Islami Jamiat Talaba is the largest student Network in Pakistan. Jamiat is working to glorify the image of Islam among students in the country.
Our Program
•To convey the message of Islam to the students, to encourage them to acquire its knowledge, and to awaken them to the task of fulfilling its requirements in the practical life.
•To organize those students under the Jamiat, who are prepared to strive for the establishment of Islamic way of life.
•To make effective arrangements for the study of Islam and modern sciences, the build
ing of Islamic Character and the development of mental and physical qualities for those students who join the Jamiat.
•To strive for implementation of Islamic Educational system in Pakistan this is the most scientific, comprehensive and easy to establish.
•To make efforts to solve the problems faced by the student community to get their genuine demands Fulfilled and to lead them in their collective problems
•To struggle for the establishment of an Islamic society in Pakistan this ensures human welfare and is free from economic, social and political exploitation.
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے جس کا قیام 25 دسمبر 1947 کو عمل میں آیا تھا۔ جمعیت کے پہلے صدر یعنی ناظم اعلٰی ظفراللہ خان کے مطابق انہوں نے 1945 میں ایک ایسی تنظیم کی ضرورت کو محسوس کیا جو اسلامی خیالات رکھنے والے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 50 طلبہ کو اکٹھا کیا اور مجلسِ تعمیر ِ افکار ِ اسلامی کے پرچم تلے ان کی اسلامی خطوط پر ذہن سازی کی۔ مئی 1947 میں متحدہ ہندوستان (پاک و ہند) سے طلبہ دارالسلام پٹھان کوٹ میں جمع ہوئے جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پورے خطہ سے اسلامی ذہن رکھنے والے طلبہ کا ایک اجتماع اگست کی تعطیلات میں دہلی میں منعقد کیا جائے گا۔ مگر اس اجلاس سے قبل ہی 3 مئی 1947 کو ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے کا اعلان کردیا گیا جس کے باعث اس اجتماع کا انعقاد ناممکن ٹہرا۔
تاسیسی اجتماع
قیام پاکستان کے بعد نومبر 1947 میں طلبہ سے رابطوں اور اخبارات کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ اسلام سے محبت کرنے والے طلبہ کا ایک اجتماع 21 دسمبر 1947 کو لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے نتیجے میں 25 طالب علم جمع ہوئے اور یوں 25 دسمبر 1947 کو اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام عمل میں آگیا۔ 21 تا 23 دسمبر جاری رہنے والے اس تین روزہ اجتماع میں شرکاء نے اپنی کارکردگی اور تجربات سے اک دوسرے کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح تعلیمی اداروں اور طلبہ میں دعوت دین کا کام کرہے ہیں، اس دوران طویل بحث و مباحثہ کے بعد مسقتبل کے پروگرام کی منصوبہ بندی کی گئی۔
پہلے اجتماع کے مقررین
اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے اجتماع میں طلبہ کے علاوہ سیدابوالاعلٰی مودودی، نعیم صدیقی اور عبدالمجید قریشی نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ مقررین نے اس موقع پر مختلف اسلامی موضوعات پر تقاریر کرتے ہوئے اسلامی اور فلاحی معاشرے کے قیام میں طلبہ کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نام کی تجویز
