Knowledge Float
Community for People interested in Islamic Studies, History, Facts, Quran & Motivation of Life..! Producer Education
27/03/2026
معاہدۂ استنبول 1533ء جس نے یورپ کی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملا دی۔
22 جولائی 1533ء کو میں ایک اہم معاہدہ طے پایا، جو سلطنتِ عثمانیہ اور رومی سلطنت کے درمیان ہوا۔ اس معاہدے میں سلطان سلیمان قانونی کی طاقت اور اثر و رسوخ اس قدر نمایاں تھا کہ یورپ کی بڑی طاقتوں کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔
اس معاہدے میں فردیناند اول (آسٹریا کے حکمران) اور شارل پنجم جیسے یورپی فرمانرواؤں کو بھی شامل کیا گیا۔
معاہدے کی اہم شرائط
آسٹریا کو عثمانی سلطنت کو ہر سال تقریباً 30 ہزار سونے کے سکے بطور خراج ادا کرنے ہوں گے۔
یورپ کے حکمرانوں، جن میں جرمنی کے بادشاہ فردیناند اور اسپین کے بادشاہ شارل پنجم شامل تھے، کا درجہ صرف عثمانی وزیرِاعظم کے برابر تسلیم کیا گیا، نہ کہ عثمانی سلطان کے برابر۔
یورپ کے بادشاہوں کو “شہنشاہ” (Emperor) کا لقب استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ یہ لقب صرف عثمانی خلیفہ کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔
اگر معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی کی گئی تو اسے براہِ راست عثمانی سلطنت کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
اس زمانے میں سلطان سلیمان قانونی کی فوجیں یورپ کے قلب تک پہنچ چکی تھیں اور 1529ء میں ویانا کا محاصرہ بھی ہو چکا تھا۔ عثمانی طاقت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ یورپ کی ریاستیں سخت دباؤ میں تھیں۔
لیکن اسی دوران شاہ طہماسپ اول نے صفوی سلطنت کی طرف سے بغداد کی سمت فوجی حرکت شروع کر دی، جس سے عثمانیوں کو مشرقی سرحد کی فکر لاحق ہوئی۔
اس صورتحال میں 1533ء میں معاہدۂ استنبول طے پایا، جس میں اگرچہ جنگ عارضی طور پر روکی گئی، لیکن سلطان سلیمان نے اپنی سیاسی اور فوجی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایسی شرائط منوائیں جو اس وقت یورپ کے لیے نہایت سخت اور بھاری سمجھی جاتی تھیں۔
21/03/2026
🚨 بریکنگ نیوز: ایران کا بحیرۂ ہند میں امریکی و برطانوی اڈے پر میزائل حملہ!
ایران کی جانب سے عید کے موقع پر ایک ایسی فوجی کارروائی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا:
ہدف: ڈیگو گارشیا (بحیرۂ ہند میں واقع کلیدی امریکی و برطانوی فوجی اڈہ)۔
فاصلہ: تقریباً 4,500 کلومیٹر — یہ وہی فاصلہ ہے جو تہران اور لندن کے درمیان ہے۔
اہمیت: ایران نے پہلی بار اس قدر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا استعمال کر کے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوا لیا ہے۔
یہ کارروائی برطانیہ کی جانب سے امریکہ کو اپنے اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دینے کے جواب میں کی گئی ہے۔
رعایت اللہ فاروقی صاحب
عرب و دیگر میں مسلمانان کو عید الفطر مبارک ہو ❤️
18/03/2026
The Prophet's Mosque on the night of the 29th of Ramadan… 🌙🕌
The night of completing the Quran, where hearts overflow with devotion and voices rise in supplication. ✨
17/03/2026
مسجد نبوی کے میناروں کی سرخ اور سبز لائٹس کا کیا مطلب ہے؟ 🕌
کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ Al-Masjid an-Nabawi کے میناروں پر کبھی سبز اور کبھی سرخ لائٹ روشن ہوتی ہے؟ اس کے پیچھے ایک اہم پیغام ہوتا ہے۔
🟢 سبز لائٹ:
اس کا مطلب ہے کہ مسجد نبوی کے اندر اور صحن میں ابھی جگہ موجود ہے اور نمازی مسجد کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔
🔴 سرخ لائٹ:
جب میناروں پر سرخ لائٹ روشن ہو جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مسجد کے اندرونی حصے، صحن اور چھت تقریباً مکمل بھر چکے ہیں اور مزید نمازیوں کے داخل ہونے کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس وقت لوگوں کو مسجد کے اردگرد موجود بیرونی نماز کی جگہوں پر نماز ادا کرنے کا اشارہ دیا جاتا ہے۔
