیے جا رہے تھے جب رائٹن کے علاقے براڈوے پر تین گاڑیوں کے درمیان شدید تصادم پیش آیا۔ حادثہ ایک بڑے تجارتی مرکز کے داخلی راستے کے قریب پیش آیا جس میں گاڑیاں بری طرح تباہ ہو گئیں۔
حادثے کے نتیجے میں ایک پچاس سالہ شخص، مائیکل مارگیٹسن، جان کی بازی ہار گئے جس پر علاقے میں غم کی فضا پائی جاتی ہے۔ جبکہ محمد ظفیر اور ان کے بچے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے اور اب گھر واپس آ چکے ہیں، تاہم وہ اب بھی درد میں مبتلا ہیں۔
محمد ظفیر کا کہنا ہے کہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ انہیں زیادہ کچھ یاد نہیں، لیکن وہ ان دو خواتین کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ ان کے مطابق دونوں خواتین نے ان کے بچوں کو سنبھالا، انہیں تسلی دی اور طبی امداد آنے تک مدد فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان خواتین کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور کسی طرح ان کا احسان چکانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی ان خواتین کو جانتا ہو تو ان سے رابطہ کروانے میں مدد کرے۔
پولیس کے مطابق حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے عینی شاہدین یا ڈیش کیم فوٹیج رکھنے والے افراد سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Manchester