Nasir Rizvi

Nasir Rizvi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nasir Rizvi, Writer, Islamabad.

10/04/2026

موسمِ بہار کی آمد آمد تھی ،
کافی دن کے بعد اسے ، اتوار کے دن آف ملا تھا ،
فیملی کے ساتھ چھٹی گزارنے کا موقع ،
لگاتار ڈیوٹی کرتے کرتے ، وہ کچھ تھک سی گئی تھی ،
کبھی دن کی ڈیوٹی ، تو کبھی رات کی ، کبھی ڈبل ،
کیونکہ ۔۔۔۔۔
اسٹاف شارٹ ہے -
بس یونہی سارا مہینہ گزرا ،
ہفتے کے درمیان کے دنوں میں آف ملا تو ، سارا دن نیند پوری کرتے گزرا ،
گھر والے بھی مصروف تھے ، کوئی سکول اور کوئی دفتر میں -

آج اتوار والے دن ، بابا کی چھٹی تھی اور چھوٹی بہن کی بھی -
انھوں نے آج یاسمین گارڈن میں صبح کی واک کا پروگرام بنایا تھا ،
ویسے تو ہر اتوار کو ، بابا اور بہن ایف نائین پارک جاتے تھے -

جب وہ لوگ یاسمین گارڈن میں داخل ہوئے تو باغ کی تروتازہ ہوا کے پہلے جھونکے نے اس کا دماغ کھول دیا ،
صبح کی تازہ ہوا ، ہلکی ہلکی پھولوں کی خوشبو ،
اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے ، گہرا سا سانس بھرا ، ورنہ تو سارے دنوں میں ، ناک میں ، دواؤں کی خوشبو ہی اس کی ناک میں جاتی تھی ،
ہسپتال کی فضا میں اور کیا ہونا تھا ،
دواؤں کی خوشبو ،
اور کبھی کبھی فنائل کی بو کے ساتھ -

باغ میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا ،
وہ لوگ درمیان میں بنی گھومتی بل کھاتی ، کہیں سے سیدھی ، روش پر واک کر رہے تھے ، جس پر چھوٹی چھوٹی سرخ بجری کی تہہ بچھی ہوئی تھی -
کیاریوں میں لگے پودوں پہ پھول کھلنے کو تھے ،
کلیوں سے بھرے ،
رنگ برنگی کلیاں ،
کچھ بند ، کچھ ادھ کھلی ،
ایک آدھ پودے پر پھول بھی کھل آئے تھے -

واک کرتے کرتے ، ان اد ھ کھلی کلیوں کو دیکھ کر ، اسے اپنے ہسپتال کی نرسری یاد آگئی ،
ننھے فرشتے ،
معصوم چہرے ، ادھ کھلی آنکھیں ،
جن کے والد ، رشتے دار ، نرسری کے باہر بڑی بےتابی سے انتظار کر رہے ہو تے - عورتوں کے وارڈ سے ، یہ ننھے فرشتے ، آدھ کھلی کلیاں ، سیدھے نرسری میں ہی آتے تھے -

اس نے حال ہی میں اس ہسپتال میں چائلڈ اسپیشلسٹ کی ٹریننگ شروع کی تھی -

گھنٹہ پونا گھنٹہ واک کرنے کے بعد ، وہ لوگ باغ سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے ، ان کی گاڑی کا رخ ، آبپارہ مارکیٹ کی طرف تھا ، راستے میں پہلے ، ناشتہ لینا تھا ، حلوہ پوری کا -
امی گھر پر ہی تھیں ، اٹھ گئی تھیں ، ناشتے کا انتظار کر رہی تھیں -

ابن آدم سوچ رہا تھا ،
یہ کھلتی کلیاں ، ننھے فرشتے ۔۔۔۔۔
ھمارے ملک میں ان ادھ کھلی کلیوں کا پودے پھول کی طرح کھلنے کا تناسب ، خاص کر دیہی علاقوں میں ، چھوٹے شہروں قصبوں میں ، بہت بہتر نہیں ہے ،
دنیا کے اور بہت سے ملکوں سے بہت پیچھے ،
ابھی اس میں بہت کام ہونا باقی ہے ،
کاش ہر کلی ، پھول بنے ، کھلے -

(علی ناصر رضوی : 08-فروری-2023)

Doosra ( دوسرا ) #pakistancricket #cricket 07/04/2026

Doosra ( دوسرا ) #pakistancricket #cricket Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Blossoming buds (Khulti kaliyaan) #psl2026 #lahoreqalandars 04/04/2026