تاسیسی اجتماع کے تیسرے روز سیدابوالاعلیٰ مودودی کے خطاب سے قبل اک مباحثے میں نام کی تجویز کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ طلبہ کی خواہش تھی کہ ایک ایسا نام تجویز کیا جائے جو کہ بیک وقت طلبہ، اجتماعیت اور اسلام کا عکاسی کرتا ہو۔ مولانا مودودی سے جب اس بابت رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کا نام انجمن ِ نوجوانان ِ اسلام رکھا جائے مگر یہ نام طلبہ کو پسند نہ آیا۔ ابھی یہ بحث جاری تھی کہ وہاں سے مولانا نصراللہ خان عزیز (مرحوم) گزرے جن کے استفسار پردرپیش مسئلہ بتایا گیا۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ تینوں عناصر کی نمائندگی جو نام کرسکتاہے وہ اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔ اس نام کو طلبہ نے بے حد پسند کیا اور یہی نام طے پایا۔ سید مودودی کے تجویز کردہ نام قبول نہ کرنے سے جمعیت کے اندر شورائیت کے نظام یعنی مشورے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جمعیت روز اول سے ہی اک خود مختار طلبہ تنظیم ہے، اس وقت بھی طلبہ کو اتنا حق حاصل تھا کہ وہ سید مودودی کے تجویز کردہ نام کو قبول کرنے سے انکار کرسکیں۔
منشور
اسلامی جمعیت طلبہ کا منشور
اللہ اور ا س کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول ہے۔
معاشرے و تعلیمی اداروں پر اثرات
اسلامی جمعیت طلبہ نے تعلیمی اداروں اور طلبہ میں غیر اسلامی نظریات بشمول سرمایہ دارانہ ذہنیت اور کمیونزم کا بھرپور مقابلہ کیا۔ جمعیت نے طلبہ اور تعلیم یافتہ طبقے کے اندر یہ سوچ پروان چڑھائی کہ اسلام آج بھی واحد ذریعہ نجات ہے اور قرآن وسنہ ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔
طلبہ حقوق کے لئے جدوجہد
جمعیت نے طلبہ حقوق کے لئے طویل جدوجہد کی اور اس کے لئے بے شمار قربانیاں دیں، جن میں خواتین یونیورسٹی کا قیام، مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ، اسلامی نظام تعلیم کا نفاذ، تعلیمی اداوں میں نئے آنے والے طلبہ کو فول ڈے کے نام پر تضحیک کا نشانہ بنانے کی روک تھا شامل ہیں۔ مختلف تعلیمی اداوں میں طلبہ کو سہولیات کی فراہمی کےلئے بھی تنظیم نے جدوجہد کی اور تعلیمی اداروں میں بدعنوانیوں کو بے نقاب بھی کیا اور اس کی روک تھام کے لئے جدوجہد کی۔ مسائل اور مطالبا کے حوالے سے چارٹر آف ڈیمانڈ کے نام سے مطالبات کی فہرست مرتب کی جاتی رہی اور طلبہ میں جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لئے شعور کو بیدار کیا گیا۔
مفت تعلیم
جمعیت نے کئی مقامات پر طلبہ کے لئے مفت ٹیوشن اور امتحانات کی تیاری کے لئے تجربات کا انتظام بھی طویل عرصے شروع کر رکھا ہے۔
اسلامی نظام کی حمایت
پاکستان میں جب اسلامی سیاسی جماعتوں نے 1953 میں اسلامی آئین کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا تو جمعیت نے اس کی بھر پور حمایت کی اور اس کے لئے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں دستخطی مہم چلائی گئی۔ اسی سال جمعیت نے طلبہ کی فلاح کے لئے بھی مہم شروع کی۔
امریکہ سے معاہدے کی مخالفت
جمعیت نے 1953 میں ہونے والے پاک امریکہ فوجی تعاون کے معاہدے کے خلاف بھی مہم چلائی اور اس معاہدے کو آئندہ پاکستان کی بقاء اور آزادی و خود مختاری کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کی بھرپور مخالف کی۔
پہلی کامیابی