مسجد نبوی کی موجودہ توسیع کے بعد یہاں تقریباً 10 لاکھ (1 ملین) تک نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں، جن میں مسجد کا اندرونی حصہ، چھت اور بیرونی صحن شامل ہیں۔
یہ پورا نظام لاکھوں زائرین کی رہنمائی اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کی نگرانی General Authority for the Affairs of the Two Holy Mosques کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار مدینہ منورہ کی حاضری نصیب فرمائے آمین
17/03/2026
عشق رسول اور عقل:
قیامت تک جب عشق کی بات ہو گی تو سمجھ جانا بس محمد عربی کا غلام ہوگا اور اگر یہی عشق عقل کی بنیاد پر ہوگا تو ابولہب ہی بنے گا۔
شاید اسی موقع کیلئے اقبال نے لکھا کہ:
با خدا در پردہ گویم با تو گویم آشکار
یا رسول اللہ او پنہان و تو پیداے من
یارسول اللہ میں خدا سے تو پردے میں بات کرتا ہوں مگر آپ سے تو کھلم کھلا عرض کرتا ہوں یا رسول اللہ وہ مجھ سے پنہاں سے اور آپ آشکار۔
اسی سلسلے کو اقبال کے عشق میں دیکھیں تو اقبال پھر لکھتا ہے۔
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ
اُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے
اقبال کہتا میں مدینے پاک جانے کی سکت نہیں رکھتا لیکن ایک طریقہ ہے کہ میں مر جاؤں میرا جسم ختم ہو کر مٹی جو جائے، پھر ہندوستان سے ایک ہوا چلے اور میرے جسم کی مٹی اٹھا کر اس راستے پر پھینک دے،جو رستہ مدینہ پاک جاتا، پھر وہاں سے حاجی گزریں ان کے پیروں سے وہ مٹی لگے تو میں مدینہ پاک پہنچے۔
یہ عشق رسول ہی ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے ورنہ ایسے ہی تو خدا نے قبر میں اپنی ذات کے بارے سوال:
تیرا رب کون ہے۔
کے بعد اپنے حبیب کی محبت کا سوال رکھا کہ:
بتاؤ اس شخص/ذات کے بارے تمہارا کیا عقیدہ/ایمان تھا۔
مجھے تو لگتا اسی موقع کو دیکھتے ہوئے ہی پھر اقبال نے یہ شعر بھی لکھا کہ:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
16/03/2026
ایران کے انقلاب سے ایک سبق — مسلک نہیں، ماڈل کی بات
پاکستان میں اکثر یہ سوال دہرایا جاتا ہے کہ “علما ملک کیسے چلائیں گے؟”
اس سوال کا ایک عملی جواب دنیا کی ایک معاصر مثال میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کر دینا ضروری ہے:
یہ گفتگو کسی مسلکی یا مذہبی تشخص کی تعریف یا تنقید کے بارے میں نہیں ہے۔
ہم صرف ایک سیاسی و انقلابی ماڈل سے سیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
ایرانی انقلاب کی جدوجہد ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ اسلامی انقلاب صرف وہ علما برپا کر سکتے ہیں جو میدانِ عمل میں نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اقبال کا شعر یاد آتا ہے:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
اور اسی تصور کو یوں بیان کیا گیا ہے:
خلافت بالیقیں انہی کو ملنی چاہیے پہلے
امیرالمومنین ان میں سے ہو گزرے پہلے
گزشتہ 46 سال میں ایران کے علما نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مذہبی قیادت صرف خطابت یا درس تک محدود نہیں رہتی بلکہ تنظیم، ریاستی نظم اور تکنیکی صلاحیتوں کو بھی سنبھال سکتی ہے۔
انہوں نے ملکی سلامتی کے لیے عسکری صلاحیتوں کو غیر معمولی اہمیت دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے ایران کے اندر براہِ راست فوجی مداخلت کرنا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
اسی طرح نگرانی (Surveillance) کا ایک مضبوط نظام قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بیرونی حملوں اور خفیہ کارروائیوں کو محدود رکھنے میں مدد ملی ہے۔ میزائل پروگرام اور دفاعی تیاری بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
لیکن اس پورے ماڈل کا شاید سب سے اہم پہلو عوام کے ساتھ تعلق ہے۔
شدید دباؤ، پابندیوں اور جنگی حالات کے باوجود حکومت نے اپنے عوام کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ بیرونی طاقتوں کو امید تھی کہ دباؤ بڑھنے پر عوام بغاوت کر دیں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بڑے شہروں میں بارہا عوام حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکلتے رہے۔
