Jugtain
Mizah say bharpoor page, daikhain aur qehqahay lagain ... :)
Assalam o Alaikum everyone, I noticed that there is a fake profile pretending to be me. Please be aware that https://www.facebook.com/profile.php?id=61566833585598... is NOT me. If you receive friend requests or messages from this account, do not interact with it and kindly report the profile to Facebook. Stay safe and feel free to reach out if you have any questions!
مولوی صاحب نے سڑک پر چلتی ایک ننگے سر لڑکی کو دیکھا تو انہیں بہت برا لگا لہذا اپنی دھوتی اتار کر لڑکی کے سر پر رکھ دی.
یہی کام پاکستان کے چوہدری نظام اور قاضیوں نے نون لیگ کا پردہ رکھنے کے لیے کیا ہے.
اب خود بیچ چوراہے مکمل ننگے کھڑے ہوگئے ہیں!!!!!!
ایمپریس مارکیٹ کراچی کی ایک کرسچن خاتون محترمہ ڈی سوذآ نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خراب حالات کے اوپر فلم بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام رکھا:
"روز میری مارلو"
سنسر بورڈ نے اعتراض کیا۔
محترمہ ڈی سوزا نے سنسر بورڈ کو بتایا، "آپ غلط سمجھ رہے ہیں یہ تین لڑکیوں کی کہانی ہے... روز، میری اور مارلو..!"
بورڈ نے ترتیب کو تبدیل کرنے کو کہا۔ ڈیسوزا نے خوشی سے بات کی اور سنسر بورڈ سے کہا، "آپ ان کے نام کسی بھی ترتیب میں ڈال سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے"۔
سنسر بورڈ ابھی بھی کوشش کر رہا ہے.. آپ تجویز اور مدد کر سکتے ہیں... براہ کرم کوشش ضرور کریں!!!🤪😁🤪
Follow for immediate follow.
بچے کی پیدائش کے بعد ڈیلیوری روم سے نکلے ایک گھنٹہ ہوا تھا، ماں کو ابھی ابھی ہوش آیا تھا۔
بدن میں طاقت بالکل ختم ہو گئی تھی۔
کروٹ لینا تو دور کی بات ہلنے میں بھی بے پناہ دقت ہو رہی تھی۔
اس نے بڑی مشکل سے داہنے ہاتھہ کو حرکت دی، کچھہ ٹٹولا، ہاتھہ کو کچھہ محسوس نہیں ہوا۔
پھر بائیں ہاتھہ کو حرکت دینے کی کوشش کی، کچھہ نہیں ہاتھہ لگا، بے چین ہوگئی۔
خیال آیا کہیں نیچے لڑھک کے گر تو نہیں گیا! اوہ خدایا۔
ہمت کرکے بمشکل پلنگ کے نیچے دیکھا۔
نیچے بھی نہیں۔
گھبراہٹ ہونے لگی۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہو گئیں۔
دُور کھڑی نرس کو اشارے سے بلایا......ہونٹ ہلے پر کچھہ الفاظ نہیں نکل سکے۔
نرس نے ماں کی گھبراہٹ محسوس کر لی۔ اس کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔۔۔ آخر وہ بھی ماں تھی، ماں کی تڑپ کو کیسے نہ سمجھہ پاتی۔
دوڑ کر انکیوبیٹر روم سے نوزائیدہ کو لاکر ماں کے ہاتھہ میں تھماتے ہوئے کہا
"میں سمجھہ سکتی ہوں بہن !
لو...... جی بھر کے دیکھ لو۔"
ماں بولی....
"بہت شکریہ لیکن میں موبائل ڈھونڈ رہی تھی۔
چاچا شکور نے ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ آگے بڑھایا اور پوچھا کہ کیا میری بیگم ووٹ ڈال گئی ھے ؟۔
ایجنٹ نے لسٹ چیک کرکے بتایا کہ ھاں جی وہ ووٹ کاسٹ کر گئی ھیں۔
چاچا شکورے نے ایک آہ بھری اور کہا کہ کاش چند منٹ پہلے آجاتا تو ملاقات ھو جاتی ۔
ایجنٹ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کافی عرصہ سے ناراضگی چل رھی ھے شاید؟۔
چاچا نے جواب دیا کہ نہیں ایسی بات نہیں ھے ۔ دراصل اسے فوت ھوئے پورے 15 سال ھو چکے ھیں مگر وہ ھر دفعہ ووٹ باقاعدگی سے کاسٹ کرنے آتی ھے ۔
#سندھ الیکشن😂😂
Best of Zafri Khan ...
یارو اب ہم سٹھیانے کو تیار بیٹھے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Toronto, ON