Digital Pakistan

Digital Pakistan

Share

Digital Pakistan is a platform which shows content about Pakistan digitally.

28/09/2026

گوجرانوالہ میں جہالت کی انتہا الٹرا ساﺅنڈ میں بیٹی کا پتہ چلنے پر سسرالیوں کا بہو پر ت ش دد عروج کی شادی ڈیڑھ سال قبل طیب سے ہوئی تھی دونوں کی پہلے بھی ایک بیٹی ہے

28/09/2026

پاکستانیوںکیلے بڑی خوشخبری16 ممالک میں بغیر
ویزہ لئے جا سکتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ کی اتنی عزت؟

28/09/2026

سوچیں… آپ اپنی دکان پر بیٹھے ہوں اور اچانک ایک بندر اندر آ جائے، پھر بوتل اٹھا کر مشروب پی لے اور وہیں فرش پر لیٹ کر سو جائے!

یہ دلچسپ واقعہ بھارتی شہر رانچی کے اورمانجھی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک بندر اچانک شراب کی دکان میں داخل ہوگیا۔

بندر کو دیکھ کر دکان میں موجود لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ دکاندار نے اسے باہر نکالنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر بندر نے اسے کاٹ لیا۔

اس کے بعد بندر نے شراب کی ایک بوتل اٹھائی اور مبینہ طور پر اس میں موجود مشروب پی لیا۔

اور پھر جو ہوا، وہ دیکھنے والوں کے لیے مزید حیران کن تھا۔

بندر دکان کے اندر ہی لیٹ گیا اور سو گیا!

صورتحال پر قابو پانے کے لیے ریسکیو ٹیم کو بلایا گیا، جس نے بندر کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔

اس دلچسپ واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔

یہ حیرت انگیز واقعہ بھارت کے شہر رانچی میں پیش آیا۔
Disclaimer: This post is for informational and educational purposes only. Details are based on publicly available sources.

28/09/2026

سوچیں… ایک ایسا دور دراز جزیرہ جہاں تقریباً 34 سال تک کسی بچے کی پیدائش ہی نہ ہوئی ہو، اور پھر اچانک ایک ماں نے وہیں اپنے بچے کو جنم دے دیا۔

یہ واقعہ اسکاٹ لینڈ کے دور دراز جزیرے **نارتھ رونالڈسے** میں پیش آیا، جہاں 15 ستمبر 2026 کو ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نارتھ رونالڈسے اورکنی کا شمالی جزیرہ ہے، جو تقریباً تین میل لمبا اور دو میل چوڑا بتایا جاتا ہے۔

بچے کی والدہ ٹریل فورڈ اور ان کے منگیتر جارج سواریز دراصل کوسٹا ریکا میں بچے کی پیدائش کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وہ نارتھ رونالڈسے پہنچے تو واپسی کی ٹکٹس بھی بک تھیں، لیکن پھر اچانک انہوں نے فیصلہ بدل دیا۔

ٹریل فورڈ کے مطابق انہیں محسوس ہوا کہ اپنے آبائی جزیرے پر بچے کو جنم دینا ان کے لیے ایک خاص اور یادگار تجربہ ہوگا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ٹریل فورڈ کے خاندان کا اس جزیرے سے تعلق تقریباً تین سو سال پرانا بتایا جاتا ہے، کیونکہ ان کے خاندان نے 1727 میں یہ جزیرہ خریدا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس جزیرے نے ان کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے انہیں یہاں ایک خاص اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر 34 سال تک یہاں کسی بچے کی پیدائش کیوں نہیں ہوئی؟

ٹریل فورڈ کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ جزیرے پر صحت کی سہولیات کی کمی ہوسکتی ہے۔

کیونکہ یہاں نہ کوئی ڈاکٹر ہے، نہ اسپتال… اور صرف ایک مقامی نرس موجود ہے۔

اسکاٹش حکومت کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس جزیرے کی آبادی اس وقت 72 افراد تھی، جو اب کم ہو کر 51 رہ گئی ہے۔

یعنی اتنی کم آبادی والے اس دور دراز جزیرے پر 34 سال بعد پیدا ہونے والا یہ بچہ وہاں کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ بن گیا۔

28/09/2026

لاہور کے قبرستان میں موجود ایس ایچ او کون؟

28/09/2026

عام طور پر سبزی فروش گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تازہ سبزیاں، کم قیمت یا خصوصی رعایت کا سہارا لیتے ہیں…

لیکن چین کے ایک سبزی فروش نے گاہکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسا انوکھا طریقہ اپنایا کہ خود سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوگیا۔