جمعیت نے 1954 میں یونین کے الیکشن میں پہلی کامیابی کراچی کے اردو سائنس کالج میں طلبہ یونین کا انتخاب جیت کر حاصل کی، اسی برس مصر میں اسلامی تنظیم اخوان المسلمین کے رہنمائوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر بھی طلبہ نے جمعیت کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا۔
جمعیت کے قومی سیاست پر اثرات
اسلامی جمعیت طلنہ نے اسلامی فکر رکھنے والے طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد کو طلبہ کے پلیٹ فارم سے تربیت فراہم کی جو کہ آج پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شامل ہوکر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ جمعیت طلبہ پر بعد از تعلیم کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت بشمول جماعت اسلامی میں شمولیت کی پابندی عائد نہیں کرتی نہ ہی ان سے کوئی وعدہ لیا جاتا جس کے باعث جمعیت کے سابقین آج پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں جن میں سے چند کے نام ذیل کی فہرست میں درج ہیں۔
چند سابق رہنمائوں کی مختصر فہرست
جنرل حمید گل
سابق سربراہ آئی ایس آئی
کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر
کارگل کے محاذ پر حکومتی فیصلے کے برخلاف ہتھیار پھینکنے سے انکار کرنے والے پاک فوج کے جرات مند سپاہی، جسے ہندوستان کے فوجی جنرل نے بھی اس کی جرات پر سیلوٹ کیا۔
جاوید ہاشمی
سابق وفاقی وزیر، ممبر قومی اسمبلی و مرکزی نائب صدر مسلم لیگ (ن)۔
سید منور حسن
سابق ممبر قومی اسمبلی و امیر جماعت اسلامی پاکستان
ڈاکڑ اسرار احمد
معروف مذہبی اسکالر
خرم مراد
بیت اللہ کی تعمیر کی سعادت اور فرش کا منفرد ٹھنڈا ماربل تلاش و پیوست کرنے والے معروف انجینیر، بانی ینگ مسلمز برطانیہ۔
احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر، سیکریٹری اطلاعات مسلم لیگ (ن)
لیاقت بلوچ
سابق ممبر قومی اسمبلی، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
پروفیسر خورشید احمد
سینیٹر، سابق وفاقی وزیر و نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
سید علی گیلانی
چئیرمین حریت کونسل، جموں و کشمیر، امیر جماعت اسلامی جموں و کشمیر
عامر چیمہ
جرمنی میں توہین رسالت پر احتجاج کرنے والا اور اس کی پاداش میں جیل کے اندر مبینہ طور پر قتل کیا جانے والا نوجوان۔
اوریا مقبول جان
دیانت داری سے شہرت پانے والا پاکستانی بیوروکریٹ اور معروف کالم نگار و دانشور
ظہور نیازی
ایڈیٹر روزنامہ جنگ لندن۔
خالد مسعود خان
مزاحیہ شاعر، کالم نویس، دانشور
احمد حسن۔
ایڈیٹر جنگ کراچی
طاہر عزیز خان
ایڈیٹر جنگ کراچی
ادریس بختیار
معروف صحافی بی بی سی اردو و ڈان ٹی وی
اے ایچ خانزادہ
سیکریٹری جنرل کراچی پریس کلب
نجیب احمد
صدر کراچی پریس کلب
زبیر منصوری
رہنما کراچی یونین آف جرنلسٹ (دستوری)
حسین حقانی
امریکہ میں پاکستانی سفیر
ڈاكٹر مسعود محمود خان
عالمی ایوارڈ یافتہ انجینئر، سابق سیکریٹری جنرل پاسپان اور آسٹریلیا میں نامور پاکستانی انجینئر
میاں محمد عامر
ناظم لاہور شہر و رہنما مسلم لیگ (ق)
الطاف شکور
نوجوانوں کی غیر سیاسی فلاحی تنظیم پاسبان پاکستان کے مرکزی صدر
05/09/2026
𝙉𝘼𝙏𝙄𝙊𝙉𝘼𝙇 𝙈𝙊𝙃𝙎𝙄𝙉-𝙀-𝙄𝙉𝙎𝘼𝙉𝙄𝙔𝘼𝙏 𝙌𝙐𝙄𝙕
ڈائریکٹر بیکن لائٹ یونیورسٹی فتح پور لیہ امیر جماعت اسلامی لیہ شہر پروفیسر ڈاکٹر ظفر عالم ظفری
کا قومی محسنِ انسانیت ﷺ کوئز مقابلہ کے حوالے سے خصوصی پیغام۔
𝙋𝙍𝙄𝙕𝙀𝙎:
1st Prize: 500K PKR
2nd Prize: 300K PKR
3rd Prize: 200K PKR
𝙎𝙔𝙇𝙇𝘼𝘽𝙐𝙎:
The test will be based on 5 authentic books of Seerah.
