Nosheen Rao
A Pakistani Canadian, Data Scientist by Profession, A Poet at heart... Member of Canada Urdu Association
10/20/2025
09/18/2025
غزل
تماشہ کوئی تو لگایا گیا ہے
ہمیں بزمِ دشمن بلایا گیا ہے
کبھی تو محبت میں کٹتا ہے سر اور
کبھی تاجِ الفت سجایا گیا ہے
یہاں خواب بھی گن کے بیچے گئے ہیں
یہاں عشق میں سود لایا گیا ہے
پڑھے لکھے جاہل یہاں پھر رہے ہیں
یوں علم اس جہاں سے اٹھایا گیا ہے
وفا کے طلب گار تنہا کھڑے ہیں
ہزاروں کا مجمع اٹھایا گیا ہے
ہوا سے چراغِ وفا بجھ رہے ہیں !
چراغوں کو مجرم بنایا گیا ہے
اچانک خدا سے وہ ڈرنے لگا ہے !
کسی بد دعا سے ڈرایا گیا ہے
زباں نے اگرچہ چھپایا بہت کچھ
نظر سے مگر سب سنایا گیا ہے
کہانی کے کردار سب یوں ملے ہیں !
نظر آئے وہ ، جو دکھایا گیا ہے
[ نوشین راؤ ]
09/06/2025
09/05/2025
08/31/2025
پھر وہی وقت آ پہنچا ! کب ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے اور ڈیم بنانے پر توجہ دیں گے۔ یا ہم انا پرست قوم ڈوب کر ہی دم لیں گے !
Please donate generously!
Sharing again on 💚
08/09/2025
08/05/2025
07/30/2025
غزل
زندگی موڑ ایسا لاتی ہے !
سب کا سچ سامنے لے آتی ہے !
پہلے دولت تھی آنی جانی شے !
اور اب عزت آتی جاتی ہے
دشمنوں پر نظر تواتر سے !
دوستوں کی خبر بھی آتی ہے ؟
زخم دیتی ہے نرم لہجے میں
آگہی ایسے آزماتی ہے
بے وفائی کے ان اندھیروں میں
زندگی یوں ہی گزری جاتی ہے
آسماں زرد اور زمیں بنجر !
اور بارش بھی آتی جاتی ہے
خواب بیچارے مر سے جاتے ہیں
سامنے جب حقیقت آتی ہے
گردشںِ دوراں کی کڑی یہ دھوپ
ہر مسافر کو آزماتی ہے
ہم نے تم کو دعا سمجھ لیا تھا
تیری خواہش ہمیں مٹاتی ہے
(نوشین راؤ )
07/27/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Toronto, ON