Blossoming buds (Khulti kaliyaan) #psl2026 #lahoreqalandars Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

02/04/2026

پچھلے زمانے میں کچھ لوگ ۔۔۔
نوجوان اپنے دوستوں ،
عزیز و اقارب میں ،
کسی ایک کو ۔۔۔
جس کے ساتھ ان کا ہنسی مذاق ہوتا تھا ،
یکم اپریل ۔۔۔
والے دن بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے تھے-

اگر دوسرا بیوقوف بن جاتا ،
تو دوستوں میں اس کا خوب مذاق بنایا جاتا تھا،
بڑا عقلمند بنتا ہے ، اب دیکھو ۔۔ کس طرح بیوقوف بن گیا ۔۔۔

بعض اوقات یہ مذاق ، دوسرے کے لئیے ۔۔۔ پریشانی کا سبب بھی بن جاتے تھے -

اب گزرتے وقت کے ساتھ ،
اپریل فول ۔۔۔ بنانے کا زور کم ہوگیا ہے -

لوگوں کا ۔۔۔
نوجوانوں کا زیادہ رجحان ،
ویلنٹائن ڈے ۔۔۔
کی طرف ہوگیا ہے -

ابنِ آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔
دنیا ترقی کر گئی ہے ،
زمانہ بدل گیا ہے ،

مذاق کے نام پر بیوقوف بنانے کے کھیل میں نوجوانوں کو ۔۔۔
بہت کم دلچسپی رہ گئی ہے ،
فضول لگتا ہے -

محبت کے نام پر ...
شروع ہونے والے آغاز کو ۔۔۔
حقیقت میں بدلنے کی طرف زیادہ توجہ ہوگئی ہے ۔۔۔۔
ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔
اپریل فول سے ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔

ذرا سوچئے ۔۔۔
وقت کے ساتھ کیا بدلا -

# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
تحریر : علی ناصر رضوی
عنوان : انگریزی کیلنڈر کے دو دن
تاریخ : 01- اپریل -2026

April Fool (اپریل فول) #aprilfool #aprilfools 01/04/2026

April Fool (اپریل فول) #aprilfool #aprilfools Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Chhor de #pakistanzindaabaad #urdustories 30/03/2026

Chhor de #pakistanzindaabaad #urdustories Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Maan ki awaaz ( ماں کی آواز) #pakistanzindaabaad 29/03/2026

Maan ki awaaz ( ماں کی آواز) #pakistanzindaabaad Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

26/02/2026
14/01/2026

حَدِّ نِگاہ اونچی نیچی ، چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اور ڈھلوانیں ، پھیلی ہوئی تھیں، چاروں طرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی-

موسم سرما کا ایک خوبصورت دن۔۔۔
وہ ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھا ہوا تھا،
ادھر ادھر پھیلی ، چیرتی ہوئی بھیڑیں اس کی نظروں میں تھیں -

وہ آج کل یونیورسٹی سے چھٹی آیا ہوا تھا، اس ہی یونیورسٹی سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی ، اب وہاں ہی پڑھا رہا تھا-

ایک بہت بڑا شہر ،
پرہجوم ، تیز بھاگتی زندگی سمیٹے ہوئے ،
جہاں اس کی یونیورسٹی تھی ،
اس کے گاؤں سے بہت دور -

سامنے کی پہاڑی کی چوٹی سے کچھ نیچے ، بنی جھونپڑی کے ساتھ سے دھواں اٹھ رہا تھا ،
زندگی کی علامت-
شاید وہاں کھانا بن رہا تھا ،گیلی لکڑیاں چولہے میں اپنا کام دکھا رہی تھیں -

غریب کے یاں ، تو بس دن میں ایک وقت ہی کھانا بنتا ہے،
اس نے دکھ سے سوچا-

اتنے میں اسے نیلے آسمان پر ، دھواں کی ایک لکیر نے متوجہ کرلیا،
دور سے بکھرتی لکیر ۔۔۔۔
دور سے آتی ٹرین ،
پھر تیزی سے ،اس سے کچھ فاصلے پر جاتی پٹھری سے گزر گئی-
بھاپ سے چلنے والے انجن سے اُٹھتا دھواں،
انسانی ذہن کی ترقی کے پہلے قدموں میں سے ، ایک قدم -

دائیں طرف کچھ میدانی علاقہ تھا، ناہموار سے میدان۔۔۔۔
اینٹوں کے بھٹے کی اونچی چمنی سے نکلتا دھواں ، فضا کو آلودہ کر رہا تھا -