یہی وجہ ہے کہ سخت بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران نے اپنے اہم قومی منصوبوں کو ترک کرنے کے بجائے انہیں محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔
یہاں ایک فکری فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اکثر اشتراکی انقلاب عوام کی خواہشات کو بڑھاتے ہیں اور انہیں زیادہ مطالبات کی طرف لے جاتے ہیں۔
جبکہ اسلامی انقلاب عوام میں قربانی، صبر اور اجتماعی مقصد کے لیے استقامت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس مثال سے کم از کم ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ
علما اگر تنظیمی بصیرت، سیاسی شعور اور عملی قیادت کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ ریاستی نظام سنبھالنے کی اہلیت بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
اس لیے بحث کا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “علما حکومت کیسے چلائیں گے؟”
بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہمارے علما میں وہ تنظیمی، فکری اور عملی قیادت موجود ہے جو ایک معاشرے کو منظم کر سکے؟
یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔
16/03/2026
کبھی تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب ایک ہی سلطنت کا پرچم تین براعظموں پر لہرا رہا تھا۔ یہ تھی Ottoman Empire یعنی سلطنتِ عثمانیہ، جس نے تقریباً چھ سو سال تک دنیا کی سیاست، معیشت اور تہذیب پر گہرا اثر ڈالا۔ اس عظیم سلطنت کی بنیاد 1299ء میں ایک ترک سردار Osman I نے رکھی۔ ابتدا میں یہ اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود ایک ریاست تھی، مگر چند ہی صدیوں میں یہ طاقت اور نظم و نسق کی بدولت ایک وسیع عالمی سلطنت بن گئی۔
سلطنت عثمانیہ کا اصل عروج اس وقت آیا جب عظیم سلطان Suleiman the Magnificent تخت پر بیٹھا۔ اس کے دور میں سلطنت کی سرحدیں ہنگری سے لے کر یمن تک اور الجزائر سے لے کر عراق تک پھیل گئیں۔ اس زمانے میں عثمانیوں کی فوج اور بحریہ دونوں انتہائی مضبوط تھیں اور بحیرۂ روم میں ان کا ایسا رعب تھا کہ یورپ کی بڑی طاقتیں بھی ان کا مقابلہ کرنے سے گھبراتی تھیں۔ عثمانی سلطنت نے صرف جنگوں اور فتوحات کے ذریعے ہی نہیں بلکہ مضبوط انتظامیہ، عدل اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ نسبتاً رواداری کے ذریعے بھی اپنی پہچان بنائی۔
1453ء میں عثمانیوں نے تاریخ کا ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ عثمانی سلطان Mehmed II نے بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت Istanbul یعنی قسطنطنیہ کو فتح کر لیا، جسے تاریخ میں Fall of Constantinople کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس فتح کے بعد استنبول عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنا اور آنے والی صدیوں میں یہ شہر اسلامی دنیا کے بڑے سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مراکز میں شمار ہونے لگا۔
وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بدلتی گئی اور انیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے سلطنت عثمانیہ کو اندرونی کمزوریوں اور یورپی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر World War I کے بعد یہ عظیم سلطنت ٹوٹ گئی اور 1922ء میں اس کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا۔ مگر تاریخ کے صفحات میں سلطنت عثمانیہ آج بھی ایک ایسی طاقتور اور طویل عرصہ قائم رہنے والی سلطنت کے طور پر یاد کی جاتی ہے جس نے تقریباً 624 سال تک دنیا کے بڑے حصے پر حکمرانی کی۔
تاریخ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ کبھی ایک ایسا دور تھا جب یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقے ایک ہی سلطنت کے زیرِ اثر تھے اور اس عظیم سلطنت کا مرکز استنبول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو آج بھی دنیا کی بڑی اور مؤثر سلطنتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
15/03/2026
وہ عثمانی سلطان جس کی گواہی قاضی نے رد کر دی تھی!
