Informative Zone
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Informative Zone, Art, Flat 302, Building 1933, Sharjah.
11/06/2026
روایات میں آتا ہے کہ یہ قدیم نقش ایک مختصر مگر معنی خیز عبارت پر مشتمل ہے جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس پر درج الفاظ کا مفہوم یہ ہے: "اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ تحریر ابتدائی اسلامی دور کے حجازی رسم الخط میں لکھی گئی معلوم ہوتی ہے، جو اسلام کے اولین زمانے میں رائج تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ حجازی خط بعد میں ترقی کرتے ہوئے کوفی رسم الخط کی صورت اختیار کر گیا، جو اسلامی دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوا۔
بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ نقش پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بعض اہلِ تحقیق نے اس امکان کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ عبارت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لکھی گئی ہو۔
تاہم اس بات کی قطعی اور متفقہ تاریخی تصدیق موجود نہیں کہ یہ تحریر خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک سے لکھی گئی تھی۔
11/06/2026
روایات میں آتا ہے کہ یہ وہ تاریخی خطوط ہیں جو نبی کریم ﷺ کی جانب سے مختلف بادشاہوں، حکمرانوں اور قبائلی سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ارسال کیے گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ان خطوط کے ذریعے آپ ﷺ نے دنیا کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔
روایات میں آتا ہے کہ ان میں روم کے بادشاہ، ایران کے فرمانروا، مصر کے حاکم اور دیگر حکمرانوں کے نام بھی شامل تھے۔
بعض تاریخی نسخے اور محفوظ دستاویزات ان خطوط کی نقلوں کے طور پر مختلف عجائب گھروں اور کتب میں موجود ہیں۔
یہ خطوط اسلامی سفارت کاری، دعوتِ اسلام اور عالمی سطح پر پیغامِ حق پہنچانے کی ایک اہم مثال سمجھے جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان مکتوبات میں حکمت، خیرخواہی اور اسلام کی دعوت کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ تاریخی دستاویزات ابتدائی اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم آثار میں شمار ہوتی ہیں۔
آج بھی یہ خطوط دنیا بھر کے مسلمانوں اور محققین کے لیے غیر معمولی تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
11/06/2026
بابُ الفتح مسجدِ حرام کے اہم دروازوں میں شمار ہوتا ہے جو مروہ کی سمت کے قریب واقع بتایا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ دروازہ شمالی حصے کی جانب موجود ہے اور حرمِ مکی کی توسیعات کے بعد اس کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔
روایات میں آتا ہے کہ فتحِ مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے مکہ میں داخل ہونے کے واقعات مختلف راستوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، تاہم اس دروازے کی براہِ راست نسبت بعض روایات اور تاریخی بیانات میں بیان کی جاتی ہے۔
یہ دروازہ مسجدِ حرام کے نظم و نسق اور زائرین کے داخلے کے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔
بعض تاریخی حوالوں کے مطابق بابُ الفتح کو مکہ مکرمہ کی فتح کی یاد کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ مسجدِ حرام کی توسیعات میں اس دروازے کی ساخت اور مقام میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔
یہ مقام حرمِ مکی کی عظمت اور اسلامی تاریخ کی یادوں سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے۔
آج یہ دروازہ زائرین کے لیے ایک معروف اور استعمال ہونے والا داخلی راستہ ہے۔
11/06/2026
روایات میں آتا ہے کہ یہ وہ مبارک پتھر ہے جسے مقامِ ابراہیم کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیان کی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ خانۂ کعبہ کی تعمیر کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہو کر دیواریں بلند فرماتے تھے۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تعمیر کے لیے پتھر لاتے تھے جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں دیوار میں نصب کرتے تھے۔
بعض تاریخی اور دینی روایات کے مطابق اس پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات محفوظ رہے۔
یہ مقام مسجدِ حرام کے اندر خانۂ کعبہ کے قریب واقع ہے اور مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
قرآنِ کریم میں بھی مقامِ ابراہیم کا ذکر احترام اور برکت کے مقام کے طور پر آیا ہے۔
صدیوں سے مسلمان اس مقام کو عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں۔
آج بھی مقامِ ابراہیم خانۂ کعبہ سے جڑی اہم تاریخی اور دینی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔
مسجدِ فاسفورس.......