دور ، کافی دور پہاڑیوں کے سلسلے میں ، ایک اونچی پہاڑی کی چوٹی کے قریب ، اٹھتا ہوا بہت سا دھواں ،
شاید وہاں آگ لگی تھی،
سردی سے خشک جھاڑیوں میں،
آگ ۔۔۔۔
خوف کی علامت-

زندگی ۔۔۔۔
چولہے کی آگ ۔۔۔
بھانپ سے انرجی تک ۔۔۔
فضائی آلودگی ۔۔۔۔
خوف۔۔۔۔۔
چاروں طرف پھیلی آگ ۔۔۔
تباہی ۔۔۔
دھواں میں ملے جلے رنگ -

کھلی آنکھوں سے سوچتے ہوئے ، دیکھتے مناظر -

دوپہر ڈھلنے لگی تھی، اس نے گھڑی دیکھی،
کافی ٹائم ہو گیا تھا ،وہ اٹھ کھڑا ہوا،
دیکھا کہ بڑا بھائی ، ایک مخصوص آواز لگا کر بھیڑوں کو جمع کررہا تھا ، جیسے گھر جانے کی تیاری کررہا ہو-

ابنِ آدم سوچ رہا تھا،
دھواں۔۔۔۔
پیشگی اطلاع کی علامت۔۔۔

منہ سے نکلتا، سگریٹ کا دھواں، پیشگی اطلاع ۔۔۔۔کسی خطرناک بیماری کی-
اسی طرح۔۔۔۔
کمرے میں بنےآتش دان کے پائپ سے نکلتا دھواں، بتا رہا ہوتا ہے، کمرہ گرم ہے، ماحول پُرسکون ہے-

گاڑی کے سلنسر سے نکلتا کالا دھواں، اطلاع دے رہا ہوتا ہے، انجن کا کام آنے والا ہے، خرچے کے لئیے تیار رہیں-

آتش فشاں کے دہانے سے اٹھتا دھواں،بتا رہا ہوتا ہے،
بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، آتش فشاں پھٹنے والا ہے-
دھواں۔۔۔

پھر اچانک ابنِ آدم کا شاعری کا ذوق جاگا اور اس کو ایک شعر کا مشہور مصرع یاد آگیا ؛

"یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے"

میر تقی میر کی غزل ، مہدی حسن نے کس خوبصورتی سے ، تحریر سے آواز میں بدلی ہے؛

دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

میر صاحب کے اس مشہور مصرع پر مختلف شعراء نے طبع آزمائی کی ہے -

ضیا الحق قاسمی کی شاعری ، اس مصرع پر ۔۔۔۔۔

زندگی ہے گزارنا مشکل
دم نکلتا ہے، سانس گھٹتا ہے
میں تو سگریٹ بھی اب نہیں پیتا
’’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے‘‘

احمد فراز سے منسوب ایک غزل کے اشعار میں بطور سوالیہ ، یہ مصرع آتا ہے -

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
دل میں کچھ تو جل رہا ہوگا

اس شعر میں دھواں علامت ہے،
علامتی انداز میں اندرونی اضطراب، جلتے ہوئے احساسات یا سماجی گھٹن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یعنی ہر ظاہری علامت کے پیچھے کوئی باطنی سبب ہوتا ہے، چاہے وہ فرد کا دکھ ہو یا معاشرے کی گھٹن۔

•••••••••••

تحریر: علی ناصر رضوی
عنوان: دھواں
تاریخ: 10-جنوری-2026

25/11/2025

طالبعلمی کے زمانے میں ، اس کا اپنے ، رشتے کے ماموں کے گھر جانے کا اتفاق کم ہی ہوتا تھا، ٹائم کم ہی ملتا تھا ، پہلے کالج یونیورسٹی کی مصروفیت ہوتی تھی -

وہ اس کی امی کے کزن ہوتے تھے ، بہت محبت کرنے والے بزرگ تھے ، نفیس طبیعت کے مالک تھے -

ہمیشہ اس کی امی سے بہت محبت اور شفقت سے ملتے تھے ، بالکل اپنی چھوٹی بہن کی طرح -

ان کا گھر اس کے گھر کے نزدیک ہی تھا ، وہ کچھ سال پہلے گورنمنٹ کی کسی منسٹری کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے -

امی کا تو اکثر ان کے گھر جانا ہوتا رہتا تھا ، مامی سے بھی خاصے اچھے تعلقات تھے -

اب سال چھ مہینے سے ، اس کا ان کے گھر اکثر چکر لگ جاتا تھا ، حال ہی میں اس نے نوکری شروع کی تھی -