تاریخ کی جستجو رکھنے والے دوستو،ہم تاریخ کے اُس دور میں کھڑے ہیں جب شہرِ بورصہ سلطنتِ عثمانیہ کا اہم سیاسی و روحانی مرکز تھا۔ یہ سلطان بایزید اوّل کا زمانہ تھا، جو تاریخ میں یلدرم (صاعقہ) کے لقب سے مشہور ہیں۔
سلطان بایزید اوّل وہ عظیم عثمانی فرمانروا تھے جنہوں نے اپنے مختصر مگر انتہائی تیز رفتار عہدِ حکومت میں بلغاریہ، بوسنیا، سلانیك (تھسالونیکی) اور البانیہ جیسے اہم یورپی علاقوں کو سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کیا۔ یہ وہی سلطان ہیں جنہوں نے یورپ کی متحدہ صلیبی افواج کو ایسی عبرتناک شکست دی
جو صدیوں تک یورپی تاریخ میں یاد رکھی گئی۔
یہ صلیبی لشکر پوپ بونیفاس نہم (Boniface IX) کی اپیل پر جمع ہوا تھا،
جس میں پندرہ یورپی ریاستیں شریک تھیں، جن میں انگلینڈ، فرانس، ہنگری، جرمنی اور دیگر طاقتور سلطنتیں شامل تھیں۔
یہ فیصلہ کن معرکہ
جنگِ نیکوپولس1396ء میں پیش آیا، اور اسے اکثر مؤرخین قرونِ وسطیٰ کی آخری عظیم صلیبی جنگ قرار دیتے ہیں۔
ایک دن یہی فاتحِ اعظم کسی ذاتی یا عوامی معاملے میں بطورِ گواہ مشہور قاضی، فقیہ اور جلیل القدر عالمِ دین شمس الدین فناریؒ کی عدالت میں حاضر ہوئے۔ یہ وہی شمس الدین فناری ہیں جو بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے شیخ الاسلام مقرر ہوئے اور فقہِ اسلامی میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ سلطان عدالت میں داخل ہوئے، نہ شاہی رعب، نہ محافظوں کا ہجوم، سر جھکائے کھڑے ہوئے، اور اپنے ہاتھ باندھ لیے بالکل ایک عام مسلمان گواہ کی طرح یہ منظر خود اس بات کی دلیل تھا۔ کہ عثمانی نظام میں قانون اور شریعت، سلطان سے بھی بالا تھے۔
قاضی شمس الدین فناریؒ نے سلطان کی طرف دیکھا اور غیر معمولی جرأت کے ساتھ فرمایا:
“اے سلطان!