11/06/2026
یہ منظر مسجدِ حرام میں حجرِ اسود کے قریب کا ہے جہاں قاری عبدالباسط عبدالصمد رحمہ اللہ کی موجودگی کو یاد کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ مصر کے بہت مشہور قاریِ قرآن تھے جن کی تلاوت کو دنیا بھر میں قبولیت اور شہرت حاصل ہوئی۔
روایات میں آتا ہے کہ ان کی تلاوت میں ایک خاص سوز، خشوع اور اثر تھا جو سننے والوں کے دلوں کو متاثر کرتا تھا۔
حجرِ اسود کے قریب اس نسبت سے منسوب تصاویر اور مناظر ان کے احترام اور خدمتِ قرآن کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ منظر حرمِ مکی کی روحانی فضا اور تلاوتِ قرآن کے اثر کو نمایاں کرتا ہے۔
عبدالباسط عبدالصمد رحمہ اللہ کی قراءت اسلامی دنیا میں آج بھی عقیدت اور محبت سے سنی جاتی ہے۔
ان کی آواز کو قرآن کی تلاوت کے سنہرے دور کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ نسبت زائرین اور سامعین کے لیے روحانی اثر اور یاد دہانی کا باعث بنتی ہے۔
11/06/2026
روایات میں آتا ہے کہ مسجدِ بنی غفار مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کے جنوب مشرقی جانب واقع ایک تاریخی مسجد ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد بنی غفار قبیلے سے منسوب ہے جو مدینہ منورہ کے ابتدائی اسلامی معاشرے کا حصہ تھے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس مقام پر نبی کریم ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی، جس کی نسبت سے اس جگہ کو دینی اور تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
بعض تاریخی روایات میں اس مسجد کو ابتدائی اسلامی دور کی عبادت گاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کی عبادات اور اجتماعی دینی ماحول کی یاد دلاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس مسجد کی تعمیر و تجدید مختلف ادوار میں ہوتی رہی ہے۔
یہ جگہ مدینہ منورہ کے اسلامی ورثے اور سیرتِ نبوی ﷺ سے جڑے آثار میں شمار کی جاتی ہے۔
آج بھی مسجدِ بنی غفار زائرین کے لیے ایک معروف تاریخی مقام ہے
11/06/2026
مسجدِ بنی حرام مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کے مغربی جانب واقع ایک تاریخی اور دینی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ مقام غزوۂ خندق کی تیاریوں کے زمانے سے منسوب ہے اور اس علاقے کی اسلامی تاریخ میں خاص نسبت بیان کی جاتی ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس مقام پر نبی کریم ﷺ کی عبادات اور بعض اہم واقعات کی نسبت مختلف تاریخی بیانات میں ذکر ملتا ہے۔
یہ مسجد مدینہ منورہ کے ان مقامات میں شمار ہوتی ہے جو ابتدائی اسلامی دور کی یاد دلاتے ہیں۔
بعض تاریخی حوالوں کے مطابق یہ علاقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں بھی اہم عسکری اور دینی سرگرمیوں سے وابستہ رہا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس مسجد کی تعمیر و تجدید مختلف ادوار میں ہوتی رہی ہے۔
یہ جگہ زائرین کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ اور مدینہ کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
آج بھی مسجدِ بنی حرام مدینہ منورہ کے تاریخی اور زیارتی مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔
10/06/2026
مقامِ حدیبیہ اسلامی تاریخ کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں صلحِ حدیبیہ کا عظیم واقعہ پیش آیا۔
کہا جاتا ہے کہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابۂ کرامؓ کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، اور اس سفر میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں۔
مکہ کے قریب پہنچنے پر قریش اور مسلمانوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں صلحِ حدیبیہ طے پائی۔
روایات میں آتا ہے کہ صلح کی بعض شرائط بظاہر صحابۂ کرامؓ کو سخت محسوس ہوئیں کیونکہ انہیں اسی سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔
اس صورتحال نے صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں غم اور بے چینی پیدا کی، کیونکہ وہ بیت اللہ کی زیارت کے شدید مشتاق تھے۔
تاہم رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور حکمت کے تحت ان شرائط کو قبول فرمایا۔
بعد میں یہی معاہدہ اسلام کی دعوت کے پھیلاؤ اور مسلمانوں کی کامیابی کا ایک اہم سبب ثابت ہوا۔
یہ واقعہ صبر، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر کامل بھروسے کی ایک عظیم مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
10/06/2026
مسجدِ مشربہ اُمّ ابراہیم مدینہ منورہ میں واقع ایک تاریخی اور روحانی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ مقام حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے ولادت کے ساتھ منسوب ہے، جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے۔
روایات میں آتا ہے کہ اسی نسبت سے اس جگہ کو بعد کے ادوار میں مسجد کی شکل دی گئی تاکہ اس تاریخی واقعے کی یاد باقی رکھی جا سکے۔
یہ مسجد سیرتِ نبوی ﷺ اور اہلِ بیتؓ سے تعلق رکھنے والے اہم واقعات کی یادگار کے طور پر جانی جاتی ہے۔
بعض تاریخی حوالوں میں اس مقام کو مدینہ منورہ کے قدیم اسلامی ورثے کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
اس مسجد کا نام “مشربہ اُمّ ابراہیم” اس کے تاریخی اور خاندانی پس منظر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس مقام کی اہمیت زائرین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مزید بڑھتی گئی۔
آج یہ مسجد مدینہ منورہ کے معروف زیارتی اور تاریخی مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Flat 302, Building 1933
Sharjah
00000