ماموں کے ایک ہی بیٹے تھے ، اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑے - نام تو ان کا شرجیل تھا ، لیکن سب ہی انھیں شجی بھائی کہتے تھے -

ان کی چار بہنیں تھیں ، دو کی شادی ہو گئی تھی ، دو چھوٹی کالج یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں -

ان میں سے ایک ، رابعہ تو تقریباً ہم عمر ہی تھی ، یونیورسٹی کے آخری سال میں تھی ، اس سے کافی بات چیت ہوگئی تھی ، جب وہ جاتا اور شجی بھائی گھر پر نہ ہوتے، تو وہ کافی ٹائم دیتی تھی-

چھوٹی تو حسینہ تھی ،خوش شکل ، پر کشش ، اپنے سٹائل میں ہی رہتی تھی - موڈ کی مالک تھی ، کبھی تو اس کے سلام کا جواب دے دیتی تھی ، ایک آدھ جملہ بات کر لیتی تھی ، ورنہ اکثر منظر سے غائب ہی ہوجاتی تھی -

شجی بھائی کے ماموں کی فیملی بھی اسی گھر میں رہتی تھی ، انکل کا کافی سال پہلے کسی ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا -

آنٹی اور ان کے بچے ، اوپر کے فلور کے دو کمرے اس فیملی کے استعمال میں تھے ، دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا تھا - بیٹیاں کالج میں پڑھتی تھیں ، بیٹا سکول جاتا تھا -

شجی بھائی ، شہر کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے ، انھوں نے ایم فل کرنے کے بعد نوکری شروع کر دی تھی -

اب حال ہی میں پی-ایچ-ڈی کی تھی ، یونیورسٹی کی طرف سے ہی کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک گئے تھے -

بہت متاثر کن شخصیت کے مالک تھے - پڑھے لکھے ، دراز قد ، خوش شکل ۔۔۔۔۔۔

شام کو یونیورسٹی سے آنے کے بعد فریش ہوکر ، بڑی باقاعدگی سے گیم کے لیے جایا کرتے تھے - بیڈمنٹن کا کورٹ ، نزدیکی جمنازیم میں تھا -

یوں تو شجی بھائی اس سے عمر میں نو دس سال بڑے ہی تھے -
لیکن اب جب کچھ وقت سے ۔۔۔۔۔
شجی بھائی سے زیادہ بات چیت ہوئی ، تو ان سے اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی تھی -

وہ ان کی متوازن شخصیت سے کافی متاثر ہوگیا تھا -

حالانکہ وہ اکثر اپنے سامنے ، کسی کو زیادہ نہیں سمجھتا تھا ، خود بھی خوش لباس ، جاذب نظر تھا ، اوپر سے اچھی گفتگو بھی کرلیتا تھا -

وہ بھی شاید اس کے گفتگو کے انداز اور معلومات کے ذخیرے سے متاثر ہوگئے تھے -
بچپن میں تو اس کی ان سے بہت کم بات چیت ہوتی تھی ، اسے مغرور سے لگتے تھے -

امی کو لیکر جب وہ ان کے گھر جاتا تھا ، تو
کئی دفعہ اس نے سنا کہ امی اور مامی ، شجی بھائی کی شادی کے موضوع پر بات کررہے ہوتے ہیں - ساتھ بیٹھی آنٹی بھی مثبت میں سر ہلا رہی ہوتی تھیں -

کیونکہ مامی چاہتی تھیں کہ اب گھر میں بہو آجائے ،
بقول ان کے ، اب تو عمر بھی ، بتیس تینتیس سال ہو گئی ہے -
لیکن شجی بھائی شادی کی طرف آہی نہیں رہے تھے -

اب تو اسے بھی اس موضوع میں دلچسپی ہونے لگی تھی ،

زندگی کی اس خوبصورت تصویر کے پیچھے ضرور کچھ ہے ،
وہ ان کو دیکھ کر اکثر سوچتا تھا -

شجی بھائی کا کمرہ بھی اوپر کی منزل پہ ہی تھا ، بیڈروم کے ساتھ ہی ایک نسبتاً چھوٹے کمرے میں انھوں نے اپنا اسٹڈی روم بنا رکھا تھا -
جب امی اور بڑے نیچے لاونج میں بیٹھے باتیں کررہے ہوتے تو وہ اوپر شجی بھائی کے اسٹڈی روم میں ہی آجاتا تھا ،

