AliZai
I am social media influencer, blogger,
جب ثالث کی اوقات یہ ہو کہ مزاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے ایک فریق کو I Want To Salute you کہتا ہو اور دوسرے کے حملوں کی اقوام متحدہ میں مزمت کرتا ہو جو دنیا میں beggars can’t be Choosers کے نام سے جانا جاتا ہو ،وہ اپنی ٹیبل رینٹ پر تو دے سکتا ہے ٹیبل پر رائے نہیں دے سکتا ! رینٹ پر دی گئی ٹیبل اور ثالثی کی میز میں فرق ہوتا ہے ثالث آپشن دیتا ہے ، مستقبل کا خدشہ بتاتا ہے ، دباو ڈالتا ہے ، کیا اردلیوں کی یہ پوزیشن تھی ؟ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس خالی ہاتھ واپس چلا گیا اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ موجودہ حکومت اب بھی اسے “تاریخی سفارتی کوشش” قرار دے کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔یہ پیشرفت شروع سے ہی بدلتے علاقائی اور عالمی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ موجودہ رجیم کی کوئی غیر معمولی حکمت عملی۔جب دونوں بڑی طاقتیں بات چیت پر آمادہ ہوئیں تو پاکستان کو صرف میزبان بننے کا موقع ملا۔ لیکن اصل امتحان یہ تھا کہ موجودہ رجیم صرف میزبان نہیں ثالث بنتی اور یہ تاریخی مزاکرات کامیاب کرواتی ناکامی کی وجہ صرف فریقین کا اختلاف نہیں، بلکہ پاکستان کی طرف سے مؤثر ثالثی کی مکمل عدم موجودگی بھی ہے۔ غیر خودمختار خارجہ پالیسی، ایک طرفہ انحصار، عالمی سطح پر پاکستان کی گرتی ساکھ، اور قیادت پر اعتماد کی شدید کمی نے اسے صرف “رینٹل میزبان” بنا دیا۔ ایسے حساس اور اسٹریٹجک معاملات میں قیادت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ایک ایسی قیادت جوعوامی مینڈیٹ رکھتی ہو خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو عالمی سطح پر واضح، اصول پسندانہ اور مستقل مؤقف رکھتی ہو اور دونوں فریقین اس پر اعتماد کر سکیں
وہی حقیقی ثالث بن سکتی ہے اور پاکستان کے قومی مفادات کو محفوظ رکھ سکتی ہے عمران خان جیسی قیادت اس موقع پر پاکستان کے لیے بہترین متبادل تھی۔ جو وائیٹ ہاوس میں ٹرمپ کے سامنے پریس کو بتا رہا تھا کہ افغانستان کے مسلے کا حل کیوں ضروری ہے اور کیسے ہو گا اُس کی بات پر ٹرمپ بھی مسلسل اثبات میں سر ہلا رہا تھا ! ان کا “Pakistan First” کا واضح مؤقف، اقوام متحدہ میں کلیر سٹانس ! عالمی سطح پر مستقل ساکھ، اور دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی پالیسی انہیں ایک قابلِ اعتماد ثالث بنا سکتی تھی۔ ان کی موجودگی میں پاکستان محض فوٹو سیشن، خوشامدی سلیوٹ اور پریس ریلیز کا موضوع نہ بنتا، بلکہ علاقائی سفارتکاری میں ایک باوقار اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا تھا۔
بدقسمتی سے، موجودہ رجیم نے اس موقع کو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ، فوٹو شوٹ اور کریڈٹ لینے کے لیے استعمال کیا۔ نتیجہ سامنے ہے مذاکرات ناکام، اور پاکستان کی سفارتی ساکھ مزید کمزور۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت دیکھیںحقیقی سفارتی کامیابی قیادت سے ملتی ہے — نہ کہ محض حالات کے رخ بدلنے سے، خوشامدی سلیوٹوں سے، یا “beggars can’t be choosers” والی ذہنیت سے۔
تحریر :- علی زئی
آصف زرداری کی دولت کتنی اور کہاں کہاں ہے ، بختاور کا جھوٹ بےنقاب ، کیا آصف زرداری عدالتوں سے بری ہوے ؟ زرداری کے والد کتنے بڑے رئیس تھے ؟
پیٹرول کا مسلہ عالمی منڈی کا نہیں عالمی غیرت کا ہے ! اگر یہ لیٹے نا ہوتے تو پیٹرول 100 روپے کا ہوتا ! سہیل آفریدی کے پاس آخری موقع
ایران اُن پاکستانیوں کا شکریہ ادا کر رہا ہے جو اُنکے حق کے لیے آواز اُٹھا رہے ہیں موجودہ رجیم کا نہیں ! ایران میں ہونے والی ریلی کا احوال دیکھیں !
کیا پاکستان کی ہاں اور نا میں دنیا کے فیصلے ہو رہے ہیں ؟ پاکستان کیا ہے اور اردلیوں نے کیا بنا دیا ہے ! آخر تک ویڈیو دیکھیے آپکو آئینہ نظر آئے گا
03/12/2026
جو عدالت نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھیج سکتی ہے وہ عدالت عمران خان کو شفا ہسپتال نہیں بھیج سکی
اگر ہم 100 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دیتے تو آپ کیا کر لیتے ! یہ کہنے والی نون لیگی رہنما کا ماضی دیکھیں ! کریڈٹ کارڈ چوری ! بینک فراڈ ! سب کچھ منظر عام پر
زید حامد کے جھوٹ اور حقیت ! اسلام کا قلعہ پاکستان اور امت کا حال
نیا اسٹیبلشی بیانیہ ایران ہمارا دشمن ہے ، ہماری پالیسی بہترین ہے :-عسکری صحافی مزمل ! علی زئی نے تاریخ بتا دی
03/03/2026
ایرانی فوج میں ایک بھی فیلڈ مارشل نہیں
کیا نصیب پایا ہے آیت اللہ خامنائی نے 86 سال کی عمر میں میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے !
ہم دنیا کو بتا رہے ہیں یہ جنگ د ہ ش ۔۔ گر د ی کے خلاف ہے ! جبکہ حکومت کہتی ہے یہ جنگ تندور والوں ، افغانوں کے خلاف ہے ! اچھا جی ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.