An AusPak Rider
Moderation is the sign of life, adopt it.
اعتدال پسندی زندگی کی علامت ہے اختیار کیجئے
شہر پہ خوف کے سائے ہیں
یہ کیسے دن آئے ہیں
روتے ہیں پیاسے نیناں
درد کے بادل چھائے ہیں
موت سے لڑنے والے لوگ
گھبرائے گھبرائے ہیں
چاند سے چہرے پھول سے لوگ
مرجھائے مرجھائے ہیں
از حبیب جالب
کتاب: کلیات حبیب جالب
آخر میں حبیب جالب کا ایک شہرہ آفاق مصرعہ
بولتے جو چند ہیں
سب ہی شرپسند ہے
انکی کھینچ لے زباں
انکا گھونٹ دے گلا
19/06/2026
عجب قبیلہ ہے میرا جس کے گبرو جواں
خود اپنے بوڑھوں کی سازش سے مارے جاتے ہیں
عابی مکھنوی
18/06/2026
جانا تھا جاپان پہنچ گئے چین سمجھ گئے ناں
اگر تو 300 ارب ڈالر کا فنڈ عربوں و دیگر نے دینا ہے تعمیر و ترقی کے لئے تو فیر سوا لاکھ واری سنہری کھوتے ٹرمپ اور سفید سور بن یامین پر وہی ہے جو آپ سمجھے
اڑتے تیر سے ہمیشہ بچیں
یہ ہدایات خاص طور پر پاپولر لیڈروں کے چاہنے والوں کے لئے ہیں۔
آخر میں ہم تہہ دل سے سابق وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کے شکر گزار ہیں، جن کی شبانہ روز محنت اور سفارتکاری سے ایرانی ور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔
I was going to Japan, but I reached China, and I am wise of wiser 😌 😉
If the Arabs and others have to give a fund of 300 billion dollars for construction and development of Iran then Golden Donkey 🫏 Trump, and his best mate white pig Benjamin, 🐖
who loses a hundred thousand times,
do you guys even think 🤔
These instructions are especially for those who love populist leaders all around the world 🌎.
Thank you to Ex PM of Pakistan Mr Imran Khan
PTI Overseas PTI Punjab PTI Khyber Pakhtunkhwa
16/06/2026
اسلامی سال نو مبارک
یکم محرم الحرام 1448 ہجری
Islamic Happy New Year
1 Muharram ul Haran 1448 Hijri
#محرم
16/06/2026
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
یہ شعر 1995 تک کی پیدائش کے لوگوں میں کافی مقبول ہے، بلکہ ایک مصرع اور بھی اضافی یے
کہیں آتے بھی نہیں کہیں جاتے بھی نہیں
یونہی شب و روز ملا کرتے ہیں
اصل شعر صرف مصرع اول ہے اور شاعر ہیں
منشی امیر اللہ سلیم
Morning comes, evening comes
This is how life ends
15/06/2026
میں اس پرمسرت موقع پر ولی و مہدی زمانہ و امیرالمومنین و خلیفہ المسلمین جناب عمران احمد خان نیازی مظللہ علیہ آف عمرانیہ سلسلہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے پابند سلاسل ہونے کے باوجود دنیا کے امن کو مقدم جانا اور دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔
اس سب میں عریاں مقبول جان کی وہ بھوشوانی غلط ثابت ہو گئی کہ ایران خان صاحب کی رہائی کے مطالبے سے دستبردار ہو گیا نیز خان صاحب کے ایک نہایت مستعد رفیق ڈولنڈ ٹرمپ نے انکی رہائی کو اس معاہدہ سے مشروط نہیں کیا کیونکہ بقول ع سے علم اور ش سے شعور والے خان صاحب نے اپنے رفیق کو بذریعہ خفیہ ذرائع ابلاغ پیغام دیا کہ مجھے میری نہیں دنیا کی فکر ہے آپ دنیا کو بچائیں میری خیر ہے، میں آج نہیں تو کل باہر آ جاوں گا
خان صاحب کتنی بار ہمارا دل جیتیں گے ❤️🫡🌹
A Muslim Traveller Thanks for the thought
کیسے لگے آپ کو ہمارے امام انقلاب حضرت مولانا میاں نواز شریف دامت برکاتہم العالیہ ؟ چس آئی اے کہ نہیں ؟
میرا شروع دن سے موقف ہے کہ یہ سب د دگڑ دلے اندر سے ایک ہیں صرف قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے یا بتی قوم کی گ میں دی ہوئی ہے۔
انکا مذہب اور ہمارے عمومی مسائل سے نا کوئی تعلق ہے نا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے یہ مسائل نہیں ہیں، یہ اشرافیہ ہیں، تمام مسائل سے آزاد، باہرلے ملک کی انشورنس یا بیمہ کے ساتھ۔
نوازشریف گ گانڈو ہو سکتا ہے الف انقلابی نہیں۔
ان سب کا بنیادی مسئلہ اصطبلشمنٹ کے ساتھ یہ ہے کہ آپ میری سوتن کو ع غ کیوں کرتے ہیں مجھے روزانہ ع غ کریں، میں آپ کو چرن سکھ دوں گی۔ بس مجھے اپنے چرنوں میں جگہ دیں۔