اس دکاندار نے خواتین گاہکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مکمل میک اپ کرلیا اور اسی انداز میں اپنے سبزی کے اسٹال پر بیٹھ کر سبزیاں فروخت کرنے لگا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دکاندار کو مکمل میک اپ کے ساتھ سبزیاں فروخت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد خاص طور پر خواتین گاہکوں کی توجہ حاصل کرنا تھا۔

لیکن دکاندار کی یہ منفرد مارکیٹنگ حکمت عملی صرف بازار تک محدود نہ رہی…

اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کرنے لگی اور دیکھنے والے اس انوکھے انداز پر حیران رہ گئے۔

یعنی سبزیوں کی دکان کو نمایاں کرنے کے لیے اس دکاندار نے ایسا انداز اپنایا کہ خود بھی سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرلی۔

یہ دلچسپ واقعہ چین میں پیش آیا۔

28/09/2026

ماں کی ل ا ش فریزر میں مگر کیوں؟

28/09/2026

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین سے ایک اہم خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں تقریباً 600 سال پرانی تاریخی شاہی مسجد کو مبینہ طور پر سڑک کی توسیع کے منصوبے کے باعث جزوی انہدام کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسجد کو بچانے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلمان باری باری مسجد کے اندر موجود ہیں اور پانچوں وقت کی نمازیں بھی وہیں ادا کر رہے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ 2028 کے سنگھستھ کمبھ میلے سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔

گزشتہ رات مسجد کے اطراف پولیس کی نفری میں اضافہ کیا گیا، جبکہ ریپڈ ایکشن فورس بھی تعینات کی گئی اور بلڈوزر بھی وہاں پہنچائے گئے۔ تاہم مسجد کے اندر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث مبینہ طور پر کارروائی روک دی گئی۔

مسجد کی حفاظت کے لیے 11 رکنی نمائندہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جبکہ مقامی عالم دین مفتی جنید کے مطابق سڑک کی توسیع اور شہری منصوبہ بندی کی زد میں مسجد کے علاوہ مزید 28 مساجد بھی آ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسجد کے انہدام کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ہائی کورٹ نے انہدام روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

مسجد کے اطراف پولیس نے بیریکیڈز لگا رکھے ہیں، جبکہ ظہر کی نماز کے بعد کم از کم ایک ہزار افراد مسجد کے اندر موجود تھے۔

مسجد میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ وہ تاریخی شاہی مسجد کی حفاظت کے لیے مسلسل وہاں موجود رہیں گے۔

Disclaimer: This report is based on media reports. Details may change as the situation develops.

27/09/2026

کشتیِ نوح مل گئی؟ ہزاروں سال پرانا راز کھل گیا!

27/09/2026

نقیب اللہ محسود ق ت ل کیس میں ایک بار پھر بڑا عدالتی فیصلہ سامنے آگیا ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 2018 میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے مقدمے میں مزید 7 پولیس اہلکاروں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔

نقیب اللہ محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نوجوان تھے، جو دکانداری کے ساتھ ماڈلنگ کا شوق رکھتے تھے۔

13 جنوری 2018 کو کراچی میں نقیب اللہ سمیت چار افراد پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ اُس وقت پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ افراد عسکریت پسند تھے اور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

لیکن بعد میں پولیس کی ایک انکوائری میں نقیب اللہ کے عسکریت پسند ہونے کے دعوے کی تردید ہوئی، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا اور اس واقعے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔

اس کیس میں اُس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار بھی مرکزی ملزم تھے۔

جنوری 2023 میں عدالت راؤ انوار سمیت 18 پولیس اہلکاروں کو بھی بری کرچکی ہے، جبکہ اس فیصلے کے خلاف نقیب اللہ کے اہل خانہ کی اپیل سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بتائی گئی ہے۔

اب تازہ مقدمے میں بری ہونے والے 7 اہلکاروں کے خلاف استغاثہ نے 41 گواہوں کے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

دفاعی وکیل کے مطابق کسی گواہ نے ان سات اہلکاروں پر نقیب اللہ کو اغوا کرنے کا الزام نہیں لگایا اور نہ ہی کسی گواہ نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا۔

تاہم عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا ، اس لیے بریت کی مکمل وجوہات تفصیلی حکم سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گی۔

یوں 2018 سے جاری اس ہائی پروفائل مقدمے میں تازہ بریت کے بعد دستیاب معلومات کے مطابق مزید کوئی ملزم اس کیس میں ٹرائل کا سامنا نہیں کر رہا، جبکہ 2023 کی بریت کے خلاف اپیل اب بھی زیرِ سماعت ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Manchester?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Manchester

Opening Hours

Monday 10am - 4pm
Tuesday 10am - 4pm
Wednesday 10am - 5pm
Thursday 10am - 5pm
Friday 10am - 5pm
Saturday 10am - 5pm
Sunday 10am - 5pm