آپ کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی، کیونکہ آپ باجماعت نماز کے پابند نہیں، اور جو شخص بلا عذر جماعت کی نماز چھوڑ دے، وہ اپنی گواہی میں بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔”
یہ الفاظ عدالت میں موجود ہر شخص پر صاعقہ بن کر گرے، یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک فاتح سلطان کی شان میں بظاہر بہت بڑی بات تھی۔ سب ساکت رہ گئے۔ سب کو یہی گمان تھا کہ اب سلطان قاضی کے قتل کا حکم دے گا، کیونکہ تاریخ میں طاقت ور حکمران ایسی باتیں برداشت نہیں کیا کرتے تھے۔
لیکن تاریخ نے وہ منظر دیکھا جو صرف اسلامی تہذیب کا خاصہ ہے۔ سلطان بایزید اوّل نے نہ غصہ کیا، نہ زبان سے ایک لفظ کہا، نہ قاضی پر ہاتھ اٹھایا،بلکہ خاموشی سے مڑے اور وقار کے ساتھ عدالت سے باہر چلے گئے۔
اسی دن سلطان بایزید اوّل نے حکم دیا کہ ان کے محل کے بالکل ساتھ ایک مسجد تعمیر کی جائے تاکہ وہ نمازِ باجماعت میں کبھی کوتاہی نہ کریں۔ جب مسجد مکمل ہوئی تو سلطان بایزید اوّل باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک سلطان نے ثابت کیا کہ اسلام میں اقتدار نہیں، احتساب اصل طاقت ہے۔
اس واقعے کو ترک مؤرخ عثمان نزار نے اپنی مشہور کتاب “حدیقۃ السلاطین” میں بیان کیا ہے،اور بعد ازاں مؤرخ اورخان محمد علی نے اسے اپنی تصنیف “روائع من التاريخ العثماني” میں نقل کیا۔
جب مسلمانوں کے پاس شمس الدین فناری جیسے بے خوف علماء ہوتے تھے،
تو ان کے پاس بایزید صاعقہ جیسے باعمل اور عاجز سلطان بھی ہوتے تھے۔ یہی وہ امت تھی, جس میں سلطان عدالت میں کھڑا ہوتا تھا اور قاضی حق بولنے سے نہیں ڈرتا تھا۔
14/03/2026
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
ایران کیخلاف فوجی کارروائی دراصل 'مسیحا کی واسپی' کی راہ ہموار کررہی ہے۔ نتن یاہو
سلطان محمد فاتح نے کہا تھا:
دنیا میں بس دو ہی لائنیں ہیں مسلمان اور کفار کی۔
ازرائیلی وزیراعظم کا بیان انکے عقائد و نظریات اور مذہبی تعلیمات کے مطابق تو ٹھیک ہے، اگر ہم کسی بھی سیاسی گروپ سے ہٹ کر بات کریں تو کیا اس بدلتی دنیا اور قرب قیامت کے احوال کو دیکھتے ہوئے کسی مسلمان حکمران میں ایسی جرات ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق یا قیامت کے احوال پر بات کرسکے۔
نہیں۔ بلکے ہمارے حکمرانوں کے احوال یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص دین و جہاد و اس ظالم کے خلاف بات کرے تو وہ ہی شدت پسند و دہشتگرد کہلایا جاتا ہے۔
اقبال نے کہا تھا:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
ہمیں اس پرفطن دور میں سوچنا پرے گا کہ کیا ہم اپنی ذات و وطن و دین و ایمان کے ساتھ بھی مخلص ہیں یا پھر اکبر الہ آبادی کے اس شعر کے مطابق کسی نکارہ چیز کی طرح اپنی مدت پوری کررہے ہیں۔
ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے
14/03/2026
ایران اور امریکہ کے مابین اس جزیرے خارگ پر بڑی جنگ ہونے کا امکان ہے۔ اگر امریکہ اس پر قبضہ کرنے اور برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا تو ایران اپنے 90 فیصد تیل سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ مگر do OR die کا معاملہ ہو گا۔
ایران اس پر عرب میں کہیں پر بھی تیل کا زخیرہ اور ریفائنری باقی نہیں چھوڑے گا۔ ی یہ ایران ہی نہیں چین کی بھی شہہ رگ ہے۔ اور اسی کے لیئے اب تک امریکہ نے ساری جنگ سجائی ہے، اور جاپان سے 5 ہزار میرین بلائے ہیں۔ یعنی کہ تیل پر قبضے کے لیئے۔
مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں ہو گا۔ اگر امریکہ نے یہ کام کیا تو تاریخ کی بھیانک تباہی ہم دیکھیں گے۔ بچے گا کچھ بھی نہیں۔ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ ایرانی سستے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے، اور وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
اب آگے دیکھتے جائیں کہ ہوتا کیا ہے۔
14/03/2026
اہرام مصر دنیا کا ایسا عجوبہ ہے کہ جسے کوئی ماہر آثار قدیمہ و ارضیات مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا کہ یہ کیسے تعمیر ہوا
اگر یہ انسانوں نے تعمیر کیا ہے تو کیا وہ آج کے دور کے قد کاٹھ طاقت جسامت کے لوگ تھے یا اس سے بڑی جسامت اور زور و قوت والے تھے یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہ جِنوں کا کارنامہ ہو ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.