Swad wow
.....
11/17/2025
Sufi Kalaam | Jo Chahta Huuñ Nahiñ Huuñ | Sufiana Qawwali | Heart Touching Arfaana Kalaam. ✨ A Journey into the Heart of Sufism ✨This music video is inspired by the mystical world of Sufism, where love transcends the self and every breath becomes a...
10/31/2025
دل کو چھونے والی غزل- شب میں دیکھے ہی کہاں چاند ستارے میں نے، دن کی دیکھی نہیں رونق نہ اجالے میں نے شب میں دیکھے ہی کہاں چاند ستارے میں نے دن کی دیکھی نہیں رونق نہ اجالے میں نے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے باہم خواب توڑے ہیں میرے تم نے تمہارے میں نے اب تو و...
09/27/2025
https://youtu.be/FnX_fL59Ims?si=AfqXr9GC6jXzoknW
Lyrical prose and captivating visuals! وہ ہم نشیں تھا ۔۔ ایک نئے انداز میں۔
باتیں بناتا ہے وہ مرے دل کو توڑ کے
لفظوں کے مونھ چھپاتا ہے کاغذ مروڑ کے
اک ملتفت نگاہ کے دھوکے میں لٹ گئی
رکھّی تھی ہم نے دل میں خوشی جوڑ جوڑ کے
اک بے زباں خلش کوئی چونکی ہے اس طرح
جیسے اٹھا دے نیند سے کوئی جھنجھوڑ کے
اے مشتِ خاک دیکھ یہ راہِ درِ نجات
لے آئی پھر وہیں پہ ڈگر موڑ موڑ کے
بعد از شکستِ ضبطِ نظر، بامِ دل تجھے
دربان جا رہے ہیں لٹیروں پہ چھوڑ کے
لوٹے تو اتنی دیر میں نقشہ بدل گیا
آئے تھے کس یقین سے ہم نقش چھوڑ کے
مسند پہ تم بلا سے رہو ہم زمین پہ
ہم کوڑیوں کے دام سہی تم کروڑ کے
خیرہ نظر صبا سے تب و تابِ انجمن
داد ہنر نہ مانگ، دو آنکھیں نچوڑ کے
سید صبا واسطی
سمندر کو نتھارا جا رہا ہے
مگر دریا تو مارا جا رہا ہے
محبت سے پکارا جا رہا ہے
محبت سے گزارا جا رہا ہے
مسافر کو اشارہ جا رہا ہے
سمندر میں کنارہ جا رہا ہے
جو پانی میں اتارا جا رہا ہے
وہ باہر سے سنوارا جا رہا ہے
نظر میں جو نظارہ جا رہا ہے
وہی منظر نکھارا جا رہا ہے
لو جھرمٹ سے ستارا جا رہا ہے
کسی گنتی میں تارا جا رہا ہے
جو شیشے میں اتارا جارہا ہے
وہ شیشے میں دوبارہ جا رہا ہے
تلافی کا سہارا جا رہا ہے
تمہیں دکھ ہے ہمارا جا رہا ہے
خزاں کا استعارہ جا رہا ہے
لو یہ شاعر تمہارا جا رہا ہے
ہوائیں طے کرینگی سمت اس کی
ابھی اوپر غبارا جا رہا ہے
کھڑی ہے خیر کی پہچان جس پہ
اسے کنکر سے مارا جا رہا ہے
صبا منزل کی جلتی آرزو میں
سفر کا ہر خسارہ جا رہا ہے
صبا واسطی
ایک نئی غزل۔
جو موجِ درد مجھے دینے مات نکلی تھی
حیات ہی کی طرح بے ثبات نکلی تھی
نہ شہ ملے نہ ستمگر ہو بے دلی کا شکار
سو آہ دل سے بصد احتیاط نکلی تھی
کمالِ نور جتانے کو سحر پھوٹی ہے
جمال نور دکھانے کو رات نکلی تھی
میں لوٹ آیا وہ سورج کی لو میں ڈوب گئی
جو سحر, صبح مرے ساتھ ساتھ نکلی تھی
وہ اتنی رنگ برنگی قبا میں تھا ملفوف
تمام رنگ اتارے تو ذات نکلی تھی
کیا ہے شاہ سلامت نے حشر کا ساماں
کسی کے مونہہ سے قیامت کی بات نکلی تھی
خدا ہی جانے صبا اور کیا سخن میں ہو
دو حرفِ کُن سے نری کائنات نکلی تھی
08/20/2020
کہیں بھی اے دلِ بیزار آنا جانا نہیں
ٹھکانے ایسے لگے ہیں کوئی ٹھکانا نہیں
یہ کیا کہ ہاتھ جھٹک کر چلے گئے تم بھی
وہ پہلے جیسی مروت نہیں، بہانا نہیں
سفید پوشی میں اکثر گماں یہ رہتا ہے
کہ پارسائی میں ہم سا کوئی گھرانا نہیں
کرو قبول مری ارتقا کے ساتھ مجھے
گزر رہا ہوں میں، گزرا ہوا زمانہ نہیں
یہ تیرا طرزِ مساوات ماورائے دلیل
اے ناخدا یہ تساہل ہے کارنامہ نہیں
گرا جو پیڑ صبا سب زمیں پہ آئیں گے
بلندیوں میں بھی محفوظ آشیانہ نہیں
۔۔۔۔۔۔ صبا واسطی ۔۔۔۔۔۔
08/18/2020
ایک نئی غزل۔۔
لاگ میں اب نہ میرا جی لاگے
کون خود کو لئے لئے بھاگے
سوئی چبھتی رہی تسلی میں
زخم سِلتے رہے بنا دھاگے
دیکھی جو ایسی بے دلی میری
راستے راہ سے نکل بھاگے
کیا رفوگر یہ چیرہ دستی ہے
زخم سوئے نہ بے خبر جاگے
ہو چکا آخرش جو ہونا تھا
زندگی سے گلہ نہیں آگے
آئینے میں عجب تماشا ہے
ہر تماشائی دیکھتا ہے اُسے
صبا واسطی
ایک نئی غزل۔۔۔۔
پھر رہے ہو اٹھائے کنکر کیا
بت ہے کوئی تمہارے اندر کیا
حرف محرومِ لمسِ دید ہو ے
ہوگئی ہے کتاب ازبر کیا
پوچھنا آ گیا تو پوچھیں گے
کب کہاں کون کیسے کیوںکر کیا
راز و معنی سے پر تھے بابِ حیات
پڑھ گئے ہم کتاب فرفر کیا
مل رہے ہو چرائے بھی ہو نظر
ہاتھ میں ہو چھپائے خنجر کیا
نیند آئے گی اپنی مٹی میں
چار دن کا یہ گھر یہ بستر کیا
خود کو ڈھونڈو خدا کے ملنے تک
داخلِ ذات سب ہے باہر کیا
زندگی مفت ہی پڑا تجھ کو
کم تر و کم دلا کی چادر کیا
کوئی باطن کسی کا کیا جانے
کوئی ظاہر ہوا ہے خود پر کیا
اُس کو دیکھوں نہیں تو کیا دیکھوں
کُل ہی کُل کُن ہے کوئی منظر کیا
اجنبی چاپ ہے صبا دل میں
آگئے لو عدم کے افسر کیا
-----سید صبا واسطی------
Click here to claim your Sponsored Listing.