شجی بھائی نے اسے بطور خاص اسٹڈی میں آنے کی اجازت دی ہوئی تھی ، ورنہ یہاں اور کوئی نہیں آتا تھا - صفائی بھی شجی بھائی اپنے سامنے ہی کرواتے تھے -

ٹیبل پر بکھرے کاغذ اور سائیڈ شیلف پر سجی کتابیں ۔۔۔۔
دیوار کے ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھ کر ، اسے دیکھنے میں یہ ماحول کافی اچھا لگتا تھا -

یہاں اس نے ایک اور بات بھی نوٹ کی تھی ، کہ ۔۔۔۔
ٹیبل پر سائیڈ میں ایک خوبصورت فریم رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔
فوٹو فریم ۔۔۔۔
تصویر کے بغیر ۔۔۔۔۔۔
خالی فریم ۔۔۔۔۔۔
نہ جانے کس کی فوٹو کے بغیر ۔۔۔۔

یہ سوال کئی مرتبہ اس کے ذہن میں آیا ، لیکن شجی بھائی سے پوچھ نہیں سکا ، احترام کا رشتہ مانع تھا -

اس نے یہ بھی نوٹ کی تھا کہ فوٹو فریم بالکل صاف ہوتا ہے ، جیسے کوئی بڑی باقاعدگی اس فریم کے شیشے پر سے گرد ۔۔۔
نظر آنے والی ۔۔۔۔
نہ نظر آنے والی گرد ۔۔۔۔۔
صاف کرتا ہے -
یقیناً ۔۔۔۔۔ شجی بھائی ۔۔۔۔
اس نے افسوس سے سوچا ،
اس کے پیچھے ، کیا کہانی ہے ؟

آخر ، ایک دن اس نے رابعہ سے پوچھ ہی لیا ، اس نے بتایا -
کبھی کبھار ہی بھائی صاحب کے کمرے میں جانا ہوتا ہے ، یہ خالی فوٹو فریم ، کافی سالوں سے اسی طرح سے دیکھ رہی ہوں -

کچھ سال پہلے ، دو ایک مہینے کو بھائی صاحب نے اس فریم میں خوبصورت خطاطی میں لکھی ایک آیت لگائی تھی ، لیکن جلد ہی اسے اتار دیا ، فریم پھر سے خالی ہوگیا ، اب کئی سالوں سے اسی طرح ہے -

بڑی باجی نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ انھوں نے بہت سال پہلے ایک دفعہ ، اس فریم میں ایک خوبصورت چہرہ دیکھا تھا -

بس انھوں نے یہ ہی بتایا ، یہ کب کی بات ہے ؟
اس نے تجسس سے پوچھا -

یہ باجی کی شادی سے پہلے کی بات ہے ،
مجھے لگتا ہے ، وہ اور کچھ بھی جانتی ہیں -
رابعہ نے بتایا -
بڑی باجی کی بھائی جان سے بہت دوستی ہے -

وہ سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔
تصویر کے بغیر فریم ،
دیکھنے والوں کو فریم خالی لگتا ہے ،
لیکن شاید انھیں ۔۔۔۔۔
اس خالی چوکھٹے میں ، کوئی تصویر نظر آتی ہو ،
حقیقی تصویر ۔۔۔۔
جو اب بس خیالوں میں ہی رہ گئی ہو۔۔۔
خیالی تصویر ۔۔۔

کوئی حسین چہرہ ، جو اب ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا -

ان کی زندگی خوبصورت فریم کی مانند تھی ، صاف ستھرا شیشہ ،
مگر اندر سے خالی ۔۔۔۔۔
خالی ۔۔۔۔
بے رنگ ۔۔۔
اس نے بہت افسوس سے سوچا -

اُدھر ابنِ آدم سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی خوبصورت فریم کی مانند ہے ،
خالی فریم کی طرح ۔۔۔۔۔۔
ہم اپنے اعمال سے ۔۔۔۔
اپنی نیت کی سچائی سے ۔۔۔
حقوق العباد سے ۔۔۔۔۔

کتنی خوبصورت تصویر ، اپنے اس فریم میں لگاتے ہیں ۔۔۔۔
کتنے رنگ بھرتے ہیں ،
زندگی کی خوبصورت تصویر ۔۔۔۔۔۔

- - - - - - - * * * - - - - - -

تحریر: علی ناصر رضوی
عنوان: خالی فریم
تاریخ: 15-نومبر-2025

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Website

Address

Islamabad