For details, visit the link below.
IJT_Layyah
02/09/2026
اسلامی جمعیت طلبہ فتح پور کے زیر اجتماع کارکنان منعقد کیا گیا جس میں ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لیہ برادر محمد وقاص نے محسنِ انسانیت کوئز کمپیٹیشن کے حوالے سے بریفننگ دی اور اہداف مقرر کئے۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ فتح پور برادر طلحہ نیازی موجود بھی ساتھ موجود ہیں۔
30/08/2026
Islami jamait talaba Layyah ❤️❤️
29/08/2026
لیہ
تنظیمی دورہ | معتمد صوبہ |
معتمد اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی برادر صہیب الرحمان رومی نے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ملتان ریجن برادر ذین نیازی ،ناظم لیہ برادر محمد وقاص کے ہمراہ لیہ مقام کے رہاشی حلقہ سید مودودی کا تنظیمی دورہ کیا۔ اور رفقاء سے ملاقات کی۔۔۔۔
24/08/2026
لیہ ۔۔۔۔
اسلامی جمعیت طلبہ لیہ کے وفد نے ناظم مقام برادر محمد وقاص کے ہمراہ پرنسپل پوسٹ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ سجاد حسین صاحب سے سیرۃ النبی (ص) کوئز کمپیٹیشن کے حوالے سے ملاقات کی۔
21/08/2026
لیہ
اسلامی جمعیت طلبہ لیہ کے زیر اہتمام “سمر کیمپ” کاانعقادکیا گیا ۔
معاون معتمد عام برادر عمیس عزیز نے ناظم ملتان ریجن برادر زین نیازی کے ہمراہ خصوصی شرکت کی اور طلبہ سے مخاطب ہوئے، ناظم مقام محمد وقاص بھی موجود ہیں۔
Layyah
14/08/2026
شہادت ہے کلیم اللہ کی فخر مسلمانی
جمیعت کے امیدوار رکن کلیم اللہ سہو 14 اگست 2021 کو جام شہادت نوش کر گئے۔
آپ کا تعلق بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے تھا۔ جامعہ میں منفی اور مہلک سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر کچھ شرپسند عناصر کے حملے سے آپ شہید ہو گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں جب بھی اسلامی اقدار کو چیلینج کیا گیا تو جمعیت نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرتے ہو شر کو نیست و نابود کیا۔
اللہ تعالٰی کلیم اللہ سہو شہید کے درجات بلند فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
13/08/2026
Page par Laga den𝟕𝟗𝐭𝐡 𝐈𝐍𝐃𝐄𝐏𝐄𝐍𝐃𝐄𝐍𝐂𝐄 𝐃𝐀𝐘
عزمِ عالی شان، ہمارا پاکستان 🇵🇰
11/08/2026
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لیہ، محترم محمد وقاص بھائی
امیدواران اور کارکنان سے خطاب اور خصوصی گفتگو کرتے ہوئے۔
اسلامی جمعیت طلبہ — لیہ
فکر، کردار اور خدمت کا سفر ✨
07/05/2026
اسلامی جمعیت طلبہ لیہ کے زیرِ اہتمام اجتماع رفقاء اور سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی برادر حذیفہ عثمان نے خصوصی شرکت کی اور سید مودودی کی کتاب "تحریک اور کارکن" پر سٹدی سرکل کنڈکٹ کروایا۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لیہ برادر محمد وقاص موجود رہے۔