اصطبل کا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں ہر چند دن بعد دوسری شادی کا شوق چڑھ جاتا ہے کہ اب پھر کسی کنواری دوشیزہ سے شادی کرنی ہے کیونکہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
مرد و اصطبل کا مسئلہ چرن و چرن سکھ سے شروع ہو کر وہی ختم ہو جاتا ہے۔ معاونت کے لئے سپرم کورٹ بذریعہ اسقاط حمل بچہ گرا دیتی ہے۔
نتیجہ وہی ہے جب بھی جمہوریت کی کوک ہری ہوتی اور معیشت کی گاڑی چلنا شروع ہوتی ہے، نیا تجربہ یا ڈاکٹرائن آ جاتا ہے۔
PML(N) PML-N Punjab The President of PML-N PML-N Gujranwala Division PML-N South Punjab
ملک معراج خالد (1916-2003) ایک ممتاز پاکستانی سیاست دان، وکیل، اور مارکسی فلسفی تھے۔ وہ نومبر 1996 سے فروری 1997 تک پاکستان کے نگراں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے کے لئے مشہور ہیں۔
ان کی زندگی اور مشاغل کی چند اہم جھلکیاں یہ ہیں:
ابتدائی زندگی اور تعلیم: 1916 میں پنجاب، برطانوی ہندوستان میں ایک غریب کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور اسلامیہ کالج (لاہور) اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد 1948 میں اپنی قانونی پریکٹس کا آغاز کیا۔
سیاسی کیرئیر:
وہ بائیں بازو کی سیاست کے سخت حامی اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی رکن تھے۔
وہ اپنے پورے کیرئیر میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں شامل ہیں:
1965 میں رکن صوبائی اسمبلی۔
1970 میں رکن قومی اسمبلی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں خوراک و زراعت اور پسماندہ علاقوں کے وزیر (1971)۔
وزیراعلیٰ پنجاب (1972-1973)۔
قومی اسمبلی کے سپیکر مسلسل دو مرتبہ (1977 اور 1988-1990 میں رہے۔
انہیں نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے نگراں وزیر اعظم مقرر کیا تھا، جو نئے انتخابات میں منتقلی کی نگرانی کرتے تھے۔
فلسفہ اور اصول: اپنے مارکسی جھکاؤ اور عوام کی فلاح و بہبود کے عزم کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ اپنی ذہانت، دور اندیش قیادت، اور سادگی پسند طرز زندگی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قابل احترام تھے، وہ اکثر وزیر اعظم کے طور پر بھی بغیر پروٹوکول کے سفر کرتے تھے۔
انھوں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ کمیونٹی کے کاموں کے لیے وقف کیا، بشمول اپنے آبائی گاؤں میں خواندگی کو فروغ دینا۔
سیاست کے بعد کی زندگی: فعال سیاست کو خیرباد کہنے کے بعد، انہوں نے تعلیم کے لیے اپنی لگن کو جاری رکھتے ہوئے 1997 میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وفات: ملک معراج خالد کا انتقال 13 جون 2003 کو لاہور، پاکستان میں ہوا۔
10/06/2026
یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند
گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ
دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند
تو برگ گیا ہے نہ دہی اہل خرد را
او کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند
مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکر
کر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند
فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے آبلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نا خوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
مشکل ہے ہر اک بندۂ حق بین و حق اندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند
ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش
میں بندۂ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند
پر سوز نظر باز و نکوبین و کم آزار
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند
ہر حال میں مرا دل بے قید ہے خرم
کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکرخند
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند
از ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال رح
کتاب: بال جبریل
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Perth, WA